فائزر کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر

تازہ تحقیق میں بات سامنے آئی ہے کہ ادویات بنانے والی عالمی کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر ہیں۔ ادھر جان ہاپکنز یونیورسٹی اور امریکی میڈیا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں پہلی بار ایک دن میں چار ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. آسٹریلیا: سڈنی میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ، نئی پابندیوں کا اطلاق

    GETTY IMAGES

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    آسٹریلیا کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست سڈنی میں کورونا متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد پر قابو پانے کے لیے گریٹر سڈنی کے علاقے میں نئی پابندیوں کا اعلان کیا گیا ہے۔

    بدھ تک، گھریلو دعوتوں میں 10 افراد جبکہ ہوٹلوں اور دیگر تقریبات کے مقامات پر 300 افراد تک کے جمع ہونے کی اجازت ہو گی۔ ان علاقوں کے رہائشیوں کو پہلے ہی گھر میں رہنے کا کہا گیا ہے۔

    متاثرین کی نئی تعداد شہر کے شمالی ساحل کے علاقے میں ہے، جہاں سنیچر کے روز پانچ روزہ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے۔

    کرسمس سے قبل سڈنی کے رہائشی شہر چھوڑ کر باہر جا رہے ہیں۔

    نیو ساؤتھ ویلز (این ایس ڈبلیو) میں ہزاروں افراد نے ہمسایہ ریاست وکٹوریہ کا سفر کیا جس کے بعد ریاست وکٹوریا آدھی رات سے گریٹر سڈنی اور این ایس ڈبلیو وسطی ساحل کے رہائشیوں کے لیے اپنی سرحدیں بند کررہی ہے۔

    اس کےعلاوہ شہریوں کو 14 دن قرنطینہ میں بھی رہنا ہو گا۔

  2. کیا ووہان شہر نے کورونا کو تاریخ کے سپرد کردیا؟

    دنیا ایک جانب اب بھی کورونا کی وبا کا مقابلہ کر رہی ہے مگر دوسری جانب چین کا وہ شہر جہاں کورونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تھا وہاں گذشتہ کئی ماہ سے کورونا کا مقامی منتقلی کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

    بی بی سی نے ووہان شہر کا دورہ کیا تاکہ اس وبا کے شہر پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا جاسکے۔

  3. کورونا وائرس: پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 80 اموات، 2615 نئے متاثرین

    covid.gov.pk

    ،تصویر کا ذریعہcovid.gov.pk

    پاکستان میں حکومتی اعدادوشمار کے مطابق 457,288 افراد اس وائرس سے متاثر جبکہ 9,330 ہلاک ہو چکے ہیں۔

    اتوار کے روز پاکستان میں کورونا وائرس کے 2,615 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ 80 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    اس وقت ملک بھر میں فعال متاثرین کی تعداد 40,553 ہے۔

  4. بورس جانسن: ’وائرس کی نئی قسم سے منتقلی کی شرح 70 فیصد زیادہ ہو سکتی ہے‘, کرسمس سے قبل برطانیہ میں کورونا پابندیوں میں ایک بار پھر سختی

    Borris Johnson

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں کورونا کی وبا کے باعث پابندیوں میں ایک بار پھر سختی کر دی گئی ہے۔

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ نئی پابندیاں ملک میں کورونا وائرس کی ایک نئی قسم سامنے آنے کے بعد لگائی گئی ہیں جس کا پھیلاؤ پہلی لہر کے مقابلے میں تیز ہے۔

    بورس جانسن نے کہا کہ تجزیہ سے یہ سامنے آیا ہے کہ وائرس کی نئی شکل میں ریپروڈکشن نمبر R کی شرح میں 0.4 یا اس سے زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس حوالے سے ’کافی حد تک غیر یقینی صورتحال‘ موجود ہے ، لیکن پرانی قسم کے مقابلے میں اس سے منتقلی کی شرح 70 فیصد تک زیادہ ہوسکتی ہے۔

    واضح رہے اس اعلان سے قبل ان کے دفتر 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں سائنسدانوں کے ساتھ اجلاس میں وزیر اعظم بورس جانسن کو ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران اس کی شکل میں تبدیلی اور پھیلاؤ میں تیزی کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔

    اتوار سے نافذ کی جانے والے نئی پابندیوں کا اطلاق لندن، سکاٹ لینڈ اور ویلز پر ہو گا جبکہ کرسمس کے موقع پر پانچ دنوں کے لیے کی جانے والی نرمی کو بھی اب ایک دن تک محدود کر دیا گیا ہے۔

    GETTY IMAGES

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    آر (R) کیا ہے؟

    کورورنا وائرس کے خطرے کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ لیکن نہایت اہم چیز ریپروڈکشن نمبر ہے جسے عرف عام میں اس کے مخفف ’آر‘ سے شناخت کیا جاتا ہے۔

    ریپروڈکشن نمبر وہ طریقہ ہے جس کے ذریعے بیماری کی پھیلنے کی صلاحیت کی درجہ بندی کی جاتی ہے۔

    یہ ان افراد کی ایک اوسط تعداد ہے جن کو ایک متاثرہ شخص وائرس منتقل کرے گا۔ اس میں یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ وائرس کے خلاف کسی میں مدافعت نہیں ہے اور بیماری سے بچنے کے لیے لوگ اپنا رویہ نہیں بدل رہے ہیں۔

  5. کیا پاکستان کو بر وقت کووڈ ویکسین مل سکے گی؟

  6. ترکی میں وینٹیلیٹر میں دھماکے سے کورونا کے نو مریض ہلاک

  7. کورونا: انڈیا میں کورونا متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی

    انڈیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں کورونا متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں 15325 کیس رپورٹ ہوئے اور اس کے ساتھ ہی ایک کروڑ سے تجاوز کر گئے۔

    ملک میں کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد پہلے ہی ڈیڑھ لاکھ کے قریب پہنچ چکی ہے۔

    کورونا کیسز کے اعتبار سے دنیا میں انڈیا دوسرے نمبر پر ہے۔ امریکہ کورونا کیسز کے اعتبار سے دنیا میں سرفہرست ہیں۔

    جہاں انفیکشن کے کل کیسز تقریباً ایک کروڑ 70 لاکھ ہیں۔ ہندوستان میں انفیکشن کا پہلا کیس رواں سال جنوری کے مہینے میں سامنے آیا تھا، لیکن اس کی تیز رفتار شروعات مارچ کے مہینے میں ہوئی۔

    مارچ کے مہینے کے آخر تک لگ بھگ 1400 افراد انفکشن ہو چکے تھے اور 35 افراد کورونا سے ہلاک ہو گئے تھے۔

  8. ’انڈیا میں جنوری سے ویکسین مل سکتی ہے‘

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    انڈیا اپنے شہریوں کو کورونا کی ویکسین دینے کی تیاری کر رہا ہے۔ لیکن اتنی بڑی آبادی والے ملک میں یہ ویکسین کیسے دی جائے گی؟

  9. لندن کی دکانوں میں کورونا کے خلاف ’قوتِ مدافعت بڑھانے والی‘ جعلی دوائیوں کی فروخت

  10. کووڈ 19: لندن کی دکانوں میں ’قوتِ مدافعت بڑھانے والی‘ جعلی دوائیاں فروخت کی جا رہی ہیں

    bbc

    بی بی سی کی ایک تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ لندن کی دکانوں میں کورونا وائرس کے خلاف ’قوتِ مدافعت بڑھانے والی‘ جعلی دوائیاں فروخت کی جا رہی ہیں۔

    لندن کے بیشتر ایشیائی علاقوں کی دکانوں کے کاؤنٹر پر انڈیا سے درآمد کی جانے والی، جڑی بوٹیوں سے تیار کی گئی ایک دوائی کرونیل فروخت ہوتی دیکھی گئی۔

    اس دوا کو بنانے والی کمپنی پتنجلی آیوروید کا دعویٰ ہے کہ یہ گولیاں ’سانس کی نالی کے انفیکشن‘ سے محفوظ رکھتی ہیں۔

    تاہم بی بی سی کی جانب سے کیے جانے والے ٹیسٹ میں معلوم ہوا کہ یہ گولیاں کورونا وائرس کے خلاف کوئی تحفظ فراہم نہیں کرتی ہیں۔

  11. پاکستان میں گذشتہ روز اب تک کے دوسرے سب سے زیادہ ٹیسٹ کیے گئے

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہcovid.gov.pk

    پاکستان میں گذشتہ روز اب تک کے دوسرے سب سے زیادہ 48,075 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ملک میں 27 نومبر کو اب تک کے سب سے زیادہ 48223 ٹیسٹ کیے گئے تھے۔

    وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان اس سے قبل بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان کے ٹیسٹنگ کی تعداد بڑھانے کے لیے وسائل موجود ہیں اور ضرورت کے تحت اس میں اضافہ کیا جائے گا۔

  12. بریکنگ, پاکستان میں کورونا وائرس سے 3179 نئے مریض، مزید 86 اموات

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہcovid.gov.pk

    پاکستان گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 86 افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 3179 افراد اس وائرس سے متاثر بھی ہوئے ہیں۔

  13. وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر میں کورونا وائرس کی تشخیص

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر نے گذشتہ روز ایک ٹویٹ میں بتایا ہے کہ ان کووڈ 19 کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے اور وہ گھر پر ہی قرنطینہ میں رہیں گے۔

  14. بریکنگ, امریکہ: فائزر کے بعد ماڈرنا کی ویکسین کے استعمال کی بھی منظوری

    امریکہ میں فائزر کے بعد کورونا وائرس کے علاج کے لیے ماڈرنا کی ویکسین کے استعمال کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔ امریکہ نے ماڈرنا کی 200 ملین خوراکیں خریدنے پر اتفاق کیا ہے۔

    واضح رہے کہ ملک میں فائزر کی ویکسین کا استعمال پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔

    امریکی یونیورسٹی جان ہاپکنز کے اعدوشمار کے مطابق امریکہ میں اب تک کورونا وائرس سے 311،529 اموات ہو چکی ہیں جبکہ 17،269،542 افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

    ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہMODERNA

  15. امریکی نائب صدر نے لائیو ایونٹ کے دوران ویکسین لگوائی

    امریکی نائب صدر مائیک پینیس نے ٹی وی پر براہ راست نشر کیے جانے والے ایک ایونٹ کے دوران کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی۔ اس موقع پر انھوں نے ڈاکٹرز اور ناظرین سے مخاطب ہو کر کہا کہ مجھے کچھ بھی محسوس نہیں ہوا۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اس ویکسین کے محفوظ ہونے اور کارآمد ہونے کی ترویج کرنا اور امریکی عوام میں اس کے لیے اعتماد پیدا کرنا ہے۔ نائب صدر کی اہلیہ اور سرجن جنرل جیرم ایڈمز نے بھی وائٹ ہاؤس کی جانب سے منعقدہ اس لائیو پروگرام میں ویکسین لگوائی۔

    خیال رہے کہ امریکہ نے پیر کو فائزر بائیو این ٹیک ویکسین لگانے کا آغاز کیا تھا۔ یہ پہلی ویکسین ہے جس کی امریکہ میں توثیق کی گئی ہے جو کہ کورونا وائرس سے بچاؤ میں 95 فیصد تک تحفظ فراہم کرتی ہے۔ اس ویسکین کی 3 کروڑ ڈوز امریکہ کی 50 ریاستوں میں تقسیم کی گئی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  16. کیا انگلینڈ نیشنل لاک ڈاؤن سے بچ پائے گا؟

    CORONA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    برطانیہ میں لاکھوں افراد کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کی خدشے کی وجہ سے مزید سخت پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔

    سب سے سخت ضوابط انگلینڈ کے تین کروڑ 80 لاکھ مکینوں کے لیے لاگو کیے جائیں گے۔

    26 دسمبر سے شمالی آئرلینڈ میں 6 ماہ کے لیے لاکھ ڈاؤن نافذ کیا جائے گا۔

    ویلز نے پہلے ہی 28 دسمبر سے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے۔ ہر تین ہفتوں کے بعد اس کا جائزہ لیا جائے گا۔ سکاٹ لینڈ حکومت نے مزید سخت پابندیوں کا انتباہ دیا ہے جس میں ممکنہ طور پر لاک ڈاؤن بھی شامل ہے۔

    جب حکومتی وزیر نِک گب سے انگلینڈ میں قومی سطح پر لاک ڈاؤن کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ علاقوں کی درجہ بندی کیا جانا بہت پر اثر ہے لیکن کسی بھی دوسرے اقدام کو خارج ازمکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔

    لیکن رائل کالج آف ایمرجنسی میڈیسن کی صدر ڈاکٹر کیتھرین ہینڈتسن کا کہنا ہے کہ انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ کو وائرس سے نمٹنے کے لیے وہ جو بھی کر سکتے ہیں کرنا ہو گا چاہے اس کا مطلب مکمل لاک ڈاؤن ہی کیوں نہ ہو۔

    سرکاری اعدادو شمار کے مطابق گذشتہ ہفتے انگلینڈ میں ماسوائے یاک شائر اور ہمبر کے ہر جگہ کورونا انفیکشن بڑھا ہے۔

    ملک کے وزیراعظم بورس جانسن سے جب پوچھا گیا کہ کیا انگلینڈ کو بھی شمالی آئرلینڈ اور ویلز کی تقلید کرتے ہوئے قومی سطح پر لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا تو ان کا کہنا تھا کہ یقینی طور پر ہم امید کر رہے ہیں کہ ہم اس قسم کے اقدامات سے بچ سکیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ چند ہفتوں میں انفیکشن بڑھا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کرسمس کی وجہ سے پابندیوں کو 23 اور 27 دسمبر کے دوران نرم کیا جا رہا ہے۔ تاہم انھوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے بزرگ رشتہ داروں کے بارے میں سوچیں اور کرسمس کے موقع پر وبا کو پھیلانے سے اجتناب کریں۔

  17. سال 2020 کے غیر معمولی واقعات تصاویر میں

  18. بریکنگ, کورونا کی دوسری لہر: ’اب مریضوں کے پھیپھڑوں کے علاوہ دیگر اعضا بھی متاثر ہو رہے ہیں‘, حمیرا کنول، بی بی سی اردو ڈاٹ کام

    ڈاکٹر محسن اور ان کی ٹیم

    ،تصویر کا ذریعہDR MOHSIN

    ،تصویر کا کیپشنڈاکٹر محسن اور ان کی ٹیم

    یہ شفا ہسپتال میں کورونا کے مریضوں کے لیے مختص وارڈ ہے جہاں 24 گھنٹوں میں دو اور مریض دم توڑ گئے ہیں۔

    ڈاکٹر محسن یہاں سینئر میڈیکل آفیسر ہیں اسی وارڈ میں کئی ماہ سے ڈیوٹی پر ہیں۔

    بی بی سی سے گفتگو میں انھوں نے بتایا کہ کورونا کی پہلی لہر کے مقابلے میں دوسر لہر زیادہ سخت اور زیادہ جان لیوا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ پہلے یہ ہو رہا تھا کہ لوگوں کے پھیپھڑوں میں سوزش ہو رہی تھی پانی پڑ رہا تھا، لوگ وینٹی لیٹر پر جا رہے تھے اور ہلاکتیں ہو رہی تھیں۔

    ’لیکن اب دوسری لہر میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ کورونا سے ایک سے زیادہ اعضا کی خرابی کا باعث بن رہا ہے۔ لوگوں میں سٹروک گردوں کے مسئلے اور دیگر اعضا میں متاثر ہو رہے ہیں۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ آٹھ ماہ کی پہلی لہر کے اندر 115 اموات ہوئی جبکہ دوسری لہر کے چھ ہفتوں کے دوران اب تک 143 اموات ہو چکی ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ پہلی لہر میں ہفتے میں ایک یا دو اموات ہوتی تھیں لیکن دوسری لہر میں ہر روز ایک یا دو اموات ہو رہی ہیں۔

    ڈاکٹر محسن کے مطابق مختلف انسانی اعضا کے متاثر ہونے کی ایک وجہ وائرس کے اندر آنے والی تبدیلیاں بھی ہیں۔ اس میں وجہ یہ بھی ہے کہ ماحول سے وائرس پر بھی پریشر پڑتا ہے یہ ایک وقت میں اپنی لاکھوں کاپیز بناتا ہے اور جب یہ کسی مریض کو متاثر کرتا ہے تو اسی طرح اس پر اثر انداز بھی ہوتا ہے۔

    ڈاکٹر محسن کہتے ہیں کہ زیادہ کیسز کی ایک وجہ ایس او پی پر عمل نہیں ہو رہا۔ انھوں نے کہا ماسک پہننا، ہاتھ دھونا اور گھر جا کر کپڑے بدلنا بہت ضروری ہے تاکہ آپ خود کو اور دوسروں کو کورونا سے محفوظ رکھ سکیں۔

  19. تاریخ کے وہ بدترین سال جن کے آگے 2020 کچھ بھی نہیں

  20. انڈیا میں نئے سال سے ویکسین کی دستیابی کی امید, سوتک بسواس، نامہ نگار انڈیا

    کورونا ویکسینیشن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    انڈیا میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں جنوری سے کورونا ویکیسنیشن کا آغاز ہونے کی توقع ہے۔

    وفاقی وزارت صحت کے حکام نے بی بی سی کو بتایا جنوری سے ملک میں کورونا کے خلاف ویکیسنیشن کا آغاز ہونے کی توقع ہے۔

    نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر حکام کا کہنا تھا کہ ’چند ایک ویکسینز کو حکومت کی جانب سے اگلے چند ہفتوں میں ہنگامی صورتحال کی صورت میں استعمال کی اجازت مل جانے کا امکان ہے۔‘

    اس ضمن میں ویکسین بنانے والی دو کمپنیوں نے پہلے ہی حکومت کو درخواست دے دی ہے جبکہ دیگر چھ ویکسینز بھی تجرباتی مراحل میں ہیں۔

    ان میں سے ’کوی شیلڈ‘ نامی ویکسین سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے برطانوی دوا ساز کمپنی آسٹرا زینیکا کے ساتھ شراکت داری میں تیار کی ہے۔ اور انڈین میڈیکل ریسرچ کونسل (آئی سی ایم آر) کے تعاون سے بھارت بائیوٹیک کے تیار کردہ ’کوواکسین‘ نامی ویکسین نے پہلے ہی استعمال کی اجازت کے لیے حکومت کو درخواست دے دی ہے۔

    حکومت اگست تک ملک میں 30 کروڑ افراد کو ویکسین لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومتی منصوبے کے مطابق اس کی شروعات طبی عملے کو ویکسینیشن سے ہو گی جس کے بعد پولیس اہلکاروں، فوجی اہلکاروں اور میونسپل اداروں کے اہلکاروں کو لگائی جائے گی۔

    واضح رہے کہ انڈیا میں تقریباً ایک کروڑ افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ اب تک ایک لاکھ 44 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔