آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

جوز بٹلر کی برق رفتار نصف سنچری، آسٹریلیا کو انگلینڈ کے ہاتھوں آٹھ وکٹوں سے شکست

کرکٹ کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سنیچر کو جہاں انگلینڈ نے جوز بٹلر کی برق رفتار نصف سنچری کی بدولت ایک یکطرفہ مقابلے کے بعد آسٹریلیا کو آٹھ وکٹوں سے ہرایا وہیں جنوبی افریقہ نے ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد سری لنکا کو چار وکٹوں سے شکست دی۔

لائیو کوریج

  1. یہ صفحہ اب مزید اپ ڈیٹ نہیں ہوگا

    آج کے دن کے دونوں میچوں کی کوریج مکمل ہونے کے بعد اب یہ صفحہ مزید اپ ڈیٹ نہیں کیا جائے گا۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے حوالے سے بی بی سی اردو کی مزید کوریج، مضامین اور تجزیہ پڑھنے کے لیے قارئین ہمارے خصوصی سیکشن پر کلک کریں۔

  2. پوائنٹس ٹیبل کی صورتحال اور اتوار کے میچز

    انگلینڈ کی اس واضح جیت کے بعد ان کا نیٹ رن ریٹ اب 3.95 پہنچ چکا ہے اور اب وہ یقینی طور پر سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر لیں گے۔ پاکستان کے علاوہ انگلینڈ کی ٹیم اس ٹورنامنٹ کی ناقابل شکست ٹیمیں ہیں۔

    جنوبی افریقہ کو آج کی جیت اور آسٹریلیا کی بھاری شکست کی مدد سے اپنے گروپ میں دوسرے نمبر پر جگہ مل گئی ہے اور ان کا نیٹ رن ریٹ بھی مثبت 0.210 ہے۔

    اتوار کو گروپ ٹو کے دو میچ کھیلے جائیں گے۔

    ابو ظہبی میں دن کے پہلے میچ میں افغانستان کا سامنا نمیبیا سے ہوگا جبکہ انڈیا اور نیوزی لینڈ اپنے دوسرے میچ کے لیے دبئی کے میدان میں سامنے اتریں گی۔

    دونوں ٹیمیں پاکستان کے ہاتھوں اپنا پہلا میچ ہار چکی ہیں۔

  3. ہفتے کو کھیلے گئے میچوں میں جنوبی افریقہ، انگلینڈ کی جیت

    ہفتے کو کھیلے گئے دن کا پہلا میچ گروپ ون کی ٹیموں جنوبی افریقہ اور سری لنکا کا تھا جہاں جنوبی افریقہ نے بڑے قریبی مقابلے کے بعد چار وکٹوں سے جیت حاصل کر لی۔

    اس میچ میں سری لنکا نے صرف 142 رنز بنائے تھے لیکن ان کے بولرز نے زبردست دفاع کیا اور اس کارکردگی میں ہسارنگا کی ہیٹ ٹرک بھی شامل تھی۔ لیکن افسوس کے وہ اپنی ٹیم کو جیت سے ہمنکار نہ کرا سکے۔

    اننگز کے آخری اوور میں 15رنز درکار تھے اور ڈیوڈ ملر کے دو چھکے اور رباڈا کے چوکے نے یہ رنز پانچ گیندوں پر حاصل کر لیے۔

    دن کے دوسرے میچ میں انگلینڈ نے کرس جارڈن کی بولنگ اور جوز بٹلر کی نصف سنچری کی مدد سے آسٹریلیا کو باآسانی شکست دے کر اپنی سیمی فائنل میں پوزیشن یقینی بنا لی ہے۔

  4. بریکنگ, کرس جارڈن کی عمدہ بولنگ، مین آف دا میچ کا اعزاز

    انگلینڈ کی جانب سے کرس جارڈن کو ان کی شاندار گیند بازی پر مین آف دا میچ کا اعزاز ملا۔

    انھوں نے اپنے سپیل میں 17 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں جس میں دو اہم ترین وکٹیں سمیو سمتھ اور کپتان آیرون فنچ کی تھیں۔

  5. جوز بٹلر کی برق رفتار نصف سنچری کی بدولت انگلینڈ کی آٹھ وکٹوں سے جیت!, انگلینڈ کا سکور: 126/2، 11.4 اوور مکمل

    انگلینڈ نے اوپنر جوز بٹلر کے 32 گیندوں پر 71 رنز کی مدد سے آسٹریلیا کا دیا ہوا 126 رنز کا ہدف صرف 11.4 اوورز میں پورا کر لیا اور اس کے ساتھ اب وہ گروپ ون میں تینوں میچ جیت کر سرفہرست ہیں اور سیمی فائنل میں یقینی طور پر جگہ بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

    لیکن مین آف دا میچ کا اعزاز فاسٹ بولر کرس جارڈن کو گیا جنھوں نے اپنے چار اوورز میں 17 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں جس کی مدد سے آسٹریلیا کی پوری ٹیم 20 اوورز میں 125 کے سکور پر آؤٹ ہو گئی۔

    جوز بٹلر نے اپنی اننگز میں پانچ چوکے اور پانچ بلند و بالا چھکے لگائے۔ ان کی اننگز اور انگلینڈ کی عمدہ بولنگ کارکردی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آسٹریلیا نے اپنی پوری اننگز میں مجموعی طور پر پانچ چھکے اور سات چوکے لگائے تھے۔

    بٹلر کے ساتھ ساتھ جیسن رائے نے ایک چھکے اور ایک چوکے کی مدد سے 22 بنائے جبکہ جونی بیئرسٹو نے بھی آسٹریلوی بولنگ کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے 11 گیندوں پر 16 بنائے جس میں دو چھکے شامل تھے۔

    آسٹریلیا کی جانب سے مچل سٹارک سب سے مہنگے بولر رہے جن کو بٹلر نے خصوصی طور پر اپنے اعتاب کا نشانہ بنایا اور ان کے تین اوورز میں 37 رنز لوٹے۔

    ایڈم زیمپا کے بولنگ کے اعداد و شمار بھی بالکل وہی تھے لیکن انھوں نے جیسن رائے کی وکٹ لی۔

    آسٹریلیا کے لیے ایشٹن ایگر سب سے اچھے بولر رہے جنھوں نے 16 گیندوں پر 15 رنز دیے اور ایک وکٹ لی۔

  6. جوز بٹلر کے چھکے رکنے کا نام نہیں لے رہے! ٹیم کی 100 مکمل, انگلینڈ کا سکور: 119/2، 11 اوور مکمل

    انگلینڈ کی جانب سے بٹر اور بئیرسٹو نے آسٹریلوی بولرز کو تگنی کا ناچ نچا دیا ہے۔ ایڈم زیمپا نے اننگز کا 11واں اوور کرایا جس میں بٹلر نے ایک اور پھر بئیرسٹو نے مزید دو چھکے لگائے اور 20 رنز کا اوور حاصل کیا۔

    اب وہ جیت کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

  7. بریکنگ, ایشٹن ایگر کی وکٹ، ڈیوڈ ملن کیچ آؤٹ!, انگلینڈ کا سکور: 99/2، دس اوور مکمل

    آسٹریلیا کی جانب سے بالآخر ایک اچھا اوور گیا جس میں سپنر ایگر نے صرف دو رنز دیے اور ملن کو کیچ آؤٹ کر وا دیا جو آٹھ رن بنا سکے۔

  8. بریکنگ, جوز بٹلر کی نصف سنچری 102 میٹر لمبے چھکے سے مکمل!, انگلینڈ کا سکور: 97/1، نو اوور مکمل

    انگلینڈ کے جوز بٹلر نے اپنے ساتھ اوپنر کے آؤٹ ہونے سے پریشان ہوئے بغیر اپنی جارحانہ بیٹنگ جاری رکھی اور اس بار زیمپا کو 102 میٹر کا چھکا مار کر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔

    اسی اوور میں انھوں نے آخری گیند پر ریورس سوئپ کی مدد سے ایک اور چوکا لگایا اور اوور میں 15 رنز حاصل کیے۔

  9. دوسرے اینڈ سے بٹلر کی جارحانہ بیٹنگ جاری, انگلینڈ کا سکور: 82/1، آٹھ اوور مکمل

    آسٹریلیا کو امید تھی کہ شاید وکٹ گرنے کے بعد انگلینڈ کا جارحانہ انداز شاید تھمے لیکن بٹلر اور نئے بلے باز ڈیوڈ ملن نے ان خیالات کو جھٹک دیا۔

    مچل سٹارک کی جانب سے پھنکے گئے اس اوور میں دونوں نے مزید 14 رنز لوٹ لیے جس میں تین چوکے شامل تھے۔

  10. بریکنگ, آسٹریلیا کی پہلی کامیابی! زیمپا نے رائے کو آؤٹ کر دیا!, انگلینڈ کا سکور: 68/1، سات اوور مکمل

    آسٹریلیا کی جانب سے ان کے مرکزی سپنر ایڈم زیمپا بولنگ کرنے کو آئے اور انھوں نے اپنے پہلے ہی اوور میں جیسن رائے کو ایل بی ڈبلیو کر دیا جو ریورس سوئپ کرنے گئے تھے۔

    اس اوور میں انھوں نے صرف دو رنز دیے۔

  11. بریکنگ, جوز بٹلر کا سٹارک کو 95 میٹر کا چھکا!, انگلینڈ کا سکور: 66/0، چھ اوور مکمل

    انگلینڈ کے اوپنرز نے آسٹریلیا کے بولرز کے پرخچے اڑاتے ہوئے اس ورلڈ کپ میں پاور پلے کے دوران سب سے زیادہ رنز بنانے کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

    اننگز کے چھٹے اوور میں جوز بٹلر نے مچل سٹارک کو دو بلند و بالا چھکے لگائے جس میں سے ایک 95 میٹر طویل تھا۔

    اس اوور میں انگلینڈ نے 18 رنز حاصل کیے۔

    آسٹریلیا نے اپنی پوری اننگز میں پانچ چھکے لگائے تھے جبکہ ادھر انگلینڈ نے صرف پہلے چھ اوورز میں چار چھکے رسید کر دیے۔

  12. انگلینڈ کے اوپنرز کی عمدہ بیٹنگ کا سلسلہ جاری, انگلینڈّ کا سکور: 48/0، پانچ اوور مکمل

  13. جوز بٹلر کا بھی ایشٹن ایگر کے پہلے اوور میں چھکا!, انگلینڈ کا سکور: 37/0، چار اوور مکمل

  14. بریکنگ, جیسن رائے کا کمنز کو خوبصورت چھکا!, انگلینڈ کا سکور: 27/0، تین اوور مکمل

  15. جوش ہیزل ووڈ کو بھی ایک چوکا!, انگلینڈ کا سکور: 13/0، دو اوور مکمل

    انگلینڈ نے اطمینان سے اپنی اننگز کا آغاز کیا ہے اور دوسرے اوور میں بھی جیسن رائے نے جوش ہیزل ووڈ کو ایک چوکا لگایا اور اس کے ساتھ آسٹریلیا نے اوور میں آٹھ رنز حاصل کیے۔

  16. مچل سٹارک کے پہلے اوور میں بٹلر کا چوکا!, انگلینڈ کا سکور: 5/0، ایک اوور مکمل

    انگلینڈ نے اپنے تعاقب کے پہلے اوور میں آسٹریلیا کے مچل سٹارک پر پانچ رنز حاصل کیے جس میں جوز بٹلر کا ایک چوکا بھی شامل ہے۔

  17. بریکنگ, آسٹریلیا کی پوری ٹیم 20 اوورز میں آؤٹ، انگلینڈ کو میچ جیتنے کے لیے 126 رنز درکار

    انگلینڈ نے نہایت شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کی پوری ٹیم کو 20 اوورز میں 125 رنز پر آؤٹ کر دیا۔

    آسٹریلیا کی جانب سے کپتان آیرون فنچ کے 44 رنز کے علاوہ ایشٹن ایگر، پیٹ کمنز اور مچل سٹارک کی آخری اوورز میں تیز بیٹنگ کی گئی اور اس کی مدد سے وہ سکور کو 125 تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔

    انگلینڈ کی جانب سے پانچ میں سے چار بولروں کی رن دینے کی اوسط چھ سے کم رہی لیکن ٹائمل ملز نے اکیلے ہی 45 رنز دیے اور دو وکٹیں لیں۔

    ان کی بولنگ پر پڑنے والے سکور کی مدد سے آسٹریلیا کے بولرز کے پاس دفاع کرنے کے لیے ایک ہدف اب آ گیا ہے لیکن انگلینڈ کی انتہائی زبردست بیٹنگ لائن اپ کو دیکھتے ہوئے یہ درست ہوگا کہ انگلینڈ کی ٹیم میچ کی فیورٹ ہے۔

  18. ’آسٹریلوی بولرز نے اچھی بیٹنگ کر کے بہتر ہدف یقینی بنایا‘

    ٹوئٹر پر صارف ناویا گپتا کہتی ہیں کہ آسٹریلیا کے بولرز نے بیٹنگ کرتے ہوئے یہ یقینی بنایا ہے کہ ان کے پاس بولنگ میں کچھ گنجائش ہو اور بہتر ہدف دیا جاسکے۔

  19. بریکنگ, جارڈن کی لگاتار دو گیندوں پر دو وکٹیں!, آسٹریلیا کا سکور: 112/5، 19 اوور مکمل

    انگلینڈ کے آخری اوور کے ماہر بولر کرس جارڈن نے اپنی عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کیا اور 19ویں اوور میں آسٹریلیا کی دو اہم وکٹیں حاصل کیں جن میں کپتان فنچ بھی شامل ہیں جو 44 رنز بنا سکے۔

    اگلی ہی گیند پر انھوں نے دو چھکے لگانے والے پیٹ کمنز کو بھی آؤٹ کر دیا اور اوور میں صرف دو رنز دیے۔

  20. بریکنگ, ٹائمل ملز کی بھی وکٹ، ایشٹن ایگر آؤٹ, آسٹریلیا کا سکور: 110/6، 18 اوور مکمل

    ٹائمل ملز نے اننگز کے 18ویں اوور میں اشیٹن ایگر کو آؤٹ کر دیا جو لیگ سائیڈ پر اونچا کھیلنے گئے اور کیچ ہو گئے۔

    البتہ اگلی دو گیندوں پر آسٹریلیا کے اہم فاسٹ بولر پیٹ کمنز نے اپنی آل راؤنڈ صلاحیتوں کا مظاہرہ ہوئے اوور میں لگاتار دو چھکے لگائے اور جہاں پہلی چار گیندوں پر صرف تین رنز بنے تھے، اوور کے آخر تک 15 رنز ہو گئے۔