آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

تاریخی مقابلے کے بعد انگلینڈ نے پہلا ورلڈ کپ جیت لیا

کرکٹ کے 12ویں عالمی کپ کے فائنل میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان مقابلہ انتہائی ڈرامائی انداز میں سپر اوور تک گیا جہاں دوبارہ سکور ٹائی ہونے کی وجہ سے انگلینڈ کو زیادہ باؤنڈری لگانے پر ورلڈ کپ کا فاتح قرار دیا گیا۔

لائیو کوریج

عابد حسین and محمد صہیب

  1. بریکنگ, سپر اوور کیا ہوتا ہے؟

    اگر ورلڈ کپ فائنل ٹائی ہو جاتا ہے تو فاتح کا فیصلہ سپر اوور کے ذریعے ہو گا۔

    سپر اوور کے لیے ہر ٹیم اپنے تین بلے بازوں کو نامزد کرے گی۔ اور مخالف ٹیم چھ گیندوں کے ’سپر اوور‘ کے لیے اپنے ایک بولر کو منتخب کرے گی۔

    اگر اوور مکمل ہونے سے پہلے ٹیم دو وکٹ گنوا دیتی ہے تو وہ میچ ہار جائے گی۔

    لیکن اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو اس ایک اوور میں سب سے زیادہ رن بنانے والی ٹیم فاتح ہوگی۔

    اگر اس کے بعد بھی مقابلہ براب ہی رہتا ہے تو پوری اننگز یا اس سپر اوور میں سب سے زیادہ چھکے مارنے والی ٹیم کو فاتح قرار دے دیا جائے گا۔

    اگر پھر بھی مقابلہ ٹائی رہتا ہے تو دونوں اننگز میں سب سے زیادہ چوکے مارنے والی ٹیم کو فاتح قرار دے دیا جائے گا۔

  2. بریکنگ, پہلی گیند وائڈ!, چھ گیندوں پر 15 رنز درکار

  3. بریکنگ, گپٹل اور نیشم سپر اوور کھیلنے میدان میں!, جوفرا آرچر انگلینڈ کی جانب سے سپر اوور کروائیں

    آرچر کو پورے ورلڈ کپ میں اب تک ایک اوور میں سب سے زیادہ 15 رنز لگے ہیں۔

  4. بریکنگ, نیوزی لینڈ کو جیتنے کے لیے 16 رنز درکار!, بولٹ کے سپر اوور میں 15 رنز بنے

  5. بریکنگ, بٹلر اور سٹوکس سپر اوور کے لیے میدان میں!

    ٹرینٹ بولٹ سپر اوور کروائیں گے۔

    پہلی گیند پر تین رنز بنے۔ سٹوکس کی ایج تھرڈ مین باؤنڈری کی جانب۔

    دوسری گیند پر ایک رن۔ بولٹ کی اچھی گیند۔

    تیسری گیند پر سٹوکس کا چوکا۔

    چوتھی گیند پر ایک رن۔

    پانچویں گیند پر دو رنز۔ نکولز نے دھوپ میں گیند کھودی۔

    آخری گیند پر بٹلر کا چوکا۔

  6. بریکنگ, فائنل کا فیصلہ سپر اوور میں!

    لارڈز کے میدان میں ناقابل یقین منظر دیکھنے کو آئے ہیں۔ پہلا ورلڈ کپ میچ جو کہ سپر اوور تک گیا ہے۔ 50ویں اوور کی آخری گیند پر بین سٹوکس دو رن حاصل نہیں کر سکے اور انگلینڈ کی اننگز 241 رن پر ختم ہوئی۔ اب معاملہ سپر اوور تک جائے گا۔

  7. بریکنگ, بین سٹوکس ہمت نہیں ہارتے، ایک اور چھکا, تین گیندوں پر نو رنز درکار

  8. بریکنگ, چار گیندوں پر 15 رنز درکار!

  9. بریکنگ, آخری چھ گیندیں باقی، جیت کس کی ہوگی؟

  10. بریکنگ, بین سٹوکس کا چھکا! اور آرچر بولڈ, سکور 227/8، 49 اوورز مکمل

    ایسا زبردست ورلڈ کپ شاید تاریخ میں دیکھنے میں نہیں آیا ہوگا اور انگلینڈ کی جانب سے بین سٹوکس ہیرو کا رول ادا کر رہے ہیں۔ انھوں نے نیشم کی گیند پر چھکا لگایا اور بولٹ نے باؤنڈری پر کیچ لیا لیکن وہ باؤنڈری کے باہر چلے گئے۔ لیکن آخری گیند پر جمی نیشم نے آرچر کو بولڈ کر دیا!

  11. بریکنگ, نیشم کی وکٹ، پلنکٹ آؤٹ!

    ورلڈ کپ فائنل انتہائی سنسنی خیز مرحلے میں آگیا ہے اور جمی نیشم نے 49ویں اوور میں بہترین بولنگ کرتے ہوئے لائم پلنکلٹ کی وکٹ حاصل کر لی!

  12. آخری 12 گیندوں پر 24 رنز درکار

    صرف دو اوورز کا کھیل باقی ہے اور کپتان ولیمسن مجمبور ہوں گے کہ وہ 49واں اوور جمی نیشم سے کرائیں۔

  13. کیا وہ 18 ایکسٹراز انگلینڈ کے گلے پڑیں گے؟

  14. بریکنگ, کوئی ہار ماننے کو تیار نہیں!, پانچویں سیٹ میں سکور 10-10

  15. مداحوں کے بدلتے مزاج!

  16. بریکنگ, لاکی فرگوسن کی ایک اور وکٹ! کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی, سکور 208/6، 47 اوورز مکمل

    اپنے گذشتہ اوور میں بٹلر کو آؤٹ کرنے والے لاکی فرگوسن نے اپنے اگلے اوور میں کرس ووکس کی وکٹ بھی حاصل کر لی!

  17. فیڈرر کی جوکووچ پر برتری!, پانچویں سیٹ میں سکور 7-8

  18. بریکنگ, سٹوکس کی نصف سنچری اور شراکت کی سنچری مکمل!, سکور 189/4، 44 اوورز مکمل

    انگلینڈ کے آلراؤنڈر بین سٹوکس نے عین اس وقت ایک اہم نصف سنچری بنائی جب ان کی ٹیم کو اس کی اشد ضرورت تھی۔

    سٹوکس نے یہ سنگِ میل 81 گیندوں پر تین چوکوں کی مدد سے پورا کیا۔ اس نصف سنچری کی ساتھ سٹوکس اور بٹلر نے اپنی شراکت کی سنچری بھی مکمل کر لی۔

  19. بریکنگ, بٹلر کی نصف سنچری مکمل!

    انگلینڈ کے وکٹ کیپر جاس بٹلر نے بھی اپنی نصف سنچری مکمل کر لی ہے۔ انھوں نے یہ سنگِ میل 53 گیندوں پانچ چوکوں کی مدد سے عبور کیا۔

    ان کی اننگز کی خاص بات ان کا عمدہ ٹائمنگ تھی جس کی مدد سے وہ باقی بلے بازوں سے بہتر کھیل رہے تھے۔ ساتھ ہی انھوں نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ کو مشکلات کے بھنور سے نکالا۔

  20. آخری پانچ اوورز میں 30 رنز, سکور 173/4، 41 اوورز مکمل

    بٹلر اور سٹوکس کی شراکت کی خاص بات تھی کہ انھوں نے کس خوبصورتی کے ساتھ کھیلتے ہوئے دباؤ نہیں لیا اور تقریباً پانچ کی اوسط سے کھیلتے ہوئے17 اوورز میں 87 رن کر لیے ہیں۔