آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

تاریخی مقابلے کے بعد انگلینڈ نے پہلا ورلڈ کپ جیت لیا

کرکٹ کے 12ویں عالمی کپ کے فائنل میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان مقابلہ انتہائی ڈرامائی انداز میں سپر اوور تک گیا جہاں دوبارہ سکور ٹائی ہونے کی وجہ سے انگلینڈ کو زیادہ باؤنڈری لگانے پر ورلڈ کپ کا فاتح قرار دیا گیا۔

لائیو کوریج

عابد حسین and محمد صہیب

  1. عادل رشید بولنگ اٹیک میں!, سکور 77/1، 18 اوورز مکمل

    انگلینڈ کی جانب سے واحد سپنر اور ٹورنامنٹ میں 11 وکٹیں حاص کرنے والے عادل رشید کو کپتان مورگن نے بولنگ کے لیے بلایا جن کے خلاف ولیمسن نے پراعتماد اندز اپناتے ہوئے دو جارحانہ شاٹ لگائے لیکن کوئی باؤنڈری حاصل نہیں کی۔ عادل رشید کے پہلے اوور میں سات رنز بنے۔ ولیمسن اس وقت 15 اور نکولز 35 رنز پر کھیل رہے ہیں۔

  2. بریکنگ, نکولز بہتر کھیل پیش کرنے لگے!, سکور 70/1، 17 اوورز مکمل

    بی بی سی کے ٹیسٹ میچ سپیشل پر اعداد و شمار اکھٹے کرنے والے اینڈی زیلٹزمین کے مطابق ہینری نکولز نے اپنے پہلے 10 رنز 31 گیندوں پر بنائے لیکن آخری 14 گیندوں پر 21 رنز بنا چکے ہیں۔

  3. پلنکٹ کے اوور میں پانچ رنز, سکور 68/1، 16 اوورز مکمل

    پانی کے وقفے کے بعد کھیل جب دوبارہ شروع ہوا تو نکولز نے پلنکٹ کو ایک اور چوکا لگایا لیکن اس کے بعد اوور میں صرف ایک اور رن بنا۔

  4. کھیل میں اس وقت پانی کا وقفہ

    اس دوران سیکورٹی اہلکاروں نے میدان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والی ایک خاتون کو پکڑ لیا!

  5. ’نیوزی لینڈ اس آغاز سے زیادہ خوش ہو گا‘

    انگلینڈ کے ٹیسٹ فاسٹ بولر جیمز اینڈریسن کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے بولرز نے اچھا آغاز کیا ہے لیکن ان کے نزدیک نیوزی لینڈ اس آغاز سے زیادہ خوش ہو گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’انگلینڈ کو یہ امید تھی کہ اس وقت نیوزی لینڈ کے کم از کم دو آؤٹ ہو چکے ہوتے۔‘

  6. ووکس کی جگہ مارک ووڈ بولنگ اٹیک میں, سکور 63/1، 15 اوورز مکمل

    کرس ووکس کو پہلے سپیل کے بعد ہٹا کر انگلینڈ نے اپنے تیز بولر مارک ووڈ کو لایا جنھوں نے اب تک ٹورنامنٹ میں 17 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ اپنی پہلی گیند پر انھوں نے ولیمسن کو لالچ دیا کہ وہ ڈرائیو کریں اور اس کے نتیجے میں گیند بلے کے پاس سے گزری لیکن اس کے بعد باقی اوور میں کیوی بلے بازوں نے بہتر طریقے سے کھیلا اور ولیمسن کے ایک چوکے کی مدد سے اوور میں آٹھ رنز حاصل کیے۔

  7. نکولز کی پر اعتماد بیٹنگ, سکور 55/1، 14 اوورز مکمل

    جہاں ایک جانب کرس ووکس نپی تلی بولنگ کر رہے تھے وہاں کیوی بلے باز پلنکٹ کے خلاف قدرے بہتر کھیل پیش کر رہے ہیں اور ان کے دوسرے اوور میں آٹھ رنز حاصل کیے جس میں نکولز کا ایک چوکا بھی شامل ہے۔

  8. ووکس کو لمبا سپیل دینے کا مقصد!

    کرس ووکس نے آغاز میں عمدہ بولنگ کا مظاہر کیا ہے اور مارٹن گپٹل کی وکٹ بھی حاصل کی ہے۔

    سات اوورز میں کرس ووکس نے صرف 19 رنز دیے ہیں۔ انھیں بولنگ پر زیادہ دیر تک رکھنے کی ایک وجہ تو بولرز کے لیے سازگار کنڈیشنز ہیں لیکن ساتھ کین ولیمسن لیگ سپنر عادل رشید کو باآسانی کھیل لیتے ہیں۔

    عادل رشید کے خلاف اب تک انھوں نے 130 گیندوں پر 164 رنز بنا رکھے ہیں اور وہ ان کے خلاف صرف ایک مرتبہ آؤٹ ہوئے ہیں۔

  9. بریکنگ, ووکس کا ساتواں اوور!, سکور 47/1، 13 اوورز مکمل

    انگلینڈ کے کپتان اوئن مورگن نے نے کرس ووکس کی عمدہ بولنگ کو دیکھتے ہوئے انھیں پہلے سپیل میں ایک اوور دیا جو کہ ان کا ساتواں اوور تھا لیکن کیوی کپتان ولیمسن نے اسے بہت محتاط انداز میں کھیلا اور ووکس کی سوئنگ ہوتی ہوئی گیندوں کو کیپر کے پاس جانے دیا۔ اس اوور میں وائیڈ کا صرف ایک رن بنا۔ اب تک سات اوورز میں ووکس نے ایک وکٹ لی اور 19 رنز دیے۔

  10. بریکنگ, بولنگ میں پہلی تبدیلی، پلنکٹ اٹیک میں, سکور 46/1، 12 اوورز مکمل

    انگلینڈ نے 12ویں اوور کے لیے بولنگ اٹیک میں لیام پلنکٹ کو لایا جنھوں نے اب تک ورلڈ کپ میں آٹھ وکٹیں حاصل کی ہیں لیکن ان کی اکانومی کی اوسط پانچ رنز فی اوور سے بھی کم ہے۔ البتہ ان کے پہلے اوور میں پلنکٹ نے چھ رنز دیے۔

  11. گپٹل کا مایوس کن ورلڈ کپ!

    مارٹن گپٹل جو عام طور پر اپنی تباہ کن بیٹنگ کی وجہ سے جانے جاتے ہیں نے اس ورلڈ کپ میں مایوس کن کارکردگی دکھائی ہے۔

    انھوں نے اس ورلڈ کپ میں صرف 186 رنز بنائے ہیں جس میں صرف ایک نصف سنچری شامل ہے۔ آج بھی وہ صرف 19 رنز بنا کر کرس ووکس کی بولنگ پر ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

    البتہ گپٹل نے اس ورلڈ کپ میں بہت اچھی فیلڈنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے سب سے زیادہ رنز بچائے ہیں۔ انھوں نے سیمی فائنل میں ایم ایس دھونی کو رن آؤٹ کر کے نیوزی لینڈ کی فائنل میں جگہ یقینی بنائی تھی۔

  12. نکولز کا پہلا چوکا!, سکور 40/1، 11 اوورز مکمل

    ہینری نکولز نے اس اوور سے قبل 30 گیندو پر صرف 10 رنز بنائے تھے لیکن اس بار انھوں نے اپنا پہلا جارحانہ شاٹ کھیلتے ہوئے ایک چوکا لگا کر سکور 15 تک لے گئے۔

  13. پہلے دس اوورز کا کھیل مکمل, سکور 33/1، 10 اوورز مکمل

    پہلے پاور پلے کے اختتام پر نیوزی لینڈ نے احتیاط سے بیٹنگ کرتے ہوئے 33 رنز بنائے ہیں اور ابر آلود اور بولنگ کے لیے سودمند حالات میں یہ ایک مناسب سکور ہے کیونکہ ان کی اس اثنا میں صرف ایک ہی وکٹ گری ہے۔ کپتان کین ولیمسن اس وقت ایک رن پر جب کہ ان کے ساتھی نکولز دس رن پر بیٹنگ کر رہے ہیں۔ آؤٹ ہونے والے مارٹن گپٹل نے 19 رنز بنائے تھے اور انھیں کرس ووکس نے آؤٹ کیا۔

  14. ووکس کا اچھا اوور!, سکور 31/0، نو اوورز مکمل

    کرس ووکس نے ایک مرتبہ پھر سے عمدہ گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اوور میں صرف دو رنز دیے ہیں۔

    کیا یہ سست آغاز نیوزی لینڈ کے جارحانہ اوپنر ہینری نکولز کو غلطی پر مجبور کر پائے گا؟

  15. بریکنگ, کین ولیمسن کی اس ورلڈ کپ میں سب سے زیادہ اوسط!

    کین ولیمسن نے اب تک اس ورلڈ کپ میں 91.33 کی اوسط سے 548 رنز بنائے ہیں جو تمام بلے بازوں میں سب سے زیادہ اوسط ہے۔ اس ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے مجموعی رنز کا 30 فیصد حصہ کین ولیمسن نے بنایا ہے۔

    وہ ایک ایسے وقت میں فائنل میں بیٹنگ کرنے آئے ہیں جب کرس ووکس اور جوفرا آرچر آغاز میں عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

    کیا وہ اس بار بھی نیوزی لینڈ کی بیٹنگ کی ریڑھ کی ہڈی ثابت ہو سکیں گے؟

  16. ایک بار پھر ساری کیوی امیدیں ولیمسن سے وابستہ!, سکور 30/1، آٹھ اوورز مکمل

    جوفرا آرچر نے اس بار اپنے اوور میں صرف ایک رن دیا اور کپتان ولیمسن کو اپنا کھاتا کھولنے کا بھی موقع نہیں ملا ہے اور انھوں نے اب تک آٹھ گیندوں پر کوئی رن نہیں بنایا۔

  17. نکولز کو تیز بولنگ کے خلاف مشکلات!

    کرکٹ پر تجز یے اور تبصرے کرنے والی ویب سائٹ کرک وز کے مطابق ہینری نکولز 140 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کی جانے والی بولنگ کے خلاف صرف 15.16 کی اوسط سے رنز بناتے ہیں۔

  18. بریکنگ, انگلینڈ کی پہلی کامیابی!, سکور 29/1، سات اوورز مکمل

    کرس ووکس نے خطرناک مارٹن گپٹل کو 19 رنز پر آؤٹ کر دیا! اوور کی دوسری گیند تیزی سے اندر کی جانب سوئنگ ہوئی اور گپٹل نے اسے جانچے بغیر جارحانہ انداز میں کھیلنے کی کوشش کی مگر گیند ان کے پچھلے پیڈ پر لگی اور ریویو میں یہ ظاہر ہوا کہ گیند اس بار سیدھی وکٹوں کو لگ رہی تھی۔ گپٹل کے آؤٹ ہونے کے بعد کپتان ولیمسن آئے جنھوں نے باقی گیندیں جانے دیں۔

  19. بریکنگ, ایک اور ریویو!

    ووکس نے اس بار گپٹل کو آؤٹ کر دیا لیکن انھوں نے ریویو لیا ہے۔

  20. نکولز کا محتاط انداز, سکور 28/0، چھ اوورز مکمل

    جہاں ایک جانب مارٹن گپٹل 17 گیندوں پر 19 رنز بنا چکے ہیں ادھر ہینری نکولز محتاط بیٹنگ کرتے ہوئے اس وقت 19 گیندوں پر سات رنز بنا کر کھیل رہے ہیں۔