پاکستان اب دوبارہ لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا: وزیر اعظم عمران خان
دنیا میں اس وقت 66 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 90 ہزار کے قریب ہے۔ لاہور میں لوگوں کی جانب سے ماسک نہ پہننے پر ٹریفک وارڈن کو چالان کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے جبکہ حکام کے مطابق ملک بھر میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے ہزاروں کاروباری مراکز بند کیے جا چکے ہیں۔
لائیو کوریج
ماسک کی کون سی قسم وائرس کو کتنا روک سکتی ہے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
برطانیہ میں حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہوئے ماسک پہننا لازمی ہے۔
اسی نوعیت کے احکامات پاکستان میں بھی مختلف صوبائی حکومتوں نے دیے ہیں اور حتی کہ جرمانہ بھی عائد کرنا شروع کر دیا ہے۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ ماسک کی کون سی قسم وائرس کو کتنا روک سکتی ہے؟اس کے لیے پڑھیے ہمارا یہ معلوماتی مضمون۔
جب پاکستانی بچی کی بنائی ہوئی تصویر پر جے کے رولنگ کا پیغام آیا
بریکنگ, خیبر پختون خوا میں مزید 21 افراد ہلاک، فی دس لاکھ آبادی کیے گئے ٹیسٹس میں چھٹے نمبر پر
صوبہ خیبر پختون خوا میں 21 افراد کی ہلاکت کے بعد کل تعداد 521 ہو گئی ہے جبکہ 517 نئے متاثرین کی شناخت کے بعد مجموعی تعداد 11890 ہو چکی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختون خوا میں اب تک کل 66 ہزار سے زیادہ ٹیسٹس ہوئے ہیں جو کہ فی دس لاکھ آبادی کے اعتبار سے 2100 ٹیسٹ بنتا ہے۔
یہ تعداد پاکستان کے چاروں بڑے صوبوں میں سب سے کم ہے۔
عالمی ادارہ صحت کی یومیہ رپورٹ برائے پاکستان میں نظر آتا ہے ہے کہ انفیکشن ریٹ، یا کووڈ ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح 17 فیصد ہے جو کہ بلوچستان کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ ہے۔
برطانیہ میں ایک دن میں ریکارڈ ٹیسٹس، تعداد میں ’مکمل کیے گئے‘ اور ’بھیجے گئے‘ ٹیسٹس دونوں شامل
،تصویر کا ذریعہAFP
گرانٹ شاپس نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ برطانیہ میں یومیہ ٹیسٹ کا نیا
ریکارڈ قائم کیا گیا ہے جب ملک میں 220057 ٹیسٹس کیے گئے۔
لیکن انھوں
نے یہ تعداد بتاتے ہوئے بہت احتیاط دکھائی اور کہا کہ اس تعداد میں ’مکمل کیے گئے
ٹیسٹ‘ اور ’بھیجے گئے ٹیسٹس‘ دونوں شامل ہیں۔ ایسی وہی وضاحت بدھ کو برطانوی وزیر
اعظم بارس جانسن نے بھی دی تھی۔
اس ہفتے
سے قبل برطانوی وزرا اپنی پریس بریفنگ میں ’مکمل کیے گئے ٹیسٹس‘ کا ذکر کرتے لیکن
اس میں ان ٹیسٹس کی تعداد بھی شامل ہوتی جن کی نتائج آنا باقی ہوتے تھے۔
بریکنگ, انگلینڈ میں پبلک ٹرانسپورٹ پر ماسک پہننا لازمی قرار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کے سیکریٹری ٹرانسپورٹ گرانٹ شاپس نے
پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 15 جون سے انگلینڈ میں پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرتے
ہوئے ماسک کا استعمال کرنا لازمی ہوگا۔
گرانٹ شاپس نے اس بارے میں مزید تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ چھوٹے بچے اس حکم سے
مستشنی ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم وہی کر رہے ہیں جو کہ دنیا کے دیگر کئی ممالک
کر رہے ہیں۔
’ہمیں اپنی پوری کوشش کرنی ہوگی کہ احتیاط کریں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ماسک پہننے سے مکمل بچاؤ تو نہیں ہو سکتے لیکن کچھ حد تک
تحفظ مل سکتا ہے۔
گرانٹ شاپس کا کہنا تھا کہ وہ افراد جو ماسک نہیں پہنیں گے انھیں سفر کرنے سے
روک دیا جائے گا اور جرمانہ عائد کیا جائے گا۔
ایران میں لگاتار تیسرے روز بھی 3000 سے زیادہ نئے متاثرین کی تشخیص, رانا رحیم پور، بی بی سی فارسی
،تصویر کا ذریعہEPA
ایران میں لگاتار تیسرے دن بھی تین
ہزار سے زیادہ نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔
وزارت صحت کے مطابق جمعرات جاری
کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں
میں 3574 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔
ملک کے کئی صوبوں میں صورتحال کو ’پریشان
کن‘ قرار دے دیا گیا ہے اور ایران کے جنوب مغرن میں واقع خزیستان نامی صوبے میں
ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ماہرین کے نزدیک نئے متاثرین کی دوبارہ
سے بڑھتی ہوئی تعداد کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔
اس میں سب سے اہم وجہ قرار دی جا
رہی ہے ایرانی عوام کا سماجی دوری کے احکامات کو سنجیدگی سی نہ لینا۔
عید الفطر کے موقع پر حکومت کی
جانب سے منع کرنے کے باوجود ہزاروں افراد ملک کے شمال میں اس حصے میں گئے جسے ’ریڈ
زون‘ قرار دیا گیا ہوا تھا۔
شہروں میں زیر زمین ٹرین سٹیشن،
بینک، دفاتر تمام کے تمام لوگوں سے بھرے ہوئے ہیں۔
حکام نے متعدد بار تنبیہ کی کہ وبا
کی دوسری لہر آ سکتی ہے لیکن اس وقت ایسا محسوس نہیں ہو رہا کہ وہ ملک میں دوبارہ
لاک ڈاؤن کی جانب جائیں۔
سندھ حکومت کا بیرون ملک سے آنے والے تمام مسافروں کا ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ، سعودی عرب سے آنے والے 123 مسافروں میں کووڈ19
،تصویر کا ذریعہAFP
سندھ حکومت
نے کراچی کے جناح ٹرمینل ہوائی اڈے پر پہنچنے والے بیرون ملک مقیم تمام مسافروں کا
ٹیسٹ کرنے اور ان کو آئسولیشن میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس سلسلے
میں وزیر قانون مشیر برائے قانون مرتضی وہاب نے ٹویٹ کیا کہ 246 مسافر سعودی عرب سے
جناح ٹرمینل پہنچے ہیں اور ان میں سے 123 افراد کی جانچ پڑتال کے وقت وائرس کی تشخیص
ہوئی ہے۔
یہ تمام
ٹیسٹ حکومت سندھ نے کروائے ہیں اور اب مسافروں کو آئسولیشن میں ڈالنے کے لیے ان کا
سراغ لگانا شروع کردیا ہے۔
یاد رہے
کہ وفاقی حکومت نے ملکی اور بین القوامی پروازوں پر عائد پابندی ختم کر دی ہے۔
وزیر اطلاعات
سید ناصر شاہ نے کہا ہم پہلے ہی بڑھتے کیسز کا سامنا کر رہے ہیں اور اموات کا تناسب
ایک فیصد سے بڑھ کر 1.7 فیصد ہوچکا ہے لہذا تشخیصی عمل پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے
گا۔
ناصر شاہ
نے وزیراعلیٰ سندھ کے حوالے سے بتایا کہ محکمہ صحت کو ہر مسافر کی جانچ کے لیے واضح
ہدایت جاری کردی ہیں۔
پاکستان سٹیل مِلز: لوگ عمران خان اور اسد عمر کو وعدے یاد دلا رہے ہیں
کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر ضلع گوادر میں غیرمقامی افراد کے داخلے پر پابندی
نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بلوچستان
کے ساحلی ضلع گوادر کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن( ر) محمد وسیم نے کہا ہے کہ کروناوائرس کے
پیش نظر ملک کے دوسرے صوبوں اور دیگر اضلاع کے لوگوں کی ضلع گوادر میں داخل ہونے
پر مکمل پابندی ہے۔
ایک
سرکاری اعلامیہ کے مطابق ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اگر کوئی شخص کاروبار کرتا ہو یا سرکاری ملازم ہے یا پھر کسی مجبوری کے تحت آنا چاہتا ہے تو
مذکورہ شخص اپنا کوروناوائرس کا ٹیسٹ ساتھ لےکر آئے۔
انھوں
نے کہا کہ کوروناوائرس کا ٹیسٹ ساتھ نہ ہونے کی صورت میں 14 روز تک انھیں قرنطینہ
میں رکھا جائےگا۔
ڈی سی
گوادر نے اس حوالے سے تمام افراد اور ضلع گوادر کے عوام سے درخواست کی کہ انتظامیہ
سے بھرپور تعاون کریں کیونکہ یہ ایک خطرناک وباہے اور اسے معمولی نہ سمجھا جائے۔
پاکستان میں کووڈ 19 کی تشخیص کے لیے کون کون سے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں اور ان کی اہمیت اور قیمت کیا ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صرف مئی کے مہینے میں ٹیسٹس کی کُل تعداد 375862 ہے جو کہ اوسطاً فی دن 12 ہزار ٹیسٹس کے لگ بھگ بنتا ہے۔ گویا مئی کے مہینے میں پاکستان کا انفیکشن ریٹ 14.80 رہا یعنی ہر سو ٹیسٹس پر تقریباً 15 مریضوں کی شناخت ہوئی۔
لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے کئی قسم کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔ ان ٹیسٹوں کا طریقہ ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے نتائج کی حساسیت بھی مختلف ہے۔
اس وقت پاکستان سمیت دنیا بھر میں اس وائرس کی تشخیص کے لیے زیادہ تر ’پی سی آر‘ ٹیسٹ ہی کیے جا رہے ہیں۔
تاہم پاکستان کی کچھ نجی لیبارٹریوں نے پی سی آر ٹیسٹ کے علاوہ اینٹی باڈی ٹیسٹ (آئی جی جی اور آئی جی ایم) بھی متعارف کروائے ہیں۔اس بارے میں مزید جاننے کے لیے پڑھیے ہماری ساتھی ترہب اصغر کا یہ مضمون۔
برطانیہ میں مزید 140 افراد کی اموات کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہaf
برطانیہ کے ادارے صحت نیشنل ہیلتھ سروس نے اعلان کیا ہے کہ کووڈ 19 کے ہاتھوں115 مزید افراد کی
ہلاکت کے بعد برطانیہ میں اموات کی مجموعی تعداد بڑھ کر 27 ہزار سے زیادہ ہو چکی
ہے۔
ان میں
سے تین جون کو 24 افراد ہلاک ہوئے تھے، دو جون کو 49، اور پہلی جون کو نو افراد کی
ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی۔
اس کے
علاوہ مئی، اپریل اور مارچ میں بھی ہونے والی اموات کو تصدیق کے بعد کورونا وائرس
کے اعداد و شمار میں شامل کیا گیا ہے۔
جبکہ ویلز
میں آٹھ افراد کی ہلاکت کے بعد کل تعداد 1379 ہو چکی ہے اور شمالی آئرلینڈ میں اب
تک 535 افراد کی موت ہو چکی ہے۔
ادھر سکاٹ
لینڈ میں جمعرات کو نو مزید ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی جس کے بعد کل تعداد 2395 تک
پہنچ گئی۔ یہ 27 مارچ کے بعد پہلا موقع ہے کہ سکاٹ لینڈ میں ایک دن میں دس سے کم اموات
ہوئی ہوں۔
فلوریڈا میں قرنطینہ کے احکامات میں نرمی، مریضوں کے لیے ڈرائیو تھرو بوٹوکس انجیکشن
،تصویر کا ذریعہReuters
امریکی ریاست فلوریڈا میں قرنطینہ میں رہنے کے احکامات میں نرمی
آ رہی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگ ڈرائیو تھرو بوٹوکس انجیکشن لگوا رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے پلاسٹک سرجن مائیکل سالزاہوئیر نے
بتایا کہ وہ اپنے گیراج میں مریضوں کو انجیکشن لگا رہے ہیں۔
ہمیں صرف چہرے کے اوپری حصے میں بوٹوکس لگانا ہوتا ہے اور یہ ان حالات میں
بالکل مناسب ہے کیونکہ وہ حصے ماسکس سے ڈھنپے ہوئے نہیں ہوتے۔
مریض ان انجیکشنز کے لیے چھ سو ڈالر تک رقم ادا کرتے ہیں۔
پاکستانی طالبعلم کے چینی قاتل کو سزائے موت کا حکم
بریکنگ, گلگت بلتستان میں 28 مزید متاثرین کی شناخت, محمد زبیر خان، صحافی
گلگت بلتستان محکمہ صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 206 ٹیسٹ
کیے گئے جن میں سے28 نئے مثبت کیسز کے کی
شناخت ہوئی جس کے بعد اب متاثرین کی مجموعی تعداد 852 ہوچکی ہے۔
اب تک گلگت میں 14، ہنزہ میں چار، استور میں پانچ اور سکردو میں پانچ متاثرین شامل
ہیں۔
گلگت سے نو مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب مریضوں کی تعداد 541 ہوگئی
ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق 228 مریض اس وقت زیرعلاج ہیں جبکہ مجموعی طو رپر 12 ہلاک ہوئے ہیں۔ گلگت بلتستان محکمہ صحت کے مطابق کوئی بھی مریض وینٹیلیٹر پر نہیں ہے۔
،تصویر کا ذریعہCourtesy of Mazhar Ali
کورونا وائرس: سویڈن میں عوام کا حکومت پر اعتماد 18 فیصد گر کر 45 فیصد پر آ گیا
،تصویر کا ذریعہReuters
سویڈن میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق عوام کا حکومت پر اعتماد اپریل سے اب تک 18 فیصد گر کر 45 فیصد
پر آ گیا ہے۔
سروے
کرنے والے ادارے نووس کے مطابق اپریل میں 63 فیصد افراد کا حکومت پر کورونا وائرس
کی وبا سے نپٹنے کے لیے ان کی قابلیت پر مکمل بھروسہ تھا۔
اس کے
علاوہ عوام کا سویڈن کی وزارت صحت پر بھی اعتماد 73 فیصد سے کم ہو کر 63 فیصد پر
گر گیا۔
تاہم سروے
کے مطابق ابھی بھی عوام کا ملک کے نظام صحت اور ہسپتالوں میں موجود سہولیات پر بھروسہ
80 فیصد ہے۔
واضح
رہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کے برعکس سویڈن نے کورونا وائرس سے بچنے کے لیے لاک
ڈاؤن نافذ نہیں کیا اور ان کے حکمت عملی عوام کی جانب سے حکومتی پیغامات کی تابعداری
پر منحصر تھی۔
لیکن سویڈن
میں فی کس اموات پورے یورپ میں سب سے زیادہ ہیں اور اس کے باعث حکومت کو شدید
تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
صوبہ خیبر پختون خوا میں 24 گھنٹوں کے دوران ٹیسٹنگ کی تعداد میں 30 فیصد اضافہ
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
خیبر پختون خوا کے وزیر صحت تیمور خان جھگڑا نے بتایا کہ ان کے صوبے میں یومیہ سب سے زیادہ ٹیسٹ گذشتہ 24 گھنٹوں میں کیے گئے جن کی تعداد 2601 ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوشش کی جائے گی کہ اس تعداد کو برقرار رکھا جائے۔
گلگت بلتستان میں لاک ڈاؤن کا نیا شیڈول جاری، عملدرآمد کرانے کے لیے پیرا ملٹری فورسز گشت کریں گی, محمد زبیر خان، صحافی
،تصویر کا ذریعہReuters
انتظامیہ نے
اعلان کیا ہے کہ گلگت بلستان کے دارالحکومت گلگت میں جمعہ کے روز صبح چھ بجے سے لے
کر دوپہر دو بجے تک مکمل لاک ڈاون رہے گا۔
اسی طرح اتوار
کے روز بھی مکمل لاک ڈاؤن ہوگا جبکہ ہفتے کے باقی دونوں میں کاروبار کے لیے نیا شیڈول
جاری کردیا گیا ہے۔
گلگت کےاسسٹنٹ کمشنراور ایڈ منسٹریٹر میونسپل کارپوریشن
گلگت کیپٹن (ر) اسامہ مجید چیمہ نےنئے جاری
کردہ شیڈول کے حوالے سے بتایا ہے کہ پیر کے روز صبح چھبجے سے بدھ شام پانچ بجے تک سبزی، پھل، اشیا خوردنوش، گوشت، پولٹری، دودھ، بیکری،
آٹو ورکشاپس، سینیٹری، کراکری، الیکٹرک، الیکٹرانکس، سپیئر پارٹس، سیمنٹ، کھاد بیج،
ہارڈ وئیر اور فرنیچر کی دکانیں کھلی رہیں گی۔
جمعرات اور ہفتے کے روز صبح چھ بجے سے شام چار بجے تک سبزی،
پھل فروٹس، اشیائے خورد و نوش، پولٹری، دودھ، بیکری، جوتوں کی دکانیں، موبائل شاپس،
درزی، گارمنٹس، سٹیشنری اور کپڑوں کی دکانیں کھلی رہیں گی۔
کیپٹن (ر) اسامہ مجید چیمہ کے مطابقنئے شیڈول پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کروانے کیلیے
پیرا ملٹری فورسز گشت کریں گی جن کے ہمراہ مجسٹریٹ صاحبان موجود ہونگے۔
انھوں نے مزید
کہا کہ ماسک استعمال نہ کرنے والوں اور ایس او پی پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف قانونی
کاروائی ہوگئی۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فیصل سبزاوری اہل خانہ سمیت کووڈ 19 کے مرض میں مبتلا
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما فیصل سبزواری نے ٹویٹ میں بتایا کہ ان کا اور ان کے دیگر اہلخانہ کا کووڈ 19 ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
اس سے قبل ملک بھر میں اب تک 40 سے زیادہ سیاستدانوں کو کورونا وائرس کا مرض لگ چکا ہے۔
بریکنگ, ایس او پیز کی خلاف ورزی، بارہ کہو مارکیٹ ’سیل`
اسلام آباد کے ڈپٹی کشمنر حمزہ شفقات کے مطابق شہر کے علاقے بارہ کہو میں کووڈ 19 کے حوالے سے حکومتی ایس او پیز کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس پر انتظامیہ پوری مارکیٹ کو سیل کرنے جا رہی ہے۔
تاہم بی بی سی کے حمیرا کنول کے مطابق علاقے میں کسی بھی دکان کو سیل نہیں کیا گیا البتہ انتظامیہ نے دکان داروں کو قوانین کی پاسداری کرنے، سماجی فاصلوں کو برقرار رکھنے اور ماسک پہننے کا حکم دیا ہے۔
انتظامیہ کے آنے سے قبل چند دکان داروں نے اپنی اپنی دکانیں بند کر لی تھیں جبکہ دیگر کو حکام نے بند کرنے کا حکم دیا لیکن سیل نہیں کیا۔
،تصویر کا ذریعہCourtesy of DC Islamabad
دوا ساز کمپنی انویو کووڈ19 کے علاج کے لیے جنوبی کوریا میں ویکسین کا ٹرائل شروع کرے گی
،تصویر کا ذریعہReuters
دوا بنانے والی کمپنی انویو نے کہا ہے کہ وہ
کووڈ 19
کے علاج کے لیے تیار کی گئی ویکسین کا انسانوں پر تجربہ جون میں شروع کریں گے جس
کے لیے انھیں جنوبی کوریا میں واقع عالمی تنظیم انٹرنیشنل ویکسین انسٹٹیوٹ کی حمایت
حاصل ہے۔
کمپنی
نے کہا کہ دو مرحلوں پر مشتمل اس ٹرائل سے معلوم کیا جائے گہ کہ ویکسین ان 40 بالغ
افراد میں کتنی موثر رہی۔ کمپنی کا ارادہ ہے کہ اس کے بعد وہ 120 مزید افراد تک یہ
ٹرائل کریں۔
انویو
امریکہ میں بھی اسی نوعیت کے تجربات شروع کرنے کا اراداہ رکھتی ہے۔
کووڈ
19 کے مرض کا علاج ڈھونڈنے کے لیے دنیا بھر میں مختلف حکومتیں اور دوا ساز کمپنیاں
سو سے زائد ویکسین پروگرامز پر کام کر رہی ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی
ویکسین کی تیاری اور تمام مراحال سے گزارنے کے بعد عام استعمال میں لانے کے لیے کم
از کم 12 سے 18 ماہ لگ سکتے ہیں۔