کورونا: دنیا بھر سے 24 گھنٹوں میں رپورٹ ہونے والے ریکارڈ ایک لاکھ سے زیادہ متاثرین
دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے تقریباً 50 لاکھ افراد متاثر اور تین لاکھ 24 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 47 ہزار کے قریب ہے جبکہ وائرس کے باعث ملک میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں عالمی ادارۂ صحت کو ریکارڈ ایک لاکھ چھ ہزار نئے مریض رپورٹ کیے گئے ہیں۔
لائیو کوریج
اووبر: مزید 3000 نوکریاں ختم کرنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اووبر نے اعلان کیا ہے کہ دنیا بھر میں مزید تین ہزار نوکریاں ختم کی جا رہی ہیں۔
اس سے پہلے رواں ماہ کے آغاز میں اووبر نے 3700 نوکریاں ختم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ کمپنی تقریباً ایک چوتھائی نوکریاں ختم کر رہی ہے۔
نوکریوں کے خاتمے میحں اووبر ڈرائیور شامل نہیں ہیں کیوں کہ انھیں کمپنی کنٹریکٹر تسلیم کرتی ہے ملازم نہیں۔
گذشتہ ماہ دنیا بھر میں اووبر کی سواریوں میں 80 فیصد کمی آئی تھی۔
بریکنگ, بلوچستان میں کورونا کے مریضوں میں 128 افراد کا اضافہ، تعداد 2820 ہو گئی
بلوچستان میں کورونا کے 128 نئے کیسز کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 2820 ہوگئی ہے۔
جبکہ مزید ایک مریض کی ہلاکت کے بعد بلوچستان میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے مریضوں کی تعداد 38 ہو گئی ہے۔
محکمہ صحت حکومت بلوچستان
کی رپورٹ کے مطابق 18مئی 2020 کو کورونا کے 417 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 128پازیٹو آئے۔
بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر18438 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 15618 نتائج منفی آئے۔
بلوچستان میں مجموعی طوپر 46675 افراد کی سکریننگ کی گئی۔
صوبے میں اب بھی مشتبہ مریضوں کی تعداد 19029 ہے۔
کورونا وائرس سے اب تک 524 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔
ریستورانوں کی بندش سے گھر میں بنے کھانوں کی مانگ میں اضافہ
حکومت خیبرپختونخوا نے صوبہ میں ایپیڈمک کنٹرول اینڈ ایمرجنسی ریلیف آرڈیننس نافذ کردیا ہے۔
آرڈیننس کے مطابق :
قرنطنیہ سینٹرز سے بھاگنے پر دو ماہ قید اور پچاس ہزار جرمانہ ہوگا۔
قرنطینہ سنٹر سے دوسری بار بھاگنے پر چھ ماہ قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوگا۔
آرڈننس کے تحت کورونا سے متاثرہ فرد اپنی ہسٹری سمیت دیگر افراد سے ملاقاتوں کی تفصیل دینے کا پابند ہوگا۔
آرڈننس کے تحت تعلیمی اداروں کے ماہانہ فیسوں میں 20 فیصد ریلیف دی جائے گی۔
کوئی بھی مالک مکان کرایہ دار کو گھر سے نہیں نکال گا۔
کورونا سے متاثرہ 80 گزکے مکان کے فرد سے پانی کا بل وصول نہیں کیا جائے گا۔
800 سکوائر فٹ والے فلیٹ کے مالک بھی پانی کے بل سے مسستنیٰ ہوں گے۔
برطانیہ: ’برسوں نہیں تو کئی ماہ تک وائرس کے ساتھ ہی جینا سیکھنا ہوگا‘
،تصویر کا ذریعہPA Media
انگلینڈ کے نائب چیف میڈیکل آفیسر
پروفیسر جاناتھن وان ٹام نے کہا ہے کہ ’ہمیں اگر برسوں نہیں تو کئی ماہ تک وائرس کے ساتھ ہی جینا سیکھنا
ہوگا ‘۔
برطانیہ میں روزانہ ہونے
والی وبا سے متعلق بریفنگ کی سربراہی پیر کووزیر خارجہ ڈومنِک راب نے کی۔
بریفنگ سے ہمیں کیا معوم
ہوا:
برطانیہ میں اب تصدیق شدہ
کیسز، ہسپتال میں داخلوں اور انتہائی نگہداشت کے استعمال میں آہستہ آہستہ کمی ہو
رہی ہے۔
حکومت امید کر رہی ہے کہ
وہ وبا کے دوسرے عروج سے بچا جا سکے لیکن ہو سکتا ہے کہ خزاں اور سردیوں میں وائرس
پھیلے اس لیے وہ کسی ہنگامی صورحال کے لیے تیاریاں کر رہی ہے۔
انوسمیا – سونگھنے کی حس کے جانے کو اب برطانیہ میں وائرس کی علامات میں
شامل کر لیا گیا ہے۔ اس کو علامات میں شامل کرنے میں اس لیے دیر کی گئی کیوں کہ یہ
دوسری علامات (مسلسل کھانسی اور بخار) کے بعد ہی ظاہر ہوتی ہے اور مرض کی تشخیص میں
زیادہ کردار ادا نہیں کرتی ہے۔
بچے اس بیماری کو پھیلانے میں اس
طرح کردار ادا نہیں کرتے جیسے وہ فلو کو پھیلانے کا باعث بنتے ہیں۔ اور دیکھا گیا
ہے کہ زیادہ تر بچوں میں بالغ افراد کے مقابلے میں اس بیماری کا اثر زیادہ تیز
نہیں ہوتا۔
حکومت چاہتی ہے کہ وائرس کے نقطہ
آغاز سے متعلق بین الاقوامی سطح پر نظر ثانی کی جائے۔
اینٹی باڈی ٹیسٹ کیا ہوتا ہے اور یہ کیوں اہم ہے؟
کورونا وائرس: صدر ٹرمپ کے عالمی ادارۂ صحت پر الزامات کتنے درست؟
بریکنگ, پاکستان: خیبر پختونخوا میں کورونا کے مزید 169 کیسز، 16 اموات
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 169 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جس کے بعد صوبے میں کورونا وائرس کی وبا سے متاثرین کی تعداد 6230 ہو گئی ہے۔
صوبے میں مزید 16 افراد وائرس کے باعث ہلاک ہوئے۔ صوبے میں اب ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 334 ہو گئی ہے۔
اس کے علاوہ 1944 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں جن میں سے 161 افراد کو آج صحت مند قرار دیا گیا۔
’سندھ میں پیسو امیونائیزیشن کے مثبت نتائج آ رہے ہیں‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبے سندھ کی وزیر صحت سندھ ڈاکٹرعذرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ صوبے میں سندھ میں پہلی دفعہ پیسو امیونائیزیشن کے کلینکل ٹرائل کی اجازت دی گئی جس کے تحت ابتدائی طور پر 11 کورونا کے مریضوں کو بذریعہ پلازما ٹریٹمینٹ دی گئی۔ اور اس کے خاطرخوا نتائج ملے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کسی صوبے میں پہلی دفعہ تجربہ کیا گیا اور ڈاکٹرز کی کاوشوں سے پیسو امیونائیزیشن کے مثبت نتائج آ رہے ہیں۔
ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بتایا کے اس طریقہ علاج کے بعد پہلے 3 مریض 9 ویں دن پر صحتیاب ہو کر گھر چلے گئے جبکہ 5 مریضوں کی حالت سدھر رہی ہے۔
وزیر صحت سندھ نے بتایا کہ 2 مریضوں کو وینٹیلیٹر کی ضرورت پڑی جن کا علاج جاری ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پیسو امیونائیزیشن سے کورونا کے مریضوں کو وینٹیلیٹر پر جانے سے بچایا جا سکے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ٹرائل بلڈ ٹرانسفیوزن اتھارٹی کی نگرانی میں ہو رہا ہے، اور مکمل ایس او پیز کے ساتھ اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔
پی آئی اے کی پرواز ووہان سے 274 پاکستانی طلبہ کو لے کر وطن واپس
،تصویر کا ذریعہMinistry Of Overseas Pakistanis
پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کی پرواز ووہان سے پاکستانی طلبہ کو لے کر وطن واپس پہنچی ہے۔
حکومت نے بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے خصوصی پروازیں چلانے کا فیصلہ کیا تھا۔
اسی سلسلے کی ایک پرواز سے آج ایک پرواز 274 طلبہ کو لے کر اسلام آباد پہنچی ہے۔
وزارت اوورسیز کے مطابق ووہان میں پھنسے طلبا کیلئے ایئر ٹکٹ صرف 50 ہزار روپے کا ہوگا۔
ووہان سے دراصل 290 طلبہ کو واپس وطن آنا تھا۔ لیکن پرواز میں بیٹھنے کے بعد تقریباً 16 طلبہ کو چینی حکام نے درجہ حرارت زیادہ ہونے کی وجہ سے واپس اتار دیا۔ اس کے نتیجے میں آج 274 طلبہ واپس ملک پہنچے ہیں۔
پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق جہاز کو جراثیم سے پاک کرکے طلبہ کو دوبارہ جہاز میں سوار کرنے کے باعث پرواز تاخیر کا شکار ہوئی۔
،تصویر کا ذریعہMinistry Of Overseas Pakistanis
،تصویر کا ذریعہMinistry Of Overseas Pakistanis
،تصویر کا ذریعہMinistry Of Overseas Pakistanis
برطانیہ: 24 گھنٹوں میں 160 اموات
برطانیہ کے صحت کے محکمے نے کہا ہے کہ برطانوی وقت کے مطابق اتوار شام 5 بجے تک ہسپتالوں، کیئر ہومز اور دیگر جگہوں پر کورونا وائرس کے مثبت ٹیسٹ آنے کے بعد ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 34 ہزار 796 ہو گئی ہے۔ ہفتے تک 34 ہزار 636 افراد ہلاک ہوئے تھے، اس طرح یہ اس سے 160 زیادہ ہے۔
پیر کی صبح 9 بجے تک گذشتہ 24 گھنٹوں میں کل ایک لاکھ 678 ٹیسٹ کیے گئے یا بھیجے گئے۔
مجموعی طور پر 26 لاکھ 82 ہزار 716 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں دو لاکھ 46 ہزار 406 افراد کے نتائج مثبت آئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہEPA
فینگ فینگ: وہان کی مصنفہ جن کی وائرس ڈائری سے چینی ناراض
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشناپنی ڈائری میں فینگ فینگ نے روزانہ کی معمول کی زندگی سے لے کر زبردستی کی تنہائی کے نفسیاتی اثرات کے متعلق لکھا ہے
چین کے شہر وہان کی ایوارڈ یافتہ مصنفہ کی ڈائری جو انھوں نے کورونا وائرس کی وبا کے اوائل کے دنوں میں لکھنا شروع کی تھی اب انگریزی ترجمے کے ساتھ چھپی ہے۔
فینگ فینگ نے پہلے جنوری میں اپنے تجربات آن لائن شائع کرنے شروع کر دیے تھے، اس وقت اسے ایک مقامی بحران ہی سمجھا جا رہا تھا۔
65 سالہ مصنفہ کی ڈائری کو چین میں لاکھوں لوگوں نے پڑھا اور اس شہر کی ایک جھلک دیکھی جہاں یہ وائرس پہلی مرتبہ ظاہر ہوا تھا۔
جیسے جیسے لاک ڈاؤن بڑھتا گیا فینگ فینگ کی شہرت میں اضافہ ہوتا گیا۔ پبلیشرز نے کہا کہ وہ ان کی ڈائریوں کو اکٹھا کر کے کئی زبانوں میں شائع کریں گے۔
لیکن فینگ فینگ کی بڑھتی ہوئی عالمی شہرت نے ان کے لیے مشکلات بھی پیدا کر دی ہیں اور چین میں کئی ان کی رپورٹنگ سے ناراض ہیں بلکہ انھیں غدار بھی کہا گیا ہے۔
فینگ فینگ کا اصلی نام وینگ فینگ ہے اور انھوں نے جنوری کے آخر میں چین کی طرف سے وہان میں لاک ڈاؤن لگائے جانے کے بعد چینی سوشل میڈیا کی سایئٹ وائیبو پر واقعات کو درج کرنا شروع کر دیا تھا۔
اپنی ڈائری میں انھوں نے روزانہ کی معمول کی زندگی سے لے کر زبردستی کی تنہائی کے نفسیاتی اثرات کے متعلق لکھا ہے۔
ورلڈ ہیتلھ اسمبلی سے تازہ ترین, ٹیولِپ ماجُمدار، گلوبل ہیلتھ کی نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب تک ممالک
عالمی ادارہ صحت کی حمایت میں بولے ہیں۔ یہاں تک کہ چین اور جنوبی کوریا نے وبا کے
خلاف اقدامات کے لیے لاکھوں ڈالر امداد میں دینے کا اعلان کیا ہے۔ اقوامت متحدہ کے
ادارے کے ڈائریکٹر جنرل نے وبا کے خلاف عالمی ردعمل کی آزادانہ انکوائری کے مطالبے
کا خیر مقدم کیا ہے۔
جوبی کوریا اور
آسٹریلیا نے کہا ہے کہ اسمبلی کو عالمی ادارہ صحت کو مزید اختیارات دینے پر بھی
غور کرنا چاہیے خاص کر کہ ’تحقیقات کے اختیارات‘۔
یہ مطالبے کیے جا
رہے ہیں کہ جن مماک میں وبا ابھی زیادہ نہیں پھیلی ہے عالمی ادارہ صحت کو وہاں جا
کر آزادانہ تحقیقات کرنی چاہیے۔
چین نے کہا ہے کہ
وبا پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد جس میں کئ یماہ اور برس لگ سکتے ہیں، ایک جامع
انکوائری ہونی چاہیے۔
امریکہ نے ابھی
خطاب کرنا ہے اور چین کے بیان پر ردعمل متوقع ہے۔
انڈیا میں سستے وینٹیلیٹرز ناکام ہونے کی شکایت
،تصویر کا ذریعہSAM PANTHAKY
،تصویر کا کیپشنگجرات چیمپر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز میں طبی عملے کو وینٹیلیٹرز استعمال کرنے کی تربیت دی جا رہی ہے
کورونا وائرس کی وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے انڈین ریاست گجرات کی ایک کمپنی کے بنائے دھمن1 نامی وینٹیلیٹرز کے ناکام ہونے کی اطلاعات آ رہی ہیں۔
اس معاملے میں احمد آباد کے سول ہسپتال کے رہنما نے ایک خط لکھ کر میڈیکل سروس کارپوریشن لمیٹڈ کو مطلع کیا ہے۔ اس خط میں کہا گیا ہے کہ مریضوں کے علاج کے لیے انہیں جو وینٹیلیٹرز دیے گئے تھے ان کا استعمال کیا گیا لیکن اینیستھیسیا کے محکمے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ یہ دونوں ہی وینٹٰیلیٹرز توقع کے مطابق مریضوں کو مدد نہیں پہنچا پا رہے ہیں۔
اس خط میں کہا گیا ہے کہ 1200 بیڈ والے کووڈ نائنٹین ہسپتال کو معیاری وینٹیلیٹرز کی ضرورت ہے۔
دھمن وینٹیلیٹڑز بنانے والی کمپنی جیوتی سی این سی کی ترجمان شوانگی لکھانی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’الیکٹرانکس اینڈ کوالٹی ڈیولپمینٹ بورڈ سے منظوری کے بعد وینٹیلیٹرز بیچے گئے ہیں۔
’اب ان میں کیا خامیاں بتائی جا رہی ہیں یہ ہمیں سمجھ نہیں آیا ہے۔ ہم نے یہ مشینیں گجرات کی حکومت کو بیچی نہیں ہیں بلکہ امداد میں دی ہیں۔ ہم نے جتنے وینٹیلیٹرز دیے ہیں ان میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘
جیوتی سی این سی کی ویب سائٹ کے مطابق کمپنی نے کہا تھا کہ وہ کورونا کی وبا کا سامنا کرنے کے لیے ایک ہزار وینٹیلیٹرز گجرات کی حکومت کو امداد میں دے گی۔
سویڈن: کووڈ۔19 کی وجہ سے 1993 کے بعد اپریل میں سب سے زیادہ اموات
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنطبی عملہ کورونا وائرس کے ایک مریض کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں اتارنے کے بعد ایمولنس کو ڈس انفیکٹ کر رہا ہے
سویڈن میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 1993 کے بعد کسی بھی مہینے میں آج تک اتنے افراد ہلاک نہیں ہوئے جتنے اس سال اپریل کے مہینے میں ہوئے ہیں۔
سٹیٹسٹکس آفس کی طرف سے پیر کو جاری کیے جانے والے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ کورونا وائرس نے موت کی شرح کو بڑھا دیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سویڈن میں، جس نے دوسرے ممالک کی طرح سخت لاک ڈاؤن کی پابندیاں نہں لگائی تھیں، کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی شرح اموات اپنے دوسرے ہمسایہ ممالک سے زیادہ ہے۔
مارچ میں پہلی ہلاکت کے بعد سے اب تک سویڈن میں وبا کی وجہ سے تین ہزار 700 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سٹیٹسٹکس آفس کے مطابق یہ ابھی بھی دسمبر 1993 سے کم ہے جس میں 11 ہزار 57 اور 10 ہزار 458 اموات ہوئی تھیں جبکہ اس اپریل میں ہر طرح کی بیماریوں سے کل 10 ہزار 458 اموات ہو چکی ہیں۔
دلی: ’آڈ اور ایون‘ نظام کے تحت کھلے گا
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشندلی میں بچے بند دکانوں کے باہر کرکٹ کھیل رہے ہیں
انڈین دارالحکومت دلی کے وزیرا علیٰ نے دلی میں لاک ڈاون میں نرمی کا اعلان کرتے ہوئے بازار کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بازار ’آڈ اور ایون’ نظام کے تحت کھولے جائیں گے، یعنی آدھی دکانیں ایک دن اور باقی دوسرے دن کھلیں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ضروری اشیا کی دکانیں ہر روز کھلی رہیں گی۔ شاپنگ مالز ابھی نہیں کھلیں گے۔ ریستوران میں بیٹھ کر کھانا کھانے کی اجازت نہیں ہوگی لیکن کھانا پیک کرا کر ساتھ لے جایا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے دلی میں پبلک ٹرانسپورٹ کو بحال کرنے کا اعلان بھی کیا۔ دلی میں آٹو رکشا، الیکٹرک رکشا، عام رکشا اور بسیں چلانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ تاہم رکشے پر ایک ہی سواری بیٹھ سکے گی جبکہ بسوں میں ایک بار میں بیس سے زیادہ افراد سفر نہیں کر سکیں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بسوں پر سوار ہونے سے قبل مسافروں کی تھرمل سکریننگ ہوگی۔ سبھی مقامات پر سماجی دوری برقرار رکھی جائے گی۔ رکشا چلانے والوں کو بھی دو سواریوں کے درمیان رکشا صاف کرتے رہنا ہوگا۔ بائیک پر کسی کو پیچھے بٹھانے کی اجازت نہیں ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ 31 مئی تک لاک ڈاون پوری سختی کے ساتھ جاری رہے گا۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ سبھی سرکاری اور نجی دفاتر کھول دیے جائیں گے لیکن نجی دفاتر کو چاہیے کہ جتنا ہو سکے اپنے کارکنان سے گھر سے کام کروانے کی کوشش کریں۔
بریکنگ, گلگت بلتستان میں مزید 10 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق گلگت بلتستان میں مزید 10 افراد میں تشخیص ہوئی ہے۔
انھوں نے بتایا کے گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید کوئی فرد صحت یاب نہیں ہوا۔
ضلع کھرمنگ کے بعد ضلع سکردو میں ایک اور کیس سامنے آیا ہے۔ جس کے بعد گلگت میں 7 کیس اور ضلع نگر میں اب تک ایک شخص میں کورونا کی تصدیق ہو چکی ہے۔
اس طرح اب تک اس علاقے میں کل متاثرین 550 ہیں جن میں 178 ایکٹیو 178 ہے۔ جبکہ بلتستان ڈویژن میں کیسز کی تعداد 15 ہوگئی۔
بریکنگ, برطانیہ میں پانچ سال سے اوپر سبھی وائرس ٹیسٹ کے اہل ہوں گے
برطانیہ کے وزیرِ صحت میٹ ہینکوک نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں اگرپانچ سال کی عمر سے اوپر کسی بھی شخص میں کورونا وائرس کی علامات پائی گئیں تو وہ وائرس ٹیسٹ کا اہل ہو گا۔
وہ پارلیمان میں بات کر رہے تھے۔ برطانیہ میں سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت سے محرومی کو بھی بخار اور متواتر کھانسی کے ساتھ کووڈ۔19 کی علامات کی سرکاری فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔
سب سے پہلا ورچوئل چیلسی فلاور شو
یہ چیلسی فلاور شو کا پہلا دن ہے۔ لیکن اس مرتبہ وہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ورچوئل دنیا میں ہی ہو رہا ہے۔
یہ تقریب ہر سال لندن کے رائل ہسپتال، چیلسی میں منعقد کی جاتی ہے، لیکن اس مرتبہ اس کو دوسری جنگِ عظیم کے بعد پہلی دفعہ منسوخ کرنا پڑا ہے۔
اس کے مداحوں میں سے ایک برطانیہ کی ملکہ ہیں۔ انھوں نے منتظمین کو بھیجے گئے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ اور ان کا خاندان ہمشہ شو میں شرکت کرنا پسند کرتا ہے اور انھیں بہت خوشی ہے کہ ’آپ باغبانی کے مشورے دے رہے ہیں اور ویب سائٹ پر ورچوئل سیشنز ہو رہے ہیں۔‘
پورا ہفتہ ڈیزائنرز کے اپنے باغات کو شو کی ویب سائٹ پر دکھایا جاتا رہے گا۔
،تصویر کا ذریعہPA Media
،تصویر کا کیپشنورچوئل چیلسی فلاور شو پورا ہفتہ چلتا رہے گا
،تصویر کا ذریعہPA Media
،تصویر کا کیپشنملکہ برطانیہ بھی شو کے مداحوں میں شامل ہیں
،تصویر کا ذریعہRHS/LUKE MACGREGOR
،تصویر کا کیپشنپہلا فلاور شو 20 مئی 1913 میں شروع ہوا تھا
بریکنگ, مظفرآباد میں ایک ہی خاندان کے 20 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص
،تصویر کا ذریعہM A JARRAL
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق اس خطے میں 12 خواتین سمیت 20 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 132 ہوگی ہے۔
ضلع مظفرآباد کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سعید کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے 18 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جس میں 12 خواتین شامل ہیں۔
ان کے مطابق یہ تمام افراد اپنے خاندان کے ایک فرد سے متاثر ہوئے ہیں جو میڈیکل سٹور چلاتے ہیں اور کچھ روز قبل ان کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔ ان کے مطابق اس خاندان کے اب تک بیس افراد متاثر ہوچکے ہیں۔ ان کے مطابق ان افراد کا رہائشی علاقہ سیل کر دیا گیا۔
صحافی ایم اے جرال کے مطابق ڈاکٹر سعید نے بتایا کہ مظفرآباد میں لاک ڈاون میں نرمی سے قبل چھ سو کے قریب مشتبہ افراد ٹیسٹ کے کیے گے جن میں 4 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی مگر لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد تین سو کے قریب ٹیسٹ کیے گئے جس میں 46 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
ان کے مطابق اس خطے میں دارالحکومت مظفرآباد سب سے زیادہ متاثر ہونے والا شہر جہاں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 50 ہے۔
دوسری جانب ضلع راولاکوٹ کے ڈپٹی کمشنر مرزا ارشد جرال کے مطابق راولاکوٹ میں کورونا وائرس سے مزید دو افراد متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ان دونوں افراد نے رواں ماہ کراچی سے راولاکوٹ کا سفر کیا اور رولاکوٹ پہنچنے پر ان کو قرنطینہ کر دیا گیا جہاں ان کا رزلٹ مثبت آیا ہے۔
حکام کے مطابق گٰذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی سامنے آنے والی تعداد کسی بھی دن سے زیادہ ہے۔