کورونا: 187 متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان 19ویں نمبر پر آ گیا
پاکستان میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 30 ہزار سے زائد ہے جبکہ 659 مریض وبا کے باعث ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کے بعد دو اراکین قومی اسمبلی میں بھی کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے کل سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز دی ہے۔
لائیو کوریج
یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جا رہا!
بی بی سی اردو کے اس صفحے سے بس اتنا ہی۔ لیکن کورونا وائرس کے متعلق پاکستان سمیت دنیا بھر سے تازہ ترین خبروں کی فراہمی کا سلسلہ تھما نہیں ہے۔
انڈیا: وزیر اعظم مودی کی جانب سے 20 لاکھ کروڑ روپے کے معاشی پیکج کا اعلان
بریکنگ, پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 1476 نئے متاثرین، مجموعی تعداد تقریباً 31 ہزار
پاکستان میں اب تک کورونا وائرس سے کم از کم 30 ہزار 942 افراد متاثر ہوچکے ہیں، جبکہ 667 افراد کی ہلاکت کی باضابطہ طور پر تصدیق کی گئی ہے۔
پاکستانی حکومت کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثر صوبہ پنجاب ہے جہاں 11 ہزار 568 افراد اس مرض سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد کے اعتبار سے صوبہ خیبر پختونخوا زیادہ متاثر ہے جہاں 245 افراد اس سے ہلاک ہوئے ہیں۔
کل سامنے آنے والے متاثرین کی تعداد اس سے پچھلے دن کے متاثرین سے کہیں کم ہے۔
10 مئی کو 1991 لوگوں میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی تاہم یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ پاکستان میں یومیہ متاثرین کی تعداد مستقلاً کم ہو رہی ہے۔
گذشتہ روز پاکستان میں اس مرض کے باعث 28 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
اب تک ملک بھر میں آٹھ ہزار 212 افراد کورونا سے متاثر ہونے کے بعد صحتیاب ہو چکے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
قومی اسمبلی کا اجلاس، صحافیوں کے لیے قواعد و ضوابط جاری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی پارلیمنٹ کے اجلاس کی میڈیا کوریج کے لیے قواعد و ضوابط جاری کر دیے گئے ہیں جن کے تحت اجلاس کے دن ذرائع ابلاغ کے ہر ادارے سے صرف ایک صحافی کو اجلاس کی کوریج کی اجازت ہوگی۔
یہ ضوابط پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن (پی آر اے)، قومی اسمبلی، سینیٹ اور وزارتِ اطلاعات کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کیے گئے ہیں۔
اجلاس کی کوریج کے لیے جاری کیے گئے ضوابط کے چیدہ چیدہ نکات یہ ہیں:
پریس گیلری کے لیے صحافیوں کو نئے کارڈ جاری کیے جائیں گے، پرانے کارڈز پر داخلہ نہیں ہوگا
ہر ادارے کے دو رپورٹرز کو کارڈ جاری کیے جائیں گے لیکن ایک دن میں صرف ایک رپورٹر کو اجازت ہوگی۔
صحافی پارلیمنٹ ہاؤس کے گیٹ نمبر پانچ سے داخل ہوں گے جہاں فہرست میں ان کے ناموں کی پڑتال کی جائے گی۔
فری لانسرز کو اجازت نہیں ہوگی، گیٹ نمبر ایک پر میڈیا ڈائس پر کسی نجی ٹی وی کا کیمرا یا رپورٹر موجود نہیں ہوگا۔
کوریج کے لیے آنے والے صحافیوں کے لیے ماسک اور دستانے پہننا لازم ہوگا جبکہ تمام صحافیوں کے درجہ حرارت کی پیمائش کی جائے گی۔
اس کے علاوہ یہ بھی طے پایا کہ صحافی کوشش کر کے لفٹ کے بجائے سیڑھیوں کا استعمال کریں گے، جبکہ پریس لاؤنج اور پریس گیلری میں بیٹھنے والے صحافیوں کو سماجی دوری کی پاسداری کرنی ہوگی۔
اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پریس لاؤنج میں ہینڈ سینیٹائزرز فراہم کیے جائیں گے۔
اعلامیے کے مطابق کورونا وائرس کے باعث پیدا ہونے والے ان حالات میں جب بہتری آ جائے گی تو پارلیمانی اجلاس کی کوریج کا پرانا طریقہ کار بحال ہوجائے گا۔
1918 کی عالمی وبا پر قابو پانے کے لیے لوگوں نے کیا کیا نہیں کیا
راولپنڈی پولیس میں پہلی بار خواجہ سرا پولیس اہلکار بھرتی
پاکستانی فوج کے میجر کورونا وائرس سے ہلاک
پاکستانی فوج کے میجر محمد اصغر کورونا وائرس سے ہلاک ہو گئے ہیں۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق میجر محمد اصغر طورخم بارڈر پر اپنے فرائض سر انجام دے رہے تھے۔ سانس لینے میں دشواری پر انھیں سی ایم ایچ پشاور میں وینٹی لیٹر پر منتقل کیا گیا لیکن وہ دم توڑ گئے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پنجاب: گذشتہ 24 گھنٹوں میں پانچ اموات، 475 نئے متاثرین, پاکستان میں مصدقہ متاثرین کی کُل تعداد 30904
صوبہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 475 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ پانچ مریض ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد پنجاب میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 11568 ہو گئی ہے جبکہ اموات کی کُل تعداد 197 ہو گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق اتوار کے روز صوبے میں مجموعی طور پر 4548 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جس کے بعد ٹیسٹوں کی مجموعی تعداد 130546 ہو گئی ہے۔
پنجاب میں نئی ہلاکتوں اور متاثرین کے سامنے آنے کے بعد اس وقت پاکستان میں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 30904 جبکہ اموات کی کُل تعداد 666 ہو چکی ہے۔
اس وبا سے صحت یاب ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 8129 ہو چکی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
اندرون ملک پروازوں پر عائد پابندی میں 13 مئی تک توسیع
پاکستان میں شعبہ ہوا بازی کے نگراں ادارے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے اندورن ملک پروازوں پر عائد میں 13 مئی تک مزید توسیع کر دی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان میں پھولوں کی مانگ بھی کووڈ 19 سے متاثر
پاکستان میں صوبہ خیبر پختونخوا کا گاؤں بازید خیل پھولوں کی کاشت کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔ اس علاقے کو پھولوں کا گاؤں بھی کہا جاتا ہے اور یہاں کی نصف سے زیادہ آبادی پھولوں کی کاشت کے روزگار سے وابستہ ہے۔
کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن اور بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کی بندش نے پھولوں کے کاروبار کو بھی متاثر کیا ہے۔
ان دنوں گاؤں میں سورج مکھی کی ایک قسم کے پھول کا سیزن ہے جو کہ مارکیٹ کے بجائے کچرے کی ڈھیر پر نظر آ رہا ہے۔
اس حوالے مزید بتا رہے ہیں ہمارے ساتھی بلال احمد اپنی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
بلوچستان: کِلی مسلم باغ کے شدید متاثرہ علاقے میں سخت لاک ڈاؤن کا نفاذ
صوبہ بلوچستان کے علاقے کِلی مسلم باغ میں کورونا کی ریکارڈ تعداد سامنے آنے کے بعد متاثرہ علاقے میں سخت لاک ڈاؤن کا نفاذ کر دیا ہے۔
اس حوالے سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق کِلی مسلم باغ میں ایک شخص کی کورونا سے ہلاکت کے بعد 26افراد کے ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے اب تک دس افراد کے نتائج مثبت آئے ہیں جبکہ دیگر افراد کے نتائج کا ابھی انتظار ہے۔
اس علاقے کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ متاثرہ علاقے میں سخت لاک ڈاؤن نافذ کر کے اسے سیل کر دیا جائے۔
،تصویر کا ذریعہBALOCHISTAN GOVT.
وزیر اعلٰی سندھ کی تاجر تنظیموں کے عہدیداران سے ملاقات
،تصویر کا ذریعہ@SindhCMHouse
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبے میں چھوٹے تاجروں کی تنظیموں کے عہدیدارن سے ملاقات میں پہلے سے بتائے گئے ضوابط کے تحت چھوٹی مارکیٹیں اور دکانیں سوموار سے باقاعدہ طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعلی ہاؤس سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق اب صوبے میں کاروباری سرگرمیاں صبح چھ بجے سے شام چار بجے تک جاری رہیں گی اور دکانوں کو بند کرنے اور اپنے گھروں کو واپس آنے کے لیے ایک گھنٹہ کا وقفہ ہو گا کیونکہ لاک ڈاؤن شام پانچ بجے کے بعدسخت کر دیا جائے گا۔
یہ بات انھوں نے سندھ اسمبلی بلڈنگ کے آڈیٹوریم میں چھوٹے تاجروں سے ملاقات کے دوراں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں صوبائی وزرا اور انتظامیہ کے افسران بھی موجود تھے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ چھوٹے تاجر انتہائی سنگین صورتحال سے گزر رہے ہیں کیونکہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ان کے کاروبار بند ہیں۔
انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں جس کا اعتراف تاجر برادری نے بھی کیا ہے۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ لاک ڈاؤن مسلط کرنا ان کا یکطرفہ فیصلہ نہیں تھا بلکہ یہ فیصلہ اجتماعی دانشمندی کے ساتھ کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ میرے خلاف ایک سیاسی تنقید کی گئی تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ صرف سندھ کاروباری سرگرمیاں روکنے کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ وہ تمام صنعتیں اور کاروبار جنھیں نو مئی تک ۔کھولنے کے لیے کلیئر نہیں کیا گیا، شاپنگ مالز، پلازے، تعلیمی ادارے ، دفاتر، ریستوران، ہوٹل، بڑے بازار، شادی ہال، سینما گھر اور بڑے بڑے اجتماعات، عوامی جلوس، مجالس، تمام نوعیت کی اجتماعات اور کھیلوں کے مقابلوں، حجام، بیوٹی پارلرز، ہیئر کٹنگ سیلونز ، گیم سینٹرز، ویڈیو گیمز سینٹرز، گیم شاپس، جم، کیفے، بیٹھنے کر کھانے والے مقامات، سماجی کلب اور پارکس بند رہیں گے۔
خیبر پختونخوا میں متاثرہ طبی عملے کی تعداد 216 تک پہنچ گئی: ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن صوبہ خیبر پختونخواہ کے سنیئر نائب صدر ڈاکٹر علی رضا کے مطابق ایبٹ آباد میں واقع ایوب میڈیکل انسٹیٹیوٹ کے شعبہ اطفال کی نرسری کے ایک ڈاکٹر اور دو نرسوں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
دوسری جانب ایوب میڈیکل انسٹیٹوٹ ایبٹ آباد کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر احسن نوید کے مطابق ایک ڈاکٹر جو کہ شعبہ اطفال میں خدمات سرانجام دے رہے تھے ان کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے تاہم باقی سٹاف کے ٹیسٹ کروائے گئے ہیں اور نتائج کا انتظار ہے۔
انھوں نے کہا کہ فی الحال وہ دو نرسوں میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں کرسکتے۔
دوسری جانب ڈاکٹر علی رضا کا کہنا ہے کہ انھوں نے لیبارٹری نتائج کی بنیاد پر نرسز میں کورونا کی تصدیق کی ہے۔
ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے مطابق ان تین افراد کے متاثر ہونے کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں متاثرہ طبی عملے کی تعداد 216 تک پہنچ چکی ہے۔
ڈاکٹر علی رضا نے ایوب میڈیکل انسٹیٹیوٹ کی انتظامیہ سے گزارش کی ہے کہ بچوں کی نرسری کو فی الفور ڈس انفیکٹ کیا جائے، دیگر حفاظتی اقدامات کیے جائیں، تمام کے تمام عملے کے ٹیسٹ کروائے جائیں تاکہ ان کے رابطے میں رہنے والے مریض اور ان کے اہلخانہ متاثر نہ ہوں۔
انھوں نے طبی عملے کو حفاظتی لباس مہیا کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔ ۔
ڈاکٹر احسن نوید کا کہنا ہے کہ ایوب میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں پہلے ہی سے حفاظتی اقدمات پر توجہ دی جا رہی ہے اور وبا کے حالیہ پھیلاؤ کے بعد اس میں مزید سختی کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بات کا امکان بھی کم ہی ہے کہ متاثر ہونے والے ڈاکٹر نرسری میں متاثر ہوئے ہوں۔ شعبہ اطفال کی نرسری انتہائی اہم شعبہ ہے اور ہزارہ ڈویثرن کے علاوہ گلگت بلتستان اور کشمیر سے لوگ بھی یہاں علاج کی غرض سے آتے ہیں۔
بلوچستان: گذشتہ 24 گھنٹوں میں دو ہلاکتیں، 82 نئے متاثرین
،تصویر کا ذریعہGetty Images
بلوچستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 82 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں کورونا متاثرین کی کُل تعداد 2017 ہو گئی ہے۔
اسی دورانیے میں مزید دو افراد اس وبا کے باعث ہلاک بھی ہوئے ہیں اور اب بلوچستان میں اموات کی مجموعی تعداد 26 ہو چکی ہے۔
محکمہ صحت بلوچستان کے مطابق صوبے میں کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد کی کُل تعداد 242 ہے۔
محکمہ صحت کی یومیہ رپورٹ کے مطابق 10 مئی کو کورونا کے کُل 313 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 82 مثبت آئے ہیں۔
صوبے میں اب تک مجموعی طور پر 14678 کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں مشتبہ مریضوں کی کل تعداد 17 ہزار سے زائد ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورتحال
،تصویر کا ذریعہM.A.JARRAL
دوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں محکمہ صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر ندیم کے مطابق کورونا وائرس سے متاثر مریضوں میں سے مزید چار افراد صحت یاب ہو گئے ہیں اور اب اس خطے میں صحت یاب ہونے والے افراد کی کُل تعداد 64 ہوگی ہے۔
ان کے مطابق اس خطے کے مختلف قرنطینہ مراکز میں 2900 کے قریب مشتبہ افراد کو لایا گیا ہے جن میں سے 78 کے رزلٹ کا انتظار ہے۔
دریں اثنا کشمیر میں محکمہ داخلہ نے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے جس میں بازاروں میں آنے والے افراد اور تاجروں کو کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے جاری شدہ ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کرنے کے بارے میں ایک مرتبہ پھر یاد دہاںی کروائی گی ہے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق بازاروں میں آنے والے افراد کے لیے ماسک پہننا لازمی ہے اور ماسک کے بغیر کسی بھی فرد کی بازاروں میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
بریکنگ, 187 متاثرہ ممالک کی فہرست میں پاکستان 19ویں نمبر پر آ گیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حالیہ دنوں میں پاکستان میں کورونا کے مصدقہ متاثرین میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے بعد پاکستان کورونا سے متاثرہ 187 ممالک کی فہرست میں 19ویں نمبر پر آ گیا ہے۔
امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت کورونا کے 30334 مصدقہ متاثرین ہیں۔
اس فہرست میں 13 لاکھ متاثرین سے زائد کے ساتھ امریکہ سرِفہرست ہے۔ امریکہ کے بعد سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں بالترتیب سپین، برطانیہ، اٹلی، روس، فرانس، جرمنی، برازیل، ترکی، ایران، چین، کینیڈا، انڈیا، پیرو، بیلجیئم، ہالینڈ، سعودی عرب اور پاکستان شامل ہیں۔
سعودی عرب میں متاثرین کی تعداد 39048 جبکہ انڈیا میں 65021 ہے۔
جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت کورونا کے 40 لاکھ 67 ہزار سے زائد متاثرین ہیں جبکہ اب تک دو لاکھ 80 ہزار سے زائد افراد اس وبا سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
بریکنگ, موجودہ صورتحال میں اجلاس بلانے کے خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں: سلیم مانڈوی والا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے آئندہ ہفتے کے دوران بلائے گئے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس مؤخر کرنے کی تجویز دے دی ہے۔
یاد رہے کہ حزب اختلاف کی ریکوزیشن پر ایوان زیریں کا اجلاس کل (سوموار) اور ایوان بالا کا اجلاس بروز منگل بلایا گیا ہے۔
سلیم مانڈوی والا نے یہ تجویز حالیہ دنوں میں اراکین پارلیمان میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بعد پیش کی ہے۔
سینیٹ اور قومی اسمبلی سے اجلاس کے حوالے سے جاری کردہ ضوابط میں کہا گیا تھا کہ تمام اراکین پارلیمان اجلاسوں میں شرکت سے قبل اپنا اپنا کورونا ٹیسٹ لازمی کروائیں۔
قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر پہلے ہی کورونا کے باعث ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ اتوار کے روز دو پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ مجلس عمل کے دو اراکین قومی اسمبلی میں بھی وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ اسمبلی سیکرٹیریٹ کے چند ملازمین کا ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے۔
سلیم مانڈوی والا نے کہا ہے کہ کورونا وائرس اب پارلیمان کی راہداریوں میں بھی پہنچ گیا ہے اور اراکین پارلیمنٹ اور عملے میں کورونا کی تشخیص باعث تشویش ہے۔
انھوں نے کہا کہ مزید اراکین اور عملے میں کورونا کی تشخیص ہونے کا خدشہ ہے اور موجودہ صورتحال میں اجلاس بلانے کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ضروری ہو تو اجلاس میں تاخیر کی جائے اور اراکین پارلیمان اور عملے کے ٹیسٹ کو یقینی بنانے کے بعد ہی پارلیمنٹ میں داخلے کی اجازت دی جائے۔
لاک ڈاؤن میں نرمی: پاکستان کے مختلف شہروں کی تصویری جھلکیاں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کے تحت ملک بھر میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان ہونے اور کاروباری سرگرمیاں جزوی طور پر بحال ہونے کے بعد ملک کے مختلف بڑے شہروں میں عوام کی ایک کثیر تعداد سڑکوں اور بازاروں میں نظر آ رہی ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگرچہ حکومت نے کاروباری سرگرمیوں کی اجازت حفاظتی ضابطوں کے تحت دی تھی تاہم نہ تو عوام اور نہ ہی دکاندار ان پر عمل کرتے نظر آ رہے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
مناسب سماجی فاصلے کے بنیادی اصول پر بھی عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
گلگت بلتستان: گذشتہ 12 گھنٹوں میں مزید 12 افراد میں کورونا کی تشخیص
،تصویر کا ذریعہGetty Images
گگلت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق گلگت بلتستان میں دس مئی کو مزید 12 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد یہاں مصدقہ متاثرین کی تعداد 442 ہو گئی ہے۔
دس مئی کو ایک مریض صحت یاب ہوا ہے جس کے بعد صحت یاب مریضوں کی تعداد 304 ہو گئی ہے جبکہ اب تک چار مریض اس وبا سے ہلاک ہوئے ہیں۔
گلگت بلتستان کے مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج کورونا مریضوں کی تعداد 134 ہے۔
گلگت بلستان محکمہ صحت کے کوورونا کے لیے فوکل پرسن ڈاکٹر شاہ زمان نے صحافی محمد زبیر کو بتایا کہ گذشتہ تین، چار دونوں میں گلگت بلستان میں نئے سامنے آنے والے مریضوں میں سے بیشتر کا تعلق استور سے ہے۔ یہ سب طالبعلم ہیں جو کہ کراچی، لاہور اور دیگر شہروں سے اپنے آبائی علاقوں میں واپس پہنچے ہیں اور انھیں قرنطینہ مراکز میں رکھا گیا ہے۔
ڈاکٹر شاہ زمان کا کہنا تھا کہ گگلت بلستان میں مقامی طور پر وائرس کی منتقلی کے کیسز صرف نو فیصد ہیں جس کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ خطرے کی بات نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح گلگت بلستان میں خواتین کے متاثر ہونے کی شرح صرف چار فیصد ہے جس سے بھی یہ پتا چلتا ہے کہ مقامی طور پر وائرس منتقلی کم ہوئی ہے۔
اسلام آباد: کورونا متاثرین میں سب سے بڑی تعداد خواتین خانہ کی ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی دارالحکومت کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اسلام آباد میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر خواتین خانہ (ہاؤس وائف) ہوئی ہیں۔
دوسرے نمبر پر شہر کا طبی عملہ، تیسرے پر طلبا جبکہ چوتھے نمبر پر وہ افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جو سرکاری دفاتر میں کام کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 641 ہے جن میں سے 116 خواتین خانہ ہیں، طبی عملے کے اراکین 96 ہیں، 87 طلبا ہیں، 50 سرکاری ملازم، 40 کاروباری حضرات، 26 مزدور، 18 دکاندار، 15 میڈیا سے وابستہ افراد اور 13 بچے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر پیشوں سے منسلک افراد بھی کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔
641 مریضوں میں سے 429 (67 فیصد) مرد حضرات ہیں جبکہ 212 (33 فیصد) خواتین ہیں۔
641 مریضوں میں سے 160 کی عمریں 30 سے 39 سال کے درمیان ہیں، 133 مریضوں کی عمریں 21 سے 29 برس کے درمیان ہیں، 115 مریضوں کی عمریں 40 سے 49 سال کے درمیان جبکہ 71 افراد کی عمریں 51 سے 60 برس کے درمیان ہیں۔
اسلام آباد میں ایک سے نو سال کی عمر کے 29 بچے ایسے ہیں جو کہ کورونا کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ 80 سال سے بڑی عمر کے آٹھ افراد میں بھی کورونا کی تشخیص ہو چکی ہے۔
627 یعنی 98 فیصد متاثرین ایسے ہیں جن میں وائرس مقامی سطح پر منتقل ہوا ہے جبکہ صرف 14 (یعنی دو فیصد) متاثرین ایسے ہیں جن کی ٹریول ہسٹری ہے۔
،تصویر کا ذریعہICT ADMIN
کیا پاکستانی معیشت 50 لاکھ مزید بچوں کا بوجھ سہہ پائے گی؟