پاکستان: بیرون ملک جانے والی پروازیں آج رات سے، اندرون ملک پروازوں میں اضافے کا فیصلہ

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 59 لاکھ کے قریب ہے جبکہ اموات کی مجموعی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ فلائٹ آپریشن صرف بیرون ملک جانے والی پروازوں کے لیے بحال ہو رہا ہے۔

لائیو کوریج

  1. 3200 سال پرانی وبا نے قدیم مشرقِ وسطیٰ میں کیسے تباہی مچائی؟, سید عرفان مزمل، محقق و مؤرخ

    Middle East

    ،تصویر کا ذریعہCREATIVE COMMONS

    وہ علاقہ جو اب مشرق وسطیٰ کہلاتا ہے، وہاں آج سے تقریباً 3200 سال قبل ایک خوفناک تباہی آئی۔

    اس تباہی نے اس خطے کی تمام معروف ریاستوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا جن میں بابل (موجودہ دور میں جنوبی عراق)، اشور (موجودہ دور میں شمالی عراق)، مصر، ھاتی (موجودہ دور میں مشرقی ترکی) اور قبرص سمیت کئی علاقے شامل تھے۔

    یہ ریاستیں یا تو کرہ ارض سے مٹ گئیں یا پھر ایک ایسے تاریک دور سے گزریں جو کئی صدیوں تک ان پر سیاہی کی چادر تانے رہا۔ اس تباہی کو آج ہم ’برونز ایج کولیپس‘ یعنی تانبے کے دور کے خاتمے کی اصطلاح سے یاد کرتے ہیں۔

    اور اس تباہی کے پیچھے جنگ، قحط، سیلاب اور دیگر فطری وجوہات کے علاوہ ایک اہم وجہ ایک عالمی وبا تھی۔

    اگرچہ ڈی این اے سے ملنے والی معلومات کے مطابق یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وبائی امراض سے انسانوں کا سب سے پہلا سامنا تقریباً 75 ہزار سل قبل افریقہ کے جنگلات میں ہوا تھا مگر یہ پہلا موقع تھا جب ایسے کسی مرض نے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی گرفت میں لے لیا ہو۔

  2. گوگل کی طبی رہنماؤں کو ممکنہ ہیکنگ سے متعلق تنبیہ

    Hacking

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    گوگل کے ایلفابیٹ سکیورٹی ماہرین نے اپریل میں ایسے صارفین کو 1755 وارننگز بھیجیں جن کے اکاؤنٹس کو حکومتی حامیت یافتہ ہیکرز نے نشانہ بنایا۔ کورونا وائرس کی وبا سے منسلک فشنگ اور ہیکنگ کی کوششوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    گوگل کا کہنا تھا کہ اس کے خطرات کا جائزہ لینے والے گروپ نے دیکھا ہے کہ ہیکرز کی نئی سرگرمیاں سامنے آئی ہیں خاص طور پر انڈیا سے جہاں عالمی دارہ صحت یعنی ڈبلیو ایچ او کے جعلی جی میل اکاؤنٹس بنائے گئے ہیں۔

    ان اکاؤنٹس سے بڑے پیمانے پر کاروباری افراد اور اقتصادی سرگرمیوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ کئی ممالک امریکہ، سلووینیا ، کینیڈا ، انڈیا ، بحرین، قبرص اور برطانیہ میں طبی اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔

    گوگل کا کہنا ہے کہ ہیکرز کی جانب سے مسلسل طبی شعبے کے افراد اور ڈبلیو ایچ او کے ملازمین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

  3. ماسک پہننے کے قوائد کیا ہیں؟

    جیسے جیسے لاک ڈاؤن میں نرمی ہو رہی ہے، دنیا بھر میں پہلے سے زیادہ لوگ اپنی حکومت کے مشوروں کے تحت ماسک پہن رہے ہیں۔

    عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ ماسک صرف اس صورت میں موثر ثابت ہوتے ہیں جب مناسب طریقے سے پہننے کے ساتھ بار بار ہاتھوں کی صفائی اور سماجی فاصلے کا خیال رکھا جائے۔ ماسک پہنتے ہوئے کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیئے؟

    یہ جاننے کے لیے دیکھیں ہماری یہ معلوماتی ویڈیو۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  4. ترکی کے وبا کے خاتمے کے دعوؤں پر ماہرین کے شہبات

    Turkey

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ترکی کا دعوی ہے کہ اس نے وبا کی قابو کر لیا ہے اور وہاں شرح اموات 2.8 فیصد ہے جو کہ ہمسایہ ریاستوں سے کم ہے، یونان جہاں 6 فیصد تھی اور عراق 3.5 اور ایران میں جہاں یہ 5.4 فیصد تھی۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس کامیابی کی وجہ صحت کا بہتر نظام اور ملک کے نوجوان آبادی ہے۔ ترکی میں اوسط عمر 32.4 بنتیہے جبکہ دیگر یورپ مںی یہ 43.1 ہے۔

    18 مئی کو ملک کے وزیر صحت نے دعوی کیا کہ طبی اداروں میں جگہ خِالی ہے اور 60 فیصد تک ہے یہاں مریض ہیں جبکہ انتہائی نگہداشت کہ بھی 60 فیصد یونٹ ہی زیر استعمال ہیں۔

    تاہم ماہرین صحت اس سے متفق نظر نہیں آتے۔ ترکی میں میڈیکل ایسوسی ایشن کے کووڈ 19 گروپ کے رکن کایہان پالا کا کہنا تھا کہ اس اعداد و شمار میں شفافیت کی ضرورت ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’ترکی نے اچھا آغاز کیا تاہم وہ عالمی ادارہ صحت کے معیار کو قائم رکھنے مںی ناکام رہا۔ ملک میں ہلاکتوں کی تعداد میں بھی صرف انہی کو شمار کیا گیا جن ے نتائج مثبت آئے تھے۔

  5. کورونا وائرس: امریکہ کا دیگر دنیا سے تقابل

    اپریل میں وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کے باعث امریکہ دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آگیا اور تب سے اب تک ان ہلاکتوں میں ڈرامائی اضافہ ہی ہوا ہے۔

    امریکی صدر ٹرمپ میں ابتدائی طور پر کہا ہے کہ اس وبا سے کم از کم 50 سے 60 ہزار افراد ہلاک ہوسکتے ہیں لیکن مئی میں ان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ یہ تعداد ایک لاکھ سے کم رہے گی۔

    یہ تعداد پوری ہو چکی ہے اور ہلاکتوں میں روزانہ 1000 کا اضافے ہو رہا ہے۔

    ہم نے اعداد و شمار سے امریکہ اور دیگر دنیا کا تقابل کیا ہے اور جاننے کی کوشش کی ہے کہ آئندہ چند مہینوں میں صورتحال کیا رخ اختیار کرے گی۔

    Graph
  6. جنوبی کوریا میں وائرس کی شدت میں نیا اضافہ

    S Korea

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    جنوبی کوریا میں وائرس انفیکشن کے 79 نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ پانچ اپریل کے بعد ایک دن میں ہونے والے سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

    کم از کم 68 نئے کیسز مقامی طور پر منتقل شدہ تھے اور یہ ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب لاجسٹک سنٹرز پر ہجوم میں اضافہ ہوا ہے۔

    گذشتہ ہفتوں کے دوران جنوبی کوریا پہلے ہی دارالحکومت کے شام کو کھلنے والے نائٹ کلبز، بارز اور پبز کے باعث ہونے والے ہجوم سے نمٹ رہا تھا۔

    چین کے بعد جنوبی کوریا اس وائرس کا پہلا ہاٹ سپاٹ تھا تاہم انھوں نے اسے پھیلنےسے کافی حد تک روک لیا تھا۔

  7. ظفر مرزا: حکومت مزدوروں کی خاطر سخت لاک ڈاؤن کی طرف نہیں جائے گی

    Zafar Mirza

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے فیکٹری اور مل مالکان سے کہا ہے ہے کہ وہ اپنے کارکنوں کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے کے لیے مقررہ ضابطہ کار اور ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنائیں۔

    ریڈیو پاکستان کی خبر کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ حکومت دیہاڑی دار مزدوروں اور کارکنوں کی کمزور مالی حالت کے پیش نظر لاک ڈاؤن کی سخت پالیسی نہیں اپنائے گی تاہم انہوں نے کہا کہ محدود لاک ڈائون پالیسی اختیار کرنے پر آئندہ اجلاس میں غور کیا جائے گا۔

  8. پشاور: صحافی کورونا وائرس کے باعث ہلاک

    صحافی

    ،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA

    کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد پشاور کے صحافی فخرالدین سید انتقال کر گئے۔

    مقامی نیوز چینل 92 نیوز سے وابسطہ سینئر صحافی کی وفات جمعرات کی صبح ہوئی۔

    وہ کورونا وائرس کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد سے پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں داخل تھے اور گذشتہ ایک ہفتے سے بخار اور سینے میں شدید تکلیف کی شکایت کر رہے تھے۔

  9. جرمنی: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 353 نئے مریض، 62 اموات

    germany

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    جرمنی کے رابرٹ کوک انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 353 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے معد ملک میں متاثرین کی تعداد 179,717 ہوگئی ہے۔

    جمعرات کو جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق اسی دوران 62 اموات ہوئیں جن کے معد جرمنی میں وائرس کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 8,411 تک پہنچ گئی ہے۔

  10. بریکنگ, پاکستان: گذشتہ 24 گھنٹوں میں 36 اموات، 2076 نئے مریض

    table

    پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کی نگرانی کرنے والے نیشنل کمانڈ اینڈ اپریشن سنٹر کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں وبا کے باعث 36 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ 2076 نئے مریضوں میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    این سی او سی کی جانب سے جمعرات کی صبح جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں گذشتہ روز کورونا وآیرس کے 8687 ٹیسٹ کیے گئے۔

  11. نیوزی لینڈ میں وائرس کے صرف آٹھ کیسز

    NZ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    نیوزی لینڈ میں مسلسل چھٹے روز بھی کورونا وائرس کا کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا تاہم آک لینڈ میں ایک 98 سال کی خاتون کی ہلاک کے بعد ملک میں وبا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 22 ہو گئی۔

    ملک میں صحت کی ڈائریکٹر جنرل ایشلی بلوم فیلڈ کا کہنا تھا کہ یہاں آحری بار مقامی منتقلی کا آخری کیس ایک ماہ پہلی سامنے آیا تھا۔

    کل سے نیوزی لینڈ میں اجتماعات میں افراد کی حد 10 سے بڑھا کر 100 کر دی جائے گی۔

    نیوزی لینڈ نے جولائی میں آسٹریلیا کے ساتھ سرحدیں کھولنے کا بھی عدندیہ دیا ہے۔ اس حوالے سے ایک عارضی منصوبہ آئندہ ہفتے پیش کیا جائے گا۔

  12. بریکنگ, دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 57 لاکھ کے لگ بھگ, مجموعی اموات تین لاکھ 55 ہزار

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد اور اس وبا کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ بتدریج جاری ہے۔

    امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ 55 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ مصدقہ متاثرین کی تعداد 56 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ ہے۔

    امریکہ بدستور کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں اموات کی تعداد ایک لاکھ سے زائد ہے جبکہ یہاں وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد 17 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔

    دنیا کے دیگر ممالک میں صورتحال:

    • متاثرین کی تعداد کے حوالے سے دس سرِفہرست ممالک میں امریکہ کے علاوہ بالترتیب برازیل، روس، برطانیہ، سپین، اٹلی، فرانس، جرمنی، ترکی اور انڈیا شامل ہیں
    • برازیل میں متاثرہ افراد کی تعداد چار لاکھ 11 ہزار سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 25598 ہے
    • روس میں مصدقہ متاثرین کی تعداد تین لاکھ 70 ہزار سے زیادہ جبکہ اموات کی تعداد 3968 ہے
    • برطانیہ میں اب تک وبا کے باعث 37542 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ یہاں متاثرین کی تعداد دو لاکھ 68 ہزار سے زائد ہے
    • سپین میں متاثرین کی کُل تعداد دو لاکھ 36 ہزار سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 27117 ہے
    • اٹلی میں اموات کی کُل تعداد 33072 جبکہ مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد دو لاکھ 31 ہزار سے زیادہ ہے
    • فرانس میں اب تک ایک لاکھ 83 ہزار سے زائد افراد وائرس کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 28599 ہے
    • جرمنی میں متاثرین کی کُل تعداد ایک لاکھ 81 ہزار سے زیادہ جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 8428 ہے
    • انڈیا میں اب تک کورونا سے 4534 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ یہاں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 58 ہزار سے زائد ہے
  13. بریکنگ, امریکہ میں ہلاکتیں ایک لاکھ سے تجاوز کر گئیں

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

    امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے تازہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت امریکہ میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 16 لاکھ 90 ہزار سے زائد جبکہ اموات کی کُل تعداد 100,047 ہے۔

    امریکہ میں 21 جنوری کو کورونا کا پہلا مریض سامنے آیا تھا۔ یہ مریض ماضی قریب میں چین کے سفر سے واپس آیا تھا۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 56 لاکھ سے زائد ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 253,414 ہے۔

    بی بی سی کے شمالی امریکہ کے ایڈیٹر جون سوپیل کا کہنا ہے کورونا سے امریکہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی مجموعی تعداد ویتنام، افغانستان، عراق اور کوریا میں گذشتہ 44 برسوں کی جنگ کے دوران ہونے والی امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد سے زیادہ ہے۔

  14. کورونا وائرس: امریکہ میں ایشیائی نژاد افراد کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں اضافہ

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیویارک اور لاس اینجلس میں حکام کا کہنا ہے کورونا کی وبائی بیماری کے آغاز کے بعد سے ایشیائی نژاد افراد کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔

    ایک رپورٹنگ سینٹر کا کہنا ہے کہ مارچ میں وبا کے آغاز کے بعد سے کم از کم 45 امریکی ریاستوں سے اسے امتیازی سلوک کی 17 سو سے زیادہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    نیو یارک، کیلیفورنیا اور ٹیکساس سمیت دیگر ریاستوں میں مشرقی ایشیائی باشندوں پر تھوک پھینکنے، مار پیٹ اور یہاں تک کہ چاقو سے وار کرنے کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔

    ان واقعات کے بعد بہت سے ایشیائی باشندے یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ وہ موجودہ وقت میں امریکی معاشرے میں ان کا مقام کیا ہے۔

    ایک خاتون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس وبا نے مجھ پر یہ راز عیاں کیا کہ ایشیا سے تعلق رکھنے اور ظاہری شناخت کی وجہ سے میں کبھی بھی امریکی معاشرے کا حصہ نہیں بن سکتی۔‘

  15. کیا امریکہ نے سب سے زیادہ کورونا ٹیسٹ کیے ہیں؟

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کیا ہے کہ ان کے ملک میں ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور یہ تعداد دنیا کے بہت سے ممالک میں کیے گئے مجموعی ٹیسٹوں سے زیادہ ہے۔

    مگر کیا صدر ٹرمپ کے اس دعویٰ کی صداقت کسی ثبوت سے واضح ہو سکتی ہے؟

    بی بی سی ریئیلٹی چیک ٹیم نے ماضی میں ٹیسٹنگ کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے دعوؤں کی جانچ پڑتال کی ہے اور نتائج سے واضح ہے کہ یہ دعوے کچھ اتنے درست نہیں ہیں۔

    عالمی سطح پر ہونے والی ٹیسٹنگ کا صحیح معنوں میں درست اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ مختلف ممالک کے پاس ٹیسٹ لینے اور ان کا شمار کرنے کے طریقہ کار مختلف ہیں۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ نمبروں کا موازنہ کرنے کے لیے ہمیں یہ طے کرنا ہو گا کہ دنیا بھر سے آنے والے اعداد و شمار کا آپس میں موازنہ کیا بھی جا سکتا ہے یا نہیں اور آیا یہ اعدادوشمار قابل اعتماد بھی ہیں یا نہیں۔

    چین کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق چین کے صرف دو علاقوں میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 70 لاکھ افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ان ٹیسٹوں میں سے ایک کروڑ چار لاکھ سے زائد ٹیسٹ صوبہ گوانگ ڈانگ جبکہ 65 لاکھ ٹیسٹ ووہان شہر میں کیے گئے ہیں۔ ووہان میں حکام کا کہنا ہے وہ شہر کی ایک کروڑ سے زائد آبادی میں ہر شخص کا ٹیسٹ کریں گے۔

    چین میں بتائے گئے اعدادوشمار کو حاصل کرنے کے لیے ’بیج ٹیسٹنگ‘ کی تیکنیک اپنائی جا رہی ہے، یعنی آبادی کے ہر گروہ میں چنندہ اشخاص کے ٹیسٹ۔ اگر کسی گروہ میں تمام افراد کے ٹیسٹ منفی آتے ہیں تو یہ کہا جائے گا کہ یہ گروہ کورونا سے محفوظ ہے تاہم اگر کسی گروہ کے چنندہ اشخاص کا ٹیسٹ منفی آیا تو اس گروہ کے تمام افراد کا انفرادی طور ٹیسٹ کیا جائے گا۔

    اگر اس فارمولے کو مدِ نظر رکھا جائے تو چین کی 1.4 ارب کی آبادی کا ٹیسٹ امریکہ کے ڈیڑھ کروڑ ٹیسٹوں سے کہیں آگے نکل جائے گا۔

    بی بی سی میں چین کے امور پر تجزیہ کرنے والی کیری ایلن کہتی ہیں کہ آزادانہ طور پر یہ جانچنے کا کوئی طریقہ نہیں ہے کہ چین میں کتنے انفرادی ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

  16. معاشی مشکلات: بوئنگ کمپنی امریکہ میں اپنے 12 ہزار ملازمین کو نوکری سے فارغ کرے گی

    امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    آئندہ چند ہفتوں کے دوران فضائی کمپنی بوئنگ کے امریکہ میں موجود 12 ہزار سے زائد ملازمین اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

    بوئنگ نے کورونا کے باعث پیدا ہونے والی معاشی صورتحال کے پسِ منظر میں ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

    بوئنگ کا کہنا ہے کہ وہ رواں ہفتے اپنے ملازمین کو کمپنی کے اس منصوبے کے بارے میں آگاہ کریں جس کے تحت مجموعی طور پر 12 ہزار سے زائد نوکریوں کو ختم کیا جائے گا۔

    بوئنگ نے گدشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی ورک فورس کی تعداد دس فیصد تک کم کریں گے۔ دس فیصد کا مطلب ہے تقریباً 16 ہزار نوکریاں۔

    ادارے کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو کالہون نے کہا ہے کہ ’کاش ہمارے پاس (نوکریاں ختم کرنے کے علاوہ) کوئی اور راستہ ہوتا۔‘

    بوئنگ گذشتہ برس اس وقت سے ہی مالی مشکلات کا شکار ہے جب اس کے تیار کردہ دو 737 میکس جہاز گِر کر تباہ ہوئے تھے۔ ان فضائی حادثوں کے بعد اس ماڈل کے تمام طیارے گراؤنڈ کر دیے گئے تھے۔

  17. وبا کے ابتدائی مرکز ووہان میں عوام کے لیے نئے پارکس تعمیر کیے جائیں گے

    چین

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    دنیا میں کورونا وائرس کے ابتدائی مرکز یعنی چین کے شہر ووہان میں رواں برس کے اختتام تک مزید سو چھوٹے پارک عوام کے لیے کھول دیے جائیں گے۔

    اس اقدام کا مقصد ووہان کی مقامی آبادی کو زیادہ سے زیادہ وقت شہری علاقوں کے بجائے سرسبز جگہوں پر گزارنے کی ترغیب دینا ہے۔

    چین میں سرکاری سرپرستی میں چلنے والے اخبار پیپلز ڈیلی کے مطابق چین کے ہر شہر میں ہر برس 40 کے لگ بھگ نئے پارک تعمیر کیے جاتے ہیں۔ تاہم اگر ووہان میں رواں برس کے اختتام تک سو مزید پارک تعمیر ہو گئے تو وہاں کے زیادہ تر شہریوں کو اپنے گھر سے پانچ منٹ واک پر پارک کی سہولت دستیاب ہو گی۔

    ووہان کی انتظامیہ عوام کو یہ باور کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے کہ آئندہ دنوں میں کورونا کی دوسری لہر آنے کا خدشہ نہیں ہے۔

    ووہان میں حال ہی میں شہر کی ایک کروڑ دس لاکھ سے زائد آبادی میں ہر شخص کا کورونا ٹیسٹ کرنے کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے، ایسا کرنے کا مقصد ان افراد کی نشاندہی کرنا تھا جن میں بظاہر کوئی علامات نہیں ہیں مگر وہ وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

    پیپلز ڈیلی کے مطابق نئے تعمیر ہونے ہر پارک کا رقبہ 53 ہزار سکوائر فٹ سے زیادہ ہو گا اور ان پارکس میں ایسی جگہیں مختص کی جائیں گی جہاں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کے لیے عارضی بستیاں قائم کی جا سکیں۔

  18. برطانیہ شمالی کوریا میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے پر ’مجبور‘, جیمز لینڈیل، نمائندہ سفارتی امور

    شمالی کوریا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے عائد کردہ سفری پابندیوں کے باعث برطانیہ شمالی کوریا میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے پر مجبور ہوا۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق کورونا کے باعث شمالی کوریا میں شدید سفری پابندیاں عائد ہیں اور برطانوی سفارت خانے کے عملے کے لیے روزمرہ کا کام کرنا اور سفر کرنا ’ناممکن‘ ہو چکا ہے۔

    برطانوی وزارتِ خارجہ کے مطابق شمالی کوریا میں سفارت خانہ بند ہونے کے بعد سفارتی عملہ برطانیہ واپس روانہ ہو چکا ہے۔

    یہ واضح کیا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ سفارتی تعلقات بدستور موجود ہیں۔

    اس سے قبل شمالی کوریا سے اس طرح کی خبریں موصول ہوئی تھیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شمالی کوریا کے حکام نے سفارتی عملے کو گھروں میں نظر بند کر دیا ہے اور وہ اپنی اپنی رہائش گاہوں سے باہر نہیں نکل سکتے۔

  19. کورونا وائرس: پاکستان میں اب تک کی صورتحال

    bbc

    پاکستان میں کووڈ 19 متاثرین کی تعداد 59 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اموات کی تعداد بھی 1236 ہے۔

    پاکستان میں سب سے زیادہ 425 ہلاکتیں صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں۔ جبکہ مریضوں کے لحاظ سے سب سے متاثرہ صوبہ سندھ ہے جہاں تقریباً 23507 افراد کورونا وائرس کا شکار ہیں۔

    پاکستان میں صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 19 ہزار سے زائد ہے

  20. کیا اب کورونا وائرس سے محفوظ ہونے کا پاسپورٹ لے کر سفر کرنا پڑے گا؟, جین ویکفیلڈ، بی بی سی ٹیکنالوجی رپورٹر

    امریکی ساحل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں قومی ہیلتھ سروس (این ایچ ایس) کی ایپ میں، جس سے لوگ دوائی آرڈر کر سکتے ہیں، ڈاکٹر سے وقت لے سکتے ہیں اور اپنے ہیلتھ کیئر ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، اب چہرے کے ذریعے شناخت کی سہولت بھی شامل کر دی گئی ہے۔

    ابتدائی طور پر تو یہ ہیلتھ سروس کی سہولیات تک رسائی تیز تر اور آسان کرے گی لیکن اس کو تیار کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ کووڈ 19 سے محفوظ ہونے کے پاسپورٹ کے طور پر بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔

    یورپ کے ایک ملک ایسٹونیا میں ایسا پاسپورٹ ٹیسٹ کیا جا رہا ہے جو ایک دستاویزی ثبوت ہو گا کہ اس کے ساتھ سفر کرنے والا شخص ماضی میں کووڈ 19 سے متاثر ہونے کی وجہ سے اب اس سے محفوظ ہے۔

    برطانیہ کے وزیر صحت میٹ ہینکاک کووڈ 19 کی اینٹی باڈی والے لوگوں کے لیے اس طرح کے نظام کے بارے میں عندیہ دے چکے ہیں۔