وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر سینیئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی کا انسداد کورونا سے متعلق ویڈیو لنک پر اجلاس ہوا۔
اجلاس میں دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں کورونا کے 6699 مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں۔ اور اس وقت سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کے ہسپتالوں میں 1073، پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کے ہسپتالوں میں 897 مریض زیر علاج ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ صوبہ بھر کے پرائیویٹ ہسپتالوں میں 275 مریض زیرعلاج ہیں اور صوبہ بھر میں 1266 مریض گھروں میں خود ساختہ تنہائی میں ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں صرف 65 مریض نازک حالت کے پیش نظر وینٹی لیٹر پر ہیں۔
حکام کو بتایا گیا کہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر میں 17600 سماجی رابطے ٹریس کیے گئے اور تقریباً سوا لاکھ کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ ہوا تو بتدریج پابندیاں نرم کرنے پر غور کریں گے۔
عبدالعلیم خان نے کہا کہ صوبہ بھر میں ٹرانسپورٹ کے کرائے کم کرانے کے فیصلہ پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔
ریستورانوں اور سیاحتی مقامات کھولنے کا فیصلہ اجازت سے مشروط
عبدالعلیم خان کا کہنا تھا کہ محکمہ صحت کورونا کی اصل صورتحال سے میڈیا کو روزانہ آگاہ رکھے گا۔
انھوں نے بتایا کہ پنجاب میں ریستوران کھولنے کا فیصلہ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی اجازت سے مشروط ہو گا اور مری اور دیگر سیاحتی مقامات کو کھولنے کا فیصلہ بھی یہی ادارہ کرے گا۔
بریفنگ میں حکام کو بتایا گیا کہ محکمہ پرائمری اینڈ سیکینڈری ہیلتھ اور محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر کو مجموعی طور پر ساڑھے 11 ارب کا کورونا بجٹ دیا گیا۔
محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر نے کورونا کے سلسلے میں 96 کروڑ روپے ہسپتالوں کو جاری کیے۔ 26 کروڑ روپے حفاظتی سامان اور 57 کروڑ ادویات پر خرچ کیے گئے ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ 24 ہسپتالوں کو ضرورت کے مطابق 10 کروڑ سے 50 لاکھ روپے تک فراہم کیے گئے ہیں۔
بریفنگ کے مطابق لاہور میں ایکسپو سینٹر فیلڈ ہسپتال صرف اڑھائی کروڑ روپے کی لاگت سے بنایا گیا۔