فائزر کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر

تازہ تحقیق میں بات سامنے آئی ہے کہ ادویات بنانے والی عالمی کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر ہیں۔ ادھر جان ہاپکنز یونیورسٹی اور امریکی میڈیا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں پہلی بار ایک دن میں چار ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. روس: برطانیہ سے آنے والی پروازوں کی معطلی میں توسیع کر دی گئی

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    روسی خبر رساں اداروں کی اطلاع کے مطابق، روس نے برطانیہ سے آنے اور جانے والی پروازوں کی معطلی میں 12 جنوری تک توسیع کردی ہے۔

    انٹرفیکس نیوز ایجنسی کے حوالے سے جاری کردہ ایک بیان میں ماسکو میں کووڈ 19 کا مقابلہ کرنے کے لیے قائم کیے گئے ہیڈ کوارٹر نے کہا ہے کہ ’آبادی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پابندیوں کی مدت کو 12 جنوری تک بڑھا دیا گیا ہے۔‘

    برطانیہ میں کورونا وائرس کی ایک نئی قسم کی شناخت کے بعد، روس نے 22 دسمبر کو برطانیہ کے ساتھ پروازوں پر پابندی عائد کردی تھی۔

    کئی دوسری حکومتوں نے بھی برطانیہ کے ساتھ سفری پابندیوں کا اعلان کیا۔ اس کے بعد سے جنوبی کوریا اور فن لینڈ سمیت کئی ممالک میں اس نئی قسم کے متاثرین کی اطلاعات ہیں۔

  2. ’کووڈ وبا کے دوران میرا وزن 15 کلو کم ہوا‘

    ڈاکٹر مزل منشی گذشتہ سات ماہ سے ممبئی کی سب سے بڑی کووڈ سہولت گاہ میں ایک ماہر کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔

    ڈاکٹر سونالی بھی اسی سینٹرمیں بطور انتظامی انچارج کام کرتی ہیں۔ انڈیا کا شہر ممبئی کووڈ سے بری طرح متاثر ہوا اور اس دوران طبی عملے کو بھی کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

  3. فن لینڈ میں بھی وائرس کی نئی قسم سے متاثرہ مریض کی تشخیص

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    فن لینڈ بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جہاں برطانیہ میں شناخت کی جانے والی وائرس کی نئی قسم کے مریض رپورٹ ہو رہے ہیں۔

    پیر کے روز عہدیداروں نے تصدیق کی کہ کم سے کم ایک فینیش شہری جو حال ہی میں برطانیہ سے واپس آئے تھے، سنیچر کو ان میں وائرس کی نئی قسم کی تصدیق ہوئی۔ اے پی نیوز ایجنسی کے مطابق وہ شخص اور ان کا کنبہ قرنطینہ میں ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فن لینڈ میں اس نئی قسم کے دو متاثرین سامنے آئے ہیں۔ یہ خبر اس وقت سامنے آئی ہے جب جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ اس کے تین شہری جو لندن سے واپس آئے ہیں ان میں وائرس کی نئی قسم کی تصدیق ہوئی ہے۔

  4. ’جنوبی افریقہ اور برطانیہ میں شناخت کی جانے والی وائرس کی قسموں کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا‘

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نائیجیریا میں کورونا وائرس کی نئی قسم کی شناخت کرنے والے سائنسدان کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ اور برطانیہ میں پائے جانے والی وائرس کی قسموں کا آپس میں موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

    نائیجیریا میں جینومکس اور متعدی امراض کے لیے افریقی مرکز برائے ایکسیلینس کے سربراہ کرسچن ہپی نے کہا کہ اس کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ آیا ملک میں متاثرین کی تعداد میں اضافے کا تعلق وائرس کی اس نئی قسم سے ہے یا نہیں۔

    اگست اور اکتوبر کے درمیان جمع کیے گئے دو سو نمونوں میں سے دو میں وائرس کی یہ نئی قسم پائی گئی۔

    جنوبی افریقہ کا کہنا ہے کہ وائرس کی یہ نئی قسم متاثرین کی تعداد میں اضافے کی وجہ وضاحت کرتی ہے جس میں خاص طور پر کم عمر افراد متاثر ہورہے ہیں۔

    نائیجیریا میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 12 ہزار سے زیادہ جبکہ 1200 اموات کی اطلاعات ہیں۔

  5. اتنی جلد کوئی ویکسین کیسے آگئی؟

    برطانیہ اور دیگر ممالک نے بڑے پیمانے پر ویکسین فراہم کرنے کی مہم شروع کردی ہے۔ اس مہم کے تحت ٹیکے کے ذریعے لوگوں کو ویکسین لگائی جارہی ہے تاکہ وہ کورونا وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔

    لیکن ویکسین بنانے کاعمل جسے عمومی طور پر 10 سے زیادہ برس لگ جاتے ہیں، ایک سال سے کم وقت میں کیسے تیار ہوگئی؟ اس سوال کا جواب بی بی سی کی لارا فوسٹر نے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

  6. پاکستان میں کورونا وائرس کی نئی قسم کی تشخیص نہیں ہوئی: حکام وزارت صحت

    پاکستانی حکام نے کہا ہے کہ وہ کورونا وائرس کی نئی قسم سے متعلق الرٹ ہیں اور اس حوالے سے برطانیہ سے آنے والے مسافروں کا بھی ٹیسٹ کیا گیا ہے۔

    وزارت صحت کے حکام کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کی نئی قسم کے شواہد نہیں ملے ہیں تاہم وائرس کی اس نئی قسم کے پھیلاؤ کو روکنے سے متعلق حکام سنجیدگی سے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

  7. آسٹریلوی شہر سڈنی میں نئے سال کی آمد پر منعقد کیے جانے والی تقریبات کے لیے قوانین میں سختی

    covid

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں حکام نے نئے سال کی آمد کے موقع پر منعقد کیے جانے والی آتش بازی کی تقریب کے لیے قوانین میں مزید سختی کر دی ہے۔

    واضح رہے کہ آسٹریلوی شہر میں کورونا وائرس کا دوبارہ سے پھیلاؤ زور پکڑ رہا ہے اور ریاست نیو ساؤتھ ویلز کی سربراہ گلیڈیز بیریکلیئن نے سڈنی ہاربر کے مقام پر لوگوں کے آمد پر پابندی لگا دی ہے اور صرف 50 لوگوں کے مجمع کو اجازت دی ہے۔

    گلیڈیز بیریکلیئن کا کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتیں کہ نئے سال کی تقریبات سپر سپریڈر ایونٹس بن جائیں۔

  8. جنوبی کوریا میں بھی برطانیہ سے دریافت ہونے والی نئی قسم سے متاثرہ مریضوں کی تشخیص

    korea

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جنوبی کوریا بھی اب ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جہاں کورونا وائرس کی برطانیہ میں ملنے والی نئی قسم سے متاثرہ افراد کی تشخیص ہوئی ہے۔

    کورین حکام نے تصدیق کی ہے کہ حال میں ایک فیملی جو برطانیہ سے کوریا واپس آئی ان کے کورونا ٹیسٹ سے ثابت ہوا کہ ان کو نئی قسم والے وائرس نے متاثر کیا ہے۔

    جنوبی کوریا میں وائرس کے پھیلاؤ کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس واقعے کے بعد انھوں نے برطانیہ سے آنے والے تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں اور جو مسافر برطانیہ سے آ رہے ہیں ان کو مزید ٹیسٹس اور نگرانی سے گزرنا پڑھ رہا ہے۔

  9. ٹرمپ نے کورونا ریلیف اور اخراجات کے پیکج کے بِل پر دستخط کر دیے

    TRUMP

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کورونا ریلیف اور اخراجات سے متعلق پیکج کے بِل پر دستخط کرتے ہوئے اسے قانون کا درجہ دے دیا ہے۔ ابتداً صدر ٹرمپ نے اس بِل پر دستخط کرنے سے انکار کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ لوگوں کو بڑا ریلیف دینا چاہتے ہیں۔

    اگر وہ بِل پر دستخط میں دیر کرتے تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ لاکھوں امریکی عارضی طور پر بے روزگاری کی صورت میں ملنے والے الاؤنس حاصل نہ کر پاتے۔ کئی ماہ کی بحث و مباحثے کے بعد کانگریس نے 900 بلین امریکی ڈالر کا ریلیف پیکج منظور کیا تھا۔

    یہ پیکج حکومتی اخراجات کے دو اعشاریہ تین کھرب امریکی ڈالر کا حصہ ہے جس میں ایک اعشاریہ چار کھرب امریکی ڈالر معمول میں امریکہ کی وفاقی حکومت کے اخراجات شامل ہیں۔

    ابھی فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فلوریڈا میں جہاں ابھی صدر ٹرمپ موجود ہیں نے اس بِل کو قانون بنانے کا فیصلہ کیوں کیا۔ وہ کانگرس کی دونوں جانب سے دباؤ میں تھے۔ اور ریپبلکن سینیٹر پیٹ ٹومی نے کہا کہ صدر کو خطرہ ہے کہ انھیں افراتفری، تکالیف اور غیر متوازن رویے کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔ امریکہ کے منتخب صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ اگر صدر ٹرمپ بِل پر دستخط کرنے میں تاخیر کریں گے تو اس کے تباہ کن نتائج سامنے آئیں گے۔

  10. کورونا وائرس: دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 1764317 ہو گئی

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 1764317 ہو گئی ہے جبکہ متاثرین کی تعداد 80762012 بتائی جا رہی ہے۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادو شمار کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد 333115 ہے۔

    دیگر ممالک میں برازیل میں 191139، انڈیا میں 147622، میکسیکو میں 122426، اٹلی میں 71925 جبکہ برطانیہ میں 70860 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  11. بریکنگ, پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 55 افراد ہلاک

    pak

    ،تصویر کا ذریعہcovid.org.pk

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں کورونا وائرس کے نتیجے میں مزید 55 افراد ہلاک گئے ہیں۔ اس کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 9929 ہو چکی ہے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق 55 میں سے 33 افراد کی ہلاکت وینٹیلیٹر پر ہوئی۔

    گذشتہ روز ملک میں 1974 افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں 423892 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    بتایا گیا ہے کہ ملک بھر کے ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں کی تعداد 2776 ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ کورونا کسیز کی مثبت شرح سب سے زیادہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد میں 15لا59 ریکارڈ کی گئی۔

  12. چین کی ’بیٹ وومن‘ شی زینگلی کورونا کی عالمی وبا کے بارے میں کیا کہتی ہیں؟

  13. پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 1643 افراد کی صحتیابی کے بعد فعال مریضوں کی تعداد 40 ہزار سے کم

    covid

    ،تصویر کا ذریعہcovid.org.pk

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 33270 ٹیسٹس کے نتیجے میں 1853 نئے متاثرین کی شناخت ہوئی ہے جبکہ 58 افراد کی ہلاکت رجسٹر کی گئی ہے۔

    لیکن خوش آئند بات ہے کہ 1643 افراد کی صحتیابی کے بعد سے پاکستان میں کورونا وائرس کے فعال مریضوں کی تعداد 40 ہزار سے کم ہو گئی ہے اور اس وقت 39329 افراد زیر علاج ہیں۔

  14. کورونا وائرس کی نئی قسم سے متاثرہ افراد کی متعدد ممالک میں شناخت، یورپ میں اتوار سے ویکسینشن کا آغاز

    covid

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کورونا وائرس کی برطانیہ سے شناخت ہونے والی نئی قسم اب مصدقہ طور پر یورپ کے کئی ممالک میں پہنچ چکی ہے جبکہ اس کے علاوہ جاپان اور کینیڈا سے بھی حکام نے تصدیق کی ہے کہ وہاں بھی اس قسم سے متاثرہ افراد کی تشخیص ہوئی ہے۔

    سپین، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اور فرانس میں بھی ایسے افراد کی شناخت ہوئی ہے جو برطانیہ سے سفر کر کے آئے اور ان میں اس وائرس کی موجودگی پائی گئی۔

    دوسری جانب کینیڈا میں ایک میاں بیوی میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی لیکن انھوں نے حال میں کہیں سفر نہیں کیا تھا۔

    جاپان نے اس تناظر میں ملک میں غیر ملکیوں کے داخلے پر ایک مہینے کی پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے جو پیر سے لاگو ہوگا۔

    دوسری جانب متعدد یورپی ممالک میں اتوار سے ویکسینیشن کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ ۔یورپی کمیشن کی سربراہا ارسلا وون ڈر لیئن نے اس موقع پر ایک ویڈیو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ڈالی جس میں انھوں نے ویکسینیشن کے سلسلے کے آغاز کو ’انسانیت کے لیے ایک چھو لینے والا موقع‘ قرار دیا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نئی قسم پرانے وائرس کے مقابلے میں کہیں زیادہ وبائی ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ یہ اس سے زیادہ یا کم مہلک ہے۔

    covid

    ،تصویر کا ذریعہre

  15. بریکنگ, کورونا وائرس سے دنیا میں اموات کی تعداد 1,756,921 ہو گئی

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے باعث ہلاکتوں کی کل تعداد 1,756,921 ہو گئی ہے جبکہ اس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 1,194,963 ہے۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادو شمار کے مطابق امریکہ میں ہلاکتوں کی تعداد 331,902 تک پہنچ گئی ہے۔

    دیگر ممالک میں برازیل دوسرے نمبر ہے جہاں 190,795 جانوں کا نقصان ہو چکا ہے جبکہ انڈیا میں ہلاک شدگان کی تعداد 147,343 ہو گئی ہے۔

    میکسیکو میں 122,026، اٹلی میں 71,620، برطانیہ میں 70,513 جبکہ فرانس میں 62,694 اور ایران میں 54,574 افراد کورونا سے متاثر ہو کر ہلاک ہو چکے ہیں۔

  16. کورونا وائرس کی نئی قسم یورپی ممالک کے علاوہ کینیڈا اور جاپان پہنچ گئی

    کورونا وائرس کی نئی قسم جو برطانیہ میں سامنے آئی تھی کی موجودگی کی تصدیق مختلف یورپی ممالک کے علاوہ جاپان اور کینیڈا میں بھی ہوئی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق برطانیہ سے پسین، سوئٹزر لینڈ، سویڈن اور فرانس آنے والے افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    چند افراد کینیڈا کے شہر انتاریو میں وائرس کی اس نئی قسم میں مبتلا پائے گئے تاہم ان کے حوالے سے یہ سامنے نہیں آیا کہ انھوں نے بیرون ملک سفر کیا تھا یا پھرہائی رسک میں موجود لوگوں سے رابطے کیے تھے۔

    ادھر جاپان نے ایک ماہ کے لیے ایسےغیر ملکیوں کی ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے جو جاپان کے رہائشی نہیں ہیں۔

    اعدادو شمار کے مطابق وائرس کی نئی قسم سے جاپان میں دو، سپین میں چار، سوئٹزرلینڈ میں تین اور کینیڈا میں دو افراد متاثر ہوئے ہیں۔

    corona

    ،تصویر کا ذریعہreuters

  17. معاشی دوڑ میں امریکہ سے آگے نکلنے میں چین کی مدد کون کر رہا ہے؟

  18. کورونا ویکسین: نیپال نے انڈیا میں تیار کی جانے والی ویکسین میں دلچسپی ظاہر کی ہے

    Nepal Embassy

    ،تصویر کا ذریعہNepal Embassy

    انڈیا میں کورونا وائرس ویکسین کے ٹرائل آخری مراحل میں پہنچ چکے ہیں ، ویکسین کی تیاری بھی تیزی سے ہورہی ہے۔

    انڈین حکومت نے کہا ہے کہ ایک ماہ میں ویکسینیشن شروع ہوسکتی ہے۔

    دوسری جانب، نیپال نے بھی اپنی ویکسین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پہل کا آغاز کیا ہے اور انڈیا میں تیار کی جانے والے ویکسین میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

    انڈیا میں نیپال کے سفیر نیلمبر اچاریہ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے دہلی میں ویکسین بنانے والوں اور سرکاری عہدیداروں سے انڈیا میں ویکسین کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔

    مغربی ممالک میں ویکسینیشن متعارف کروانے کے بعد سے نیپال میں اس بارے میں بحث ہورہی ہے کہ وہاں ویکسین کی فراہمی کیسے ہوگی۔

    Science Photo Library

    ،تصویر کا ذریعہScience Photo Library

  19. اتنی جلد کوئی ویکسین کیسے آ گئی؟

    برطانیہ اور دیگر ممالک نے بڑے پیمانے پر ویکسین فراہم کرنے کی مہم شروع کردی ہے۔ اس مہم کے تحت ٹیکے کے ذریعے لوگوں کو ویکسین لگائی جارہی ہے تاکہ وہ کورونا وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔

    لیکن ویکسین بنانے کاعمل جسے عمومی طور پر 10 سے زیادہ برس لگ جاتے ہیں، ایک سال سے کم وقت میں کیسے تیار ہوگئی؟ اس سوال کا جواب بی بی سی کی لارا فوسٹر نے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

  20. کورونا: ’آپ اپنے نوزائیدہ بچے کی لاش کو جلتے ہوئے کیسے دیکھ سکتے ہیں؟‘