کورونا وائرس کے دوران پابندیوں میں رہنے والی ’لاک ڈاؤن جینریشن‘ کئی دہائیوں تک متاثر رہ سکتی ہے
دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 56 لاکھ 18 ہزار سے زیادہ جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 60 ہزار کے قریب ہے۔ کراچی کے این آئی بی ڈی میں جمعرات سے کورونا اینٹی باڈی ٹیسٹنگ کا آغاز متوقع ہے جبکہ پنجاب میں عید کے بعد کاروبار صرف پیر تا جمعرات کھلیں گے۔
لائیو کوریج
ہزاروں ماسک سڈنی کے ساحل پر تیرتے پائے گئے
،تصویر کا ذریعہEPA
آسٹریلوی شہر سڈنی کے ساحل پر ہزاروں ماسک سمندر میں بہتے ہوئے آن پہنچے ہیں۔ یہ ایک اس کارگو جہاز سے گرے تھے جو چین سے میلبورن جا رہا تھا۔
خراب موسم کی وجہ سے اے پی ایل انگلینڈ نامی اس جہاز کو بریسبین کی جانب رخ موڑنا پڑا۔ لیکن پھر بھی سمندری لہروں کے باعث جہاز سے 40 کنٹینر گر گئے۔
ان میں گھریلو ساز و سامان، تعمیراتی سامان، اور میڈیکل اشیا بشمول ماسک موجود تھیں۔
اقوام متحدہ: کورونا وائرس کی ویکسین ’پیٹنٹ کے تنازعوں کی نذر نہ ہو جائے‘
،تصویر کا ذریعہReuters
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے حقوقِ دانش نے کورونا وائرس کی ویکسین بنا کر اسے دنیا کے لیے دستیاب کرنے کے عزم کو سراہا ہے تاہم ڈبلیو آئی پی او نے خبردار کیا ہے کہ کاپی رائٹس کے تنازعوں کو ویکسین کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیا جائے۔
عالمی ادارہ صحت کے اراکین نے گذشتہ ہفتے ایک قرارداد منظور کی ہے جس کے تحت کووڈ 19 کے خلاف ویکسینیشن کو عالمی بہتری کا اقدام قرار دیا گیا اور کسی بھی ویکسین کی دنیا بھر میں دستیابی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
جنوبی افریقہ جیسے چند ممالک کا مطالبہ تھا کہ ویکسین کو پیٹنٹ نہ کیا جائے لیکن واشنگٹن اور دوا ساز کمپنیاں اس تجویز کی مخالفت کر رہی ہیں۔
ڈبلیو آئی پی او کے سربراہ فرانسس گُری نے کہا ہے کہ ہمیں سب سے پہلے جدت کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی اور رکن ممالک کے انفرادی قوانین میں ایسی شقیں موجود ہیں جن کے ذریعے حقوق دانش کو بالائے طاق رکھا جا سکتا ہے اور کورونا وائرس کی وبا یقیناً ایک ہنگامی صورتحال ہے۔
ملائیشیا: ایک دن میں 15 نئے مریض، کوئی اموات نہیں
،تصویر کا ذریعہAFP
ملائیشیا میں صحت کے حکام کے مطابق بدھ کو کورونا وائرس کے 15 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
اس کے بعد ملک میں وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 7,619 ہوگئی ہے۔
وزارتِ صحت کے مطابق اس دوران ملک میں کوئی نئی ہلاکت نہیں ہوئی۔ ملائیشیا میں اب تک وبا کے باعث 115 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
لاک ڈاؤن میں شادی کرنے والے کی بارات کا قرنطینہ سنٹر میں استقبال!
کورونا وائرس کے باعث شادی کی تقریبات پر پابندی کے باوجود بھی گذشتہ روز فیصل آباد میں ایک شادی کے لیے تقریباً پانچ سو افراد کا مجمع لگانے پر دلہے سمیت 12 افراد کو گرفتار کرکے قرنطینہ سنٹر منتقل کر دیا گیا۔
اسسٹنٹ کمشنر فیصل آباد عمر مقبول نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں اطلاع موصول ہوئی کہ رائل پام مارکی میں شادی کی تقریب جاری ہے جہاں لوگوں کا مجمع اکٹھا ہے، جس پر انھوں نے اپنے اہلکاروں کو ہدایات جاری کیں کہ وہ جا کر دیکھیں کہ کیا واقعی یہ خبر درست ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر فیصل آباد نے بتایا کہ جب اہلکار وہاں پہنچے تو دیکھا کہ مارکی کا سامنے والا دروازہ اور لائٹیں بند تھیں لیکن مزید جانچ پڑتال پر معلوم ہوا کہ مارکی کا عقبی دروازہ استعمال کرتے ہوئے مہمانوں کو اندر داخل کیا گیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
فلپائن: متاثرین کی تعداد میں سات ہفتوں میں سب سے بڑا یومیہ اضافہ
،تصویر کا ذریعہReuters
فلپائن کی وزارت صحت نے بدھ کو کہا کہ ملک میں کورونا وائرس کے 380 نئے مریض سامنے آئے ہیں، جو کہ گذشتہ سات ہفتوں کے دوران کیسز کی تعداد میں سب سے بڑا یومیہ اضافہ ہے۔
اسی دوران ملک میں 18 افراد وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔
وزارت صحت کے ایک مراسلے میں کہا گیا تھا کہ ملک میں کورونا کے باعث ہونے والی اموات کی کُل تعداد 904 ہو گئی ہے جبکہ مصدقہ متاثرین کی تعداد 15,049 تک پہنچ گئی ہے۔
ساتھ ہی ملک میں کُل 3,506 افراد وائرس سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔
کراچی میں اینٹی باڈی ٹیسٹنگ کا آغاز جمعرات سے ہوگا
،ویڈیو کیپشنکورونا وائرس: اینٹی باڈی ٹیسٹ کیا ہوتا ہے اور اس کی اہمیت کیوں زیادہ ہے؟
حکومت پاکستان کی جانب سے مخصوص مقاصد کے لیے کورونا اینٹی باڈی ٹیسٹ کرنے کی اجازت ملنے کے بعد کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف بلڈ ڈزیز (این آئی بی ڈی) میں جمعرات سے ان ٹیسٹس کا آغاز ہو جائے گا۔
این آئی بی ڈی کے ڈین طاہر شمسی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ٹیسٹ ہسپتال کے پیسوو امیونائزیشن ڈپارٹمنٹ میں کیے جائیں گے اور ان کی مدد سے کسی بھی شخص کو یہ معلوم ہو سکے گا کہ آیا ان کے خون میں کورونا وائرس کی اینٹی باڈیز موجود ہیں یا نہیں۔
یاد رہے کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کی جانب سے تجاویز کو مدِنظر رکھتے ہوئے حکومت نے 21 مئی کو ملک میں مخصوص مقاصد کے لیے کورونا اینٹی باڈی ٹیسٹ کی اجازت دے دی ہے۔
اس حوالے سے این آئی ایچ کی ہدایات کے مطابق اینٹی باڈی ٹیسٹ عوام میں کورونا کے خلاف بننے والی قوتِ مدافعت کو جانچنے، تحقیقی پراجیکٹ، پیسیو امیونائزیشن کے لیے پلازما کے ڈونرز اور بغیر علامت کے مریضوں میں وائرس کی موجودگی کا پتا لگانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
تاہم ’واضح رہے کہ کورونا کی تشخیص کے لیے اینٹی باڈی ٹیسٹ گمراہ کن نتائج دیتا ہے اور مرض کی علامات کی موجودگی میں کورونا کا صرف پی سی آر ٹیسٹ کروایا جانا چاہیے۔‘
این آئی ایچ کا کہنا ہے کہ صرف ان کمپنیوں کی بنائی جانے والی کِٹوں سے اینٹی باڈی ٹیسٹ کرنے کی اجازت دی گئی ہے جن کی ٹیسٹ کٹس امریکی ادارہِ برائے خوراک و ادویات (ایف ڈی اے) اور یورپی یونین سے منظور شدہ ہوں۔
این آئی ایچ کا اصرار ہے کہ کورونا کے اینٹی باڈی ٹیسٹ کی اجازت کورونا کی تشخیص کے لیے ہرگز نہیں ہے۔
دنیا کے متعدد ترقی یافتہ ممالک میں پچھلے دو ماہ سے اینٹی باڈی ٹیسٹ کروانے کی مہم شروع کی جاچکی ہے۔
جن لوگوں میں اینٹی باڈی کی موجودگی کی تصدیق ہوجاتی ہے ان کو ’امیونیٹی پاسپورٹ‘ جاری کردیا جاتا ہے جس کے مطابق ایسے شخص کو کورونا کا دوبارہ ہونے کا خطرہ کم ہوتا ہے اور وہ لاک ڈاؤن سے نکل کر اپنے کام پر جا سکتا ہے۔
کیا امریکہ نے کووِڈ 19 کے علاج کے لیے کلوروکوئن کی منظوری دے دی ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ملیریا کے خلاف استعمال ہونے والی ایک دوائی کلوروکوئن کو امریکہ نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے منظور کر لیا ہے۔
لیکن کلوروکوئن اصل میں ملیریا کے علاج کی دوا ہے۔
تو کیا صدر ٹرمپ درست کہہ رہے ہیں؟ کیا یہ دوا کورونا کے علاج کے لیے مؤثر ہے؟
روس میں کووڈ 19 سے متاثرین کی تعداد تین لاکھ 70 ہزار سے بھی بڑھ گئی
،تصویر کا ذریعہEPA
گذشتہ 24 گھنٹوں میں روس میں کووڈ 19 کے 8338 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور 161 افراد کی اموات ہوئی ہیں۔ ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد 370680 ہوگئی ہے جبکہ ہلاکتیں 3968 تک پہنچ چکی ہیں۔
دارالحکومت ماسکو میں سب سے زیادہ 2140 نئے کیسز سامنے ائے ہیں۔ ملک صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 142208 ہو چکی ہے۔
سنگاپور میں ماسک وینڈنگ مشینوں میں ملنے لگے
،تصویر کا ذریعہReuters
سنگاپور میں حکومت تمام شہریوں کو مفت ماسک فراہم کر رہی ہے اور یہ شہر میں موجود 400 وینڈنگ مشینوں سے لیے جا سکتے ہیں۔
یہ تیسرا موقعہ ہے جب سنگاپور میں ماسک مفت بانٹے جا رہے ہیں مگر پہلی مرتبہ یہ وینڈنگ مشینوں میں رکھے گئے ہیں۔
سنگاپور میں ابتدائی طور پر کورونا وائرس کی وبا کو قابو میں رکھا گیا تھا تاہم گذشتہ چند ہفتوں میں ملک میں موجود پیرونِ ملک سے آئے مزدوروں میں اس کی بڑے پیمانے پر تشخیص سے مجموعی تعداد 32000 متاثرین سے زیادہ ہوگئی ہے جو کہ جنوب مشرقی ایشیا میں کسی بھی ملک میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔
ارجنٹینا: کچی بستی جسے مکمل طور پر سیل کر دیا گیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ارجنٹینا کے دارالحکومت بیونس آئرس کے مضافات میں وِلا ازول نامی کچی آبادی کو باڑ لگا کر 15 روز کے لیے مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے۔ اب کوئی بھی اس بستی میں بغیر اجازت داخل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی اندر مقیم لوگ باہر آ جا سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس آبادی میں تقریباً 3000 لوگ رہتے ہیں۔ آبادی کے گرد باڑ لگا کر پولیس پہرا دے رہی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وِلا ازول میں پیر کے روز کووڈ 19 کے 84 مصدقہ کیسز سامنے آئے تھے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہاں کی آبادی میں اور بھی کیسز ہوں گے۔ ارجنٹینا کے دارالحکومت میں تقریباً 350000 لوگ کچی آبادیوں میں رہتے ہیں۔
بیونس آئرس مارچ سے لاک ڈاؤن میں ہے اور لوگوں کو صرف جزوی طور پر باہر نکلنے کی اجازت ہے۔ لاک ڈاؤن میں اب 7 جون تک توسیع کر دی گئی ہے۔
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا ذریعہGetty Images
تھائی لینڈ میں نو نئے مریض، کوئی اموات نہیں
،تصویر کا ذریعہAFP
تھائی لینڈ میں بدھ کو کورونا وائرس کے نو نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 3,054
ہوگئی ہے۔
البتہ اس دوران ملک میں کوئی اموات پیش نہیں آئیں۔
اس میں امریکہ، قطر اور سعودی عرب جیسے ممالک سے واپس آنے والے تھائی شہری شامل ہیں جنھیں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔
ملک میں اب تک کورونا کے 2,931 مصدقہ مریض ہیں جبکہ 57 افراد وائرس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔
کون سا ماسک وائرس کے خلاف کہاں تک حفاظت فراہم کر سکتا ہے؟, ایما والاکوٹ، رپورٹر، بی بی سی ٹیکنالوجی آف بزنس
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنسرجیکل ماسک (اوپر دائیں) وائرس سے سب سے کم تحفظ فراہم کرتے ہیں جبکہ ایف ایف پی 3 یا این 100 (نیچے بائیں) 99.97 فیصد ذرات کو آپ کے سانس میں داخل ہونے سے روک لیتے ہیں
کپڑے اور کاغذ کے ماسک عوام میں کووِڈ 19 پھیلنے سے تو روک سکتے ہیں لیکن یہ کسی بھی طرح انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں استعمال کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔
یہاں انفیکشن کا خطرہ سب سے زیادہ ہوتا ہے اور طبی عملے کو بلند ترین معیار کا حفاظتی سامان چاہیے ہوتا ہے تاکہ وہ خود کو وائرس سے مکمل طور پر محفوظ کر سکیں۔
ماسک کی سادہ ترین مثال سرجیکل ماسک ہے جو عام طور پر کپڑے یا کاغذ کی تین تہوں سے بنایا جاتا ہے۔ یہ چھینکوں یا کھانسی سے نکلنے والے قطروں کو تو روک لیتا ہے لیکن وائرس کے ذرات سے نہیں بچا پاتا۔
سانس کے لیے حفاظتی سامان بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک 3M کی ہیڈ آف سیفٹی ڈاکٹر نکی میک کلوہ بتاتی ہیں: 'ایک ایسا ماسک جو آپ کے ناک اور منھش پر رہتا ہے لیکن آپ کے چہرے پر مضبوطی سے نہیں بیٹھتا، وہ آپ کے خارج کیے گئے ذرات کو پھیلنے سے تو روک سکتا ہے لیکن یہ ماسک آپ کو بہت چھوٹے ذرات اندر کھینچنے سے نہیں بچا سکتا۔'
نیوزی لینڈ میں ہسپتالوں میں کورونا وائرس کا اب کوئی کیس نہیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے حوالے سے سب سے کامیاب ممالک میں شمار ہونے والے ملک نیوزی لینڈ میں گذشتہ شب کورونا وائرس کے آخری مریض کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
اس کا مطلب ہے کہ کئی ماہ میں پہلی مرتبہ ملک میں کسی ہسپتال میں کورونا وائرس کا کوئی مریض زیرِ علاج نہیں۔
نیوزی لینڈ میں گذشتہ پانچ دنوں میں کوئی نیا کیس بھی سامنے نہیں آیا اور ملک میں کل تقریباً 1500 کیسز ہیں۔
نیوزی لینڈ میں 420000 افراد نے حکومت کی ٹریسنگ ایپ بھی ڈاؤن لوڈ کی ہے۔
سندھ: دس سال سے کم عمر کے 800 سے زائد بچوں میں وائرس کی تشخیص
سندھ حکومت کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ صوبے میں اب تک دس سال سے کم عمر کے 882 سے بچوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ’یہ بڑا اضافہ بتاتا ہے کہ ہم نے کتنی لاپرواہی کی ہے اور بدقسمتی سے وائرس اپنے ساتھ گھر لے آئے ہیں۔ اب بھی احتیاط کرنے کا موقع ہے۔ کیا ہم خریداری اور میل جول مؤخر نہیں کر سکتے؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
جنوبی کوریا: مریضوں کی بڑھتی تعداد کے باوجود سکول کھل رہے ہیں
،تصویر کا ذریعہEPA
پچھلے دو ماہ کے دوران جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے یومیہ متاثرین کی سب سے زیادہ تعداد گذشتہ 24 گھنٹوں میں ریکارڈ کی گئی ہے۔
دوسری جانب ملک میں آج سے سکول کھولے جا رہے ہیں اور 20 لاکھ بچے اپنی پڑھائی دوبارہ شروع کریں گے۔
24 گھنٹوں میں 40 نئے مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں جو کہ گذشتہ 49 دنوں میں یومیہ کیسز کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
جنوبی کوریا میں لاک ڈاؤن نہیں کیا گیا تھا تاہم سکولوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ اب حکام سکولوں کو مرحلہ وار کھولنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تازہ ترین کیسز میں تیزی کی وجہ سے ملک میں اساتذہ پریشان ہیں اور اب وہ اور بھی زیادہ احتیاط کی کوشش کر رہے ہیں۔
محکمہِ صحت کے حکام کلاس رومز میں احتیاطی تدابیر کا جائزہ لے رہے ہیں اور طلبہ کو واپس سکول جانے سے پہلے یہ بتانا ہوتا ہے کہ کہیں ان میں کورونا وائرس کی کوئی علامات تو نہیں ہیں۔
جنوبی کوریا کے کورونا وائرس کے حوالے سے اقدامات کی عالمی سطح پر تعریف کی گئی ہے اور ملک میں اب تک صرف 270 اموات ہوئی ہیں۔
ایران میں کل اموات ساڑھے سات ہزار سے تجاوز کر گئیں
،تصویر کا ذریعہAFP
ایران میں وزارتِ صحت کے ترجمان کیانوش جہاں پور کا کہنا ہے کہ ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 57 افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد ملک میں کل اموات کی تعداد 7508 ہوگئی ہے۔
ملک میں 1787 نئے کیسز کے بعد کل متاثرین کی تعداد 139511 تک پہنچ گیی ہے۔
دوسری جانب اب تک ایران میں صحت یاب ہو کر ہپستالوں سے فارغ ہونے والے لوگوں کی تعداد 109437 ہے۔
لاک ڈاؤن میں وقت اتنی تیزی سے گزرتا ہوا کیوں محسوس ہوتا ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کے دوران بہت سے لوگوں کو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہفتوں کے ہفتے پلک جھپکتے ہی گزر جاتے ہیں۔
مصنفہ کلاڈیا ہیمنڈ کہتی ہیں کہ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ہم اپنے ذہن میں وقت کے گزرنے کے بارے میں ایک احساس پیدا کر لیتے ہیں جس کا ہماری دیوار پر لگے گھڑیال میں نظر آنے والے وقت سے ہمیشہ مطابقت رکھنا ضروری نہیں ہوتا ہے۔
ایک دوست کے ساتھ دوپہر کے کھانے میں 20 منٹ کا وقت ایک لمحے میں گزر جاتا ہے لیکن لیٹ ہو جانے والی ایک ٹرین کا 20 منٹ کا انتظار بہت طویل لگتا ہے، حالانکہ دونوں صورتوں میں وقت اتنا ہی طویل ہے۔
جرمنی کے رابرٹ کوک انسٹی ٹیوٹ کے مطابق ملک میں گذشتہ روز کورونا کے 362 مصدقہ مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 179,364 ہوگئی ہے۔
بدھ کے اعدادوشمار کے مطابق ملک میں اسی دوران 47 اموات ہوئیں جن کے بعد ملک میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 8,349 ہوگئی ہے۔
ایل سیلواڈور کے صدر: بیشتر عالمی رہنما ’ٹرمپ والی دوا‘ استعمال کر رہے ہیں
،تصویر کا ذریعہReuters
ایل سیلواڈور کے صدر کا کہنا ہے کہ بیشتر عالمی رہنما ہائیڈرواکسی کلوروکوین کا استعمال کر رہے ہیں۔
اس دوا کا کورونا وائرس کے مریضوں پر اثرات ابھی ثابت نہیں ہوئے ہیں تاہم صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ کورونا سے بچنے کے لیے اس دوا کا استعمال کر رہے ہیں۔
ہائیڈرواکسی کلوروکوین بنیادی طور پر ملیریا کی دوا ہے۔ عالمی ادارہِ صحت نے حال ہی میں اس کے کورونا وائرس کے خلاف مؤثر ہونے کے ٹیسٹ حفظانِ صحت کے حوالے سے خدشات کے پیشِ نظر معطل کر دیے تھے۔
اتوار کے روز صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ اب اس دوا کا استعمال نہیں کر رہے تاہم آج ایل سیلواڈور کے صدر نائیک بوکیلے نے کہا ہے کہ وہ اور دیگر عالمی رہنما اس کا استعمال کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’میں اسے وائرس سے بچنے کے لیے (علاج کے برعکس) استعمال کر رہا ہوں، ٹرمپ اسے بچنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور بیشتر عالمی رہنما اسے بچاؤ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘
واہگہ سے آج 176 مزید پاکستانی وطن لوٹیں گے
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
انڈیا میں کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باعث پھنسے ہوئے 176 مزید پاکستانی بدھ کو واہگہ بارڈر کے راستے واپس وطن واپس لوٹیں گے۔
ریڈیو پاکستان کی خبر کے مطابق یہ پاکستانی مختلف انڈین ریاستوں میں کرونا وائرس کی وباء پھیلنے کے بعد لاک ڈائون کے باعث وہاں پھنس گئے تھے جن میں چھتیس گڑھ، گجرات، مدحیہ پردیش، مہاراشٹر، پنجاب، راجستھان، اتر پردیش، اتُراکھنڈ اور دلی شامل ہیں۔
بیس مارچ کے بعد سے اب تک انڈیا سے 400 سے زائد پاکستانی پہلے ہی واہگہ بارڈ کے راستے واپس وطن پہنچ چکے ہیں۔