کورونا وائرس کے دوران پابندیوں میں رہنے والی ’لاک ڈاؤن جینریشن‘ کئی دہائیوں تک متاثر رہ سکتی ہے

دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 56 لاکھ 18 ہزار سے زیادہ جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 60 ہزار کے قریب ہے۔ کراچی کے این آئی بی ڈی میں جمعرات سے کورونا اینٹی باڈی ٹیسٹنگ کا آغاز متوقع ہے جبکہ پنجاب میں عید کے بعد کاروبار صرف پیر تا جمعرات کھلیں گے۔

لائیو کوریج

  1. ’دفتروں کا کھیل اب ختم ہو چکا ہے‘، ’دفتر جانا ماضی کا حصہ ہے‘، ماہرین کی رائے کتنی درست ہے؟, فرانچیسکا گلٹ، بی بی سی نیوز

    دفتر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کی وبا سے پہلے ہم میں سے دسیوں لاکھوں لوگ اپنے وقت کا تیسرا حصہ اپنے دفتر میں گزارتے تھے۔ تاہم لاک ڈاؤن کے بعد سے برطانیہ کی تقریباً نصف افرادی قوت گھروں سے کام کر رہی ہے اور کچھ کمپنیوں نے عندیہ دیا ہے کہ شاید مستقبل میں یہ معمول بن جائے گا۔

    بارکلیز بینک کے سربراہ کے مطابق ’7000 افراد کو ایک عمارت میں بلانا اب شاید تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔‘

    مورگن سٹینلے کے چیف نے کہا ہے کہ بینکوں کے پاس اب بہت کم زمین رہ جائے گی۔

    کاروباری شخصیت سر مورٹن سوریل کا اس موضوع پر کہنا ہے کہ وہ 35 ملین پاؤنڈ کسی مہنگے دفتر پر خرچ کرنے کی بجائے لوگوں پر خرچ کرنا بہتر سمجھیں گے۔

    کتاب ’جوئے آف ورک‘ کےمصنف کے مطابق دفتروں کا کھیل اب ختم ہو چکا ہے۔

    بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’ٹوڈے‘ میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شاید ہمیں یہ سن کر دکھ ہو لیکن جس طرح کا دفتر کا ماحول ہم نے دیکھا ہے وہ شاید اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔

    ’میں ایک بڑے میڈیا ہاؤس میں کام کرنے والے ایک شخص سے بات کر رہا تھا تو اس نے بتایا کہ ان کے دفتر میں جہاں پہلے 1400 لوگ آتے تھے اب 30 لوگ آتے ہیں لیکن کام پورا ہو رہا ہے۔‘

    تاہم لندن میں سٹی یونیورسٹی بزنس سکول کے پروفیسر آندرے سپائسر کا کہنا ہے کہ معاملہ اتنا بھی واضح یا یکطرفہ نہیں ہے۔

    انھوں نے کہا کہ لوگ دفتر جائیں گے لیکن ان کا دفتر میں وقت بہت کم ہو جائے گا۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ گھر سے کام کرنے میں لوگوں کو لگے گا شاید ترقی کے اتنے مواقع نہیں جتنے دفتر جا کر ملیں گے۔ انھوں نے کہا کہ مالی بحران کے ماحول میں لوگ چاہیں گے کہ وہ اپنے باس کی نظروں میں رہیں۔ تاہم انھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ بڑی کمپنیاں اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے گھروں سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کریں گی۔

    کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دفتر ہمیں روٹین دیتا ہے جس کی ہمیں ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دفتر جانے کا مطلب ہے روز نئے کپڑے پہننا، نئے دوست بنانا ااپنی ایک شناخت بنانا۔

    تاہم پروفیسر سپائسر کا کہنا ہے کہ جائزوں کے مطابق گھر سے کام کرنے والے لوگ زیادہ خوش رہتے ہیں اور زیادہ کام کرتے ہیں اور روز دفتر آنے جانے کے لیے سفر سے بھی بچ جاتے ہیں جو ان کے لیے ایک بڑا منفی پہلو ہے۔

    گھر سے کام کے منفی پہلوؤں میں ایک یہ ہے کہ سب لوگوں کے پاس گھر میں ایک جیسی جگہ یا ماحول ہونا ضروری نہیں۔ اس کے علاوہ نئے آنے والوں کو سینیئر لوگوں سے سیکھنے کا موقع کم ملے گا، خاص طور پر تجربے کی باتیں جو غیر رسمی گفتگو کے دوران نئے لوگوں تک پہنچتی ہیں۔

    دفتر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دفتر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  2. سعودی عرب: 21 جون سے مکہ شہر کے علاوہ کرفیو ختم کرنے کا اعلان

    reuters

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    سعودی حکام نے 21 جون سے مکہ شہر کے علاوہ باقی شہروں میں کرفیو ختم کرنے کااعلان کیا ہے۔

    حکام کے مطابق 31 مئی سے مکہ کے علاوہ تمام مساجد میں نماز پڑھنے کی اجازت ہو گی۔

    سعودی عرب میں رواں ہفتے کرفیو کے اوقات میں نرمی کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ جمعرات سے صبح 6 بجے سے سہ پہر تین بجے تک کرفیو میں نرمی ہو گی۔

    سعودی عرب میں کورونا وائرس سے اب تک 400 افراد ہلاک، جبکہ 74ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔

  3. گلگت بلتستان: آٹھ نئے مریضوں اور مزید ایک ہلاکت کی تصدیق, محمد زبیر خان، صحافی

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گلگت بلتستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے آٹھ نئے مریض سامنے آنے کے بعد مصدقہ متاثرین کی تعداد 638 ہوگئی ہے۔

    گلگت بلتستان محکمہ صحت نے مزید ایک ہلاکت کی بھی تصدیق کی ہے۔ جس کے بعد ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو تک پہنچ چکی ہے۔

    ہلاک ہونے والے مریض کا تعلق نگرسے ہے۔ نئے مریضوں میں سے تین کا تعلق گلگت، دو کا سکردو، ایک شگر، ایک ہنزہ اور ایک کا غذر سے ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 13 مریض صحت یاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 457 ہوگئی ہے جبکہ اس وقت زیر علاج مریضوں کی تعداد 172 تک پہنچ چکی ہے۔

    گلگت بلستان محکمہ صحت کے مطابق بلتستان ڈویثرن میں زیر علاج مریضوں کی تعداد 26 تک پہنچ گئی ہے۔ جس میں گانچھے 14، سکردو 8، شگر تین، کھرمنگ میں ایک مریض شامل ہیں۔

    گلگت بلتستان میں کورونا مریض کا علاج کرنے والے ڈاکٹر علی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بلتستان ڈویثرن ایک دور دراز علاقہ ہے جس کی بستیاں قدرتی طور پر الگ تھلگ ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے افراد کو یہ توقع نہیں تھی کہ بلتستان ڈویثرن میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی بڑی تعداد سامنے آئے گی مگر اب محسوس ہوتا ہے کہ وائرس پھیل رہا ہے اور کچھ سنجیدہ اقدامات کی ضرورت پڑے گئی۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے علاقوں میں کافی وقفے کے بعد کورونا مریضوں کی ہلاکتیں بھی دوبارہ شروع ہیں جو خطرے کی بات ہے۔

    گللگت بلتستان محکمہ صحت کے مطابق ہلاکتوں کا تناسب اس وقت تقریبا 1.50 فیصد ہے جبکہ صحت مند مریضوں کا تناسب تقریبا 72 فیصد ہے۔

    اس وقت بھی گلگت بلستان میں سب سے متاثرہ علاقہ گللگت ہے جہاں پر زیر علاج مریضوں کی تعداد 97 ہے۔ دوسرے نمبر پر استور 21 اور 17 مریضوں کی ساتھ ہنزہ تیسرے نمبر پر ہے۔

  4. بریکنگ, بلوچستان: کورونا وائرس کے 68 نئے مریض، متاثرین کی تعداد 3536 ہو گئی

    ف

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے صوبائی محکمہ صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صوبے میں کورونا وائرس کے 68 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرین کی کل تعداد 3536 ہو گئی ہے۔

    بلوچستان میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 41 ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 269 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 68 پازیٹو آئے۔

    بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور 21866 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے 18330 کے نتائج منفی آئے۔

    بلوچستان میں مجموعی طوپر پر 51757 افراد کی سکریننگ کی جا چکی ہے۔

    مشتبہ مریضوں کی تعداد 20547 ہے جبکہ کورونا وائرس سے اب تک 1156 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

  5. لاک ڈاؤن جلدی ختم کرنے سے ’دوسری مرتبہ وبا کے عروج‘ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

    ع

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    عالمی ادارہِ صحت نے دنیا کے ان ممالک کو جہاں لاک ڈاؤن پابندیاں جلدی ختم کی جا رہی ہیں، کورونا وائرس کی دوسری لہر سے مہینوں پہلے ہی ’دوسری مرتبہ وبا کے عروج‘ سے متعلق خبردار کیا ہے۔

    عالمی ادارہِ صحت کے ہنگامی پروگرام کے سربراہ مائک ریان نے شمالی امریکہ، جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اور دیگر علاقوں میں جلدی لاک ڈاؤن ختم کرنے اور صحت سے متعلقہ حفاظتی اقدامات میں کمی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

    ان کا یہ تبصرہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں میموریل ڈے پر ساحل اور دیگر مقامات پر بڑے ہجوم نظر آئے، اور دوسری جانب یورپی حکام نے گرمیوں کی تعطیلات کے پیش نظر یورپی یونین کی داخلی سرحدوں کو دوبارہ کھولنا شروع کر دیا ہے۔

  6. بریکنگ, برطانیہ میں کووڈ 19 مریضوں پر ’ریمڈیسویر‘ ٹرائلز کا آغاز‘

    r

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک کا کہنا ہے کہ آج سے این ایچ ایس کے منتخب کردہ مریضوں پر اینٹی وائرل دوائی ریمڈیسویر کے ٹرائلز کا اعلان کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس دوا کے استعمال سے امید افزا نتائج ملے ہیں اور اس سے صحتیابی کا وقت مختصر کیا جاسکتا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کا بحران شروع ہونے کے بعد سے ہی کووڈ 19 کے علاج میں یہ شاید سب سے اہم پیش رفت ہے۔

  7. برطانیہ: کئیر ہومز میں اموات بتدریج کم ہو رہی ہیں

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے کووڈ 19 پروگرام کے کوآرڈینیٹر پروفیسر جان نیوٹن کا کہنا ہے کہ ہسپتالوں اور کئیر ہومز میں ہونے والی اموات کی تعداد کم ہو رہی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ خاص طور پر کئیر ہومز میں اموات کا رجحان کم رہا ہے۔

    اب تک برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کا 28.3 فیصد کئیر ہومز میں ہوئی ہیں۔

  8. روس میں وبا کے عروج کا وقت گزر چکا ہے، پوتن

    bbc

    روسی صدر ولادیمیر پوتن کا کہنا ہے کہ روس میں کورونا وائرس کی وبا کےعروج کا وقت گزر چکا ہے۔

    26 مئی کو وزیر دفاع سیرگی شوگو کے ساتھ ویڈیو کانفرنس میں پوتن کا کہنا تھا کہ روس نے کووڈ 19 سے لڑنے کے لیے متعدد ممالک کو مدد فراہم کی ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’ہمیں اب ان میں سے کچھ کی طرف سے امداد کی پیش کشیں بھی موصول ہو رہی ہیں۔ لیکن ماہرین کے مطابق ہم پہلے ہی وبا کے عروج کے وقت سے گزر چکے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ صدر ولادیمیر پوتن نے یہ بیان اس دن دیا ہے جب روس میں ’یومیہ ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد‘ رپورٹ ہوئی ہے۔

  9. کورونا وائرس: کورونا انسانی جسم پر کیسے حملہ آور ہوتا ہے

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین سے شروع ہو کر دنیا کے بیشتر ممالک میں پھیلنے والے کورونا وائرس کے انفیکشن سے لڑنے والے ڈاکٹروں کی لڑائی ایسی ہے جیسے وہ کسی نامعلوم دشمن کے خلاف لڑ رہے ہوں۔

    یہ آپ کے جسم پر کیسے حملہ آور ہوتا ہے؟ انفیکشن کے بعد انسانی جسم میں کس قسم کی علامات پیداہوتی ہیں؟

    کن لوگوں کے لیے شدید بیمار ہونے یا مرنے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں؟ اور آپ اس کا علاج کس طرح کریں گے؟

  10. بریکنگ, خیبرپختونخوا: 179 نئے مریض، اموات کی تعداد 416 ہو گئی

    خیبر پختونخواہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ 179 نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی کل تعداد 8259 ہو گئی ہے۔

    محمکہ صحت خیبر پختونخواہ کے مطابق صوبے میں وائرس سے متاثرہ مزید 8 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد اموات کی تعداد 416 ہو گئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 49 مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔ اس طرح صحتیاب ہونے والوں کی کل تعداد 2578 ہو گئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. برازیل: ریو کے گورنر کی رہائش گاہ پر پولیس کا چھاپہ, کیٹی واٹسن، جنوبی امریکہ سے بی بی سی کی نمائندے

    برازیل

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    برازیل میں پولیس نے کووڈ 19 کے حوالے سے بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں ریو ڈی جنیرو کے گورنر ولسن وزٹیل کی رہائش گاہوں پر چھاپے مارے ہیں۔

    فیڈرل پولیس کے ایک بیان کے مطابق ریو ڈی جنیرو ریاست میں وائرس سے نمٹنے کے لیے سرکاری رقم کے استعمال پر گورنر کے خلاف سرچ وارنٹ جاری کیے گئے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کووڈ 19 مریضوں کے علاج کے لیے قائم کیے گئے فیلڈ ہسپتالوں میں مبینہ طور پر بے ضابطگیاں کی گئیں۔

    مجموعی طور پر تلاشی اور ضبط کرنے کے 12 وارنٹ جاری کیے گئے۔ تاہم کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔

    ایک بیان میں وزٹیل کا کہنا تھا کہ وہ بے قصور ہیں اور انھوں نے صدر پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام عائد کیا۔

  12. انڈیا میں پھنسے مزید 176 پاکستانیوں کی واپسی

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے باعث انڈیا میں پھنسے ہوئے مزید 176 پاکستانی بدھ کو واہگہ بارڈر کے راستے وطن واپس پہنچیں گے۔

    دفترِ خِارجہ کے مطابق انڈیا میں لاک ڈاؤن اور بارڈر بند ہونے کے باعث یہ پاکستانی متعدد انڈین ریاستوں میں پھنس کر رہ گئے تھے۔ ان ریاستوں میں چھتیس گڑھ ، گجرات، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، پنجاب، راجستھان، اترپردیش اور اتراکھنڈ اور دہلی شامل ہیں۔

    وزیر اعظم عمران خان کی ہدایات کے مطابق بیرونِ ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کی محفوظ طریقے سے وطن واپسی کے لیے، نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن نے انڈین حکام سے قریبی رابطے کیے اور لاک ڈاؤن کے درمیان ان بیس سے زیادہ شہروں سے اٹاری تک ان پاکستانیوں کی منتقلی کے لیے سہولیات فراہم کیں۔

    20 مارچ سے اب تک انڈیا میں پھنسے 400 سے زائد پاکستانیوں کو واہگہ بارڈر کے راستے وطن واپس لایا گیا ہے۔

    وزارت خارجہ کا کہنا تھا وہ پھنسے ہوئے باقی پاکستانیوں کی واپسی کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔

  13. سپین میں بدھ سے 10 روزہ سوگ

    سپین

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سپین میں حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی یاد میں بدھ سے 10 روزہ سوگ منایا جائے گا۔

    حکومت کی ترجمان ماریا جیزس مونتیرو نے ایک بیان میں کہا کہ سوگ کی اس مدت میں تمام سرکاری عمارات اور فوجی جہازوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق سپین میں کل 26834 افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

  14. کورونا وائرس: کیا آپ کو خود ساختہ تنہائی میں رہنے کی ضرورت ہے؟

    گ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس سے بچاؤ اور دوسروں کو اس کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے لوگ خود ساختہ طور پر تنہائی اختیار کر رہے ہیں۔

    آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ خود ساختہ تنہائی کے بارے میں آپ کو کیا جاننے کی ضرورت ہے اور آپ اپنے آپ کو کیسے خود ساختہ طور پر تنہا کر سکتے ہیں؟

    خود ساختہ تنہائی ہے کیا؟

    خود ساختہ تنہائی کا مطلب ہے کہ آپ اپنے آپ کو دنیا بھر سے الگ کر لیں۔ پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے مطابق آپ کو گھر پر رہنا ہو گا، آپ دفتر، سکول یا عوامی مقامات پر نہیں جا سکتے اور آپ ٹیکسی یا پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر نہیں کر سکتے۔

  15. بریکنگ, ویکسین بنانے والی بڑی کمپنی مرکس بھی کووڈ 19 ویکسین کی دوڑ میں شامل

    ادویات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا میں ویکسین بنانے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک مرکس بھی کورونا وائرس کی ویکسین تلاش کرنے کی دوڑ میں شامل ہو گئی ہے۔

    امریکی کمپنی نے منگل کے روز اعلان کیا کہ وہ موثر ویکسین کی تلاش کے لیے دو مختلف طریقہِ کار پر کام کر رہے ہیں۔

    مرکس، آسٹریا کی کمپنی تھیمیس بائیو سائنس کو خرید رہی ہے، جو اس وقت کووڈ 19 کے ممکنہ استعمال کے لیے خسرے کی ویکسین پر کام کر رہی ہے۔ توقع ہے کہ کلینیکل ٹرائلز کا آغاز ہفتوں میں ہوگا۔

    کمپنی کی جانب سے اس بات کا اعلان، صدر ٹرمپ کے ’سال کے آخر یا اس کے فوراً بعد‘ ویکسین کی دستیابی کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

    دوسری جانب امریکہ میں قائم بائیوٹیکنالوجی فرم نووایکس نے اعلان کیا ہے کہ ممکنہ کورونا وائرس ویکسین کے لیے آسٹریلیا میں انسانوں پر تجربات شروع کر دیے گئے ہیں۔

  16. 24 جون کو وکٹری ڈے پریڈ کا اعلان، پوتن

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہbbc

    روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا ہے کہ وکٹری ڈے پریڈ کا انعقاد 24 جون کو ماسکو میں کیا جائے گا۔

    ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران پوتن کا کہنا تھا ’میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ روسی دارالحکومت ماسکو اور دیگر شہروں میں عظیم جنگ میں فتح کی 75 ویں برسی کی یاد میں فوجی پریڈ کی تیاریوں کا آغاز کر دیں۔ ہم 24 جون کو پریڈ کریں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا ’میں آپ کو حکم دیتا ہوں کہ تیاریوں اور پریڈ کے انعقاد کے دوران سخت ترین حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔ تمام شرکا کے لیے خطرات کو کم سے کم سطع پر ہونا چاہیے۔ بلکہ بہتر ہے کہ کوئی خطرہ ہی نہ ہو۔‘

    یاد رہے روس میں کورونا وائرس کے بڑھتے متاثرین کے پیشِ نظر 9 مئی کو ہونے والی اس وکٹری ڈے پریڈ کو ملتوی کر دیا گیا تھا۔

  17. بریکنگ, لاہور جنرل ہسپتال میں تقریباً 70 ڈاکٹر کورونا کا شکار: ینگ ڈاکرز ایسوسی ایشن

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لاہور میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے منگل کو ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ شعبہ ہڈی و جوڑ کے بعد اب میڈیکل یونٹ 3 کے دس ڈاکٹروں میں کورونا وائرس کی تصدیق کے بعد ایسے ڈاکٹرو ں کی کل تعداد 70 کے لگ بھگ جا پہنچی ہے.

    پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ وائی ڈی اے لاہور جنرل ہسپتال، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز کی طرف سے بارہا انتباہ کے باوجود حفاظتی انتظامات میں بالکل بہتری نہیں آئی.

    پریس ریلیز میں کہا گیا کہ متاثرہ ڈاکٹروں کے لیے علاج معالجے اور قرنطینہ کی سہولیات بھی ناپید ہیں اور اس کے علاوہ انتظامیہ اور حکومت پنجاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

    انھوں نے کہا کہ بدترین انتظامات کے باوجود اب تک لاہور جنرل ہسپتال سمیت پنجاب بھر کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹر اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور اپنی اور اپنے خاندانوں کی زندگیاں داؤ پر لگا کر شب و روز محنت کر رہے ہیں۔

    پریس ریلیز میں وائی ڈی اے لاہور جنرل ہسپتال، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیوروسائنسز نے کہا کہ اگر 48 گھنٹے کے اندر اندر ڈاکٹروں کے لیے قرنطینہ کی مناسب سہولیات، کم سے کم ایکسپوزر پالیسی اور حفاظتی انتظامات سمیت واضح اقدامات نہ کئے گئے تو وہ سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہوں گے جس کا اعلان بروز جمعہ بذریعہ پریس کانفرنس کیا جائے گا۔

  18. کورونا وائرس نے روس کی مسلم اکثریتی ریاست داغستان میں کیسے تباہی مچائی

    b

    ڈاکٹر ابراجیم یوتمیروف اب بھی بات کرتے ہوئے اکثر کھانستے ہیں۔ ڈاکٹر ابراجیم روس کی جنوبی ریاست داغستان میں بچوں کے امراض کے ماہر ہیں۔ ان کا وارڈ کئی ہفتوں سے کووڈ 19 کے مریضوں سے بھرا ہوا تھا جب انھیں وائرس نے متاثر کیا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ان کے قصبے میں ان کے ساتھ کام کرنے والے سات لوگ کورونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں نرسیں، اردلی اور لیبارٹری کے لوگ شامل ہیں۔

    ڈاکٹر ابراجیم کہتے ہیں کہ میری ٹیم میں شامل تمام تین ڈاکٹر کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ’جب ڈاکٹر بیمار ہوئے تو ہماری جگہ دانتوں کے ڈاکٹروں کو اس وقت تک کام کرنا پڑا جب تک ہم ٹھیک نہیں ہو گئے۔‘

  19. کیا جناح کی مہلک بیماری کا علم تقسیم ہند کو روک سکتا تھا؟

  20. میک لارین بھی کورونا بحران سے شدید متاثر، 1200 ملازمین کی نوکریاں ختم

    MCLAREN

    ،تصویر کا ذریعہMCLAREN

    برطانوی آٹو موبائل اور فارمولا ون کمپنی میک لارین نے کورونا وائرس کے بحران کے باعث فروخت اور اشتہاری آمدنی سے متاثر ہونے کے بعد اپنی افرادی قوت کے ایک چوتھائی سے زیادہ حصے میں کمی کا ارادہ کیا ہے۔

    اس فرم میں لگ بھگ 4000 افراد ملازمت کرتے ہیں اور 1200 افراد کو نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے جن میں سے اکثریت برطانیہ سے ہوگی۔

    فارمولہ ون ریسنگ معطل کردی گئی ہے جبکہ وبائی مرض کی وجہ سے میک لارین کے کاروں کے آرڈر کم ہو گئے ہیں۔

    میک لارین کا کہنا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے بحران سے ’شدید متاثر‘ ہوئے ہیں۔

    کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے اخراجات کم کرنے اور ملازمتیں ختم کرنے سے بچنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔

    میک لارن کے چیئرمین پال والش نے ایک بیان میں کہا ہے ’لیکن اب ہمارے پاس اپنی افرادی قوت کا سائز کم کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔‘