انڈیا میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے سینیٹری پیڈز کی قلت, گیتا پانڈے، بی بی سی

انڈیا میں سکول جانے والی لڑکیوں کے لیے سینیٹری پیڈز کی بڑی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ کیونکہ اکثر سکول لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ہیں اور انھی کی مدد سے سینیٹری پیڈز ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیے جاتے ہیں۔
سرکاری سکولوں کی طالبہ میں سینیٹری پیڈز تقسیم کیے جاتے ہیں تاکہ حکومتی سکیم کے تحت ماہواری سے متعلق معاملات پر خواتین کو آگاہی دی جا سکے۔
انڈیا میں یہ ایک بڑی مہم ہے کیونکہ آبادی کی صرف 36 فیصد خواتین سینیٹری پیڈز استعمال کرتی ہیں۔ تقریباً دو کروڑ 30 لاکھ خواتین ماہواری ہونے پر سکول چھوڑ دیتی ہیں۔
سکولوں کی بندش سے سینیٹری پیڈز کی ترسیل بھی رک گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب انڈیا نے 25 مارچ کو ملک گیر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا۔ سینیٹری پیڈز ان ضروری اشیا میں شمار نہیں تھے جن کی خریداری سختیوں کے باوجود ہوسکتی ہے۔
29 مارچ کو یہ خبریں شائع ہوئیں کہ دوا خانوں پر سینیٹری پیڈز کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ اس کے بعد حکومت نے اسے ضروری اشیا میں شامل کر لیا۔
پیر کو انڈیا کی بی جے پی حکومت نے اعلان کیا کہ وہ چھ لاکھ پیک پولیس حکام کو دیں گے جو انھیں آگے دلی کی کچی آبادیوں میں تقسیم کریں گے۔
لیکن صرف بڑے شہروں میں ہی نہیں بلکہ گاؤں اور دیہی علاقوں میں بھی ان کی قلت اب محسوس کی جا رہی ہے۔














