پاکستان اب دوبارہ لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا: وزیر اعظم عمران خان

دنیا میں اس وقت 66 لاکھ سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 90 ہزار کے قریب ہے۔ لاہور میں لوگوں کی جانب سے ماسک نہ پہننے پر ٹریفک وارڈن کو چالان کرنے کا اختیار دے دیا گیا ہے جبکہ حکام کے مطابق ملک بھر میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے ہزاروں کاروباری مراکز بند کیے جا چکے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. دنیا میں متاثرین ساڑھے چھ لاکھ سے زیادہ

    دنیا بھر میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی وجہ شاید یہ پتہ چل رہا ہے کہ وائرس کی وبا ختم ہو رہی ہے لیکن اب بھی لاطینی امریکہ میں اس کے مرکز موجود ہیں اور خدشہ ہے کہ اس کی نئی لہر ایران کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق 6,511,713 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکی ہے اور 386,073 افراد جان گنوا چکے ہیں۔

    امریکہ 107,175 اموات کے ساتھ سرِ فہرست ہے۔

    bbc
  2. اتحاد ائیر ویز کو مخصوص روٹس پر سروس بحال کرنے کی اجازت مل گئی

    Etihad

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    متحدہ عرب امارات کی طرف سے پروازوں پر پابندی کے خاتمے کے بعد ابوظہبی کی اتحاد ائیر ویز 10 جون سے مسافروں کو مخصوص روٹس پر لے جانے کے لیے دوبارہ اپنی سروس بحال کرنے جا رہی ہے۔

    اتحاد کا جمعرات کو کہنا تھا کہ یورپ، ایشیا اور آسٹریلیا کے 20 شہروں سے مسافروں کو ابو ظہبی سے ان پروازوں پر سفر کی اجازت ہو گی۔

    متحدہ عرب امارات نے مارچ کے مہینے کے آخر پر تمام پروازوں کو معطل کر دیا تھا تاہم بعد میں ائیرلائنز کو اپنے ملک واپس جانے والے غیرملکی مسافروں کو واپس لے جانے کی اجازت دے دی تھی۔

    بدھ کو ایمریٹس، فلائی دبئی اور ائیر عریبیہ کو اپنی سروس بحال کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ تاہم ابھی یہ نہیں معلوم کہ یہ ائیر لائنز کب سے سروس دوبارہ شروع کر رہی ہیں۔

    غیر ملکی شہریوں پر متحدہ عرب امارات میں داخلے پر پابندی برقرار رہے گی تاہم اماراتی رہائش رکھنے والے اس سے مستنی ہیں تاہم انھیں داخلے کے لیے حکومتی منظوری درکار ہوگی۔

  3. جمعرات سے ایس او پی پر عمل نہ کرنے والی مارکیٹوں کو بند کر دیا جائے گا

    وفاقی وزارت صحت نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج سے ملک بھر میں ان مارکیٹوں کو بند کر دیا جائے گا جو نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے ضوابط پر عمل نہیں کر رہیں

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. پنجاب میں مزید 37 ہلاکتیں، لاہور میں 724 نئے مریض

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں چار جون کوصبح بارہ بجے تک جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق 37 مزید اموات کے ساتھ صوبے میں کل ہلاکتوں کی تعداد 607 ہو چکی ہے۔

    ترجمان پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ، کورونا مانیٹرنگ روم کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس کے 1615 نئے کیس سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 31104 ہو گئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ لاہور میں 724، راولپنڈی 153، گجرات 67، ملتان 181، فیصل آباد 99، بہاولپور 67، ڈی جی خان 55 کیسز سامنے آئے۔

    صوبے میں اب تک 259،254 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں اور صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 7،712 ہو چکی ہے۔

  5. بریکنگ, اسلام آباد کے شہریوں کے لیے انتباہ، 356 نئے کیسز کی تحقیقات

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں صحت کے حکام نے شہریوں کے نام پیغام میں کہا ہے کہ وہ شہر کے مختلف علاقوں میں کورونا وائرس کے 356 نئے کیسز کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس اسلام آباد کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کہا گیا ہے کہ جو لوگ پہلے ہی کورونا سے متاثر ہیں وہ احتیاطی تدیبیر اپنائیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. شہزادہ چارلس: خوش قسمت ہوں، باآسانی صحتیاب ہو گیا

    Charles

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانیہ کے شہزادہ چارلس کا کہنا ہے کہ وہ خوش قسمت ہیں مارچ میں کورونا وائرس کا شکار ہونے کے بعد وہ آسانی سے صحتیاب ہو گئے۔

    71 برس کے شہزادے میں وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد وہ آئیسولیشن میں چلے گئے تھے۔ شہزادے میں اس وائرس کی معمولی علامات ظاہر ہوئی تھیں۔

    سکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا وہ اس حوالے سے خوش قسمت رہے ہیں۔ ’چونکہ میں اس سے گزر چکا ہوں اس لیے میں ان لوگوں کی تکلیف سمجھ سکتا ہوں جنھوں نے اس وائرس کا مقابلہ کیا۔‘

    شہزادہ چارلس کا کہنا ہے کہ اس تجرے نے ان کو مزید پرعزم بنا دیا ہے۔

  7. انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں لاگو پابندیوں میں توسیع

    Jakarta

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے میئر نے جمعرات کو کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اقدامات میں توسیع کی جائے گی لیکن جون میں ان پابندیوں میں مشروط نرمی لائی جائے گی۔

    انیس باسویڈن نے ایک ویڈیو بریفنگ میں اپریل کے وسط سے بڑے پیمانے پر نافذ سماجی پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نقل و حرکت کی پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔

    باسویڈان کا کہنا ہے کہ جمعے سے کچھ پبلک ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق کام شروع کردے گی جبکہ عبادت گاہیں دوبارہ کھول دی جائیں گی، تاہم ان جگہوں پر نئی سماجی پابندیاں عائد رہیں گی۔

    انڈونیشیا میں سرکاری سطح پر کوئی لاک ڈاؤن نافذ نہیں کیا گیا۔ ملک میں چین سے باہر مشرقی ایشیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    تاہم جکارتہ جیسے شہروں کو اپنے طور پر پابندیاں عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

  8. ایرانی صدر: اگر وائرس واپس آیا تو حکومت دوبارہ پابندیاں نافذ کر سکتی ہے

    Rouhani

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ایران کے صدر حسن روحانی نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر کورونا وائرس کی دوسری لہر آئی تو پھر وہ دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں گے۔ ان کی یہ تبنیہ ان کی سرکاری ویب سائٹ پر تین جون کو شائع ہوئی ہے۔

    پیغام میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھ رہے ہیں جسے سب کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔

    ویب سائٹ کے مطابق صدر حسن روحانی نے وزیر صحت سعید نمکی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کے کسی بھی حصے میں لوگوں نے ان احتیاطی تدابیرکو سنجیدہ نہ لیا اور خدا معاف کرے یہ وبا دوبارہ عروج حاصل کر سکتی ہے، تو حکام دوبارہ پابندیاں عائد کرنا ہوں گی۔

    صدر حسن روحانی کے مطابق اس سے عام لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا اور یہ شدید معاشی نقصان کا سبب بھی بنے گی۔

    ایران میں تین جون کو مارچ کے بعد سب سے زیادہ کورونا وائرس کے نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ جن کی تعداد 3،134 بنت ہے۔ اس وقت ایران میں کل متاثرین کی تعداد 160،696 ہے۔

  9. بریکنگ, پنجاب: حکومتی احکامات پر عمل نہ ہونے پر سخت ایکشن کی ہدایات جاری

    پاکستان کے صوبہ پنجاب میں کورونا وائرس سے سب سے اموات ہوئیں یہ تعداد 607 تک پہنچ چکی ہے اور یہاں مصدقہ کیسز کی تعداد 31104 ہے۔

    حکام نے لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی تھی تاہم اب وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اکثر جگہوں پر ایس او پیز یعنی لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد لاگو اصول و ضوابط پر عمل نہیں کیا جا رہا۔

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ انھوں نے پنجاب بھر میں اس حوالے سے سحت ایکشن شروع کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. بریکنگ, لاہور: چلڈرنز ہسپتال میں عملے کے 19 افراد کورونا سے متاثر

    hospital

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    چلڈرنز ہسپتال میں مزید 12 ڈاکٹرز اور 7 نرسز کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    بی بی سی کی نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق چلڈرنز ہسپتال میں کورونا سے متاثرہ طبی عملے کی کُل تعداد 47 ہو گئی ہے۔

    ہسپتال انتظامیہ کے اعدادوشمار کے مطابق وہاں اب تک 22 ڈاکٹرز، 17 نرسز اور 8 پیرامیڈیکل سٹاف کورونا کا شکا ہوچکے ہیں۔

    متاثرہ ہیلتھ پروفیشنلز سرجیکل وارڈز، کڈنی وارڈز اور آئی سی یو میں ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے۔

    ہسپتال انتظامیہ نے بتایا ہے کہ سرجیکل آپریشن تھیٹر کو مکمل سیل کردیا گیا تاہم ابھی 20 سے زائد طبی عملے کی کورونا رپورٹ آنا باقی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ طبی عملے کے رابطے میں آنے والے مزید طبی عملے کے کورونا ٹیسٹ کئے گئے ہیں۔

  11. تھائی لینڈ میں کورونا وائرس کے 17 نئے مریض

    Thailand

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    تھائی لینڈ میں جمعرات کو کورونا وائرس کے 17 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں تاہم اس دوران کوئی موت واقع نہیں ہوئی ہے۔

    اس وقت ملک میں کل متاثرین کی تعداد 3،101 ہے اور اس وائرس سے کل 58 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

    تھائی حکومت کے کووڈ 19 ایڈمنسٹریشن سنٹر کے ترجمان کے مطابق نئے متاثرین مشرق وسطی سے واپس لوٹے ہیں جو اب قرنطینہ میں ہیں۔ ان میں سے 13 متاثرین کویت سے ملک واپس آئے ہیں۔

    تھائی لنیڈ میں اب تک 2،968 افراد اس وائرس سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔

  12. بریکنگ, ’جارج فلائیڈ کو کورونا وائرس کا انفیکشن تھا‘

    George

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سیاہ فام امریکی جارج فلائیڈ، جن کی پولیس کی تحویل میں موت کے بعد ملک بھر میں نسلی امتیاز کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، کا کورونا وایرس ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    ہینیپین کاؤنٹی میڈیکل ایگزیمینر کی رپورٹ کے مطابق ان میں اپریل 3 کو وایرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

    رپورٹ کے مطابق چونکہ وائرس کا جینیاتی کوڈ انسان میں انفیکشن کے ختم ہونے کے بعد بھی موجود ہو سکتا ہے لحاظہ یہ ممکن ہے کہ جارج میں وائرس کی علامات نہیں تھیں لیکن وہ پہلے ہونے والے انفیکشن سے صحت یاب ہوچکے تھے۔

    ڈاکٹر ماییکل بیڈن نیو یارک کے سابق میّیکل اگزیمینر رہ چکے ہیں اور جارج کے خاندان کے کہنے پر انھوں نے ان کی لاش کا پوسٹ مارٹم بھی کیا تھا۔ تاہم ان کے مطابق حکام نے انھیں جارج کے مثبت کورونا ٹیسٹ کے حوالے سے نہیں بتایا تھا۔

  13. سفری پابندیوں پر نرمی کے بعد اٹلی میں رونقیں بحال ہونا شروع

    italy

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اٹلی کے وزیر اعظم جیوسپی کونٹے نے اٹلی میں رونقیں بحال ہونے سے متعلق امید کا اظہار کیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کئی ہفتوں کی عظیم قربانیوں کے بعد اب ہم اس بات کے حقدار ہیں کہ ہمارے چہروں پر مسکراہٹ آئے اور ہم جشن منا سکیں۔

    اطالوی وزیر اعظم کے مطابق اب معاشی اصلاحات نافذ کرنے کا وقت آ چکا ہے۔

    جیوسپی کونٹے کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اٹلی شہریوں پر عائد پابندیوں کو ختم کرنے کے آخری مراحل میں ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں سفر کی اجازت دے گئی ہے اور اٹلی نے اپنی بین الاقوامی سرحدیں بھی کھول رہا ہے۔

    اٹلی ان ممالک میں شامل ہے جہاں کورونا وائرس نے انسانی جانوں اور کاروبار زندگی کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ملک میں اس وائرس سے 33،600 ہلاکتیں ہوئیں اور متاثرین کی تعداد 234،000 بتنی ہے۔

  14. سنگار پور اور چین کے درمیان نیا سفری معاہدہ

    Singapore

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سنگاپور اور چین کے درمیان اگلے ہفتے شروع ہونے والے ’فاسٹ لین‘ سفری معاہدے کے بارے میں کچھ مزید معلومات:

    معاہدے کے تحت جن مسافروں کو دونوں ملکوں میں سفر کی اجازت مل جائے گی انھیں دوسرے ملک پہنچ کر 14 دن کے لازمی قرنطینہ جیسے اصولوں سے استثنی حاصل ہوگا۔

    تاہم سٹریٹس ٹائمز کے مطابق ان مسافروں کو ٹیسٹ اپنے خرچ پر کرانے ہوں گے۔

    اگر ان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو جائے تو پھر ایسی صورت میں انھیں ہسپتال میں داخل کر دیا جائے گا اور سنگاپور یا چین میں علاج کے لیے بھی انھیں اپنا خرچہ خود برداشت کرنا ہوگا۔

    اس نئے معاہدے کا مقصد دونوں ممالک میں ضروری کاروبار کی بحالی کو جلد یقینی بنانا ہے۔ اس معاہدے کا اطلاق بزنس اور سرکاری سفر پر ہوگا۔

  15. چین کے سینما گھر ویران, جسٹن ہارپر، بزنس رپورٹر، بی بی سی نیوز، سنگار پور

    china

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین کی فلم ایسوسی ایشن کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 40 فیصد سے زیادہ سینما گھروں کو بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    یہ سینما گھر کورونا وائرس کی وبا کے دوران عارضی طور پر بند کیے گئے تھے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق لوگ بمشکل ہی دوبارہ ان سینما گھروں کا رخ کریں گے۔

    کروڑوں چینی شہریوں نے سینما کی بندش کے دوران محتلف سٹریمنگ سروسز کے ذریعے آن لائن فلمیں دیکھنا شروع کر دی ہیں۔ کوئی قابل ذکر فلم نہ ریلیز ہونے کی وجہ سے اب ان سینما گھروں کو مستقل بندشوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

  16. نئی دہلی آنے والوں کے لیے قرنطینہ کی مدت 14 کے بجائے سات دن کر دی گئی

    India airport

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اب انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں داخل ہونے والے افراد کو اب 14 کے بجائے سات دن کے لیے قرنطینہ میں رہنا ہوگا۔

    مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ گھروں میں قرنطینہ کی مدت کی کمی ان لوگوں کے لیے کی گئی ہے جو جہاز، ریل گاڑی یا بس کے ذریعے وہاں پہنچیں گے۔

    ان قوانین میں تبدیلی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب دہلی میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کیسز کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

    دیگر کاروباروں سمیت حجام کی دکانوں کو بھی کھول دیا گیا ہے۔

    دارالحکومت میں اب تک 23 ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آ چکے ہیں اور وائرس سے متاثرہ علاقوں کی تعداد 100 سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔

    انڈیا میں اموات کی تعداد 6000 سے بڑھ چکی ہے۔

    وزارتِ صحت کے اعدادو شمار کے مطابق متاثرین کی مجموعی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔

  17. چین میں 8 جون سے بین الاقوامی پروازوں کی اجازت

    china

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سرکاری میڈیا کے مطابق چین کے ہوابازی کے شعبے کے حکام کا کہنا ہے کہ غیرملکی پروازوں کو آٹھ جون سے چین آنے کی اجازت ہو گی۔

    اس اجازت کے تحت ہر ایئر لائن کو دن میں کسی ایک مقام پر آنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

    مقامی اخباروں نے چین کی سول ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن کے ایک حکمنامے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جن ایئر لائنز کو اجازت دی جائے گی وہ چین میں صرف ایک منزل کا انتخاب کرسکتی ہیں۔

    خیال رہے کہ امریکہ نے چینی جہازوں پر امریکہ داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس سے قبل چین نے امریکی پروازوں کی چین آمد پر بھی پابندی عائد کی تھی۔

  18. کورونا وائرس: برازیل میں اموات میں مسلسل اضافہ, کیٹی واٹسن، نمائندہ بی بی سی ساؤتھ امریکہ

    brazil

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برازیل میں دوسرے دن بھی کورونا وائرس سے اموات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں 1،349 افراد اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔ برازیل میں کورونا وائرس سے کل ہلاکتیں 32500 ہو چکی ہیں۔

    اس وقت برازیل میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد چھ لاکھ کے قریب ہے۔ برازیل میں صحت کے اس بحران کے باوجود کوئی مستقل وزیر صحت نہیں ہے۔

  19. انڈیا کساد بازاری کی زد میں

    india

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دو ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد اب انڈیا کاروبار زندگی بحال کر رہا ہے۔ تاہم یہ کاروباری طبقے، چھوٹے کاروبار چلانے والوں اورفیکٹریوں میں کام کرنے والے لاکھوں افراد کے لیے سب پہلے جیسا نہیں ہو گا۔

    انڈیا میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے کاروبار پر پڑنے والے اثرات طویل عرصے تک رہیں گے۔

    انڈیا کی موبائل ریٹیلرز ایسوسی ایشن کے صدر آروندر غرانہ کا کہنا ہے کہ کم از کم 20 فیصد تک ایسی موبائل شاپس جو سمارٹ فون کا کاروبار کرتی ہیں شاید اب دوبارہ نہیں کھل سکیں گی۔

    ان کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ ان دکانوں کے مالکان شہروں کو چھوڑ کر اپنے گاؤں کی طرف نکل گئے ہیں۔ دیگر وجوہات میں ان سمارٹ فونز کی طلب میں کمی واقع ہونا اور بینکوں کی طرف سے قرضے نہ دینا بھی شامل ہے۔

  20. آسٹریا کا پڑوسی ممالک کے لیے سرحدیں کھولنے کا اعلان

    آسٹریا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آسٹریا نے کورونا وائرس کی وجہ سے سرحدوں پر عائد سفری پابندیوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اٹلی کے علاوہ تمام پڑوسی ممالک کے شہری آسٹریلیا سفر کر سکتے ہیں۔

    فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آسٹریا کے وزیر خارجہ الیگزینڈر شیلن برگ نے بدھ کو پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ کل تک آسٹریا میں داخل ہونے کے لیے کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی۔

    وزیر خارجہ کے مطابق اٹلی سے متعلق عائد پابندی کے فیصلے پربھی آئندہ ہفتے دوبارہ غور کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اٹلی کے ان علاقوں سے لوگوں کو آنے کی اجازت دینے سے متعلق غور کر رہے ہیں جہاں اس وائرس کے متاثرین کی تعداد کم ہے۔

    آسٹریا نے مارچ کے وسط میں اپنی سرحد بند کردی تھی۔ اس وقت ملک میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 16000 ہے۔