کورونا وائرس کے دوران پابندیوں میں رہنے والی ’لاک ڈاؤن جینریشن‘ کئی دہائیوں تک متاثر رہ سکتی ہے

دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 56 لاکھ 18 ہزار سے زیادہ جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 60 ہزار کے قریب ہے۔ کراچی کے این آئی بی ڈی میں جمعرات سے کورونا اینٹی باڈی ٹیسٹنگ کا آغاز متوقع ہے جبکہ پنجاب میں عید کے بعد کاروبار صرف پیر تا جمعرات کھلیں گے۔

لائیو کوریج

  1. کیا آپ صحت یابی کے بعد دوبارہ کووڈ 19 کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کیا آپ کو صحت یاب ہونے کے بعد دوبارہ بھی کورونا وائرس نشانہ بنا سکتا ہے؟ کچھ مریض دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بیمار کیوں ہیں؟ کیا یہ مرض ہر سردی میں واپس آئے گا؟ کیا ویکسین کارگر ثابت ہو گی؟ کیا امیونٹی پاسپورٹ کی مدد سے ہم میں سے کچھ لوگ کام پر واپس جا سکتے ہیں؟ اس وائرس سے نمٹنے کے لیے کن طویل المدتی اقدامات کی ضرورت ہے؟

    دنیا میں کووڈ-19 کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد جہاں روز بروز بڑھ رہی ہے وہیں یہ سوالات بھی تواتر سے پوچھے جانے لگے ہیں۔

    ان تمام سوالات میں جو ایک چیز مشترک ہے وہ ہے امیون سسٹم یا مدافعتی نظام اور ہم اس بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔

    آپ کورونا وائرس کے خلاف جسم میں مدافعت کیسے پیدا کر سکتے ہیں؟

  2. سماجی دوری کے دور میں سٹیج پر اداکاروں کی واپسی

    تھیئٹر

    ،تصویر کا ذریعہHELEN MAYBANKS

    برطانوی تھیئٹر عالمی وبا کے دور میں اپنا مستقبل تراشنے کی کوشش کر رہا ہے۔ برطانوی اداکار کلیئر فوئے اور میٹ سمتھ، جنھوں نے نیٹ فلکس کی سیریز دی کراؤن میں بھی کام کیا تھا، سٹیج پر واپس آ رہے ہیں اور سماجی دوری کا خیال رکھتے ہوئے ایک ڈرامے میں کام کر رہے ہیں۔

    وہ دونوں گذشتہ برس اولڈ وک تھیئٹر اپنے ڈرامے’لنگز‘ کے کردار دوبارہ نبھائیں گے جس میں ایک جوڑا زمین کے مستقبل کے بارے میں پریشان رہتا ہے۔

    یہ ڈرامہ گذشتہ سال ریکارڈ توڑ رہا تھا اور اس کے سبھی ٹکٹ بکے تھے، لیکن اس مرتبہ یہ دونوں اداکار خالی تھیئٹر میں صرف کیمرے کی موجودگی میں اداکاری کریں گے۔

    تھیئٹر ہر رات ایک ہزار ٹکٹیں بیچے گا جو کہ 10 سے 65 پاؤنڈ کے درمیان ہوں گی۔

  3. ’مفت زمین لینے والے نجی ہسپتال مفت علاج کیوں نہیں کر سکتے؟‘ انڈین سپریم کورٹ

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی عدالت عظمیٰ نے وفاقی حکومت سے اس بارے میں جواب طلب کیا ہے کہ جن نجی ہسپتالوں کو مفت زمین دی گئی ہے وہ کورونا وائرس کے مریضوں کا مفت یا معمولی فیس لے کر علاج کیوں نہیں کر سکتے۔

    عدالت نے وفاقی حکومت سے ایک ہفتے کے اندر جواب طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ہسپتالوں کی شناخت کی جائے جو مریضوں کا مفت یا معمولی فیس میں علاج کر سکتے ہیں۔

    عدالت عظمیٰ سچن جین نامی ایک شخص کی درخواست پر سنوائی کر رہی تھی۔

    اس درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ کووڈ 19کے مریضوں کے لیے مفت یا معمولی قیمت پر علاج کے لیے گائیڈ لائنز جاری کی جائیں۔

    اس معاملے کی سنوائی کی صدارت کرنے والے جج ایس اے بوبڑے نے وکلا سے ایک ہفتے کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

    سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے پوچھا ہے کہ ’نجی ہسپتالوں کو جب مفت زمین دی جا سکتی ہے تو یہ ہسپتال کووڈ 19 کے مریضوں کا مفت علاج کیوں نہیں کر سکتے؟‘

    ’انھیں مفت یا بے حد معمولی قیمت پر زمینیں دی گئی ہیں۔ ان امدادی ہسپتالوں کو مفت علاج کرنا چاہیے۔‘

  4. پریمیئر لیگ ’معمول‘ کی طرح کھیلنے کے قریب

    پریمیئر لیگ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پریمیئر لیگ کے کلبز نے متفقہ طور پر’کونٹیکٹ ٹریننگ‘ کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ جب بھی محفوظ سمجھا جائے گا سیزن کو دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔

    13 مارچ کو عالمی وبا کی وجہ سے انگلینڈ کی پریمیئر لیگ کو معطل کر دیا گیا تھا لیکن ’نان کونٹیکٹ ٹریننگ‘ کو 19 مئی کو دوبارہ شروع کر دیا گیا تھا۔

    پریمیئر لیگ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کلبز، کھلاڑیوں، مینیجرز، پی ایف ایے، ایل ایم اے اور حکومت سے مشاورت کے بعد اس تبدیلی پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ تربیتی میدان میں ممکنہ طور پر محفوظ ترین ماحول ہو سخت طبی ہدایات اپنائی گئی ہیں اور کھلاڑیوں اور دیگر عملے کا ہفتے میں دو مرتبہ کووڈ۔19 ٹیسٹ ہوتا رہے گا۔‘

    بدھ کو کورونا وائرس کے تیسرے دور کے نتائج شائع کیے جا رہے ہیں۔ ابھی تک پریمیئر لیگ کے ایک ہزار 744 ٹیسٹ کیے گئے کھلاڑیوں میں سے 8 کے کورونا وائرس کے نتائج مثبت آئے ہیں۔

  5. یورپی یونین کا 750 ارب یورو کا ’کورونا بحالی‘ بجٹ

    ارسلا فون ڈر لین

    ،تصویر کا ذریعہEuropean Parliament

    یورپی یونین نے کورونا وائرس کی وبا کے بعد خطے میں بحالی کے لیے 750 ارب یورو (670 ارب پاؤنڈ) کا بجٹ تجویز کیا ہے۔

    اس رقم سے یورپی یونین کے رکن ممالک کو گرانٹ اور قرضے دیے جائیں گے۔ 27 ممالک کے اس بلاک میں ہر ملک اس وبا اور اس کے بعد لگنے والی بابندیوں سے شدید متاثر ہوا ہے۔ بلاک کے کچھ جنوبی ممالک پر پہلے سے ہی بڑے قرضوں کا بوجھ تھا۔

    بلاک کے کچھ ممالک جن میں آسٹریا، ڈنمارک، سویڈن اور ہالینڈ شامل ہیں دوسرے ممالک کا قرصوں کا بوجھ اٹھانے کے حق میں نھیں۔ ان ممالک کے خیال میں بحالی کے لیے رکن ممالک کو کم سود پر قرضے دینے چاہیں نہ کہ سیدھا کیش۔

    یورپی یونین کی سربراہ ارسلا فون ڈر لین کو بجٹ منظور کروانے کے لیے ان ممالک کی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔ ان کا پیغام ہے کہ یہ یورپ کے لیے اہم لمحہ ہے اور ایک بار پھر یہ خطہ اس دوراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے فیصلہ کرنا ہے کہ ہر رکن الگ الگ راستے پر جائے گا یا سب مل کر اس مشکل سے نکلیں گے۔

  6. کورونا وائرس: مدافعتی نظام کی مضبوطی سے آپ کووِڈ 19 سے محفوظ رہ سکتے ہیں؟

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    طاقت دینے والے نام نہاد مشروبات اور وِٹامن مصنوعات کو بھول جائیں، یہ اس جدید دور میں جادوئی ٹوٹکوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں۔

    سنہ 1918 میں وِکس ویپورب کے ایک اشتہار کی سرخی تھی ‘ہسپانوی انفلوئنزا کیا ہے اور اس کا علاج کیسے کیا جائے؟‘

    اس کے نیچے لکھا تھا ‘خاموش رہیں‘ اور ’جلاب لیجیے‘ اور ہاں، ان کی دوائی کا استعمال کثرت سے کریں۔

    سنہ 1918 کی عالمی وبا جدید تاریخ میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز وبا تھی جس نے پچاس کروڑ افراد کو (دنیا کی چوتھائی آبادی) متاثر کیا تھا اور دسیوں ہزار اموات ہوئیں۔

    مگر بحران مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔ اس وقت بھی عطائیوں کی چاندی ہوگئی تھی۔

    وِکس ویپرب کے مقابلے میں نام نہاد میلرس اینٹی سیپٹک سینک آئل، ڈاکٹر بیل پائن ٹار ہنی اور ایسی ہی دوسری نام نہاد ادویاتی مصنوعات کھڑی ہوگئیں۔ ان کے اشتہارات تواتر سے اخبارات میں شائع ہونے لگے۔

    آج 2020 میں آئیں، لگتا نہیں زیادہ کچھ بدلا ہے۔ اگرچہ کووِڈ19 اور ہسپانوی فلو کا زمانہ مختلف ہے کیونکہ ایک صدی کے عرصے میں بہت سی سائنسی ایجادات ہو چکی ہیں، مگر اب بھی عطائی نسخے اور ٹوٹکے اسی طرح سے گردش میں ہیں جیسے تب تھے۔

  7. ’یہ تاثر غلط ہے کہ ٹیسٹ مثبت آنے پر حکومت مریض کو زبردستی ہسپتال منتقل کردیتی ہے‘

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ یہ تاثر غلط ہے کہ کورونا ٹیسٹ مثبت آنے پر حکومت مریض کو زبردستی ہسپتال منتقل کردیتی ہے۔

    کورونا کے مریضوں سے متعلق ویڈیو بیان میں ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر کی طرف سے یہ غلط تاثر پھیلایا جارہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس تاثر کو زائل کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ شہری بلا خوف اپنا ٹیسٹ کروائیں۔

    مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے باوجود جس شخص میں علامات نہیں ہیں وہ اے کیٹگری میں آتا ہے۔ اس حوالے سے سندھ حکومت نے ایس او پیز بھی جاری کررکھی ہیں۔

    ’اے کیٹگری والے کورونا مریض کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی جاتی۔ ایسے افراد خود کو گھر میں آئیسولیٹ کرسکتے ہیں جس کے لیے حکومت ان کی مدد کریگی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی بھی شخص میں کورونا علامات ہیں تو محکمہ صحت کی ہیلپ لائن سے رجوع کرے۔ محکمہ صحت کی ٹیم گھر آکر ان کا مفت ٹیسٹ کریگی۔ اور ٹیسٹ مثبت آنے پر محکمہ صحت کی ٹیم متعلقہ شخص کا گائیڈ کریگی تاکہ وہ بہتر انداز میں اپنی دیکھ بھال کرسکیں۔

  8. ’اب مجھے احساس ہوا کورونا وائرس جعلی نہیں ہے‘, ماریانا سپرنگ، ڈس انفارمیشن اینڈ سوشل میڈیا رپورٹر

    فیک نیوز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی کی ٹیم نے جو وائرس کے متعلق غلط معلومات پر تحقیق کر رہی تھی، حملوں، آتش زنی اور ہلاکتوں کے ساتھ غلط معلومات کے تعلق کا پتہ چلایا ہے۔ اور ماہرین کا خیال ہے بالواسطہ نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔

    آن لائن افواہوں کے بعد انڈیا میں ہجوم نے حملے کیے اور ایران میں کئی لوگوں نے زہر کھا لیا۔ ٹیلیفون کے اینجینیئرز کو دھمکیاں دی گئیں اور ان پر حملے ہوئے، اور فون کے کھمبے جلا دیے گئے۔ یہ سب افواہوں یا کنسپائریسی تھیوریز کی بنیاد پر کیا گیا۔

    برائن لی ہچنز کہتے ہیں کہ ’ہم نے سمجھا کہ حکومت ہماری توجہ ہٹانے کے لیے اسے استعمال کر رہی ہے یا یہ 5 جی کے متعلق ہی تھا۔ سو ہم نے قوائد کی پابندی نہیں کی اور نہ ہی پہلے مدد طلب کی۔‘

    لیکن پھر مئی کے اوائل میں انھیں اور ان کی بیوی کو کووڈ۔19 ہو گیا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’اب مجھے احساس ہوا ہے کہ کورونا وائرس جعلی نہیں ہے۔ یہ موجود ہے اور یہ پھیل رہا ہے۔‘

  9. لندن میں شمالی آئرلینڈ کی نرس اور سری لنکا کے ڈاکٹر کی ہسپتال میں شادی

    شادی

    ،تصویر کا ذریعہRebecca Carpenter Photography

    ایک نرس اور ڈاکٹر نے، جنھیں پہلے اپنی شادی کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے کینسل کرنا پڑی تھی، اب اسی ہسپتال میں شادی کر لی ہے جہاں وہ کام کرتے ہیں۔

    34 سالہ جان ٹپنگ اور 30 سالہ انلن نورتنم لندن کے سینٹ تھامس ہسپتال کے چیپل میں شادی کی۔

    شادی کی تقریب اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے شادی کے ایک گواہ کی طرف سے مہمانوں کے لیے لائیو سٹریم کی گئی۔

    جان اور انلن کا کہنا تھا کہ انھوں نے فیصلہ کیا کہ انھیں ابھی شادی کر لینی چاہیے جب سب فریق صحت مند ہیں۔

    ان دونوں کی شادی پہلی اگست میں طے تھی لیکن وہ تقریب انھیں کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے کینسل کرنا پڑی کیونکہ انھیں ڈر تھا کہ ان کے رشتہ دار سری لنکا اور شمالی آئرلینڈ سے آ کر اس میں شریک نھیں ہو سکیں گے۔

    لندن میں تلسی ہل میں رہنے والے اس جوڑے نے شادی کی ایک چھوٹی تقریب کے لیے خصوصی اجازت لی تھی۔

    شادی

    ،تصویر کا ذریعہRebecca Carpenter Photography

  10. نہرو، ایڈوینا کی قربت سے کس خاتون کو حسد تھا

  11. اب بھی ہائیڈروکسی کلوروکوین کون استعمال کر رہا ہے؟

    hydroxychloroquine

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کورونا وائرس کے ہائیڈروکسی کلوروکوین کے ذریعے علاج کے دعووں کو ایک نیا دھچکہ اس وقت لگا جب فرانس نے اس دوا سے ملک میں ڈاکٹروں کو کووڈ۔19 کے مریضوں کا علاج کرنے سے روک دیا۔ لیکن یہ دوا کہاں استعمال ہو رہی ہے اور اس پر تحقیق کون کر رہا ہے؟

    امریکہ میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے ہسپتالوں میں اس کے ’ہنگامی استعمال‘ کی اجازت دے رکھی ہے، لیکن کلینیکل ٹرائلز کے علاوہ، دوسرے حالات میں کووڈ۔19 کا علاج اس کے ذریعے کرنے سے خبردار کیا ہے۔ یہ اس لیے ہے کہ اس سے دل کی بیماری کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

    برازیل نے بھی اس دوائی پر پابندیوں میں نرمی کی ہے، اور عام مریضوں اور ہسپتال میں موجود شدید بیمار مریضوں کے لیے اس کی اجازت دی ہے۔

    اور انڈین حکومت نے ہیلتھ کیئر ورکرز میں بیماری کی روک تھام کے لیے اس کے استعمال میں توسیع کی ہے۔

    کسی بھی کلینیکل سڈی نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے اس دوا کے استعمال کی تجویز نہیں دی ہے اور اس ہفتے ڈبلیو ایچ او نے سیفٹی کے خدشات کے پیشِ نظر اس کے استعمال پر عارضی پابندی بھی لگا دی ہے۔

    لیکن دوسری تحقیقات بھی ہو رہی ہیں، جس میں امریکہ میں قائم سوئٹزرلینڈ کی دوا بنانے والی کمپنی نووارٹس اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کا حمایت یافتہ قائم تھائی لینڈ میں واقع ماہیدول آکسفورڈ ٹراپیکل میڈیسن ریسرچ یونٹ شامل ہے۔

    نائجیریا نے بھی کہا ہے کہ وہ ڈبلیو ایچ او کے فیصلے کے برعکس کلوروکوین سے معلقہ دوا پر کلینیکل ٹرائل جاری رکھے گا۔

  12. سکاٹ لینڈ: کورونا وائرس سے ہونے والی اموات میں مسلسل چوتھے ہفتے کمی

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سکاٹ لینڈ میں کورونا وائرسسے مرنے والے افراد کی تعداد میں مسلسل چوتھے ہفتے کمی واقع ہوئی ہے۔

    سکاٹ لینڈ میں نیشنل ریکارڈز کے جاری کردہ اعدادوشمار میں بتایا گیا کہ 24 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں 230 اموات ہوئیں۔

    جن کی تعداد پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 105 کم ہے۔

    وبا کے شروع ہونے کے بعد سے اب تک اموات کی مجموعی تعداد 3779 ہوگئی ہے۔

    توقع کی جارہی ہے کہ ملک میں لاک ڈاون پابندیوں میں قدرے نرمی کی جائے گی۔

  13. سمندر میں کام کرنے والے افراد کو ’اہم کارکن‘ کا درجہ دیں، اقوامِ متحدہ کا مطالبہ

    GETTY IMAGES

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    اقوام متحدہ کی متعدد ایجنسیوں نے سمندری حدود میں کام کرنے والے بحری اور فضائی عملے کو اہم کارکن کا درجہ دینے کے لیے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سمندر اور ہوا بازی کے مختلف اداروں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ دنیا میں سفری پابندیوں کے نتیجے میں سمندری عملہ دنیا بھر میں مختلف مقامات پر پھنس گیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اہم کارکن کا درجہ ملنے سے جہازوں پر موجود عملے، ماہی گیری کی کشتیوں اور سامان بردار بحری جہازوں پر عملے کی آسانی سے تبدیلی اور ان کو گھر واپس آنے کی اجازت مل سکے گی۔

    ’عالمی کارگو سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے یہ آپریشن ضروری ہیں لہذا ہم عملے کی تبدیلیوں کو آسان بنانے کے لیے حکومتوں سے تعاون کے خواہاں ہیں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اگلے ماہ تک دسیوں ہزاروں سمندری مسافروں کو بحفاظت وطن واپس لوٹنے کے لیے بین الاقوامی پروازوں کی ضرورت ہوگی۔

    بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بہت سے کارکنان نے جہازوں پر اپنی خدمات میں توسیع کردی تھی کیونکہ انھیں تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور ان کی جگہ کام کرنے والا کوئی دوسرا شخص موجود نہیں تھا۔

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  14. کیا تانبا کورونا وائرس کے جراثیم کو مار سکتا ہے؟

    copper

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ساؤتھیمپٹن ​​یونیورسٹی کے پروفیسر بل کیویل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’سپر بگ بیکٹیریا، فلو، نورو وائرس اور کورونا وائرس کچھ ایسی سطحوں پر کئی دن تک زندہ رہ سکتے ہیں جنھیں ہم دن میں کئی بار چھوتے ہیں، اسی لیے ہاتھ دھونے اور باقاعدگی سے ایسی تمام سطحوں (جیسے دروازے کے ہینڈلز) کو صاف کرنا ضروری ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’اس کے برعکس جب ہم نے تانبے اور تانبے سی بنی اشیا کا جائزہ لیا تو ہمیں معلوم ہوا کہ یہ سارے وائرس کچھ ہی منٹوں میں مر گئے تھے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’جب کوئی چیز تانبے کی سطح پرآتی ہے تو تانبے سی ایسے مادوں کا اخراج ہوتا ہے جو وائرس کے خلیوں پر حملہ کرتے ہیں اور جینیاتی مواد کو تباہ کردیتے ہیں اور اس طرح وائرس شکل تبدیل بھی نہیں کر سکتا۔‘

  15. لاک ڈاؤن کے دوران ایک جوڑے کی اپنی نوزائیدہ بچی کی خاطر طویل سفر کی داستان

    baby

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لاک ڈاؤن کی وجہ سے راکیش (فرضی نام) اور ان کی بیوی کی نوزائندہ بچی انڈیا بھر کے مختلف کلینکس میں پھنسے ہوئے درجنوں ’سروگیٹ‘ بچوں میں سے ایک تھی۔

    سوتک بسواس کی اس تحریر میں جانیے کہ راکیش اور ان کی بیوی کیسے پولیس چوکیوں اور سنسان شاہراہوں سے گزرتے ہوئے اپنی بیٹی تک پہنچے۔

  16. ’ہلاک ہونے والے 60 فیصد ’کورونا متاثرین‘ کورونا کی وجہ سے نہیں مرے‘, راب کیمرون، بی بی سی نامہ نگار، پراگ

    Prague

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جمہوریہ چیک کے ادارہ برائے صحت و شماریات نے منگل کو اعلان کیا کہ ملک میں ہونے والی 317 ہلاکتوں میں سے 60 فیصد ایسے کیسز تھے جہاں کورونا وائرس موت کی بنیادی وجہ نہیں بنا۔

    اس کے بجائے دیگر بیماریاں جیسے کہ امراضِ قلب، سانس لینے سے منسلک بیماریاں اور ذیابیطس ان ہلاکتوں کی بنیادی وجہ بنے۔

    تاہم ادارے نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ آیا یہ لوگ ان بیماریوں سے تب بھی ہلاک ہوتے اگر کورونا وائرس کا شکار نہ ہوتے۔

    آج سے جمہوریہ چیک، سلواکیا اور ہنگری کے شہری اور مستقل مکین ایک دوسرے کے ممالک میں سفر کر سکیں گے۔ انھیں کورونا کے منفی ٹیسٹ نتائج پیش نہیں کرنے پڑیں گے اور نہ ہی 14 روزہ قرنطینہ میں رہنا پڑے گا۔ تاہم ایک شرط یہ ہے کہ ان مسافروں کو 48 گھنٹوں میں واپس جانا ہوگا۔

    جمہوریہ چیک میں اب تک 410777 لوگوں کے ٹیسٹ کیے گیے ہیں۔ ملک میں کل کیسز کی تعداد 9050 ہے، جن میں سے 2463 ابھی بھی زیرِ علاج ہیں اور 6270 صحت یاب ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 317 ہے۔

  17. بریکنگ, پنجاب: ’ہفتے میں چار دن دکانیں کھلیں گی، تین دن سب بند رہے گا‘

    پنجاب حکومت کے ایک بیان کے مطابق صوبے میں عید کی چھٹیاں ختم ہونے کے بعد مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور بازار ہفتے میں چار دن کھلیں گے۔

    سرکاری بیان کے مطابق دکانیں اور کاروبار پیر تا جمعرات کھلیں گی اور جمعہ، سنیچر اور اتوار سب کچھ بند رہے گا۔

    تازہ بیان کے مطابق کاروباری اوقات صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک ہوں گے جبکہ بیکریوں کو 10 بجے تک کھلے رہنے کی اجازت ہوگی اور میڈیکل سٹور 24 گھنٹے کھلے رہ سکیں گے۔

    یاد رہے کہ 21 مئی کو جاری ہونے والی ایک نوٹیفیکیشن میں کہا گیا تھا کہ عید کے بعد کاروباری اوقات صبح 9 سے شام 7 بجے تک ہوں گے تاہم اب ان میں ترمیم کر دی گئی ہِے۔

    بیان کے مطابق اس حوالے سے تازہ نوٹیفیکیشن جمعرات کو جاری ہوگا۔

  18. کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کیسے پاکستان میں سیاحت کے شعبے کو متاثر کر رہا ہے؟

    سیاحت

    ،تصویر کا ذریعہINAM KARIM

    ’میں نے نہ صرف اپنی برسوں کی جمع پونجی بلکہ بینک اور دیگر ذرائع سے حاصل کیا گیا قرض صرف اس وجہ سے ضائع کر دیا کہ رواں برس زیادہ سرمایہ کاری کر کے زیادہ منافع کماؤں گا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ہوٹلوں کی صنعت مکمل طور پر بند ہے۔ بینک سے حاصل کیے گئے قرض کی قسط ادا نہیں کر پا رہا ہوں اور ملازمین کو تنخواہیں ادا کرنے کے قابل نہیں رہا ہوں۔‘

    یہ کہنا ہے گلگت بلتستان کے علاقے ہنزہ سے تعلق رکھنے والے انعام کریم کا۔

    جانیے پاکستان میں سیاحت کی صنعت کن مشکل حالات سے گزر رہی ہے، محمد زبیر کی اس رپورٹ میں۔

  19. ’برازیل میں ہلاکتیں پانچ گنا بڑھ سکتی ہیں‘

    Bolansaro

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکہ کی یونیورسٹی آف واشنگٹن کی ایک تحقیق نے متنبہ کیا ہے کہ برازیل میں اگست کے اوائل تک کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 125000 تک پہنچ سکتی ہے۔

    یہ تخمینہ موجودہ ہلاکتوں کی تعداد 24500 سے تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔

    اس تحقیق پر کام کرنے والے محقق ڈاکٹر کرسٹوفر مرے کا کہنا ہے کہ ”تیزی سے پھیلتے اس وائرس پر قابو پانے کے لیے برازیل کو چین، اٹلی، سپین، اور نیویارک کی طرح اقدامات کرنے پڑیں گے۔‘‘

    یہ افسوس ناک پیش گوئی ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پہلی مرتبہ برازیل میں ہلاکتوں کی تعداد امریکہ سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔

    ادھر برازیل میں ماہرین کو خدشہ ہے کہ کیسز کی حقیقی تعداد بتائے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے اور اس کی وجہ ٹیسٹنگ کی کم سطح ہے۔

    صدر ہائر بولسونارو کو برازیل میں اور دیگر ممالک کی جانب سے بھی ان کی کورونا پالیسی کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انھوں نے اس وبا کو ایک معمولی زکام قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے پھیلاؤ کو تو روکا ہی نہیں جا سکتا۔

  20. ترجمان بلوچستان حکومت: ’ہمیں اب کورونا کے ساتھ ہی جینا ہوگا‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    Quetta

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے کہا ہے کہ کورونا سے روزانہ لوگ متاثر ہو رہے ہیں لیکن یہ امر افسوسناک ہے کہ اسے سنجیدگی نہیں لیا جا رہا ہے اور عوام کی جانب سے ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔

    کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب یہ طے ہوگیا کہ کورونا کے ساتھ ہی جینا ہوگا اور ماہرین یہ کہہ رہے ہیں کہ کورونا اپنی ساخت تبدیل کر رہا ہے اس لیے ہم ایس او پیز پر عمل کر کے ہی کورونا کے ساتھ جی سکیں گے۔

    لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ اب تک بلوچستان حکومت نے 22 ہزار ٹیسٹ کیے۔ کورونا کے 1156 کورونا کے مریض اب تک صحتیاب ہوگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کورونا کی شرحِ اموات کم ہوکر ایک فیصد رہ گئی۔

    انھوں نے بتایا کہ بلوچستان میں کورونا سے سب سے زیادہ یعنی 44 فیصد نوجوان متاثر ہو رہے ہیں جبکہ بلوچستان میں خواتین کے متائثر ہونے کی شرح 21 فیصد ہے۔

    حکومت کے مطابق بلوچستان میں 71 آئیسولیشن مراکز قائم کئے گئے ہیںجبکہ 22 سو سے زائد لوگ گھروں میں آئیسولیٹ کیے گئے ہیں۔