کورونا وائرس کے دوران پابندیوں میں رہنے والی ’لاک ڈاؤن جینریشن‘ کئی دہائیوں تک متاثر رہ سکتی ہے

دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 56 لاکھ 18 ہزار سے زیادہ جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 60 ہزار کے قریب ہے۔ کراچی کے این آئی بی ڈی میں جمعرات سے کورونا اینٹی باڈی ٹیسٹنگ کا آغاز متوقع ہے جبکہ پنجاب میں عید کے بعد کاروبار صرف پیر تا جمعرات کھلیں گے۔

لائیو کوریج

  1. لاک ڈاؤن کی مبینہ خلاف ورزی، برطانوی وزیرِ اعظم کے مشیرِ اعلیٰ تنقید کی زد میں

    کورونا، برطانیہ، ڈومینیک کمنگز

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانوی اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وزیرِ اعظم کے مشیرِ اعلیٰ ڈومینیک کمنگز پر لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی ثابت ہوجائے تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔

    ڈومینیک کمنگز نے کووِڈ 19 کی علامات کا حامل ہونے کے باوجود لندن سے ڈرہم تک 250 میل کا سفر کیا تھا۔ وہ اور ان کی بیمار بیوی خود ساختہ تنہائی اختیار کرتے ہوئے ڈومینیک کے والدین کے گھر پر ٹھہرے تھے۔

    لیبر پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیرِ اعظم ہاؤس ڈومینیک کمنگز کے اقدام کی ‘فوری توجیہ’ پیش کرے۔

    ڈومینیک کے ایک قریبی ذریعے نے کورونا ضوابط کی خلاف ورزی کی تردید کی ہے اور کہا کہ جوڑے کو بچوں کی دیکھ بھال کے لیے مدد کی ضرورت تھی اور وہ اس مقام پر الگ عمارت میں ٹھہرے تھے۔

    وزیرِ اعظم ہاؤس نے جمعے کی رات کو اس خبر پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

    سینیئر سرکاری حکام کی نمائندہ تنظیم ایف ڈی اے کے سربراہ ڈیو پین مین نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈومینیک کمنگز جب بھی کچھ کرتے ہیں تو وہ وزیرِ اعظم کے نام پر یہ کرتے ہیں، اس لیے برطانیہ کے وزیرِ اعظم کو ان اطلاعات کی توجیہ پیش کرنی چاہیے۔

  2. ہائیڈروکسی کلوروکوئین کورونا مریضوں کی موت کا امکان بڑھا سکتی ہے، نئی تحقیق

    کورونا، ملیریا، ہائیڈروکسی کلوروکوئین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایک نامور تحقیقی جریدے میں شائع ہونے والے ایک مطالعے میں سائنسدانوں نے پایا ہے کہ ہائیڈروکسی کلوروکوئین کورونا متاثرین کا علاج کرنے کے بجائے ان کی ہلاکت کا امکان بڑھا دیتی ہے۔

    یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد مرتبہ ملیریا کی دوائی ہائیڈروکسی کلوروکوئین کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھی کورونا وائرس سے بچنے کے لیے یہ دوا کھا رہے ہیں۔

    تحقیق میں پایا گیا کہ اس دوا کا کورونا کے مریضوں پر کوئی مثبت اثر نہیں ہے۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ یہ دوا لے رہے ہیں، باوجود اس کے کہ عوامی صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ دوا دل کے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

    لینسیٹ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں کورونا وائرس کے 96 ہزار مریضوں کو شامل کیا گیا جن میں سے تقریباً 15 ہزار کو ہائیڈروکسی کلوروکوئین یا کوئی اور کلوروکوئین تنہا یا کسی اینٹی بائیوٹک کے ساتھ ملا کر دی گئی تھی۔

    تحقیق میں پایا گیا کہ مریضوں کے ہسپتال میں مرنے اور دل کی دھڑکنوں کے مسائل پیدا ہونے کا امکان بڑھ رہا تھا۔

    اموات کی شرح کچھ یوں رہیں: ہائیڈروکسی کلوروکوئین والے مریض، 18 فیصد، کلوروکوئین، 16.4، جنھیں یہ دوائیں نہیں دی گئیں، 9 فیصد۔ جن مریضوں کو یہ دوائیں کسی اینٹی بائیوٹک کے ساتھ دی گئیں ان میں موت کی شرح اور بھی زیادہ تھی۔

  3. جرمنی: سماجی دوری کے باعث مساجد میں جگہ کی کمی، گرجا گھر میں نمازِ جمعہ

    کورونا، جرمنی، برلن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جرمنی کے دارالحکومت برلن کے ایک گرجا گھر نے سماجی دوری کے قوانین کے باعث مساجد میں جگہ ختم ہونے پر مسلمان عبادت گزاروں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔

    جرمنی نے چار مئی کو عبادت گاہیں کھولنے کی اجازت دی تھی تاہم عبادت گزاروں کو ڈیڑھ میٹر یا پانچ فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنا ہوگا۔

    اس کے نتیجے میں شہر کے نیوکولین علاقے میں واقع دارالسلام مسجد میں معمول کے اجتماع سے بہت چھوٹا اجتماع ہی منعقد ہو پا رہا تھا۔

    مگر کروئزبرگ میں واقع مارتھا لوتھیرن گرجا گھر نے رمضان کے آخر میں جمعتہ الوداع کے موقع پر نمازِ جمعہ اپنے پاس منعقد کروائی۔

    کورونا، جرمنی، برلن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    مسجد کے امام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ‘یہ ایک زبردست اقدام ہے اور اس سے بحران کے دور میں اور رمضان کے دنوں میں خوشاں ملی ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس وبا نے ہمیں ایک برادری بنا دیا ہے۔

    اجتماع میں شریک ایک شخص ثمر ہمدون نے کہا: ‘موسیقی کے آلات اور تصاویر کی موجودگی کی وجہ سے یہ عجیب احساس تھا، لیکن آپ بڑے تناظر میں دیکھیں تو چھوٹی تفصیلات بھول جاتے ہیں۔ آخر یہ بھی خدا کا گھر ہے۔‘

    اس موقع پر چرچ کی پادری نے بھی دعا میں حصہ لیا۔ مونیکا میتھیاس نے کہا: 'میں نے جرمن میں تقریر کی، اور دعا کے دوران میں صرف جی، جی، کہہ سکی کیونکہ ہم سب کے خدشات ایک ہی ہیں، اور ہم آپ سے سیکھنا چاہتے ہیں۔ اور ایک دوسرے کے بارے میں احساس بہت ہی خوبصورت ہے۔‘

    کورونا، جرمنی، برلن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  4. سنگاپور میں کورونا وائرس کے 642 نئے متاثرین

    کورونا، سنگاپور

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سنگاپور کی وزارتِ صحت نے سنیچر کو بتایا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے 642 نئے متاثرین سامنے آ گئے ہیں جس کے بعد ملک میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 31 ہزار 68 ہوگئی ہے۔

    وزارتِ صحت کے حکام کے مطابق متاثرین کی اکثریت میں وہ تارکینِ وطن مزدور شامل ہیں جو اجتماعی رہائش گاہوں میں رہتے ہیں جبکہ چھ متاثرین مستقل شہری ہیں۔

  5. دنیا کے مختلف مسلمان ممالک میں عید الفطر کیسے منائی جائے گی؟

    عید، کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تین روزہ عید الفطر کا تہوار قریب ہے اور یہ مختلف ممالک میں اتوار یا پیر کو منایا جائے گا۔

    مگر کورونا وائرس کی وجہ سے اس مرتبہ عید کافی مختلف ہوگی۔ سعودی عرب کی جانب سے مئی کی 23 تاریخ سے 27 تاریخ تک 24 گھنٹے طویل کرفیو اور لاک ڈاؤن کا اعلان کر رکھا ہے۔

    ترک صدر رجب طیب اردوان نے عید الفطر کے موقع پر کورونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے چار روزہ لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے۔ اس لاک ڈاؤن کا اطلاق ملک کے تمام 81 صوبوں میں ہوگا۔

    انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو نے سماجی دوری کے قوانین میں نرمی کے امکانات کو مسترد کیا ہے اور حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ عید الفطر کے دوران سفری پابندیوں پر سختی سے عملدرآمد کروائیں۔

    ایرانی حکام نے بھی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ عید الفطر کی چھٹیوں کے دوران سفر کرنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے مرض پھیلنے کا خدشہ ہے۔

  6. ارجنٹینا: ایک روز میں متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

    کورونا، ارجنٹینا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ارجنٹینا میں ایک روز میں کورونا وائرس کے 718 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد یہاں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 10 ہزار 649 ہوگئی ہے۔

    حکام کے مطابق سب سے زیادہ متاثرین دارالحکومت بیونس آئرس میں سامنے آئے ہیں۔

    فی الوقت ارجنٹینا میں ہلاکتوں کی کُل تعداد 433 ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ارجنٹینا میں کورونا وائرس کے یومیہ نئے متاثرین کی تعداد مستحکم انداز میں بڑھی ہے تاہم اب بھی اس کے پڑوسی ممالک میں حالات کہیں زیادہ خراب ہیں۔

    برازیل میں مرض پھیلنے کی شرح برِاعظم جنوبی امریکہ میں سب سے زیادہ بلند ہے اور یہ اب متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔

    ارجنٹینا کی حکومت نے 20 مارچ سے جاری لاک ڈاؤن میں 24 مئی تک توسیع کر رکھی ہے لیکن نقل و حرکت اور کاروبار پر چند پابندیاں نرم کی گئی ہیں۔

  7. میکسیکو: ایک دن میں ریکارڈ 479 ہلاکتیں

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    میکسیکو میں جمعے کے روز کورونا وائرس سے ریکارڈ 479 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ 2960 نئے متاثرین سامنے آ گئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے وزارتِ صحت کے حوالے سے بتایا کہ اب ملک میں کورونا کے کُل متاثرین کی تعداد 62 ہزار 527 جبکہ اموات کی تعداد 6989 ہوگئی ہے۔

    اس سے قبل اموات کی بلند ترین یومیہ شرح 424 تھی جو 20 مئی کو ریکارڈ کی گئی تھی۔

  8. احساس پروگرام کے تحت کیا بیروزگاری کے باعث وطن لوٹنے والوں کی امداد کی جائے گی؟

    وزیرِ اعظم کی معاونِ خصوصی برائے سماجی تحفظ اور احساس کیش پروگرام کی سربراہ ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک سے نوکریاں ختم ہونے کے باعث وطن لوٹنے والوں کو احساس پروگرام میں شامل کرنے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے اور اس بارے میں حتمی فیصلہ پاکستان کی وفاقی کابینہ کرے گی۔

    حال ہی میں وزارت برائے بیرونِ ملک پاکستانی کی جانب سے خلیجی ممالک سے کورونا وائرس کے باعث وطن واپس لوٹنے والے اُن پاکستانیوں کے اعداد و شمار بتائے جن کی نوکریاں ان ممالک میں ختم ہو چکی ہیں۔

    ان اعداد و شمار میں سے صرف پانچ خلیجی ممالک سے لوٹنے والوں کی کُل تعداد 20 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

    سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے احساس کیش پروگرام میں ان پاکستانیوں کو بھی شامل کیا جائے گا؟

    احساس پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کے ساتھ بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ کا خصوصی انٹرویو ملاحظہ کیجیے۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  9. تھائی لینڈ: نئی ہلاکتوں کی تعداد صفر، تین نئے متاثرین

    کورونا، تھائی لینڈ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تھائی لینڈ کے حکام نے اطلاع دی ہے کہ سنیچر کو کورونا وائرس کے تین نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ کوئی نئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔

    اس کے بعد ملک میں متاثرین کی کُل تعداد تین ہزار 40 ہوگئی ہے جبکہ اب تک 56 افراد اس مرض کے باعث ہلاک ہوچکے ہیں۔

    دو نئے متاثرین تھائی شہری ہیں جو حال ہی میں بیرونِ ملک سے وطن واپس لوٹے ہیں اور اب قرنطینے میں ہیں۔ اس کے علاوہ پھوکیٹ میں رہنے والے ایک 49 سالہ اطالوی شخص میں بھی وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    حکومت کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کے ترجمان کے مطابق اب تک 2916 مریض صحتیاب ہو کر اپنے گھروں کو لوٹ چکے ہیں۔

  10. 'کورونا کی وبا ایران، عرب ممالک کو کمزور اور شکستہ کر دے گی'

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا ہے کہ خلیجی ممالک بشمول ایران اور چھ عرب ممالک کورونا وائرس کی وبا سے 'کمزور، غریب اور شکستہ' ہو کر ابھریں گے۔

    بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پورے خطے کے لیے اس کا حل صرف یہ ہے کہ تناؤ میں کمی کی جائے۔

    متحدہ عرب امارات کا شمار دنیا کے سب سے امیر ممالک میں ہوتا ہے اور اس نے وبا کے لیے جلد از جلد تیاری مکمل کرتے ہوئے بڑی تعداد میں ٹیسٹنگ کٹس خرید کر ماسکس کی پیداوار شروع کر دی تھی۔

    متحدہ عرب امارات کورونا وائرس سے خلاف مزید کیا اقدامات کر رہا ہے، بی بی سی کے فرینک گارڈنر کے ساتھ اماراتی وزیرِ خارجہ کے اس انٹرویو میں پڑھیے۔

  11. چینی سفارت خانے کی جانب سے افغان مہاجرین کے لیے خوراک کے 8000 تھیلے

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    اسلام آباد میں چینی سفارت خانے کی جانب سے خوراک کے آٹھ ہزار تھیلے عطیہ کیے گئے ہیں جنھیں افغان مہاجرین میں تقسیم کیا جائے گا۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق بالخصوص یہ امداد ان مہاجرین میں تقسیم کی جائے گی جن پر کورونا وائرس کی حالیہ وبا سے سب سے زیادہ برے اثرات پڑے ہیں۔

    یہ امداد پاک چین افغانستان سہ فریقی تعاون معاہدے کے تحت دی گئی ہے۔

    ان تھیلوں کو خیبر پختونخوا، بلوچستان اور پنجاب میں مستحق افغان مہاجرین میں تقسیم کیا جائے گا۔

  12. پلازمہ حاصل کرنے والے کووِڈ مریضوں میں موت کی شرح کم، امریکی تحقیق

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ میں ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے والے کسی شخص سے پلازمہ حاصل کر کے کووِڈ-19 سے شدید بیمار پڑنے والے افراد کو لگایا جائے، تو ان کی حالت سنبھلنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے جبکہ انھیں ہسپتال میں داخل دیگر مریضوں کی بہ نسبت کم آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے۔

    جو لوگ کووِڈ 19 جیسے کسی انفیکشن سے بچ جاتے ہیں، ان کے خون میں ایسی اینٹی باڈیز یعنی پروٹین پیدا ہوجاتے ہیں جو جسم کے مدافعتی نظام کو وائرس سے لڑنے میں مدد دیتے ہیں۔

    خون کا وہ جزو جو ان اینٹی باڈیز کا حامل ہوتا ہے اور جسے دوسرے لوگوں کو لگایا جا سکتا ہے اسے پلازمہ کہتے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نیو یارک کے ماؤنٹ سینائی میڈیکل سینٹر کے محققین نے بتایا کہ یہ تحقیق جان بچنے کے رجحان میں بہتری کی جان اشارہ کرتی ہے مگر زیرِ مطالعہ مریضوں کی تعداد کم تھی اور ان نتائج کا اطلاق وینٹیلیٹر پر موجود مریضوں سے نہیں کیا جا سکتا۔

    محققین نے ہسپتال میں کووِڈ-19 کی شدید علامات کے حامل 39 مریضوں کے نتائج کا تجزیہ کیا جنھیں پلازمہ دیا گیا تھا۔ ان مریضوں کا موازنہ ان مریضوں سے کیا گیا جن کی حالت ان ہی جیسی تھی مگر جنھیں پلازمہ نہیں دیا گیا تھا۔

    تحقیقی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر نائکول بوویئر نے روئٹرز کو بتایا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پلازمہ مؤثر ہے مگر یہ ایک مکمل طبی آزمائش نہیں ہے، اس لیے ایسا کرنا ابھی ضروری ہے۔

    39 میں سے 70 فیصد مریض آکسیجن کی بلند مقدار حاصل کر رہے تھے جبکہ 10 فیصد وینٹیلیٹر پر تھے۔ دو ہفتے بعد پلازمہ حاصل کرنے والے 18 فیصد مریضوں کی حالت بگڑی جبکہ باقی مریضوں میں سے 24 فیصد مریضوں کی۔

    یکم مئی تک پلازمہ حاصل کرنے والے 13 فیصد افراد ہلاک ہوئے جبکہ دوسرے گروپ سے 24 فیصد افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح پلازمہ حاصل کرنے والے گروپ میں ہسپتال سے فارغ ہونے کی شرح 72 فیصد رہی جبکہ دوسرے گروہ میں یہ شرح 67 فیصد تھی۔

  13. جنوبی کوریا میں لاک ڈاؤن کے بعد پاکستانی طالبہ کی زندگی

    مشرقِ بعید کے ملک جنوبی کوریا میں اگرچہ کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد نسبتاً کم ہے لیکن وہاں بھی اِس وبا سے بچاؤ کے لیے سخت احتیاطتی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔

    دارالحکومت سیئول میں کیا حالات ہیں، بتا رہی ہیں وہاں موجود پاکستانی طالبہ سعدیہ رند اپنے اِس وی لاگ میں۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  14. چین: وبا کے آغاز سے پہلی مرتبہ یومیہ نئے متاثرین کی تعداد صفر

    کورونا وائرس، چین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    چین کے شہر ووہان میں گذشتہ سال کے اواخر میں کورونا وائرس کی وبا کے شروع ہونے سے اب تک پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ کوئی نئے متاثرین سامنے نہیں آئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ 22 مئی کو کسی نئے مریض میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔

    چین میں اب تک 84 ہزار 81 افراد اس وائرس سے متاثر جبکہ 4638 افراد اس سے ہلاک ہوچکے ہیں۔

    نیشنل ہیلتھ کمیشن نے سنیچر کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ دو نئے مشتبہ مریض ضرور ہیں جن میں سے ایک شنگھائی میں بیرونِ ملک سے آنے والا مسافر اور ایک شمال مشرقی صوبے جیلین میں مقامی طور پر متاثر ہونے والا شخص ہے۔

    کمیشن نے بتایا کہ ایسے نئے مریض جن میں علامات ظاہر نہیں ہو رہیں، ان کی تعداد گذشتہ روز کے 35 سے گھٹ کر 28 ہوگئی ہے۔

    چین میں مارچ سے متاثرین کی تعداد میں زبردست کمی دیکھنے میں آئی ہے کیونکہ نقل و حرکت پر سخت پابندیوں کی وجہ سے اسے مرض پر قابو پانے میں مدد ملی ہے۔

    تاہم بیرونِ ملک سے آنے والے لوگوں میں مرض کی تشخیص جاری ہے اور ان میں بڑی تعداد اُن چینی شہریوں کی ہے جو اپنے وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔

  15. بریکنگ, پاکستان: 24 گھنٹوں میں 1700 سے زائد نئے متاثرین، 34 ہلاکتیں

    کورونا

    کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں گذشتہ روز 34 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 24 گھنٹے کے دوران 1743 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    یوں پاکستان میں ہلاکتوں کی کُل تعداد 1101 جبکہ متاثرین کی کُل تعداد 52 ہزار 463 ہوگئی ہے۔

    پاکستان میں اب تک سب سے زیادہ اموات صوبہ خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں جہاں یہ تعداد 381 ہے۔ متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثر صوبہ سندھ ہے جہاں 20 ہزار 883 افراد میں کورونا کی تصدیق ہوئی ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک پاکستان میں گذشتہ روز 14 ہزار 705 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جبکہ اب تک ٹیسٹوں کی مجموعی تعداد چار لاکھ 60 ہزار 692 بتائی جا رہی ہے۔

    پاکستان میں اب تک 16 ہزار 653 افراد اس مرض سے صحتیاب ہوئے ہیں۔

  16. دنیا کی تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی اردو کی لائیو کوریج میں خوش آمدید۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک دنیا میں 52 لاکھ 10 ہزار 817 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد تین لاکھ 38 ہزار 100 سے تجاوز کر چکی ہے۔

    تاحال امریکہ اس مرض سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں 16 لاکھ 937 متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ 95 ہزار 979 افراد کی ہلاکت ہو چکی ہے۔

    برازیل میں گذشتہ چند دنوں کے اندر ہی متاثرین کی تعداد دنیا میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ یعنی تین لاکھ 30 ہزار 800 سے زائد ہوگئی ہے اور وہاں 21 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

    دیگر ممالک سے خلاصہ کچھ یوں ہے:

    • اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ زدہ یمن کا نظامِ صحت ’درحقیقت تباہ‘ ہو چکا ہے اور ملک میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔
    • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک بریفنگ کے دوران عبادت گاہوں کے بارے میں کہا کہ یہ ’فوراً کھول دی جائیں‘۔ انھوں نے کہا یہ بہت ضروری ہے کیونکہ امریکہ میں ’زیادہ دعاؤں کی ضرورت ہے نہ کہ کم۔‘
    • برطانیہ کی وزیرِ داخلہ پریتی پٹیل نے کہا ہے ک انفیکشن کی دوسری لہر کو روکنے کے لیے 8 جون کے بعد جو بھی برطانیہ میں داخل ہو گا اسے 14 دن کے لیے خود ساختہ تنہائی میں رہنا ہو گا
    • جنوبی سوڈان میں کابینہ کے دس ارکان کے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔
    • مصر میں کورونا سے معیشت کو نقصان پورا کرنے کے لیے ایک نئے مجوزہ قانون کے تحت مصر میں ہر کام کرنے والے شخص کی تنخواہ سے ایک فیصد کاٹ لیا جائے گا جبکہ بوڑھے افراد کی پینشن سے آدھ فیصد کی کٹوتی ہو گی۔
  17. کورونا وائرس: افغان لڑکیوں کا گروپ گاڑیوں کے پرزوں سے سستے وینٹیلیٹر بنا رہا ہے

    افغانستان میں لڑکیوں کی ایک روبوٹکس ٹیم نے اپنی توجہ کورونا وائرس کے مریضوں کی مدد پر مرکوز کر لی ہے۔ انھوں نے گاڑیوں کے پُرزوں سے سستے وینٹیلیٹر بنانا شروع کر دیے ہیں۔

    ان نوجوان لڑکیوں کو 2017 میں امریکہ میں ہونے والے ایک مقابلے میں روبوٹ بنانے پر خصوصی انعام سے نوازا گیا تھا۔

    لڑکیاں

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  18. چیچن رہنما ’ہسپتال‘ میں

    چیچن رہنما رمضان قدیروف

    ،تصویر کا ذریعہAF

    روسی میڈیا میں آنے والی رپورٹس کے مطابق چیچنیا کے طاقتور رہنما رمضان قادروف کو مشتبہ طور پر کورونا وائرس کی وجہ سے ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا ہے۔

    انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے مطابق چیچن رہنما ماسکو میں نزلہ زکام کی علامات کی وجہ سے علاج کروا رہے تھے۔

    ان کی حالت سے متعلق تو ابھی نہیں معلوم لیکن ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان کے ڈاکٹر نے تجویز کیا تھا کہ انھیں ماسکو لے جایا جائے۔

    چیچنیا میں حکام نے ان اطلاعات کی تردید کی اور نہ ہی تصدیق کی ہے۔

    بی بی سی ماسکو کے نامہ نگار سٹیو روزنبرگ کے مطابق چیچن رہنما کا روس میں بہت خوف ہے۔

    1990 میں وہ بطور ایک چیچن قوم پرست ماسکو کے خلاف لڑے تھے لیکن اب وہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے اہم اتحادی ہیں۔

    چیچنیا کے اعداوشمار کے مطابق اس وقت وہاں کم از کم ایک ہزار 26 کووڈ۔19 کے مریض ہیں اور اب تک 11 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  19. بریکنگ, پاکستان میں کورونا کے مریض 52 ہزار سے زیادہ

    پاکستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 52057 ہو گئی ہے جبکہ 1088 افراد اس سے ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔

    پاکستان میں اموات کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ خیبرپختنوخوا ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد 381 ہے۔

    پاکستان میں اب تک 16058 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

    چارٹ
  20. کورونا وائرس: یمن کا ہیلتھ کیئر سسٹم ’تباہ ہو چکا ہے‘

    یمن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ زدہ یمن کا ہیلتھ کیئر کا نظام ’درحقیقت تباہ‘ ہو چکا ہے اور ملک میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کو منظم کرنے والے ادارے یو این آفس فار دی کو آرڈینیشن آف ہیومینیٹیریئن افیئرز (او سی ایچ اے) کے ترجمان جینز لائرک نے صورتِ حال کو انتہائی خطرناک بتایا۔

    انھوں نے کہا کہ لوگوں کو علاج کے مراکز سے واپس بھیجا جا رہا ہے کیونکہ عملے کے پاس محفوظ کرنے والے آلات نہیں ہیں۔

    یمنی حکام نے بہت زیادہ انفیکشنز اور 30 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے لیکن اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ حقیقی نمبر یقیناً اس سے کہیں زیادہ ہیں۔

    ملک کا صحت کا نظام کئی سال کی خانہ جنگی کی وجہ سے ناکارہ ہو چکا ہے اور وینٹیلیٹرز بہت ہی کم ہیں۔