کورونا: دنیا بھر سے 24 گھنٹوں میں رپورٹ ہونے والے ریکارڈ ایک لاکھ سے زیادہ متاثرین

دنیا بھر میں اب تک کورونا وائرس سے تقریباً 50 لاکھ افراد متاثر اور تین لاکھ 24 ہزار سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 47 ہزار کے قریب ہے جبکہ وائرس کے باعث ملک میں اب تک ایک ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں عالمی ادارۂ صحت کو ریکارڈ ایک لاکھ چھ ہزار نئے مریض رپورٹ کیے گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. امریکہ میں کیا ہو رہا ہے؟

    اتوار کو لاس اینجلس کے ایک بیچ کے کھلنے کے بعد وہاں لوگوں کی بڑی تعداد نظر آ رہی ہے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشناتوار کو لاس اینجلس کے ایک بیچ کے کھلنے کے بعد وہاں لوگوں کی بڑی تعداد نظر آ رہی ہے
    • ساؤتیھ کیرولائنا اور ریاست مین سمیت کئی ریاستیں آج لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے اقدامات کو واضح کر رہی ہیں۔ ٹیکساس میں گورنر ایبٹ جِم، ایسی انڈسٹری جہاں بنیادی ضروریات کی مصنوعات تیار نہیں کی جاتیں اور آج سے چند دفتروں کو پابندیوں کے ساتھ کھولنے کی اجازت کا اعلان کریں گے۔
    • سینکڑوں ہزاروں مزدور آج کار بنانے کی فیکٹریوں میں واپس لوٹیں گے۔ جنرل موٹرز، فورڈ فیئٹ کرائسلرآج سے اپنی اسمبلی لائنز دوبارہ شروع کر رہی ہیں۔ تحفظ کے اقدامات میں چہرے کا ماسک، دستانے اور پردے شامل ہیں۔
    • یو ایس ایس روزویلٹ جو اس وجہ سے خبروں میں رہی کیوں کہ اس طیارہ بردار جہاز کے عملے کے 500 سے زیادہ افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ اب اس جہاز کے واپس معمول کے کام پر لوٹنے کے لیے تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔
    • اور آج پاکستان کے وقت کے مطابق رات 11 بجے اور مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بجے صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے ڈائننگ روم میں ریستورانوں کے سربراہان کے ساتھ ملاقات کریں گے۔
  2. ’آؤ، اس سے پہلے کہ ہم گرفتار کر لیے جائیں‘

    جنوبی افریقہ کے صدر

    ،تصویر کا ذریعہNWABISA MAKUNGA

    جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا کو اجنبیوں کے ساتھ تصاویر کھنچوانے کی وجہ سے تنقید کا سامنا ہے، جبکہ وہ خود لوگوں کو کہتے رہے ہیں کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے وہ ایک دوسرے کے درمیان فاصلہ رکھیں۔

    ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جب دو خواتین ان کے ساتھ تصویر کھینچوانے کی فرمائش کرتی ہیں تو جنوبی افریقہ کے صدر ہسنتے ہوئے سماجی دوری کے قوانین کو توڑنے کا ذکر کرتے ہوئے تصویر کھینچوا لیتے ہیں۔

    ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ’آؤ، اس سے پہلے کہ ہم گرفتار کر لیے جائیں۔‘ اس کے بعد سبھی ہنس پڑتے ہیں۔

    اتوار کو جنوبی افریقہ میں ایک ہزار 160 کورونا وائرس انفیکشن کے مریض سامنے آئے تھے، جو کہ ابھی تک ایک دن میں مریضوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    جنوبی افریقہ کورونا وائرس کے حوالے سے دنیا میں سب سے زیادہ سخت پابندیاں لگانے والا ملک ہے، جس میں سگریٹ اور الکوہل پر پابندی بھی شامل ہے، لیکن اب یہ کچھ پابندیوں میں نرمی لا رہا ہے۔

  3. بریکنگ, اے این پی کے رہنما غلام احمد بلور کورونا وائرس سے متاثر

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے سابق وفاقی وزیر اور صوبہ خیبر پختونخوا میں سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما غلام احمد بلور کورونا وائرس سے متاثر ہو گئے ہیں۔

    سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر انھوں نے یہ خبر دیتے ہوئے کہا کہ ان کا کووڈ 19 کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’میں نے خود کو قرنطینہ کر لیا ہے اور تمام حفاطتی اقدامات کر رہا ہوں۔ دعاؤں کی اپیل ہے۔‘

    ان کی ٹویٹ کے جواب نے پاکستان کے سیاسی رہنماؤں سمیت متعدد افراد نے ان کی صحت کے لیے دعائیہ پیغامات بھیجے ہیں۔

  4. ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں یکجہتی کا مظاہرہ, ایموجن فولکس، بی بی سی نیوز، جینیوا

    صحت کا عالمی ادارۂ (ڈبلیو ایچ او) کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے عالمی یکجہتی کا مظاہرہ دکھانا چاہتا تھا اور اب تک ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں وہ ایسا دکھانے میں کامیاب رہا ہے۔

    تائیوان کے آبزرور کے سٹیٹس پر ہونے والا ممکنہ جھگڑا ختم ہو چکا ہے اور تائیوان نے کہا ہے کہ وہ اس وقت نہیں بلکہ بعد والی میٹنگ میں اس مطالبے کو اٹھائے گا۔ امریکہ کی طرف سے فنڈنگ میں کمی کرنے کا جو ابتدائی جھٹکا لگا تھا وہ کسی حد تک چین اور فرانس کی طرف سے کافی حد تک مالی معاونت کی وجہ سے کم ہوا ہے۔

    جو بھی لیڈر اب تک بولا ہے، اس نے ڈبلیو ایچ کی مدد اور ویکسین کو کوئی شے سمجھنے کی بجائے عالمی عوامی مفاد کے اصول کے لیے استعمال کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ اور انھوں نے کہا ہے کہ اس بات کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیئں کہ عالمی وبا سے اب تک کیسے نمٹا گیا ہے۔

    امریکہ نے ابھی خطاب نہیں کیا لیکن اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اینتونیو گوتراس نے کہا ہے کہ اب متحد رہنے کا وقت ہے، کیونکہ ہم اس عالمی وبا کا مل کر سامنا کر لیں گے یا پھر ناکام ہو جائیں گے۔

    ورلڈ ہیلتھ اسمبلی پے دوران تائیوان کے نمائندے

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  5. برطانیہ: سونگھنے اور چکھنے کی حِس کا خاتمہ کورونا کی علامات میں شامل

    برطانیہ میں سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت سے محرومی کو بھی کورونا کی علامت کی سرکاری فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔

    اب تک لوگوں سے یہ کہا گیا تھا کہ اگر انھیں بخار یا پھر کھانسی کی علامات ہیں تو وہ گھر میں خود ساختہ تنہایی اختیار کریں۔

    لیکن کان، گلے اور ناک کے ڈاکٹر کئی ہفتوں سے خبردار کر رہے ہیں کہ اس میں مزید علامات کو شامل کیا جائے۔

    اس سے پہلے ایک سائنسی ماہر نے خبردار کیا تھا کہ برطانیہ میں کورونا وائرس کے نامعلوم مریضوں کی تعداد 70 ہزار ہو سکتی ہے۔ یہ وہ کیسز ہیں جن کی علامات بخار اور کھانسی کے علاوہ تھیں۔

  6. امریکہ اور چین کے درمیان لفظوں کی جنگ کے منڈلاتے بادل, ٹیولِپ ماجُمدار، گلوبل ہیلتھ کی نامہ نگار

    ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کا سالانہ اجلاس اہم ہوتا ہے لیکن بہت خشک، لیکن اس سال ایسا نہیں۔

    اس بار کووڈ 19 کی وبا موضوع بحث ہے اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس وبا کے پھیلاؤ سے متعلق امریکہ اور چین میں سخت الفاظ کا تبادلہ ہوگا اور سُپر پاورز کی اس لڑائی میں عالمی ادارہ صحت پھنسا ہوا ہے۔

    یورپی یونین نے عالمی ردعمل پر تحقیق کا مطالبہ کیا ہے اور چین کا جہاں وائرس سب سے پہلے پھیلا تھا، نام لیے بغیر الفاظ کے چناؤ میں عمداً یہ بھی کہا کہ کووڈ 19 کے جانور سے پھیلنے سے متعلق تحقیقات کرائی جائیں۔

    اور اس بات کا امکان بھی ہے کہ عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کو چین بھجوانے کا مطالبہ کیا جائے گا تاکہ وائرس کے نقطہ آغاز سے متعلق تحقیق کی جا سکے۔ اب تک بین الاقوامی ٹیموں کو چینی حکام کے ساتھ ہی جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ امریکہ اور آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک اس کا مطالبہ کر سکتے ہیں لیکن قوی امکان ہے کہ چین اسے تسلیم نہیں کرے گا۔

    اجلاس کے شروع میں ہی خطاب کرتے ہوئے چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین نے ’شفافیت‘ کے ساتھ اقدامات کیے ہیں اور اس بات پر اصرار کیا کہ وبا کے کنٹرول میں آنے کے بعد عالمی ردعمل سے متعلق تحقیقات کی جائیں۔

  7. پاکستان: پنجاب میں متاثرین کی تعداد 15346 ہوگئی

    پاکستان کے صوبے پنجاب میں کورونا وائرس کے 762 نئے کیسز سامنے آنے کے بعد صوبے میں متاثرین کی تعداد 15346 ہو گئی۔

    عام شہریوں میں 762 نئے کیسز سامنے آئے آج بھی سب سے ذیادہ لاہور میں کورونا وائرس کے 503 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

    ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق جن شہروں میں سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ان کی تفصیل کچھ یوں ہے: راولپنڈی 78،گوجرانوالہ 25، سیالکوٹ 16،شیخوپورہ 16،منڈی بہاوالدین 18، ملتان 16، فیصل آباد 13 اور سرگودھا میں 10 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

    جبکہ دیگر شہروں ڈی جی خان 8، ساہیوال 8، ننکانہ 5، قصور 7، جہلم 7، اٹک میں 1، حافظ آباد 2، خانیوال 8، وہاڑی میں 2 ، ٹوبہ 1، جھنگ 3، رحیم یار خان 6، خوشاب میں 1، بہاولنگر 3، بہاولپور 2، لودھراں ایک اور اوکاڑہ میں 2 نئے کیس سامنے آئے۔

    کورونا وائرس سے اب تک صوبے میں کل 260 اموات ہو چکی ہیں۔

    ترجمان اب تک کل 168940 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے پر فورا 1033 پر رابطہ کریں۔

  8. بلوچستان: صوبائی حکومت کے تحفظات، صوبے میں پبلک ٹرانسپورٹ نہ کھولنے کا فیصلہ

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان حکومت نے روڈ ٹرانسپورٹ اور ریل ٹرانسپورٹ کو کھولنے پر تحفظات کا اظہار کیا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایس او پیز کے بغیر ٹرانسپورٹ کھلنے سے کورونا وائرس کا پھیلاؤ دیہاتوں تک پہنچ سکتا ہے۔

    ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق ان تحفظات کا اظہار وزیر اعلیٰ جام کمال کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔

    صوبائی حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ نہ کھولنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اجلاس میں عوام سے غیر ضروری سفر نہ کرنے کی اپیل کی گئی۔

    اجلاس میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ کے لوگ شہر سے باہر نہ جائیں اور باہر والے کوئٹہ نہ آئیں کیونکہ وائرس کے اثرات کوئٹہ میں زیادہ ہیں۔

    اجلاس میں عوام سے کہا گیا کہ وہ عید سادگی سے منائیں جبکہ عید میلوں پر مکمل پابندی ہو گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ عید گاہوں کی تعداد میں اضافہ کر کے عید الفطر پر رش کو کم کیا جائے گا۔

    محکمہ اطلاعات کو مقامی زبانوں میں سفر نہ کرنے کی آگاہی مہم شروع کرنے کی ہدایت کی گئی۔

  9. میرکل: عالمی ادارہ صحت قانونی ادارہ ہے لیکن اسے بہتر کیا جا سکتا ہے

    جرمن چانسلر اینگلا میرکل

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں اپنے خطاب میں جرمن چانسلر اینگلا میرکل نے عالمی ادارہ صحت کا دفاع کیا لیکن ساتھ ہی کہا کہ اس میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔

    ’عالمی ادارہ صحت ایک قانونی عالمی ادارہ ہے اس لیے ہمیں دیکھتے رہنا ہوگا کہ اس کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔‘

    انہوں نے بھی دیگر لیڈروں کی طرح اس بات پر زور دیا کہ وبا پر قابو پانے کے لیے بین الاقوامی تعاون اہم ہے۔

  10. بلوچستان: ڈاکٹروں کی بڑی تعداد سمیت طبی عملے کے 196 افراد کورونا سے متاثر

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان میں کورونا سے متاثر ہونے والے ڈاکٹروں کی تعداد 149اور پیرا میڈیکس کی تعداد 47 ہوگئی ہے۔

    صوبے میں کورونا وائرس کا مقامی پھیلاؤ 94 فیصد اور باہر سے آنے والوں کی وجہ سے 6 فیصد ہے۔

    ایک سرکاری اعلامیہ کے مطابق یہ معلومات کورونا سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کو بتائی گئی جو کہ وزیراعلیٰ جام کمال خان کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں کورونا وائرس سے متعلق امور اور ہسپتالوں کی کورونا وائرس کے طبی آلات کی ضروریات کا جائزہ لیا گیا۔

    بلوچستان کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کی جانب سے اجلاس کو مجموعی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ وائرس سے اموات کی تعداد 37 ہے۔

    بلوچستان میں کورونا سے متائثرہ زیادہ تر افراد گھروں میں آئیسولیشن میں ہیں جن کی تعداد2163 ہے۔ شیخ زید ہسپتال میں 20 اورفاطمہ جناح ہسپتال میں 18 افراد ہیں۔

    صحت مند افراد کی تعداد میں اضافے کے بعد ان کی مجموعی تعداد 454 ہوگئی ہے۔

    جلاس میں غیر ضروری ٹیسٹنگ نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ عید کے بعد مزید 4 ٹیسٹنگ مشین اور 60 ہزار کٹس دستیاب ہوںگی۔ ادویات کی خریداری کا جاری عمل عید کے فوری بعد مکمل ہو جائے گا۔

    اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اس وقت کوئٹہ کے تین ہسپتالوں میں 25 وینٹیلٹر اور آئی سی یو بیڈز موجود ہیں مزید 75 خریدے جارہے ہیں جس سے کل تعداد 100 ہو جائے گی۔

  11. میخواں: صحت پر آپس میں جھگڑا نہیں کیا جا سکتا

    فرانسیسی صدر میخواں

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    فرانسیسی صدر میخواں نے ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں چینی صدر کے بعد ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔

    انہوں نے وبا کے خلاف عالمی ردعمل کی اہمیت پر زور دیا۔

    ’اگر ہم کووڈ 19 کی ویکسین دریافت کر لیتے ہیں تو ہر کسی کو اس تک رسائی حاصل ہونی چاہیے۔‘

    ’جب تک یہ بیماری کم لوگوں کے لیے خطرہ ہے تو تک یہ سب کے لیے خطرہ ہے۔‘

    ’یہ اصول کی بات بھی ہے۔ انسانی صحت پر جھگڑا نہیں کیا جا سکتا۔ اسے بیچا یا خریدا نہیں جا سکتا۔‘

  12. شی جن پنگ: وبا کے بعد غیر جانبدار انکوائری کروائی جائے

    چینی صدر شی جن پنگ

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں اپنےخطاب میں چینی صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ وبا پر کنٹرول حاصل کر لینے کے بعد اس کے خلاف عالمی ردعمل کی جامع تحقیقات کی جانی چاہیے۔

    انہوں نے آئندہ دو برسوں میں وبا کے خلاف اقدامات کے لیے دو ارب ڈالر دینے کا عزم کیا اور کہا کہ چین کی جانب سے بنائی گئی ویکسین کو دنیا کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

  13. یورپ میں وبا کا عروج بظاہر ختم، روس میں ابھی بھی وبا شدت سے جاری

    زیادہ تر یورپی ممالک اب بتدریج اپنے لاک ڈاؤن اقدامات میں نرمی کر رہے ہیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا جا رہا ہے جب نئے متاثرین اور یومیہ اموات کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔

    زیرِ نظر ٹیبل میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رنگ جتنا زیادہ گہرا ہوگا اس ملک میں یومیہ نئے متاثرین اتنے ہی زیادہ تھے۔

    کورونا
    ،تصویر کا کیپشناموات فی ایک لاکھ افراد

    متاثرین کی تعداد میں سب سے بڑا یومیہ اضافہ روس میں دیکھنے میں آیا جہاں وبا نے باقی برِاعظم سے کہیں بعد میں اپنے قدم جمائے مگر یہاں وبا ابھی اپنے عروج پر ہے۔

    روس میں اب دنیا میں دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ متاثرین ہیں۔ یہاں متاثرین کی تعداد دو لاکھ 90 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 2631 ہے۔

    کورونا
    ،تصویر کا کیپشناموات فی ایک لاکھ افراد
  14. فرانس: بچے میں کورونا کی تصدیق کے بعد سات سکول بند

    france

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    شمالی فرانس کے شہر روبے میں ایک بچے میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد سات سکول بند کر دیے گئے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ وہ بچے سے رابطے میں رہنے والے خاندانوں کو آگاہ کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ سکول اپنی تدریسی سرگرمیاں آن لائن جاری رکھیں گے۔

    گذشتہ ہفتے فرانس میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے آغاز پر سکول بھی دوبارہ کھول دیے گئے تھے۔

    تاہم بہت سے لوگوں نے اس اقدام پر تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا۔ رائے عامہ کے ایک جائزے میں 69 فیصد لوگوں نے کہا تھا کہ حکام انھیں محفوظ نہیں رکھ سکتے۔

    متاثرین کی وجہ سے بہت سے دیگر سکولز بھی بند ہیں۔

    ملک کے وزیر تعلیم کاجین میچل بلینکوئر نے فرانسیسی براڈکاسٹنگ ادارے آر ٹی ایل کو پیر کو بتایا کہ تقریباً 40 ہزار سکولوں میں کورونا وائرس کے 70 متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ تمام متاثرہ سکول بند کر دیے گئے ہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکام عوام کے تحفظ کے لیے کس قدر سختی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

    تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بچوں کی پڑھائی نہ ہونے کے بھی سنجیدہ نتائج ہو سکتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہمارے بچوں کو صحت کے اقدامات کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

  15. مشرقِ وسطیٰ میں تازہ ترین صورتحال کیا ہے؟

    کورونا، قطر، مشرق وسطی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • قطر اور کویت نے عوامی مقامات پر ماسک نہ پہننے والے لوگوں کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان کیا ہے۔ قطر میں قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کو تین سال جبکہ کویت میں تین ماہ کے لیے جیل بھیج دیا جائے گا۔
    • لبنان کا چار روزہ لاک ڈاؤن ختم ہو چکا ہے تاہم رات کے اوقات میں کرفیو ابھی جاری ہے۔ لاک ڈاؤن کے اقدامات گذشتہ ہفتے اس وقت دوبارہ نافذ کیے گئے تھے جب کچھ پابندیوں میں نرمی کے بعد متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔
    • ایک غیر سرکاری تنظیم اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یمن کے ساحلی شہر عدن میں ہلاکتوں کی تعداد معمول سے پانچ گنا تجاوز کر چکی ہے جس کے بعد جنگ زدہ ملک میں کورونا پھیلنے کے خدشات نے جنم لیا ہے۔
    • جب دنیا بھر میں مسلمان ماہِ رمضان کے اختتام پر عید الفطر کے منتظر ہیں، تو کئی مسلمان ممالک میں اس تہوار کے دوران وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سخت تر اقدامات کیے گئے ہیں۔ سعودی عرب میں عید الفطر کے موقع پر ملک گیر لاک ڈاؤن کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے جبکہ مصر میں کرفیو چار گھنٹے پہلے ہی شروع کر دیا جائے گا اور عوامی ٹرانسپورٹ چھ دن کے لیے بند رہے گی۔
  16. بریکنگ, ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے کے قریب

    WHO

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عالمی ادارہ صحت کا سالانہ اجلاس ورلڈ ہیلتھ اسمبلی اب سے کچھ دیر میں شروع ہونے کو ہے۔

    یہ اسمبلی عالمی ادارہ صحت کی فیصلہ ساز باڈی ہے اور اس سال کا اجلاس کورونا وائرس کی وبا کے باعث ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہوگا۔

    تمام نظریں چین کے صدر شی جن پنگ پر ہوں گی جو اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

    چین پر وبا کے بارے میں عالمی ادارہ صحت اور دنیا کو بروقت خبردار نہ کرنے پر عالمی سطح پر تنقید ہوئی ہے۔

    یورپی یونین اور آسٹریلیا کی ایک مشترکہ قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ وائرس کی ابتدا اور اس کے پھیلاؤ کے بارے میں انکوائری کی جائے۔ اس قراردار کو پیش کرنے کے لیے 194 ارکان میں سے دو تہائی کی حمایت درکار ہے۔ اب تک 116 اقوام اس قرارداد کی حمایت کر چکی ہیں۔

    مگر چین کی وزارتِ خارجہ نے پیر کو اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ابھی بھی وبا کے آغاز کے بارے میں تحقیقات کرنا قبل از وقت ہوگا۔

    عالمی ادارہ صحت پر خود بھی تنقید کی گئی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحران سے نمٹنے کے ادارے کے طریقہ کار پر تنقید کا نشانہ بنایا اور ادارے کے لیے امریکہ کی فنڈنگ روک دی۔

  17. میکسیکو میں ہیلتھ ورکرز پرتشدد حملوں کی زد میں

    mexico

    میکسیکو سے تعلق رکھنے والی نرس لیگیا کانٹن کہتی ہیں کہ انھوں نے اپنی 40 سالہ نوکری کے دوران طبی عملے کے خلاف اتنا ’زہریلا‘ ردعمل نہیں دیکھا۔

    کورونا کے تناظر میں دنیا کے بیشتر ممالک میں طبی عملے کی خدمات کی تعریف کی جا رہی ہے مگر میکسیکو میں صورتحال مختلف ہے اور اب تک وہاں طبی عملے کے درجنوں اہلکاروں پر حملے ہو چکے ہیں۔

    59 سالہ لیگیا کا کہنا ہے کہ انھوں نے سنہ 2009 میں پھیلنے والے سوائن فلو کی وبا کے دوران بھی کام کیا اور سنہ 2013 میں پھیلے والے ہیضہ کے مرض میں بھی مگر کورونا وائرس کے پش منظر میں چند لوگ پاگل پن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ’یہ خوفزدہ کر دینے والا ہے۔‘

    لیگیا پر آٹھ اپریل کو اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ میریڈا نامی علاقے میں اپنے کام سے واپس گھر جا رہی تھیں۔

    نامعلوم افراد ان کی گاڑی کے پاس آئے اور ان کافی پھینک دی۔ ایسا کرتے ہوئے انھوں نے نعرہ لگایا ’انفیکٹیڈ‘ یعنی وبا سے متاثرہ۔ یہ کرنے کے بعد نامعلوم افراد اپنے گاڑی میں بھاگ نکلے۔

    وہ کہتی ہیں کہ خوش قسمتی سے وہ زیادہ زخمی نہیں ہوئیں مگر وہ جانتی ہیں کہ ایسا ہو سکتا تھا۔

    میکسیکن حکام کے مطابق 28 اپریل تک طبی عملے کے اراکین پر 47 حملے ہو چکے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر حملے نرسوں پر ہوئے تھے۔

  18. بریکنگ, سندھ: 864 نئے مریض سامنے آنے کے بعد کُل متاثرین 17 ہزار سے زائد

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبہ سندھ کے حکام نے اطلاع دی ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 864 متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے میں متاثرین کی کُل تعداد 17 ہزار 241 ہوگئی ہے۔

    وزیرِ اعلیٰ ہاؤس سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق کورونا وائرس کے باعث سندھ میں مزید تین مریض ہلاک ہوئے ہیں، یوں سندھ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 280 تک پہنچ گئی ہے۔

    حکام نے بتایا ہے کہ گذشتہ روز 4679 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 864 افراد میں کورونا وائرس پایا گیا ہے جبکہ اب تک مجموعی طور پر ایک لاکھ 27 ہزار 573 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ مزید 280 افراد صحتیاب ہوئے ہیں جس کے بعد صحتیاب ہونے والے افراد کی تعداد 4489 ہوگئی ہے۔ مجموعی طور پر اس وقت 12 ہزار 472 افراد مختلف ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں یا قرنطینہ مراکز اور گھروں میں موجود ہیں۔

    بیان کے مطابق اس وقت 136 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جن میں سے 29 وینٹیلیٹر پر ہیں۔

  19. جنوبی کوریا: فٹ بال کلب کی شائقین کی جگہ ’سیکس ڈولز‘ بٹھانے پر معافی

    Korea

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    بند دروازوں کے پیچھے جنوبی کوریا میں فٹ بال میچز کی بحالی کے ساتھ جو آخری چیز فٹ بال کلب ایف سی سیئول سے توقع کی جا رہی تھی وہ اپنے شائقین سے معافی مانگنا تھا۔

    کے لیگ کے اتوار کو ہونے والے افتتاحی میچ میں شائقین کے سٹینڈز میں ڈمیز یعنی پتلے رکھے گئے۔ کلب کو ڈالکم نامی کمپنی کی جانب سے شائقین کی عدم موجودگی میں کچھ خالی نشستوں کو پر کرنے کی پیشکش کی گئی تھی۔

    ان پتلوں کی کل تعداد 30 تھی جن میں سے 25 خواتین کی اور پانچ مردوں کے تھے۔

    تاہم آن لائن اس میچ کو دیکھنے والے شائقین نے کہا یہ ڈمیز سے زیادہ سیکس ڈولز لگ رہی ہیں۔ یہاں تک کہ کچھ نے سیکس ویب سائٹس کی تشہیر کے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے۔

    کلب کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ انسٹا گرام اور فیس بک معافی مانگے پر مجبور کیا گیا۔

    کلب کے حکام میں شامل لی جی ہون نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے ڈالکم کے پسِ منظر کے بارے میں جانچ نہیں کی تھی اور وہ اس کے کام کے بارے میں نہیں جانتے تھے تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ ڈولز بنیادی طور پر صرف پتلے ہیں ان کا کسی ایکس ریٹڈ فلم سے کوئی تعلق نہیں۔

  20. برطانیہ میں اندازاً 50 سے 70 ہزار متاثرین 'لاپتہ'

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کنگز کالج لندن کے پروفیسر ٹم سپیکٹر نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام میں بتایا ہے کہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس کے ہزاروں متاثرین لاپتہ ہیں کیونکہ برطانیہ نے ان افراد کی فہرست اپ ڈیٹ نہیں کی جن میں کورونا کی ممکنہ علامات موجود تھیں۔

    پروفیسر سپیکٹر اس ایپ کی ٹیم کی سربراہی کر رہے ہیں جو کورونا کی علامات کے حامل افراد کی نشاندہی کر رہی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اب تک 14 ایسے متاثرین کی نشاندہی کی ہے اور ان کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے لیکن برطانیہ اب مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ علامات میں فقط کھانسی اور بخار شامل ہے۔

    پروفیسر سپیکٹر کہتے ہیں ممکنہ طور پر کورونا وائرس کے 50 سے 70 ہزار متاثرین ایسے ہو سکتے ہیں جو اعداد و شمار میں شامل نہیں ہے۔

    یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے مسلسل تھکاوٹ، اعصابی درد، سونگھنے اور چکھنے کی حِس کے خاتمے کی شکایت کی تھی۔

    دیگر ممالک میں ان علامات کو کورونا انفیکشن کی علامات میں شامل کیا گیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت کے اعدادوشمار میں وہ تمام متاثرین شامل نہیں ہیں۔ یہ کم متاثرین سمجھے جا رہے ہیں لیکن یہ وبا کے جاری رہنےاور لوگوں کو خطرے میں ڈالنے کا باعث ہو رہے ہیں۔

    وہ کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کو علامات کے بارے میں معلوم ہی نہ ہوں تو آپ لوگ کو چوکس رہنے کو نہیں کہہ سکتے۔