کورونا: دنیا بھر سے 24 گھنٹوں میں رپورٹ ہونے والے ریکارڈ ایک لاکھ سے زیادہ متاثرین
دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے تقریباً 50 لاکھ افراد متاثر اور تین لاکھ 24 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 47 ہزار کے قریب ہے جبکہ وائرس کے باعث ملک میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں عالمی ادارۂ صحت کو ریکارڈ ایک لاکھ چھ ہزار نئے مریض رپورٹ کیے گئے ہیں۔
لائیو کوریج
کورونا: بلوچستان میں متاثرہ افراد کی سب سے بڑی تعداد 30 سے 44 برس کے درمیان

،تصویر کا ذریعہGovt. of Balochistan
بلوچستان میں بڑی عمر کے لوگوں کی بجائے ان لوگوں کے کورونا وائرس سے زیادہ متاثر ہونے کا رحجان برقرار ہے جن کی عمریں 30 سے 44 سال کے درمیان ہیں یا جو نوجوان ہیں۔
محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی رپورٹ میں اس حوالے سے 18 مئی تک کورونا سے متاثرہ جن 2818 افراد کا جائزہ پیش کیا گیا ہے اس کے مطابق 15 سال سے 44 سال کے درمیان متاثرہ افراد کی تعداد 1664 (59.1 فیصد) ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایسے متاثرہ افراد کی تعداد 296 (10.5 فیصد) ہے جن کی عمریں ایک سے 14سال کے درمیان ہیں۔
15 سے 29 سال کے درمیان متاثرین کی تعداد 755 (26.8 فیصد) ہے۔ کورونا سے متاثرہ ان افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے جن کی عمریں 30 سے 44 سال کے درمیان ہیں۔
ان افراد کی مجموعی تعداد 909 (32.3 فیصد) ہے۔ 45 سے 59 سال کے متائثرین کی تعداد 459 (17.7 فیصد) ہے۔ سب سے کم متائثرین 60 سال سے اوپر کے لوگ ہیں جن کی تعداد 215 (7.6 فیصد) ہے۔
رپورٹ کے مطابق 145 (5.1 فیصد) ایسے متائثرین ہیں جن کی عمریں معلوم نہیں ہیں۔ رپورٹ میں اس کی وجہ یہ نہیں بتائی گئی ہے کہ 15 سال سے 44 سال کے درمیان متاثرہ افراد کی تعداد کیوں زیادہ ہے تاہم اس کی ایک وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ اس عمر کے لوگ گھروں سے زیادہ تر باہر ہوتے ہیں۔
بریکنگ, سپریم کورٹ نے وفاقی و صوبائی حکومتوں کی کورونا خطرات پر ماہرین کی ٹیم بنانے کی استدعا مسترد کر دی
چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب کورونا خطرات پر ماہرین کی ٹیم بنانے کی استدعا مسترد کر دی ہے۔
عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے پیشرفت رپورٹس مانگ لی ہیں۔
سماعت کےدوران اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ وضاحت کر دیں کہ ہفتہ اتوار کا لاک ڈائون عید تک ہے تو چیف جسٹس نے جواب دیا کہ آٹھ جون کو ہونے والی سماعت میں وضاحت کر دیں گے۔
وبا اور لاک ڈاؤن سیکس ورکرز کو کیسے متاثر کر رہے ہیں؟
بریکنگ, ہم پیسے سے کھیل رہے ہیں، لوگوں کی زندگیوں کا ہمیں احساس نہیں: چیف جسٹس گلزار احمد, شہزاد ملک، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کورونا وائرس سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سوال اٹھایا ہے کہ اس بیماری کی روک تھام کے لیے صرف ایک ہی چینی کمپنی سے سارا سامان خریدا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے اور ہماری معیشت کا شمار افغانستان، یمن اور صومالیہ سے کیا جاتا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ملک کے عوام غربت کی لکیر سے نیچے جا رہے ہیں جبکہ ملکی وسائل پوری عوام کے لیے ہوتے ہیں نہ کہ صرف دو فیصد لوگوں کے لیے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم پیسے سے کھیل رہے ہیں اور لوگوں کی زندگیوں کا ہمیں احساس نہیں ہے۔‘
اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے جو اخراجات ہوئے ہیں ان کا جواب دینے کے لیے این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ عادلت کی تشویش اخراجات سے متعلق کم اور سروسز کے معیار پر زیادہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ کورونا کے مشتبہ مریض کا سرکاری لیب سے ٹیسٹ مثبت اور پرائیویٹ سے منفی آتا ہے اور سپریم کورٹ کے لاہور کے رجسٹری برانچ کے ملازمین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کورونا کے مریض کو دنیا جہان کی ادویات لگا دی جاتی ہیں۔
بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ایک شخص رو رہا تھا کہ اس کی بیوی کو کورونا نہیں لیکن ڈاکٹر چھوڑ نہیں رہے تھے۔
چیف جسٹس نے قرنطینہ مراکز کی صورت حال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہاں پر 10،10 لوگ ایک ساتھ بیٹھے ہوتے ہیں اور سوشل میڈیا پر قرنطینہ مراکز کی حالت زار کی ویڈیوز چل رہی ہیں جس میں مشتبہ مریض ویڈیوز میں تارکین وطن کو کہہ رہے ہیں کہ وہ باہر مر جائیں لیکن پاکستان میں نہ آئیں۔
اس از خود نوٹس کی سماعت ابھی جاری ہے۔
ویکیسن پر تحقیق: مدافعتی نظام کی استعداد بڑھائی جا سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایک امریکی کمپنی کے مطابق اس بات کا عندیہ ملا ہے کہ ویکسین لوگوں کے مدافعتی نظام کو بڑھا سکتی ہے تاکہ وہ کورونا وائرس کا مقابلہ کر سکیں۔
امریکی کمپنی موڈرنا کا کہنا ہے کہ ویکسین کا جن پہلے آٹھ افراد پر تجربہ کیا گیا ہے، اس سے ان کے اینٹی باڈیز بےاثر ہو گئیں۔ کمپنی کے مطابق اس کے باوجود مدافعتی نظام وائرس سے متاثرین کے مدافعتی نظام جیسا ہی تھا۔
اس بات کا پتا چلانے کے لیے کیا واقعی ویکسین سے وائرس سے بچاؤ ممکن ہے اس کا ٹرائل جولائی سے متوقع ہے۔
اس وقت کورونا وائرس ویکسین پر کام غیرمعمولی رفتار سے جاری ہے۔ دنیا بھر میں 80 کے قریب گروپس اس پر کام کر رہے ہیں۔
وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے ویکسین لوگوں کے مدافعتی نظام کو بڑھائے گی، جس سے پھر لاک ڈاؤن کے خاتمے اور سماجی دوری کے اصول میں نرمی کی راہ بھی ہموار ہو جائے گی۔
کورونا وائرس سے متعلق بی بی سی اردو کا مُختصر دورانیے کا خصوصی بُلیٹن
YouTube پوسٹ نظرانداز کریںGoogle YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
فرانس میں اموات میں کمی، متاثرین میں اضافے کا رجحان

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پیر کو فرانس میں کوروناوائرس کی وجہ سے اموات کی تعداد میں میں معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ فرانس میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے ایک ہفتے بعد اس وائرس سے متاثرین کی تعداد میں اضافے ہوا ہے۔
فرانس میں کورونا وائرس کی وجہ سے امریکہ، برطانیہ اور اٹلی کے بعد سب سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔ نئے اعدادوشمار بتاتے ہوئے فرانس کی حکومت نے لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ محتاط رہیں اور سماجی فاصلے کے اصول کا احترام کریں۔
کورونا وائرس سے فرانس میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 131 ہلاکتیں ہوئی ہیں، جس سے ملک میں اس وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 28،239 ہو گئی ہے۔
بلوچستان: گوادر میں تین نئے مریض، صوبے میں متاثرہ اضلاع کی تعداد 22 ہو گئی

،تصویر کا ذریعہGovt. of Balochistan
ساحلی ضلع گوادر سے کورونا کے کیسز سامنے آنے کے بعد بلوچستان میں مجموعی طور پر متاثرہ اضلاع کی تعداد 22 ہو گئی ہے۔
محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی رپورٹ کے مطابق گوادر سے کورونا کی رپورٹ ہونے والی کیسز کی تعداد تین ہے۔
گوادر کے بعد بلوچستان کے دونوں ساحلی اضلاع کورونا سے متاثرہ اضلاع میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل کراچی سے متصل بلوچستان کے ساحلی ضلع لسبیلہ سے 17 کیسز سامنے آئے تھے جبکہ اس ضلع میں کورونا سے متائثرہ دوخواتین کی ہلاکت بھی ہوئی ہے۔
بلوچستان کے 22 متاثرہ اضلاع میں زیادہ تر کیسز مقامی منتقلی کے ہیں جن میں کوئٹہ شہر سرفہرست ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک بلوچستان سے کورونا کے مجموعی 2820 کیسز میں سے 2664 (94 فیصد) مقامی منتقلی کے ہیں۔ مقامی منتقلی کے 2664 کیسز میں سے 2291 (86 فیصد) کوئٹہ سے ہیں جبکہ کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے زیادہ افراد کا تعلق بھی کوئٹہ سے ہے جن کی تعداد 31 ہے۔
دوسرے نمبر پر جس ضلع میں مقامی منتقلی کے کیسز میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے وہ ضلع کوئٹہ سے متصل شمال میں واقع پشین کا ہے۔ اس ضلع میں مقامی منتقلی کے کیسز کی تعداد 101 ہو گئی ہے جبکہ چار افراد کی ہلاکت کے ساتھ یہ ضلع ہلاکتوں کے لحاط سے بھی کوئٹہ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔
تیسرے نمبر پر بلوچستان میں جس ضلع سے کورونا کے سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں وہ افغانستان متصل قلعہ عبداللہ کا ہے جہاں کورونا سے متائثرہ افراد کی تعداد 97 تک پہنچ گئی ہے۔
لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کی دنیا کی تصویری جھلکیاں!

،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا بھر میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد مختلف مناظر دیکھنے کو ملے۔ لوگوں کے لیے اس نئی زندگی کے ساتھ سمجھوتا کرنا اور پابندیوں پر عمل درآمد کرنا یقیناً انوکھا تھا۔
نیوزی لینڈ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی کامیاب روک تھام کے حوالے سے ایک مثال ہے۔
یہاں ملک کی وزیرِ اعظم جسنڈا آرڈرن کو ایک روٹوروا خطے میں سیاحت اور مہمانوں کی دیکھ بھال کے لیے فائز منتظمین سے کہنی ملا رہی ہیں جو کووڈ 19 کے بعد میں مصافحہ کرنے کا ایک محفوظ طریقہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ادھر انڈیا میں ہزاروں افراد شہروں سے گاؤں کی جانب نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ ابتدا میں جو عمل وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیا گیا تھا وہ اب ایک انسانی علمیہ بن گیا ہے۔
اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لوگ اپنے آبائی شہروں میں جانے کے لیے خصوصی بسوں میں سوار ہونے سے قبل سکریننگ یقینی بنا رہے ہیں۔ ان کے لیے سماجی فاصلہ قائم رکھنا یقیناً ممکن نہیں ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
متعدد ممالک میں کھیلوں کی سرگرمیاں بحال کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے اور ان میں آسٹریلیا بھی شامل ہے۔
آسٹریلیا میں رگبی کی ٹیم میلبورن ریبلز کی ٹریننگ میں واپسی ہوئی ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں رگبی سیزن کا آغاز جولائی سے کیا جا سکتا ہے۔
تاہم کووڈ 19 کے حوالے سے مروجہ قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے کھلاڑیوں کو عارضی حدود میں رکھا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ تصویر بیجنگ سے ہے جہاں سائیکلوں پر سوار افراد نے ماسک پہن رکھے ہیں اور وہ صبح کے وقت ٹریفک کے رش میں سے گزر رہے ہیں۔
بیجنگ میں نیشنل پیپلز کانگریس کے سالانہ اجلاس کی تیاریاں بھی کی جا رہی ہیں جو 22 مئی کو شروع ہو گا۔
پولینڈ 15 جون سے اپنی سرحدیں کھول دے گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پولینڈ کے ڈپٹی وزیر اعظم جدویگا ایمیلی وِز نے پلس بزنسو اخبار کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ یکم جولائی کو کورونا وائرس سے متعلق عائد پابندیاں ہٹانے سے قبل پولینڈ 15 جون سے ہی اپنی سرحدیں کھول سکتا ہے۔
سرکاری ریڈیو کے ساتھ ایک علیحدہ انٹرویو میں پولینڈ کے وزیر اعظم کے چیف آف سٹاف مائیکل ڈورکزائک نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں صدارتی انتخابات کا انعقاد 28 جون کو کیا جائے گا۔
لاک ڈاؤن کے باعث انڈیا کے ’امیر ترین‘ مندر بھی مالی مشکلات کا شکار
سنگاپور نے سینکڑوں کورونا وائرس متاثرین سے غلط موبائل ٹیکسٹ میسیجز پر معافی مانگ لی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنگاپور کی حکومت نے 357 کورونا وائرس متاثرین سے بڑی تعداد میں ان کے موبائل پر ایسے ٹیکسٹ میسیجز بھیجنے پر معافی مانگ لی جن میں کہا گیا تھا کہ انھیں دوبارہ کورونا وائرس ہو گیا ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں واقع چھوٹے سے ملک سنگاپور میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 28 ہزار سے زائد ہے۔ ملک میں یکم جون تک لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا ہے۔
سنگاپور میں اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 22 بنتی ہے۔
وزارت صحت نے وضاحت دی ہے کہ یہ ٹیکسٹ میسیجز آئی ٹی کی غلطی کی وجہ سے اس وقت ہوئے جب وہ اپنے سسٹم میں مزید بہتری لانے کے لیے کوشاں تھے۔
وضاحت میں جہاں ان پیغامات پر متاثرین سے انھیں پہنچنے والی تکلیف اور دکھ پر معافی مانگی گئی ہے وہیں یہ کہا گیا ہے کہ چند گھنٹوں کے اندر اندر ان پیغامات کو تبدیل کردیا گیا تھا۔
کورونا وائرس: انڈیا میں رہائی پانے والے قیدی جو گھروں کو نہیں جا سکتے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب عارف (فرضی نام) کو 31 مارچ کو مغربی انڈیا کی ایک جیل سے رہائی ملی تو وہ جلد سے جلد گھر پہنچنا چاہتے تھے۔
مگر اگلے پندرہ روز میں انھیں بار بار گھر سے نکال دیا جاتا رہا۔ پہلے اپنے گھر سے اور پھر ایک ساتھی قیدی کے گھر سے اور آخر میں وہ بے گھر لوگوں کے لیے قائم ایک شیلٹر میں پہنچ گئے۔ گھر جانے کے لیے وہ وہاں سے دوبارہ فرار ہوئے مگر ناکام رہے، اور اب ایک دوست کے گھر میں قرنطینہ میں ہیں۔
عارف کی کہانی ان ہزاروں قیدیوں کی داستان ہے جنھیں وبا کو روکنے کے لیے لاگو لاک ڈاؤن کے دوران رہا کیا گیا ہے۔
بریکنگ, کورونا وائرس: انڈیا میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے بڑھ گئی

انڈیا میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
مقامی میڈیا اسے دنیا کی دوسری بڑی آبادی والے ملک انڈیا کے لیے بہت بڑا چیلنج قرار دے رہا ہے۔
خاص بات یہ ہے کہ یہ خبر حکومت کے اس اعلان کے ایک بعد سامنے آئی ہے جس میں لاک ڈاؤن میں اہم نرمیاں پیدا کیے جانےسے متعلق بتایا گیا تھا۔
لاک ڈاؤن میں نرمی کے باوجود ملک میں متاثرین کی تعداد میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ماہرین نے اس کی وجہ بڑی تعاد میں لوگوں کا ایک دوسرے سے ملنا جلنا بتائی ہے۔
چند پیش گوئیوں کے مطابق انڈیا میں کورونا وائرس کے اثرات جولائی تک رہیں گے۔۔ تاہم اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ معاشرتی دوری کو کتنی کامیابی کے ساتھ برقرار رکھا جاتا ہے۔
چلی: لاک ڈاؤن کے دوران خوراک کی کمی پر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں

،تصویر کا ذریعہReuters
چلی کے دارالحکومت سنٹیاگو میں لاک ڈاؤن کے دوران خوراک کی کمی کی وجہ سے پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ہوئی ہیں۔
چلی کے مقامی ٹیلی ویژن پر پولیس کو ایل بوسک میں مظاہرین کومنتشر کرنے کے لیے ان پر آنسو گیس اور پانی کا استعامل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ خیال رہے کہ مظاہرین پہلے بھی پتھراؤ کرتے اور آگ لگاتے رہے ہیں۔
ڈسٹرکٹ میئر سادی میلو نے مقامی ریڈیو کو بتایا کہ 'بھوک اور کام کی کمی‘ کی وجہ سے ایک انتہائی پیچیدہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
بعد ازاں چلی کے صدر سیبیسٹیئن پینارا نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ان کی حکومت اگلے ایک آدھ ہفتے میں فوڈ کے 25 لاکھ باسکٹ اور دیگر ضروری اشیا فراہم کرے گی۔
چلی کا شمار دنیا کے اُن علاقوں میں ہوتا ہے جہاں سب سے زیادہ زلزلے آتے ہیں۔
کورونا وائرس: برازیل میں برطانیہ سے بھی زیادہ متاثرین

،تصویر کا ذریعہAFP
کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے اب برازیل امریکہ اور روس کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن چکا ہے۔اس وقت برازیل میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 255،000 سے زیادہ ہے۔
برازیل اموات کے لحاظ سے دنیا میں چھٹے نمبر پر ہے، جہاں اس وائرس سے 16،853 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ مبصرین کے خدشے کے مطابق برازیل میں متاثرین اور اموات کی حقیقی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
برازیل میں اس وبا سے نمٹنے سے متعلق واضح تقسیم پائی جاتی ہے۔ خطوں کے گورنرز نے لاک ڈاون کا نفاز کر رکھا ہے جبکہ برازیل کے صدر کے مطابق ایسے اقدامات وائرس سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
پیر کو ایسے ہی ایک علاقے ساؤ پاؤلو کے ایک فییولا یعنی کچی آبادی کے مکینوں نے ریلی نکالی جس میں انھوں نے حکومت سے ان کے تحفظ سے متعلق مزید اقدامات اٹھانے کے بارے میں کہا ہے۔
شہر میں مارچ سے لاک ڈاؤن نافذ ہے جبکہ ان فیولاز میں رہنے والوں کی اکثریت گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہے۔
لاک ڈاؤن اور پابندیوں کے خاتمے کے بعد زندگی کسی ہو گی؟
YouTube پوسٹ نظرانداز کریںGoogle YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
اگر آپ کو اب تک اس بات کا احساس نہیں ہوا تو ہم آپ کو بتا دیتے ہیں کہ آپ کی زندگی یکسر بدل چکی ہے۔
جیسے جیسے مختلف ممالک لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیوں میں نرمی کر رہیں ہمیں کورونا وائرس کی وبا کے بعد کی زندگی کی جھلکیاں بھی نظر آ رہی ہیں۔
آپ اس بارے میں مزید جان سکتے ہیں اس ویڈیو میں۔
لاک ڈاؤن حکمت عملی پر حکومت، سپریم کورٹ ایک صفحے پر ہیں: زرتاج گل

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
وفاقی وزیرِ برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل کا کہنا ہے کہ حکومت سمجھتی ہے کہ سپریم کورٹ کا لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلے خوش آئند ہے اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے سلسلے میں لاک ڈاؤن حکمت عملی کے حوالے سے حکومت اور سپریم کورٹ ایک ہی صفحے پر ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت پہلے ہی لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کا اعلان اور مروجہ قواعد و ضوابط بھی وضح کر چکی ہے۔
بریکنگ, امریکی صدر کی عالمی ادارہ صحت کو ایک ماہ کی ڈیڈّ لائن، مستقل طور پر فنڈنگ روکنے کی دھمکی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم کو دھمکی دی ہے کہ وہ 30 دن کے اندر ادارے میں اہم تبدیلیاں متعارف کرائیں یا پھر امریکہ کی طرف سے مکمل طور پر فنڈنگ کے خاتمے کا سامنا کریں۔
اپنے ایک ٹویٹ کے زریعے صدر ٹرمپ نے عالمی ادارہ صحت کے سربراہ کے نام ایک مکمل خط شائع کیا ہے، جس میں انھوں نے ادارے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وبا کے خلاف صیحح معنوں میں کام نہیں کر رہا ہے اور اس ادارے نے گذشتہ سال ووہان میں اس وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق قابل بھروسہ اطلاعات کو نظر انداز کیا۔
انھوں نے چین کی بار بار تعریف کرنے پر بھی عالمی ادارہ صحت پر تنقید کی ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انھوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ یہی ہے کہ عالمی ادارہ صحت چین سے آزاد رہنے کا عملی مظاہرہ کرے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر عالمی ادارہ صحت نے اہم نوعیت کی تبدیلیاں متعارف کرانے کا عزم ظاہر نہ کیا تو پھر ایسے میں اس ادارے پر عائد عارضی فنڈنگ معطلی کو مستقل فیصلے میں تبدیل کر دیا جائے گا اور فنڈنگ روکنے کے علاوہ امریکہ اس کی رکنیت کے بارے میں بھی از سر نو غور کرے گا۔
