کورونا: دنیا بھر سے 24 گھنٹوں میں رپورٹ ہونے والے ریکارڈ ایک لاکھ سے زیادہ متاثرین
دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے تقریباً 50 لاکھ افراد متاثر اور تین لاکھ 24 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 47 ہزار کے قریب ہے جبکہ وائرس کے باعث ملک میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں عالمی ادارۂ صحت کو ریکارڈ ایک لاکھ چھ ہزار نئے مریض رپورٹ کیے گئے ہیں۔
لائیو کوریج
کرائے کی کوکھ سے پیدا ہونے والے بچے یوکرین کے ہوٹل میں پھنس کر رہ گئے
،تصویر کا ذریعہBIOTEXCOM
یوکرین کے دارالحکومت کیف کے ایک چھوٹے سے کمرے میں درجنوں نوزائیدہ بچوں کی تصاویر نے ملک میں ہلچل مچا دی ہے۔
یہ بچے نہ تو کسی یتیم خانے میں ہیں اور نہ کسی ہسپتال کی نرسری میں بلکہ یہ تصویر ایک ہوٹل کے کمرے کی ہے۔
یہ تمام بچے وہ ہیں جو یوکرین کے دارالحکومت میں بائیو ٹیکس کام ہیومن ری پروڈکشن سنٹر میں تیسری پارٹی کے لیے بچے کو جنم دینے والی ماؤں نے یہاں چھوڑے ہیں، ان تمام بچوں کے والدین دوسرے ممالک یا براعظموں میں ہیں۔
لیکن دنیا کے بیشتر حصوں میں سفری پابندیوں کے سخت اقدامات اور صحت کے بحران نے یوکرین میں بہت سے بچوں کو والدین کی دیکھ بھال کے بغیر چھوڑ دیا ہے۔
یوکرین میں یہ کاروبار کیسے جاری ہے اور یہ خدمات حاصل کرنے والوں کو کورونا کی وجہ سے کن مشکلات کا سامنا ہے، اس رپورٹ میں پڑھیے۔
چین: وائرس کے بارے میں تحقیقات ’قبل ازوقت ہوں گی‘
،تصویر کا ذریعہEPA
چین کی وزارتِ خارجہ نے پیر کو کہا ہے کہ دنیا میں تین لاکھ سے زیادہ افراد کو ہلاک کرنے والے کورونا وائرس کے متعلق فوری طور پر تحقیقات کرنا کہ اس کا ماخذ کیا تھا اور وہ کیسے پھیلا، قبل ازوقت ہوگا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان لیجیان ژاؤ نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ دنیا کے زیادہ تر ممالک کا خیال ہے کہ ابھی یہ وبا ختم نہیں ہوئی۔
وزارت کی جانب سے ایک الگ بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر شی جن پنگ ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کی افتتاحی تقریب میں ویڈیو خطاب کریں گے۔
روس میں کورونا کے 8000 سے زیادہ متاثرین کا اضافہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
روس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 8926 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں کل متاثرین کی تعداد دو لاکھ 90 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
ایک روز میں مزید 91 ہلاکتوں کے نتیجے میں اب کل ہلاکتیں 2722 ہو گئی ہیں۔
تائیوان کی کورونا کے خلاف کامیابی سے چین کو کیا خطرہ ہے؟
'وزیر اعظم کے کورونا ریلیف فنڈ میں 3 ارب روپے جمع '
پاکستان کے وزیرِ اعظم آفس نے اعلان نے کیا ہے
کہ وزیرِ اعظم کے کورونا ریلیف فنڈ میں اب تک تین ارب روپے سے زیادہ کے فنڈز جمع
ہوچکے ہیں۔
ٹوئٹر پیغام میں وزیرِ اعظم آفس نے بتایا کہ
وزیرِ اعظم کی ہدایت کے تحت فنڈ میں جمع کیے گئے ہر روپے کے مقابلے میں حکومت چار روپے
عطیہ کرے گی۔
اعلامیے میں یہ بھی بتایا گیا کہ اب تک حکومت کو
احساس لیبر پورٹل کے ذریعے کورونا وائرس کے سبب بے روزگار ہونے والے افراد کی 34
لاکھ درخواستیں موصول ہوچکی ہیں۔
واضح رہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان آج کورونا
وائرس کے باعث بے روزگار ہونے والے افراد کے لیے احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کا
اجرا کریں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاک افغان سرحد کو چمن سے بھی مال بردار گاڑیوں کے لیے کھول دیا گیا, محمد کاظم، نامہ نگار، کوئٹہ
،تصویر کا ذریعہAbdul Basit Achakzai
حکومت پاکستان کی جانب سے ملک میں لاک ڈاﺅن میں نرمی اور افغانستان کے ساتھ سرحد پر تجارت میں نرمی کے بعد بلوچستان کے سرحدی شہر چمن سے بھی جمعرات کوافغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور دوطرفہ تجارت کے لیے سرحد کو کھول دیا گیا۔
کورونا کے باعث سرحد کی مکمل بندش کے بعد سرحد کو یکطرفہ افغان تجارت کے لیے پہلے ہی ہفتے میں تین دن کے لیے کھول دیا گیا تھا لیکن اس کے دوران صرف سو مال بردار گاڑیاں افغانستان جاسکتی تھیں۔
تاہم 15 مئی کو جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق اب طورخم سے سرحد سنیچر کے سوا ہفتے میں چھ روز افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور دوطرفہ تجارت کے لیے 24 گھنٹے کھلی رہے گی۔
ان چھ دنوں میں افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور دو طرفہ تجارت کی لامحدودمال بردار گاڑیاں آ اور جاسکتی ہیں جبکہ اس سے قبل جب سرحد کو کھول دیا گیا تھا تو محدود دنوں کے لیے یکطرفہ طور پر دن میں صرف افغانستان جانے کے لیے 100مال بردار گاڑیوں کو جانے کی اجازت تھی۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق اسی طرح بلوچستان میں چمن سے بھی سنیچر کے سوا ہفتے میں چھ روز افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور دو طرفہ تجارت کی مال بردار گاڑیاں آ اور جاسکتی ہیں لیکن یہاں سے سرحد 24 گھنٹے کے لیے نہیں بلکہ مخصوص وقت کے لیے کھلی رہے گی۔
تاہم پہلے کی طرح دن میں یکطرفہ طور پر افغان تجارت کی 100 مال بردار گاڑیوں کے بجائے چمن سے بھی لامحدود مال بردار گاڑیوں کو آمد و رفت کی اجازت ہوگی۔
سنیچر کا دن ان دونوں مقامات سے پیدل افراد کی آمد و رفت کے لیے مختص ہوگا۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق اس حوالے سے جو ایس او پیز ہیں ان پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔
،تصویر کا ذریعہAbdul Basit Achakzai
،تصویر کا ذریعہAbdul Basit Achakzai
مقامی سطح پر بننے والی گاڑیوں کی فروخت میں کمی، وجوہات کیا ہیں؟
ایشیا کی مارکیٹس لاک ڈاؤن کے بعد
ایشیا کے کچھ بڑے شہر اپنی اپنی حکومتوں کی جانب سے لاک ڈؤن میں نرمیوں کے بعد آہستہ آہستہ پہلے کی مانند معمول کی جانب لوٹ رہے ہیں۔
ویتنام دنیا میں کورونا سے کامیابی سے نمنٹے کا والے ممالک میں شامل ہے۔ وہاں اب غیر ضروری کاروباری مراکز مثلاً قحبہ خانے، ریسٹورنٹس، سنیماز اور سپاز سینٹر حالیہ ہفتوں میں کھول دیے گئے ہیں۔
ہنوئی کی معروف تا ہائین سٹریٹ جو کہ بئیر کارنر کے طور پر جانی جاتی ہے اب پہلے جیسا منظر پیش کر رہی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنویتنام کے شہر ہنوئی کی ایک مارکیٹ
تھائی لینڈ میں بھی رواں ماہ کے آغاز میں مارکیٹس کھلنے کے بعد زندگی معمول سے کچھ ہی دوری پر ہے۔
گذشتہ ہفتے ملک میں شاپنگ مالز اور اور ڈیپارٹمنٹل سٹورز گذشتہ ہفتے سے کھلنا شروع ہو گئے تھے۔
تھائی لینڈ میں 3 ہزار سے کچھ زیادہ مصدقہ کیسز سامنے آئے ہیں اور یہ دنیا میں کورونا وائرس سے سب سے کم متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنبینکاک کے چائنہ ٹاؤن کا منظر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنرنگون میں ٹریفک معمول کی جانب
شہروں میں مثلا میانمار کے شہر ینگون اور پاکستان کے شہر کراچی میں ٹریفک بحال ہو گئی ہے۔ حکومت نے جب گذشتہ ہفتے کاروبار کھولنے کی اجازت دی تو شاہراؤں پر ٹریفک کا رش دکھائی دیا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اگر کورونا کے کیسز میں اضافہ ہوا تو پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی جائیں گی۔
انڈیا میں بھی دکانیں کھلنا شروع ہو گئی ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنکراچی جہاں ٹریفک اپنے معمول سے کم ہے لیکن سماجی دوری پر عمل ہوتا دکھائی نیہں دے رہا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنامرتسر میں چھوٹی دکانیں کھلنا شروع ہو گئی ہیں
انڈیا اور پاکستان دونوں نے اپنے ہاں کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کی باوجود پابندیوں میں نرمی کر دی ہے کیونکہ وہاں لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی طور پر بہت قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔
دونوں ملک ہلاکتوں کی بڑی تعداد کو پیشِ نظر نہیں رکھ رہی اور پر امید ہے کہ وہ اس رحجان پر قابو پا لے گی۔
بریکنگ, اسلام آباد میں تمام شاپنگ مالز کو کھولنے کا فیصلہ, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے کہا ہے کہ تمام شاپنگ مالز ہفتے کے سات روز کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ڈی سی اسلام آباد نے مزید بتایا کہ چھوٹی بڑی دوکانیں، شاپنگ مالز، اور حجام کی دکانیں عید اور عید کے بعد بھی کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے اور اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن کچھ ہی دیر میں جاری کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اب سے کچھ دیر قبل سپریم کورٹ نے ملک بھر کے شاپنگ مالز کھولنے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ سنیچر اور اتوار کے روز بھی چھوٹی مارکیٹیں کھلی رہیں گی۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے پیر کے روزاس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ کیا حکومتیں سنیچر اور اتوار کو تھک جاتی ہیں اور یا پھر کورونا کی وبا نے اس بارے میں حکومت سے کوئی معاہدہ کر رکھا ہے کہ وہ ان دنوں میں متاثر نہیں کرے گا۔
عدالت نے صوبوں کو حکم دیا تھا کہ وہ شاپنگ مالز کھولنے کے حوالے سے وفاق سے مشاورت کریں اور اجازت لیں۔
جرمنی: ایک ہی مذبح خانے کے 92 ملازمین میں کورونا کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جرمنی میں کورونا وائرس کا ایک اور کلسٹر سامنے آیا ہے جو براہِ راست ایک مذبح خانے سے منسلک ہے۔
اس کے بعد ملک میں موجود گوشت پیک کرنے کے پلانٹس میں کام کرنے کی صورتحال کے حوالے سے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
اتوار کو رات گئے ضلع اوسنابروک کے حکام نے لوئر سیکسونی ریاست میں ایک مذبح خانے کے 92 ملازمین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہونے کا اعلان کیا۔
پلانٹ کو اب تاحکمِ ثانی بند کر دیا گیا ہے اور عملے کو قرنطینے میں رکھ دیا گیا ہے۔
مذکورہ پلانٹ اب جرمنی کے ان کئی پلانٹس میں سے بن گیا ہے جن میں وبا اسی انداز میں سامنے آئی ہے۔
زیادہ تر متاثرین کا تعلق مشرقی یورپ سے ہے جو مشترکہ رہائش گاہوں میں رہتے ہیں۔
ایسے وقت میں جب جرمنی لاک ڈاؤن بتدریج نرم کر کے اپنی معیشت دوبارہ بحال کرنے جا رہا ہے، اس میں گوشت کی صنعت کے کورونا وائرس کا نیا مرکز ہونے کے حوالے سے تحفظات میں اضافہ ہوا ہے۔
طورخم: پاک افغان سرحد کو دو ماہ بعد تجارت کے لیے کھول دیا گیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاک افغان سرحد کے طورخم پوائنٹ کو دو ماہ ماہ بعد تجارت کے لیے کھول دیا گیا ہے جس کے بعد متعدد ٹرک افغانستان میں داخل ہو گئے۔
طورخم سرحد کو کورونا وائرس کے باعث 03 ماہ کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔
افغانستان میں اتحادی افواج کے لیے سپلائی بھی بحال کردی گئی۔
حکام نے بتایا ہے کہ سرحد پیدل آمدورفت کے لیے بند رہے گی مگر سامان کی ترسیل کے لیے ہفتے میں چھ دن تک 24 گھنٹے کے لیے اجازت ہوگی۔
حکام نے مزید بتایا ہے کہ ہفتے میں ایک دن پھنسے افراد کو سرحد پار کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
سپریم کورٹ کا ملک بھر کے شاپنگ مالز کھولنے کا حکم, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سپریم کورٹ نے ملک بھر کے شابپنگ مالز کھولنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ سنیچر اور اتوار کے روز بھی چھوٹی مارکیٹیں کھلی رہیں گی۔
عدالت نے صوبوں کو حکم دیا ہے کہ وہ شاپنگ مالز کھولنے کے حوالے سے وفاق سے مشاورت کریں اور اجازت لیں۔
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے پیر کے روزاس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ کیا حکومتیں سنیچر اور اتوار کو تھک جاتی ہیں اور یا پھر کورونا کی وبا نے اس بارے میں حکومت سے کوئی معاہدہ کر رکھا ہے کہ وہ ان دنوں میں متاثر نہیں کرے گا۔
عدالت نے کہا ہے کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کروانا انتظامیہ کی ذمہ داری ہے اور ایس او پیز پر عمل درآمد کروانا ہے لوگوں کو ڈرانا نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاکھوں افراد کے مالی حالات ایسے ہیں جو صرف عید پر ہی نئے کپڑے سلواتے ہیں لہٰذا ان کی خواہشات کا بھی احترام کرنا ہے۔
کمبوڈیا: کورونا کا آخری مریض بھی ہسپتال سے رخصت
،تصویر کا ذریعہEPA
کمبوڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ہاں کورونا وائرس کا آخری مریض بھی صحت یاب ہونے کے بعد ہسپتال سے رخصت ہو گیا ہے اور اب ملک میں کورونا کا کوئی مریض موجود نہیں ہے۔
سنیچر کو ملک میں ٹیلی وین سکرینز پر دارالحکومت کے ایک ہسپتال کے لائیو مناظر میں 36 سالہ خاتون کو ہسپتال سے نکلتے ہوئے دکھایا گیا۔
کمبوڈیا میں وائرس کے 122 متاثرین سامنے آئے ہیں اور کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔
صحت کے حکام نے تنبیہ کی ہے کہ وہ عائد کردہ پابندیوں میں نرمی نہیں کریں گے۔ ان پابندیوں میں سکولوں کی بندش، سرحد پر داخلی راستوں کی چیکنگ اور قرنطینہ کی پابندی پر سختی سے عمل جاری رہے گا۔
محکمہ صحت کے وزیر مام بن ہنگ کا کہنا ہے کہ ہمارا خیال ہے کہ زیادہ تر متاثرین بیرونِ ملک سے آنے والے ہیں اس لیے ہمیں سرحدی چیک پوائنس جن میں ہوائی اڈے، بندرگاہیں اور زمینی راستے شامل ہیں، کے حوالے سے بہت احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
کورونا وائرس سے کیا روسی صدر کی سیاسی قوت کو بھی دھچکا پہنچا ہے؟
،تصویر کا ذریعہReuters
کورونا وائرس کے باعث روسی صدر ولادیمیر پوتن کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوتا نظر آ رہا ہے۔ پیر کے روز صدر پوتن نے پورے ملک میں لاکھوں مزدوروں کو فیکٹریوں اور تعمیراتی مقامات پر کام کرنے کے لیے بھیج دیا اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے چھ ہفتوں سے جاری مکمل لاک ڈاؤن کے خاتمے کا اعلان بھی کر دیا۔
دیگر پابندیوں کو کیسے اور کب ختم کرنا ہے اس کا فیصلہ علاقائی رہنماؤں پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب پورے ملک اور خاص طور پر ماسکو میں وائرس کے انفیکشن کی شرح بہت زیادہ ہے۔
لیکن جمعرات کو پوتن اپنی حکومت سے کہہ رہے تھے کہ زندگی معمول پر آرہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو اب کورونا وائرس کو چھوڑ کر دوسری ترجیحات پر توجہ دینی چاہیے۔
اعلیٰ قیادت کا پیغام واضح ہے: روس کے صدر چاہتے ہیں کہ ملک کورونا سے نکل کر آگے بڑھے۔
ایک نئی تحقیق کے مطابق لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد چین میں گذشتہ برس کی نسبت سال کے حالیہ دنوں میں آلودگی بڑھی ہے۔
ہیلسنکی میں توانائی اور صاف ہوا سے متعلق تحقیقی ادارے سی آر ای اے کا کہنا ہے اس کی وجہ صنعتی مراکز میں کام کی بحالی ہو سکتی ہے۔
اس گروپ نے ملک میں ہوا کی کوالٹی کی نگرانی کرنے والے 1500 سٹیشنز کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ابتدائی تنبیہی علامات ہیں کہ کورونا کے بحران سے نکلنے کے ساتھ چین کی ہوا میں جو بہتری آئی تھی وہ اب الٹی جانب جا رہی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فروری میں ایک بڑی کمی کے بعد چین میں آٹھ مئی تک گزرے 30 دنوں کے دوران فضائی آلودگی کی سطح گذشتہ برس انھیں دنوں کی سطح سے زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق بظاہر صنعتی سرگرمیاں اسے بڑھا رہی ہیں اور ان میں بڑی تعداد فیکٹریوں کی ہے۔
سنگاپور: ادویات کی زیادہ برآمدات سے سالانہ برآمدات میں اضافہ
،تصویر کا ذریعہReuters
جہاں دنیا بھر میں مختلف معیشتیں شدید دباؤ کی
شکار ہیں، وہیں سنگاپور کی سالانہ برآمدات میں اپریل میں لگاتار تیسرے ماہ بھی
اضافہ دیکھا گیا۔
پیر کے روز جاری کیے گئے سرکاری ڈیٹا کے مطابق
اس کی بنیادی وجہ ادویات کی برآمدات میں اضافہ ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تجارتی ادارے انٹرپرائز
سنگاپور کے ڈیٹا میں دکھایا گیا ہے کہ کیسے نان آئل ڈومیسٹک ایکسپورٹس، یعنی
سنگاپور میں تیار ہونے والی وہ اشیا جن کا انحصار تیل کی قیمتوں پر نہیں، ان کی
برآمدات میں گذشتہ ماہ کے 17.6 فیصد اضافے کے مقابلے میں 9.7 فیصد کا سالانہ اضافہ
دیکھا گیا۔
روئٹرز کے ایک سروے میں سات ماہرینِ معاشیات نے پانچ فیصد کمی کی پیش
گوئی کی تھی۔
لیکن اپریل میں ماہانہ بنیادوں پر برآمدات کی شرح 5.8 فیصد رہی جبکہ
مارچ میں یہ 12.8 فیصد تک بڑھی تھیں۔
انڈیا میں ایک ہی روز میں 5000 سے زیادہ متاثرین کا ریکارڈ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے پانچ ہزار 242 متاثرین سامنے آئے ہیں۔ یہ ملک میں ایک ہی روز میں اب تک سامنے آنے والے متاثرین کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
انڈیا میں حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو بھی کم کرنا شروع کیا گیا ہے۔
56 ہزار مریضوں کے ساتھ وہاں اب تک سامنے آنے والے کل متاثرین کی تعداد 96 ہزار 169 ہے۔
لاک ڈاؤن میں 31 مئی تک توسیع کر دی گئی ہے تاہم کچھ ضروری دکانیں اور کاروبار دوبارہ کھلنا شروع ہو گئے ہیں۔
اب ملک میں شہروں اور دیہی علاقوں میں بسوں کو چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے اور اجازت ملنے پر وہ ایک ریاست سے دوسری ریاست میں بھی داخل ہو سکیں گی۔
لاک ڈاؤن میں نرمی کو انڈیا کی خراب ہوتی معیشت کے لیے لازم سمجھا جا رہا ہے جہاں بے روزگاروں کی تعداد 12 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔
ویٹیکن سٹی: لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد سینٹ پیٹرز بیسیلیکا کے دروازے کھول دیے گئے
،تصویر کا ذریعہAFP
ویٹیکن سٹی میں قائم سینٹ پیٹرز بیسیلیکا نے پیر کے روز لوگوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔
یہ ویٹیکن اور عمومی طور پر اٹلی میں زندگی کے معمول پر آنے کا اشارہ ہے اور زیادہ تر کاروبار اپنی سرگرمیاں آج دوبارہ شروع کریں گے۔
اکثریتی طور پر کیتھولک ملک اٹلی میں دعائیہ تقریبات بھی دو ماہ کے طویل وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو رہی ہیں جبکہ ریستوران، شراب خانے، کیفے، دکانیں اور حجام سمیت دیگر کاروبار آج کھلنے کی توقع ہے۔
پوپ فرانسس اور دیگر کی جانب سے مخالفت کے باوجود روم میں کورونا وائرس کی ہنگامی صورتحال شروع ہونے پر مارچ کے اوائل میں گرجا گھر بند کر دیے گئے تھے۔
مگر زیادہ تر کچھ ہی عرصے بعد کھول دیے گئے مگر داخلے کو صرف دعا کرنے سے مشروط کر دیا گیا۔
پوپ فرانسس نے اتوار کو اپنی لائیو سٹریم کی جانے والی دعا میں کہا: 'میں ان تمام لوگوں کی خوشی میں شریک ہوں جو بالآخر ایک مرتبہ پھر دعائیہ تقریبات میں ایک دوسرے سے مل سکتے ہیں، یہ تقریبات معاشرے کے لیے امید کی علامت ہیں۔'
این سی او سی کا اجلاس جاری، ریلوے کی بحالی ایجنڈا میں سرِفہرست
وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر نیشنل کمانڈ
اینڈ آپریشن سینٹر کے اجلاس کی سربراہی کر رہے ہیں جس میں ٹرینیں دوبارہ چلانے،
وینٹلیٹرز کی صورتحال، این ڈی ایم اے کی جانب سے خریداری کے منصوبے، نیشنل
انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی جانب سے مختلف منصوبوں پر پیش رفت اور دیگر معاملات
زیرِ بحث آئیں گے۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد نے
کل راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں ٹرینیں چلانے کے لیے
وزیرِ اعظم عمران خان کے حکم کا انتظار ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ ریلوے کی جانب سے 23 کروڑ
روپے سے زائد کی ٹکٹیں بک کی گئی ہیں اور اگر ٹرینیں چلانے کی اجازت نہ ملی تو بدھ
کے روز سے عوام کے پیسے واپس کرنے شروع کر دیں گے۔
چنانچہ آج کے اجلاس میں ریلوے کی بحالی اور
مجوزہ شیڈول سمیت ضوابط اور صوبوں سے مطلوب اعانت این سی او سی کے ایجنڈا میں سرِ
فہرست ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
تھائی ایئرویز کو بچانے کے لیے نیا منصوبہ کل پیش کیا جائے گا
،تصویر کا ذریعہEPA
تھائی لینڈ مبینہ طور پر ملک کی پرچم بردار فضائی کمپنی تھائی ایئرویز کو بچانے کے لیے دیوالیے کی کارروائی شروع کرے گا۔
حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ یہ اقدام اس سے قبل پیش کیے گئے ایک ہنگامی منصوبے کی جگہ لے لے گا جس میں حکومت سے 18 لاکھ ڈالر کی قرض گارنٹی مانگی گئی تھی۔
یہ منصوبہ منگل کو کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
تھائی لینڈ کی ریاست کے اس فضائی کمپنی میں 51 فیصد حصص ہیں اور دنیا کی کئی فضائی کمپنیوں کی طرح اسے بھی عالمی لاک ڈاؤن کے باعث خسارہ اٹھانا پڑا ہے، بھلے ہی تھائی ایئرویز عالمی وبا کے شروع ہونے سے پہلے ہی نقصان میں جا رہی تھی۔