پاکستان: بیرون ملک جانے والی پروازیں آج رات سے، اندرون ملک پروازوں میں اضافے کا فیصلہ

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 59 لاکھ کے قریب ہے جبکہ اموات کی مجموعی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ سمندر پار پاکستانیوں کے لیے وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ فلائٹ آپریشن صرف بیرون ملک جانے والی پروازوں کے لیے بحال ہو رہا ہے۔

لائیو کوریج

  1. کوئٹہ: جمعے کی نماز پر احتیاطی تدابیر کا خیال نہیں رکھا گیا

    Quetta

    رمضان کے بعد پہلے جمعے کو بھی لوگوں کی بڑی تعداد نے کوئٹہ شہر میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے مساجد کا رخ کیا۔

    نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق مساجد میں نماز کے لیے آنے والے لوگوں کی اکثریت نے احتیاطی تدابیر کا خیال نہیں رکھا تاہم جو مساجد سرکاری دفاتر میں تھیں ان میں احتیاطی تدابیر کو ملحوظ خاطر رکھا گیا۔

    Quetta
    Quetta
  2. عالمی ادارہ صحت: ’کورونا وائرس ختم نہیں ہوا‘

    Dr David Nabarro

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عالمی ادارہِ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے خصوصی مندوب برائے کووڈ 19 نے کہا ہے کہ ’کورونا وائرس ختم نہیں ہوا‘ اور جیسے جیسے لوگوں کی آمد و رفت بڑھے گی، ہمیں اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ یہ وبا ایک بار پھر پھوٹ سکتی ہے۔

    ڈاکٹر ڈیوڈ نبارو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے لاک ڈاؤن میں نرمی لائی جا رہی ہے لوگوں کو سماجی دورے کے اصولوں کی پاسداری کرنا ہوگی اور اگر ان میں علامات پیدا ہوتی ہیں تو انھیں کسی تاخیر کے بغیر علیحدگی اختیار کرنی چاہیے۔

  3. مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا: پشاور ایئر پورٹ آنے والے 727 مسافروں میں کورونا کی تشخیص ہوئی

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیرِ اطلاعات اجمل وزیر خان نے پشاور ہوائی اڈے پر ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ پشاور ہوائی اڈے پر 15 اپریل سے 28 مئی تک 23 خصوصی پروازیں آئی ہیں جن میں کل 4675 مسافر آئے پیں۔

    ان مسافروں کی جانچ کے لیے سات قرنطینہ سنٹر قائم کیے گئے تھے اور جن مسافروں کے ٹیسٹ پازیٹیو آتے تھے انھیں قرنطینہ سنٹر بھیجا جاتا تھا جبکہ ٹیسٹ منفی آنے کی صورت میں مسافروں کو گھر جانے کی اجازت ہوتی تھی۔

    اجمل وزیر خان نے بتایا کہ ان خصوصی پروازوں پر آنے والے مسافروں میں سے 727 کے ٹیسٹ مثبت آئے۔ انھوں نے بتایا کہ متاثرین میں سے 481 کا تعلق خیبر پختونخوا سے ہے جبکہ 246 دیگر صوبوں کے لوگ ہیں۔

    ان پروازوں کے بارے میں اجمل وزیر خان نے بتایا کہ 21 پروازیں خلیجی ممالک سے آئیں جبکہ ایک، ایک پرواز سوڈان اور ملایشیا سے آئی تھیں۔

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ یکم فروری سے 20 مارچ 478 پروازیں آئی ہیں جن میں 81524 مسافر تھے اور ان تمام کے ساتھ اُس وقت کے ایس او پیز کے مطابق برتاؤ کیا گیا۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے نئے قوانین کیا ہیں؟

    UK

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانیہ میں دو ماہ کے لاک ڈاؤن کے بعد آہستہ آہستہ نرمی آ رہی ہے تاہم چونکہ ہر مقامی حکومت کے اپنے قوائد ہیں اس لیے انگلینڈ، ویلز، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ میں رہنے والوں کے لیے قوانین بھی تھوڑے مختلف ہیں۔

    پیر سے انگلینڈ کے چھ رہائشی ایک وقت میں یا تو کسی پارک یا باغ میں مل سکیں گے لیکن انھیں دو میٹر کی سماجی دوری برقرار رکھنی ہوگی۔

    سکاٹ لینڈ میں جمعہ سے دو گھرانوں کے اراکین کھلی فضا میں مل سکیں گے لیکن انھیں بھی لازمی طور پر سماجی دوری کا خیل رکھنا ہوگا۔ یہ گروہ آٹھ لوگوں سے زیادہ کے نہیں ہو سکتے اور عوام کو ایک دن میں ایک سے زیادہ گھرانے کے افراد سے ملنے سے منع کیا گیا ہے۔

    لیکن ویلز میں پیر سے دو مختلف گھرانوں کے افراد گھروں کے اندر بھی ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں۔

    شمالی آئرلینڈ میں ایک سے زیادہ گھرانوں سے تعلق رکھنے والے چار سے چھ افراد باہر کھلی فضا میں مل سکتے ہیں جبکہ 8 جون سے 10 مہمانوں پر مشتمل آؤٹ ڈور شادیوں کی تقاریب کی بھی اجازت ہوگی۔

  5. روس میں ریکارڈ ہلاکتیں اور یورپ کی تازہ ترین صورتحال

    Russia

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    روس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 232 ہلاکتیں ہوئی ہیں جو کہ ایک دن میں اب تک سامنے آنے والی سب سے بڑی تعداد ہے۔ تاہم مبصرین کو خدشہ ہے کہ ماضی کی طرح یہ تعداد بھی کم کر کے بتائی جا رہی ہے اور حقیقی اموات اس سے زیادہ ہو سکتی ہیں۔

    دوسری جانب آسٹریا میں سوئمنگ پول اور 100 مہمانوں کی شادی کی تقریبات کی اجازت دے دی گئی ہے اور دیگر پابندیاں بھی تیزی سے ہٹائی جا رہی ہیں۔ ملک میں وائرس اتنا زیادہ نہیں پھیلا اور اب تک وہاں 645 اموات ہوئی ہیں۔

    نیدر لینڈز میں ایک اور گوشت پراسیسنگ فیکٹری کے 130 ملازمین میں سے 21 میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ سپین لکی حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کی اجازت دے دی ہے اور پیر سے ملک کے 70 فیصد علاقوں میں سنیما، تھیٹر اور شاپنگ سنٹر کھل جائیں گے۔

  6. سنی لیونی قرنطینہ میں!

    SUnny

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    بالی وڈ اداکارہ سنی لیونی بھی آج کل قرنطینہ میں ہیں۔ رواں ہفتے ویب سائٹ ’بالی وڈ ہنگامہ‘ کے فریدون شہر یار کے ساتھ سکائپ پر بات چیت میں انھوں نے اس موضوع پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی کہ لاک ڈاؤن کے بعد فلم میں محبت کے مناظر کیسے فلمائے جائیں گے۔

    سنی کا کہنا تھا کہ فلم میں ہر کسی کو پیار محبت کے مناظر اچھے لگتے ہیں اور ہم دُعا کرتے ہیں کہ کورونا وائرس کی وبا ختم ہو اور ہم پہلے کی طرح کام کر سکیں۔

    ایک سوال کے جواب میں سنی لیونی نے یہ بھی کہا کہ وہ عمران ہاشمی کے ساتھ کام کر کے خود کو خوش قسمت سمجھیں گی۔

    یہ اور اس سے جڑی دیگر چٹ پٹی خبریں پڑھیے اس ہفتے کی شوبز ڈائری میں۔

  7. اسلام آباد میں ماسک پہننا ’جلد لازمی ہو سکتا ہے‘, آسیہ انصر، بی بی سی اردو، اسلام آباد

    trail

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے چہرے پر ماسک پہننا جلد ہی لازمی قرار دے دیا جائے گا۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بدقسمتی سے لوگ کورونا سے بچاؤ کے ایس او پیز پر عمل نہیں کر رہے۔

    ’عید کے دوران لوگ ایک دوسرے سے ملتے رہے، رشتہ داروں کا بھی عید ملنے کا سلسلہ جاری تھا اور اس دوران لوگوں نے پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی سفر کیا اور اس سے کورونا وائرس بہت تیزی سے پھیلا ہے تاہم ہم اس صورتحال کے لیے تیار تھے۔‘

    ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ جب تک لاک ڈاؤن تھا تو وائرس اسلام آباد میں اتنی تیزی سے نہیں پھیلا تھا تاہم اسلام آباد میں مستقل لاک ڈاؤن کی طرف نہیں جا سکتے۔

    انھوں نے بتایا کہ جیسے ہی مزید ماسک سٹاک میں آجائیں گے وہ شہریوں کے لیے ماسک پہننا لازمی قرار دے دیں گے۔

  8. جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے نئے کیسز ’بحران سے کم نہیں‘, لورا بکر، بی بی سی نامہ نگار سیول

    Seoul

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جنوبی کوریا میں محکمہِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ دارالحکومت سیول میں کورونا وائرس کے نئے کلسٹرز بننا ایک بحران سے کم نہیں ہے۔

    نئے کیسز میں سے زیادہ تر شہر کے مضافاتی علاقے بیوچیون میں واقع ایک گودام سے منسلک ہیں۔

    اس گودام میں کام کرنے والوں کے کپڑوں اور جوتوں پر بھی کورونا وائرس کے آثار پائے گئے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں کم از کم 56 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔

    اس سے ایک روز قبل 79 نئے کیسز سامنے آئے تھے جو کہ گذشتہ دو ماہ میں یومیہ کیسز کی سب سے بڑی تعداد تھی۔

    مگر محکمہِ صحت کے حکام کو سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ یہ تمام معاملات جنگان آباد علاقوں کے بہت قریب پیش آ رہے ہیں۔

    جنوبی کوریا میں 800 سکولوں کو صرف چند روز کھلنے کے بعد بند کر دیا گیا ہے۔

    حکام نے دوبارہ کچھ پابندیاں لگا دی ہیں اور سماجی دوری کے بارے آگاہی کے لیے سخت تر مہم کا مطالبہ کیا ہے۔

  9. کروئیشیا نے دس ممالک کے لیے اپنی سرحدیں کھول دیں

    Croatia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مشرقی یورپ کے ملک کروئیشیا نے اپنی سرحدیں دس ممالک کے باشندوں کے لیے کھول دی ہیں جن میں ایسے ممالک بھی شامل ہیں جو کہ کروئیشیا آنے والے سیاحوں کے اہم گڑھ ہیں۔

    جن ممالک کے ساتھ سرحدیں کھولی گئی ہیں ان میں آسٹریا، جرمنی اور جمہوریہ چیک شامل ہیں۔

    تاہم کسی بھی غیر ملکی کو داخلے سے پہلے کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے نتائج دکھانے ہوں گے۔

    کروئیشیا میں اب تک 100 اموات ہو چکی ہیں تاہم حکام نے تیزی سے اس وبا کے خلاف اقدامات کیے تھے۔

    مگر پھر بھی ملک میں سیاحت کی صنعت انتہائی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور اس سال حکومت کی اوالین ترجیحات میں اس صنعت کو بچانا ہوگا۔

  10. کورونا وائرس: دنیا میں سب سے زیادہ متاثرہ ممالک کون سے ہیں؟

    Argentina

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    کورونا وائرس کی عالمی وبا نے جہاں دنیا کے تقریباً ہر ملک کو متاثر کیا ہے، تاہم کچھ ممالک میں اس وبا نے بہت زیادہ لوگوں کی جانیں لے لیں ہیں۔ اس وبا سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں مندرجہ ذیل ممالک سب سے زیادہ متاثرہ ہیں:

    • امریکہ: کل متاثرین 1,724,074، ہلاکتیں 101,372
    • برازیل: کل متاثرین 438,238، ہلاکتیں 26,754
    • روس: کل متاثرین 379,051، ہلاکتیں 4,142
    • برطانیہ: کل متاثرین 269,127، ہلاکتیں 37,837
    • سپین: کل متاثرین 255,760، ہلاکتیں 27,119
    • اٹلی: کل متاثرین 231,732، ہلاکتیں 33,142
    • فرانس: کل متاثرین 186,238، ہلاکتیں 28,662
    • جرمنی: کل متاثرین 180,206، ہلاکتیں 8,521
    • انڈیا: کل متاثرین 165,799، ہلاکتیں 4,531
    • ترکی: کل متاثرین 160,979، ہلاکتیں 4,461
  11. پاکستان: وفاقی محکموں کے لیے نئے دفتر کے اوقات

    پاکستان میں وفاقی حکومت کے محکموں کے لیے کابینہ ڈویژن کی جانب سے نئے دفتری اوقات جاری کر دیے گئے ہیں۔

    مراسلے کے مطابق وفاقی محکمے اب پیر تا جمعرات صبح 10 سے شام 4 بجے تک اور جمعہ کے دن صبح 10 سے دوپہر 1 بجے تک کھلیں گے۔

    ان نئے اوقات کا اطلاق فوری طور پر ہوگا اور یہ 15 جون تک نافذالعمل رہیں گے۔

    federal

    ،تصویر کا ذریعہCabinet Secretariat

  12. آسٹریلیا: لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد ملک ’صحیح سمت میں جا رہا ہے‘

    Australia

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    آسٹریلوی وزیراعظم سکاٹ موریسن نے دو ہفتے پہلے ملک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا تھا اور اب تک چیزیں بظاہر ٹھیک چل رہی ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں صرف دو مریض ایسے ہیں جو وینٹیلیٹر پر ہیں اور یومیہ 30 ہزار ٹیسٹس کے بعد ملک میں روزانہ کے حساب سے اوسطاً 20 نئے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

    ملک کے چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر برینڈن مرفی کا کہنا تھا کہ جیسے جیسے پابندیاں اٹھیں گی ہمیں مزید کیسز کی توقع ہے تاہم ہماری کوشش ہوگی کہ یہ چھوٹے پیمانے پر ہوں اور کنٹرول میں رہیں۔

    عام زندگی آہستہ آہستہ معمول پر واپس آ رہی ہے تاہم پبلک ٹرانسپوٹ کے حوالے سے خدشات ہیں۔

    آسٹریلیا میں حکومت نے لوگوں کے لیے ماسک پہننا لازم نہیں کیا۔ ابتدا میں اس کا مقصد ہسپتالوں میں عملے کے لیے ماسکس کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ پالیسی جاری رہے گی۔

    ڈاکٹر مرفی کا کہنا ہے کہ اگرچہ لوگ اپنی مرضی سے ماسک پہن سکتے ہیں مگر یہ لازم نہیں ہوگا۔

    ادھر وزیراعظم موریسن نے تفریحی سفر کو دوبارہ شروع کرے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ہمسایہ ملک نیوزی لینڈ کے ساتھ تفریحی سفر ملک میں ریاستوں کے درمیان آمد و رفت سے بھی پہلے کھولا جا سکتا ہے۔

    کوئنز لینڈ، مغربی آسٹریلیا اور دیگر ریاستوں نے وفاقی دباؤ کے باوجود اپنی سرحدیں کھولنے سے انکار کیا ہے۔

  13. ’میں آئندہ کبھی ماسک نہیں بھولوں گی‘: انڈونیشیا میں لاک ڈاؤن توڑنے کی عجیب و غریب سزائیں

    Indonesia

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنانڈونیشیا کے شہر بنگکولو میں وبا سے بچاؤ کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر اس لڑکی کی تصویر لے کر سوشل میڈیا پر لگائی گئی۔ عبارت میں لکھا ہے: ’میں آئندہ کبھی ماسک نہیں بھولوں گی‘

    انڈونیشیا میں حکام وبا سے بچاؤ کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو عجیب وغریب سزائیں دے رہے ہیں: کسی سے قرآنی آیات کی تلاوت کروائی جاتی ہے تو کسی کو آسیب زدہ گھروں میں رہنے پر مجبور کیا جا رہا ہے تو کہیں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر ہو رہی ہیں!

    ملک میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تقریباً دو درجن شہروں میں ساڑھے تین لاکھ کے قریب فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان کا کام وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے نافذ کیے گئے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔

    تاہم مقامی رہنما اس کے علاوہ اپنے طور پر بھی سخت اقدامات لے رہے ہیں۔

    مثال کے طور پر ملک کے مغربی صوبے بنگکولو میں 40 افراد پر مشتمل ایک فورس مرتب کی گئی ہے جب لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو پکڑ کر ان کے گلے میں معافی کے پیغامات ڈال کر تصاویر بنا رہے ہیں اور انھیں سوشل میڈیا پر شیئر بھی کر رہے ہیں۔

    حکام کے مطابق اس طرح لوگوں کو شرمندہ کرنے سے عوام پر زیادہ اثر ہوتا ہے۔

  14. جاپان: طبی عملے کے اعزاز میں ایئر شو

    Blue Impulse

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جاپانی فضائیہ کے کرتب دیکھانے والے سکواڈرن نے جمعے کے روز ٹوکیو میں ایک ایئر شو میں شرکت کی جس کا مقصد کورونا وائرس سے لڑنے والے فرنٹ لائن طبی عملے کو خراج تحسین پیش کرنا تھا۔

    Blue Impulse

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    چھ T4 تربیتی جیٹ طیاروں نے آسمان پر چھ قطاریں بنائیں اور شہر بھر کے ہسپتالوں کی چھتوں پر چڑھے ہوئے ڈاکٹروں اور نرسوں سے سلامی وصول کی۔

    Blue Impulse

    ،تصویر کا ذریعہGett

    Blue Impulse

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  15. ممبئی: کورونا وائرس کے دو، دو مریض ایک بستر میں!

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    انڈیا کی اس وائرل ویڈیو میں ممبئی کے ایک سرکاری ہسپتال میں ایمرجنسی وارڈ کے مناظر دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہاں کورونا وائرس کے مریضوں کی بھیڑ جمع ہونے کی وجہ سے اکثر بیڈز پر دو مریض لیٹے ہوئے ہیں۔

    کورونا وائرس نے انڈیا کے امیر ترین شہر میں کیسے تباہی مچائی؟ جاننے کی لیے پڑھیے یہ رپورٹ۔

  16. انڈین سپریم کورٹ: لوٹنے والے مزدوروں سے بسوں یا ٹرین کا کرایہ نہ لیا جائے

    India

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    انڈیا کی سپریم کورٹ نے حکم جاری کیا ہے کہ شہروں کو لوٹنے والے مزدوروں سے بسوں یا ٹرینوں کا کرایہ نہیں لیا جائے اور ریاستی حکومتیں یہ کرایہ ادا کریں۔

    عدالت نے انڈین ریلوے کو بھی حکم جاری کیا ہے کہ وہ مسافروں کو کھانا اور پانی فراہم کریں۔ یاد رہے کہ حال ہی میں ٹرین کے ڈبے میں حد سے زیادہ گرمی کی وجہ سے نو مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔

    عدالت کا یہ حکم ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب حکومت پر کورونا وائرس کے سلسلے میں لاک ڈاون کے حوالے سے کافی تنقید ہو رہی ہے۔

    انڈیا میں لاک ڈاؤن چند گھنٹوں کے نوٹس پر لگا دیا گیا تھا اور ہزاروں مزدور اپنے گھروں سے دور شہروں میں پھنس گئے تھے اور ان کے پاس واپسی کے لیے کوئی ٹرانسپورٹ کا راستہ نہیں تھا۔

    صنعتوں کو ھبی ایک دم بند کر دیا گیا تھا جس کے بعد ان مزدوروں کے پاس نوکریاں بھی نہیں تھیں۔

    اس ماہ حکومت نے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ شہروں میں پھنسے مزدوروں کو اپنے گھروں کو لوٹنے میں مدد کرنے کے لیے خصوصی ٹرینیں چلائیں گے۔

  17. کورونا سے نمٹنے کی آئندہ حکمتِ علمی مرتب کرنے کے لیے یکم جون کو قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس

    NCOC

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    منصوبہ بندی ترقی اور خصوصی اقدامات کے وزیر اسد عمر نے کورونا وائرس کے مریضوں کی سہولت کے لیے ہسپتالوں میں بستروں اور وینٹی لیٹرز کی دستیابی سے متعلق تازہ ترین معلومات کی فراہمی کا طریقہ کار وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    ریڈیو پاکستان کی خبر کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معلومات کی دستیابی سے مریضوں کو اپنی ترجیح کے مطابق ہسپتالوں میں داخلے کی سہولت حاصل ہو گی۔

    اسد عمر نے کہا کہ پیر کو قومی رابطہ کمیٹی کے ہونے والے ایک خصوصی اجلاس میں آئندہ ماہ کے لیے کورونا وائرس کی وبا کی روک تھام سے متعلق حکمت عملی کو حتمی شکل دی جائے گی۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کےلیے ملک بھر کے ہسپتالوں میں مناسب تعداد میں بستر اور وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں تاہم زیادہ تر متاثرہ افراد گھروں میں ہی خود کو قرنطنیہ میں رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

    اجلاس میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات اور ضابطہ کار پر عملدرآمد کا بھی جائزہ لیا گیا۔

  18. انگلش پریمئر لیگ کا 17 جون سے دوبارہ آغاز ہوگا

    EPL

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    انگلینڈ میں فٹبال کے مقبول ترین ٹورنامنٹ انگلش پریمئر لیگ کو دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے بشرطیہ یہ کہ اس کی حکومت اجازت دے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ 17 جون کو ایسٹن ولا بمقابلہ شیفیلڈ یونائیٹڈ اور مانچسٹر سٹی مقابلہ آرسنل میچز ہوں گے جو کہ تماشائیوں کے بغیر منعقد کیے جائیں گے تاہم انھیں براہِ راست سکائی سپورٹس، بی ٹی سپورٹ، بی بی سی سپورٹ اور ایمازون پرائم پر دیکھایا جائے گا۔

  19. چین: بین الاقوامی پروازوں پر پابندی میں 30 جون تک توسیع

    China

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جمعے کے روز بیجنگ میں امریکی سفارتخانے نے اپنے سفری ہدایت نامے میں بتایا ہے کہ چین میں ہوابازی کے حکام کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملک میں بین الاقوامی پروازوں کی آمد و رفت پر لگائی پابندی میں 30 جون تک توسیع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

    چین نے مارچ کے بعد سے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے بڑی تعداد میں پروازوں کو منسوخ کر دیا تھا۔

    نئی پالیسی کے تحت ملکی ایئر لائنز کو ہفتے میں کسی ایک روٹ پر ایک پرواز کی اجازت ہوگی جبکہ غیر ملکی ایئر لائنز چین سے ہفتے میں ایک پرواز چلا سکیں گی۔

    اس وقت امریکہ اور چین کے درمیان کوئی پروازیں نہیں چل رہیں۔

  20. ظفر مرزا: ٹیسٹ بڑھائے ہیں، اسی لیے زیادہ متاثرین سامنے آ رہے ہیں

    Zafar Mirza

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی تشخیصی ٹیسٹنگ کی استعداد میں اضافہ کیا گیا ہے اور یہی وجہ ے کہ اس وائرس سے متاثرہ زیادہ کیسز سامنے آ رہے ہیں۔

    ریڈیاو پاکستان کی خبر کے مطابق ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ حکومت کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے کیے گئے تمام فیصلوں پر صوبائی حکومتوں کو اعتماد میں لے رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کو اس مہلک وائرس پر سیاست کرنے کے بجائے اس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے اقدامات تجویز کرنے چاہئیں۔

    معاون خصوصی نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ کورونا وائرس سے بچائو کے لیے مقررہ ضابطہ کار پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں جس میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے، ہاتھ ملانے سے گریز، ماسک اور دستانے پہننے جیسے اقدامات شامل ہیں۔