کورونا وائرس کے دوران پابندیوں میں رہنے والی ’لاک ڈاؤن جینریشن‘ کئی دہائیوں تک متاثر رہ سکتی ہے

دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 56 لاکھ 18 ہزار سے زیادہ جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 60 ہزار کے قریب ہے۔ کراچی کے این آئی بی ڈی میں جمعرات سے کورونا اینٹی باڈی ٹیسٹنگ کا آغاز متوقع ہے جبکہ پنجاب میں عید کے بعد کاروبار صرف پیر تا جمعرات کھلیں گے۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا

    پاکستان اور دنیا بھر میں کووڈ 19 کے متاثرین اور اموات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    پاکستان اور دنیا بھر سے تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  2. کورونا اور محبت: سماجی دوری کے زمانے میں محبتیں کیسے بڑھ رہی ہیں؟

    کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں زندگی کے دوسرے معاملات اب الیکٹرانک روپ اختیار کر رہے ہیں، وہیں آن لائن ڈیٹنگ کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔‍اس ڈیجیٹل ویڈیو میں دیکھیے کہ سماجی دوری کے زمانے میں ڈیٹنگ کے لیے نوجوان کیا طریقے اختیار کر رہے ہیں۔

  3. کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیسے ہوتا ہے اور کیوں ضروری ہے؟

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور جہاں اس سے 200 سے زیادہ ممالک میں 25 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں وہیں ہلاکتوں کی تعداد بھی ایک لاکھ 71 ہزار سے بڑھ چکی ہے۔

    دنیا بھر کی حکومتوں نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں مختلف طریقوں سے اپنا ردِعمل ظاہر کیا ہے اور عالمی ادارۂ صحت نے جن چیزوں کو اس کوشش میں سب سے اہم قرار دیا ہے ان میں سے ایک اس بیماری کی تشخیص کے لیے زیادہ سے زیادہ افراد کی ٹیسٹنگ کا عمل ہے۔

    دنیا میں کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کا عمل مختلف ممالک میں مختلف رفتار سے جاری ہے۔ امریکہ میں جہاں ابتدا میں اس عمل میں سست رفتاری دکھائی دی وہ اب دنیا میں سب سے متاثرہ ملک بن چکا ہے اور اب وہاں ٹیسٹنگ کے عمل میں تیزی آئی ہے۔

    وہیں جنوبی کوریا اور جرمنی جیسے ممالک نے وبا کے آغاز سے ہی جارحانہ انداز میں ٹیسٹنگ کا عمل شروع کیا جس کا نتیجہ وہاں کم اموات کی صورت میں نکلا ہے۔

    پاکستان کی بات کی جائے تو وہاں بھی ابتدا میں بہت کم ٹیسٹ کیے گئے اور 15 اپریل تک اگر دیکھا جائے تو ملکی سطح پر دس لاکھ افراد میں ٹیسٹوں کی شرح 360 کے لگ بھگ تھی۔

  4. سائنسدان اب بھی کورونا کے بارے میں کیا نہیں جانتے؟

    نول کووڈ 19 وائرس نے پوری دنیا میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس سے متاثر ہیں، سائنسدان اس وائرس کی ویکسین بنانے میں کوشاں ہیں لیکن وہ اس وائرس کے متعلق کیا اور کتنا جانتے ہیں، جاننے کے لیے دیکھیے یہ ڈیجیٹل ویڈیو۔

  5. کورونا وائرس کی وبا آخر کب ختم ہوگی؟

    کورونا وائرس کی وجہ سے اب دنیا بھر میں اربوں لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں۔ معیشتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کروڑوں افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔ مگر کیا یہ وبا کبھی ختم ہوگی اور اگر ہاں تو اس میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے، دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  6. بریکنگ, بلوچستان: مزید 80 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے صوبائی محکمہ صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں کورونا وائرس کے 80 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرین کی کل تعداد 3613 ہو گئی ہے۔

    بلوچستان میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 42 ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 334 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 80 پازیٹو آئے۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور 22200 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے 18584 کے نتائج منفی آئے۔

    بلوچستان میں مجموعی طوپر پر 53520 افراد کی سکریننگ کی جا چکی ہے۔

    مشتبہ مریضوں کی تعداد 21151 ہے جبکہ کورونا وائرس سے اب تک 1289 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

  7. بریکنگ, گلگت بلتستان: کووڈ 19 کے 13 نئے مریض، متاثرین کی کل تعداد 651 ہو گئی

    bbc

    گلگت بلتستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 13 نئے مریض سامنے آنے کے بعد مصدقہ متاثرین کی تعداد 651 ہوگئی ہے۔

    گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے اب تک نو اموات ہو چکی ہیں۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران چھ مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 463 ہوگئی ہے جبکہ اس وقت 179 مریض زیر علاج ہیں۔

  8. سماجی دوری کے لیے دو میٹر دور رہنے کا مطلب کیا ہے؟

    کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر عوام کو ایک دوسرے سے کم از کم دو میٹر کا فاصلہ رکھنے کو کہا گیا ہے لیکن سماجی دوری کا مطلب کیا ہے اور لوگوں کو اپنے درمیان کم از کم کتنا فاصلہ رکھنا چاہیے۔جاننے کے لیے دیکھیے یہ دلچسپ ویڈیو۔

  9. بریکنگ, ایران: 2080 نئے متاثرین، اموات کی تعداد 7564 ہو گئی

    t

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی حکومت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کووڈ 19 سے متاثرہ 2080 نئے متاثرین سامنے آئے، جس سے متاثرین کی سرکاری تعداد 141591 ہوگئی ہے۔

    وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہاں پور کا کہنا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 56 مریض ہلاک ہوئے ہیں۔ جس سے اموات کی مجموعی تعداد 7564 ہو گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 111,176 جبکہ 2551 مریض تشویشناک حالت میں ہیں۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ ملک میں اب تک 856,546 ٹیسٹ کروائے جا چکے ہیں۔

  10. وہ لاشیں جو کئی ہفتوں سے لندن کی مسجد میں پڑی ہیں

    مسجد میں لاشیں
    ،تصویر کا کیپشنایرکن گونے کا کہنا ہے کہ انھوں نے گذشتہ چھ ہفتوں میں غیر معمولی تعداد میں جنازے پڑھائے ہیں

    لندن کے علاقے ہیکنی کی ایک مسجد میں 18 ایسے ترک قبرصیوں (ٹرکش سیپریوٹس) کی لاشیں پڑی ہیں جن کا انتقال کئی ہفتے قبل ہو چکا ہے اور ان کی لاشیں ان کے آبائی ملک کو بھیجی جانی تھیں۔

    اسلامی طریقے سے تدفین عموماً مرنے کے 24 گھنٹے کے دوران کر دی جاتی ہے، لیکن شمالی قبرص نے کورونا وائرس کی وبا کے بعد اپنی سرحدیں بند کر دی تھیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یکم جون کے بعد سرحدیں جزوی طور پر کھل جائیں گی اور زیادہ تر لاشوں کو جہازوں کے ذریعے بھیجنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

    ہیکنی کی مسجدِ رمضان کے جنازوں کے ڈائریکٹر ایرکن گونے نے کہا کہ انھوں نے گذشتہ چھ ہفتوں میں غیر معمولی تعداد میں جنازے پڑھائے ہیں، جو کہ برادری کے لیے بہت ’تکلیف دہ‘ بات ہے۔

  11. بورس جانسن: برطانیہ نے ماضی کی وباؤں سے کچھ نہیں سیکھا

    بورس جانسن

    برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے ’بے رحم حقیقت یہ ہے کہ اس ملک نے پہلے والی وباؤں سے کچھ نہیں سیکھا اور نہ ہی ہمارے پاس ٹیسٹنگ کا کوئی ایسا آپریشن تھا جسے فوری استعمال کیا جا سکتا، لیکن اب ہمارے پاس بہتر نظام موجود ہے۔‘

    بورس جانسن ویڈیو لنک کے ذریعے برطانوی ممبر پارلیمان کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے پاس اتنی صلاحیت نہیں تھی کہ وہ پہلے ٹریکنگ سسٹم کو لانچ کرے اور نہ ہی ہمارے پاس اتنے تجربہ کار ٹریکرز تھے جو اس طرح کا آپریشن کریں جیسا کچھ دوسرے ممالک میں ہوا ہے۔

    ہیلتھ کمیٹی کے سربراہ، ایم پی اور سابق کنزرویٹیو وزیرِ صحت جیریمی ہنٹ نے کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس ایک ’گیم چینجر‘ ہو سکتا تھا، لیکن یہ اس وقت ہی ممکن تھا جب بڑے پیمانے پر ٹیسٹ کیے جاتے، انھوں نے وزیرِ اعظم سے پوچھا کہ کیوں ایک لاکھ ٹیسٹ کے ہدف کا اعلان کرنے میں اپریل تک کا وقت لگا؟

    بورس جانسن کا مزید کہنا تھا کہ وائرس کے ساتھ بہت زیادہ مسائل تھے، جیسا کہ لوگ علامات دکھانے سے پہلے ہی اسے دوسروں تک پھیلا سکتے تھے۔

  12. قبرص کا اعلان: سیاحوں کو کووڈ 19 کا شکار ہونے پر چھٹیوں کا خرچ دیا جائے گا

    قبرص

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بحیرہ روم کے سیاحوں میں مقبول جزیرے قبرص کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی سیاح اس جزیرے پر آنے کے بعد کورونا کا شکار ہوا تو وہ اس کی چھٹیوں کا خرچ ادا کرے گی۔

    بدھ کو کیے جانے والے اس اعلان میں کہا گیا ہے کہ حکومت مریض اور اس کے اہل خانہ کی رہائش، خوراک اور علاج کا پورا خرچ ادا کرے گی۔ اعلان کے مطابق سیاحوں کو صرف اپنی فلائیٹ کا خرچ خود اٹھانا پڑے گا۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق قبرص میں اب تک 939 لوگ کورونا سے متاثر ہوئے اور 17 اموات ہوئی ہیں۔

    سیاحت گزشتہ سال قبرص کی جی ڈی پی کا 15 فیصد تھا اور اسی لیے اب حکومت جلد سے جلد سیاحوں کو دوبارہ اس جزیرے پر واپس لانا چاہتی ہے۔

    حکام نے یہ بھی بتایا کہ کووڈ 19 کا شکار ہونے والے سیاحوں کے لیے 100 بستروں کا ایک ہسپتال بھی مختص کیا جائے گا اور ان کے اہل خانہ کو قرنطینہ میں رکھنے کے لیے ہوٹل مختص کیے جائیں گے۔

  13. کیا امیر ممالک کووڈ 19 کی ویکسین کی ’ذخیرہ اندوزی‘ کر سکتے ہیں؟

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کی ویکسین سے متعلق ہونے والی فنڈنگ کانفرنس سے امریکہ اور روس غیر حاضر تھے جبکہ چین نے ویکسین کی تیاری اور علاج پر تحقیق کے لیے براہ راست مالی مدد کا کوئی وعدہ نہیں کیا۔

    فارماسوٹیکل طاقت کے دو مراکز: امریکہ اور چین کی علیحدہ ویکسین تیاری کی کوشش ایک پریشان کن صورتحال کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔

    یورپین ممالک کا خیال ہے کہ اس وائرس کے لیے تیار ہونے والی ویکسین پر تمام ممالک کی ملکیت کا حق تسلیم کیا جانا چائیے۔ یورپی ممالک کے اس خیال کی تائید کرنے والے ممالک کو تشویش ہے کہ اس وقت ویکسین کی تیاری کے لیے ایک مقابلہ نظر آ رہا ہے۔

    ماہر جینیات کیٹ براڈیریک سائنسدانوں کی اس ٹیم کا حصہ ہیں جو دنیا بھر میں کووڈ 19 کے لیے ایک ویکسین تیار کرنے کی کوشش کرنے والے 44 منصوبوں میں سے ایک ہے۔

    وہ امریکہ کی بائیو ٹیکنالوجی کمپنی اینویو میں محققین کی ایک ٹیم کا حصہ ہیں جو دسمبر تک اس ویکسین کی دس لاکھ خوراکیں تیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ لیکن یہ ویکسین کہاں اور اور کن لوگوں کو ملے گی۔

  14. بریکنگ, روس میں کووڈ 19 متاثرین کی تعداد تین لاکھ 70 ہزار سے تجاوز کر گئی، تقریباً 4000 اموات

    ببث

    روس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 8338 نئے متاثرین اور مزید 161 اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔

    ماسکو میں قائم کورونا وائرس ہیڈ کوارٹر نے 27 مئی کو اپنے ٹیلیگرام چینل پر بتایا کہ انفیکشن کی مجموعی تعداد 370،680 تک پہنچ گئی ہے اور ہلاکتوں کی کل تعداد 3968 ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف ماسکو میں 2140 متاثرین سامنے آئے۔

    ملک بھر میں اب کل 142،208 افراد اس بیماری سے پوری طرح صحت یاب ہو چکے ہیں۔

  15. ’لاک ڈاؤن جینریشن‘ کئی دہائیوں تک متاثر رہ سکتی ہے

    لاک ڈاؤن جنریشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوامِ متحدہ کی ایک ایجنسی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا نے معیشتوں کو نقصان پہنچایا ہے اور دنیا بھر میں بے روز گاری بڑھائی ہے۔ ایجنسی کے مطابق نوجوان ورکرز اس سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوئے ہیں۔

    انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی ایک رپورٹ کے مطابق 29 سال سے کم عمر افراد میں چھ میں سے ایک یا اس سے زیادہ نے وبا کے شروع ہونے کے بعد سے کام چھوڑ دیا ہے اور نوجوان سب سے زیادہ متاثر ہیں۔

    اس کے مطابق کووڈ۔19 اس ’لاک ڈاؤن جینیریشن‘ کے کیریئر کے مواقعوں کو آنے والی کئی دہائیوں تک متاثر کر سکتا ہے۔

    آئی ایل او کے سربراہ گائے رائیڈر نے کہا کہ ’عالمی وبا کے فوری اثرات کا لوگوں پر مستقل نشان رہے گا۔‘

    آئی ایل او کے مطابق اگرچہ ابھی تک وائرس سے دنیا بھر میں 3 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ تصدیق شدہ ہلاکتیں ہوئی ہیں، لیکن اس نے نوکریوں کو تباہ کیا ہے، تعلیم میں خلل ڈالا ہے اور ان لوگوں کے لیے رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں جو مزدوری کرنا چاہتے تھے۔

    ایجنسی نے فوری طور پر نوجوانوں کی مدد کے لیے بڑے پیمانے پر پروگراموں کا مطالبہ کیا ہے۔

  16. خیبر پختونخوا میں آج سے دکانیں شام 5 بجے بند ہوں گی، اجمل وزیر

    اجمل

    ،تصویر کا ذریعہKPK information department

    خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ عید الفطر گزرنے کے بعد کورونا خطرات کے پیش نظر دوبارہ عید سے پہلے والے معمولات پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا اور شام 5 بجے کے بعد ضروری دکانوں کے علاوہ تمام دکانیں بند رہیں گی۔

    پشاور کے مختلف بازاروں میں ایس او پیز کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دکانیں ہفتے میں چار دن پیرسے جمعرات کو شام 5 بجے تک کھلی رہیں گی جبکہ حجام اور سیلون ہفتے میں تین دن جمعہ ہفتہ اور اتوار کو کھلے رہیں گے اور ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائیگا۔

    اجمل وزیر کا کہنا تھا ’وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں حکومت دو جنگیں لڑرہی ہیں ایک کورونا کے خلاف اور دوسری غربت و افلاس کے خلاف۔‘

    ان کا کہنا تھا ’ہماری ملک کی کافی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت نے لاک ڈاون میں نرمی کی۔‘

    مشیر اطلاعات نے ذخیرہ اندوزوں کو خبردار کرتے ہوئے بتایا کہ ذخیرہ اندوزوں سے نمٹنے کے لیے آرڈنینس لایا گیا ہے۔ جس میں ذخیرہ اندوزوں کے لیے سخت سزائیں مقرر کی گئی ہے اور اس میں کسی قسم کی نرمی نہیں کی جائے گی۔

    مشیر اطلاعات کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاک ڈاون میں سختی اور نرمی دونوں عوام کے تحفظ کے لیے ہے اور ایس او پیز پر عمل درآمد کی صورت میں مزید نرمیاں بھی کی جائیں گی۔

  17. ماسک پہنتے ہوئے کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیئے؟

    جیسے جیسے لاک ڈاؤن میں نرمی ہو رہی ہے، دنیا بھر میں پہلے سے زیادہ لوگ اپنی حکومت کے مشوروں کے تحت ماسک پہن رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ ماسک صرف اس صورت میں موثر ثابت ہوتے ہیں جب مناسب طریقے سے پہننے کے ساتھ بار بار ہاتھوں کی صفائی اور سماجی فاصلے کا خیال رکھا جائے۔ماسک پہنتے ہوئے کن چیزوں کا خیال رکھنا چاہیئے؟ یہ جاننے کے لیے دیکھیں یہ ویڈیو

  18. بریکنگ, خیبر پختونخوا: کورونا وائرس کے 224 نئے مریض، مزید 9 اموات, اموات کی مجموعی تعداد 425 ہو گئی

    خیبر پختونخواہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ 224 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی کل تعداد 8483 ہو گئی ہے۔

    محمکہ صحت خیبر پختونخواہ کے مطابق صوبے میں وائرس سے متاثرہ مزید 9 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد اموات کی تعداد 425 ہو گئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 54 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔ اس طرح صحتیاب ہونے والوں کی کل تعداد 2632 ہو گئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  19. بریکنگ, برطانوی ہسپتالوں میں کورونا سے ہلاکتوں کے تازہ اعداد و شمار

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انگلینڈ میں این ایچ ایس کے مطابق ہسپتالوں میں کورونا ٹیسٹ پازیٹیو آنے ولے مزید 183 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس طرح انگلینڈ کے ہسپتالوں میں کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے افراد کی کل تعداد 26،049 ہو گئی ہے۔

    سکاٹ لینڈ میں کورونا وائرس کے مصدقہ 13 مریض مزید ہلاک ہوئے ہیں اور ویلز میں یہ تعداد 11 ہے اور اس طرح اب تک ہلاک ہونے والے افراد کی کل تعداد 1ّ293 ہو گئی ہے۔

    سکاٹ لینڈ میں ہلاک ہونے والے کووڈ 19 کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 2304 ہے۔

    شمالی آئرلینڈ میں مزید 2 مصدقہ مریض ہلاک ہوئے ہیں اور اب تک کی کل تعداد 516 ہے۔

  20. ڈی ایچ کیو ایبٹ آباد: چھ ڈاکٹروں سمیت طبی عملے کے 28 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق, محمد زبیر خان، صحافی

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہbbc

    خیبر پختونخوا کے ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ایبٹ آباد میں طبی عملے کے 28 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    صوبائی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن خیبر پختونخواہ کے ترجمان ڈاکٹر سلیم خان یوسفزئی کے مطابق ان میں چھ ڈاکٹر، پانچ ایل ایچ وی، پانچ نرسنگ سٹاف، تین دائیاں اور عملے کے دیگر نو افراد شامل ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’حفاظتی سامان کی کمی اور ہماری دی گئی تجاویز پر عمل نہ ہونے ڈاکٹرز اور دیگر ملازمین کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ حکومت ہمارے تجاویز پر عمل کروائے تاکہ موثر انداز میں کرونا کے خلاف لڑا جا سکے۔ ‘

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کو ورلڈ ہیلتھ آرگنازیشن کے پروٹوکول کے مطابق دو ہفتے کے لیے فی الفور بند کیا جائے اور تمام عملے کے ٹیسٹ کئے جائیں اور ہسپتال کو ڈس انفیکٹ کرنے کے بعد دوبارہ کھولا جائے۔

    ڈاکٹر سلیم خان یوسفزئی کا کہنا تھا کہ کورونا کا مقابلہ کرنے کے لیے سماجی فاصلے لازمی ہیں۔ ’لاک ڈاون میں نرمی کرکے حالات کو سنگین بنا دیا گیا ہے۔ ہم بار بار کہہ رہے ہیں اور بتا رہے ہیں حکومت اور عوام نے ڈاکٹروں کی تجاویزات پر عمل نہ کیا تو حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں کام کرنے والے ڈاکٹرز اور دیگر عملے کے کورونا کا شکار ہونے پر ہسپتالوں کو بند کرنا پڑے گا تو عوام علاج کے لیے کہاں جائیں گے۔

    ’ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ لاک ڈاون میں نرمی کرنے کے فیصلوں کا دوبارہ جائزہ لیں، عوام سے کہتے ہیں کہ کورونا کو مذاق نہ سمجھیں۔ یہ وبا ہے بے شک اس سے نہ ڈریں مگر احتیاط کرئیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’اگر نوجوان یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں اس وائرس سے نقصان نہیں ہوگا تو یہ کسی حد تک ٹھیک ہے کہ مگر وہ کئی لوگوں کے لیے مسائل کا سبب بن رہے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر مریضوں کی تعداد اس شرح سے اور بڑھی تو ہمیں خدشہ ہے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں پورا صحت کا نظام بیٹھ جائے گا۔

    ڈاکٹر سلیم خان یوسفزئی کے مطابق اس وقت صوبہ خیبرپختونخواہ میں متاثرہ طبی عملے کی تعداد تقریباً 550 سے اوپر ہوچکی ہے۔ جس میں صرف تین سو ڈاکٹر شامل ہیں۔

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images