فائزر کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر

تازہ تحقیق میں بات سامنے آئی ہے کہ ادویات بنانے والی عالمی کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر ہیں۔ ادھر جان ہاپکنز یونیورسٹی اور امریکی میڈیا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں پہلی بار ایک دن میں چار ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 63 مزید ہلاکتیں، مجموعی تعداد 9816 تک پہنچ گئی

    covid

    ،تصویر کا ذریعہcovid.org.pk

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کی وجہ سے 63 افراد ہلاک ہو گئے جس کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 9816 ہو چکی ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ 25 دسمبر کو 36909 ٹیسٹس کے نتیجے میں 2260 نئے متثرین کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ 1531 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

  2. کورونا وائرس: فرانس میں کورونا وائرس کی نئی قسم کے پہلے کیس کی شناخت

    france

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فرانس نے کورونا وائرس کی نئی قسم سے متاثر ہونے والے پہلے مریض کی شناخت کر لی ہے جو چند روز قبل لندن سے فرانس لوٹا تھا۔

    کورونا وائرس کی اس نئی قسم کی شناخت حال میں برطانیہ میں ہوئی تھی جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلی قسم کے مقابلے میں 70 فیصد سے زیادہ وبائی ہے۔

    فرانس کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ مریض میں کسی قسم کی علامات نہیں ہیں اور وہ گھر پر خود کو آئیسولیٹ کر رہا ہے۔

    فرانس نے انگلینڈ کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دی تھی لیکن بدھ کو ان افراد کے لیے دوبارہ کھول دی جو سفر سے پہلے کورونا ٹیسٹ منفی دکھا سکیں۔

    فرانس کے علاوہ بھی دیگر کئی ممالک میں اس نئی قسم کے متاثرین کی شناخت ہوئی ہے۔

    جاپان نے ایسے پانچ کیسز کی شناخت کی ہے اور وہ پانچوں افراد برطانیہ سے سفر کر کے وہاں پہنچے تھے۔ اس کے علاوہ ڈنمارک، آسٹریلیا اور ہالینڈ میں بھی نئی قسم کے متاثرین کی شناخت ہوئی ہے۔

  3. انڈیا میں 28، 29 دسمبر کو کورونا وائرس ویکسین لگانے کے لیے ریہرسل کی جائے گی

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا لوگوں کو کورونا ویکسین لگانے کے لیے اگلے ہفتے سے چار ریاستوں میں 'ڈرائی رن' یعنی ریہرسل کی جائے گی۔

    انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق 28 اور 29 دسمبر کو ویکسین کی یہ ریہرسل آندھرا پردیش ، گجرات ، پنجاب اور آسام کے دو اضلاع میں ہوگی۔

    اس مشق کے چار بڑے مراحل ہوں گے اور ان چاروں پر مرکزی حکومت کی نگرانی ہوگی۔

  4. ’مجھے پتا نہیں تھا کہ کورونا ہوتا کیا ہے۔۔۔ خدا کا واسطہ ہے احتیاط کریں‘

  5. کووڈ 19: برطانیہ سے امریکہ جانے والے مسافروں پر کورونا ٹیسٹ کی شرط لاگو

    usa

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی حکام کے مطابق برطانیہ سے امریکہ آنے والے تمام مسافروں کو سفر سے 72 گھنٹے قبل لیے گئے کووڈ ٹیسٹ میں منفی نتیجہ دکھانا ہوگا جس کے بعد انھیں سفر کی اجازت مل سکے گی۔

    برطانیہ میں کورونا وائرس کی نئی قسم کی شناخت کے بعد بڑھنے والے خدشات کے بعد امریکی حکام نے یہ فیصلہ لیا جس پر 28 دسمبر سے عمل ہوگا۔

    اس وائرس کی نئی قسم کے باعث دیگر کئی ممالک نے برطانیہ کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں۔

    صحت کے ماہرین کے مطابق ابھی تک ایسی معلومات نہیں ہیں کہ یہ نئی قسم زیادہ مہلک ہے البتہ یہ واضح ہے کہ یہ کم از کم 70 فیصد زیادہ وبائی ہے۔

  6. لاطینی امریکہ میں بھی ویکسینیشن کے عمل کا آغاز

    میکسیکو میں ایک نرس کو کورونا وائرس کی ویکسین لگا کر لاطینی امریکہ میں بھی ویکسینیشن کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    میکسیکو کو ابتدائی طور پر امریکی جرمن فائزر/بائیو این ٹیک ویکسین کی 3 ہزار خوراکیں مہیا کی گئی ہیں۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  7. پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 85 اموات

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے مزید 85 افراد کی موت ہو گئی ہے جبکہ ملک بھر میں مزید 2152 افراد میں اس جان لیوا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    ملک بھر میں کورونا سے اب تک 467,222 افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 9,753 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ اس سے ایک دن قبل پاکستان میں 111 افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد اسے کورونا کی دوسری لہر کا سب سے ہلاکت خیز دن کہا جا رہا ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1824 افراد صحت یاب بھی ہوئے ہیں جس کے بعد ملک میں کورونا سے صحت یاب مریضوں کی تعداد 418,958 ہو گئی ہے۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

  8. گوجرانوالہ: دو مزید علاقوں میں لاک ڈاؤن نافذ

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    صوبہ پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں کورونا وائرس کے مثبت کیسز زیادہ سامنے آنے پر متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگائے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

    لاک ڈاؤن کابل بلاک ڈی سی کالونی اور سیٹلائٹ ٹاؤن نزد ایم بی پارک کے علاقوں میں لگایا گیا ہے۔

    محکمہ صحت پنجاب کے مطابق لاک ڈاؤن والے علاقوں میں تمام شاپنگ مالز، ریستوران، دفاتر (نجی اور سرکاری) بند رہیں گے، علاقہ مکینوں کی نقل و حمل محدود ہو گی اور انتہائی ضرورت کے پیش نظر ایک فرد ایک سواری استعمال کر سکے گا۔

    اس کے علاوہ مذکورہ علاقوں میں ہر قسم کے اجتماعات پر مکمل پابندی ہوگی۔

  9. کووڈ 19 مرض میں مبتلا شخص نے ’ساتھی مریض کو آکسیجن ٹینک مار کر ہلاک کر دیا‘

    covid

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی ریاست کیلیفورنیا میں کورونا وائرس سے متاثرہ ایک 37 سالہ آدمی پر الزام عائد کیا گیا ہے انھوں نے کیلیفورنیا کے ہسپتال میں مبینہ طور پر ایک اور کورونا وائرس کے مریض کو آکسیجن ٹینک مار کر ہلاک کر دیا۔

    پولیس نے اس شخص پر نفرت پر مبنی جرم کرنے اور قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    جیسی مارٹینز نامی شخص ہسپتال میں ایک 82 سالہ شخص کے ساتھ کمرے میں تھے جنھوں نے عبادت شروع کر دی۔

    پولیس کے مطابق جیسی مارٹینز نے مبینہ طور پر طیش میں آ کر آکسیجن ٹینک اٹھا کر اس شخص کو دے مارا جو اگلے دن فوت ہو گیا۔

    واضح رہے کہ کیلیفورنیا میں ہسپتال بڑھتے ہوئے متاثرین کی تعداد سے نمٹنے میں دشواری کا سامنا کر رہا ہے اور گذشتہ چھ ہفتوں میں ریاست میں دس لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

    وبا کے آغاز کے بعد سے اب تک ریاست میں مجموعی طور پر 20 لاکھ افراد سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

  10. نیورک میں آنے والے غیرملکیوں کو 14 روز قرنطینہ میں رہنا ہو گا: میئر ڈی بلاسیو

    ny

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ اور دیگر ممالک میں کورونا وائرس کی نئی قسم سامنے آنے کے بعد امریکہ کے شہر نیویارک میں حکام کی جانب سے بین الاقوامی مسافروں کے لیے قرنطینہ کی شرط رکھ دی گئی ہے۔

    نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے کہا ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے تمام افراد اس پتے پر 14 روز تک قرنطینہ میں رہیں گے جس کے بارے میں وہ حکام کو ایئرپورٹ آمد پر مطلع کریں گے۔

    انھوں نے کہا کہ کوئی بھی ایسا شخص جو برطانیہ سے آئے گا اس کے حکام یہ یقینی بنائیں گے کہ وہ قوائد کی پابندی کرے۔

    انھوں نے خبردار کیا کہ جو بھی ان قواعد کی خلاف ورزی کرے گا اس پر یومیہ 1000 ڈالر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ بھر میں کورونا وائرس کے ایک کروڑ 84 لاکھ کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ تین لاکھ 26 ہزار افراد اس کے باعث ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    نیویارک شہر امریکہ میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا گڑھ بنا ہوا تھا اور اب بھی ریاست نیویارک امریکہ کی سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں میں سے ایک ہے۔

  11. تائیوان میں مہینوں میں پہلی مقامی منتقلی کے کیس کے ذمہ دار پائلٹ کو نوکری سے ہٹا دیا گیا

    eva air

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    تائیوان کی ایئرلائن ایوا ایئر نے نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک پائلٹ کو اس لیے نوکری سے ہٹا دیا کیونکہ وہ ملک میں ایک عرصے کے بعد سامنے آنے والی کورونا وائرس کی مقامی منتقلی کا ذمہ دار تھا۔

    تائیوان میں گذشتہ منگل سے قبل 253 روز تک وائرس کی مقامی منتقلی کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا تاہم یہ سلسلہ اس وقت ٹوٹا جب اس پائلٹ سے قریبی رابطہ میں رہنے والا شخص منگل کے روز وائرس سے متاثر ہوا۔

    اس کی وجہ سے کرسمس کی عوامی سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں اور حکومت نے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ نئے سال کی تقریبات کے لیے بھی گھروں سے باہر نہ جائیں۔

    اب تک تائیوان میں کل 777 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ سات افراد اس وائرس سے ہلاک ہوئے ہیں۔

    یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جس پائلٹ کو نوکری سے نکالا گیا ہے وہ دسمبر کے اوائل میں کورونا وائرس سے متاثر ہوا تھا لیکن اس میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔

    جو پائلٹس اس ملک میں پروازیں لے کر آتے ہیں انھیں یہاں تین روز تک قرنطینہ میں رہنا ہوتا ہے لیکن ان کا اس وقت تک ٹیسٹ نہیں کیا جاتا جب تک ان میں علامات سامنے نہ آئیں۔

    تاہم یہ پائلٹ اس بات سے لاعلم تھے کہ وہ کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں اور انھوں نے پروازیں اڑانا جاری رکھیں اور اطلاعات کے مطابق امریکہ سے ایک پرواز لاتے ہوئے انھیں کھانسی کی شکایت بھی تھے۔ 20 دسمبر کو ان کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آیا۔

  12. بریکنگ, پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر کا سب سے ہلاکت خیز دن، 111 اموات

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا وائرس کے باعث 111 اموات ہوئیں جبکہ 2256 افراد اس وائرس سے متاثر ہوئے۔

    ان 111 افراد میں سے 100 کی ہلاکت ہسپتالوں میں ہوئی جن میں سے 61 وینٹیلیٹر پر تھے۔

    یہ پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر کا سب سے ہلاکت خیز دن رہا، اس سے قبل 15 دسمبر کو ایک دن میں 105 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اب تک ملک میں کورونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ 153 اموات 19 جون کو ہوئی تھیں۔

    ملک میں اب تک کورونا وائرس سے 9668 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 465070 ماس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔

  13. یورپی ممالک کی برطانیہ پر لگی سفری پابندیوں میں نرمی، ڈوور پر پولیس اور ٹرک ڈرائیوروں کے درمیان تصادم

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کورونا وائرس کی ایک نئی قسم دریافت ہونے کے بعد یورپی یونین کے ممالک نے برطانیہ سے آنے والے مسافروں پر لگائی گئی عارضی پابندیاں ئتم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے تاہم کچھ ممالک مشروط نرمی کا اعلان کیا ہے۔

    اٹلی اور فرانس نے برطانیہ سے آنے والے مسافروں کو اپنی سرحدوں میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے تاہم فرانس کو برطانیہ سے آتے ہر مسافر کا منفی ٹیسٹ درکار ہوگا۔

    نیدرلینڈز نے بھی ایسی ہی شرط رکھی ہے جبکہ سپین نے جبرالٹر سے آنے والے تمام غیر ملکی شہریوں کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔

    تصادم

    ،تصویر کا ذریعہPA

    دوسری جانب پرطانیہ کی بندرگاہ ڈوور پر پھنسے کئی ٹرک ڈرائیوروں اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا ہے۔

    یاد رہے کہ فرانس کی جانب سے اتوار کو سرحد بند کیے جانے کے بعد ہزاروں ٹرک اور ان کے ڈرائیور ڈوور کے قریب پھنسے ہوئے ہیں۔

  14. مسلم ممالک میں کورونا ویکسین کے حلال یا حرام ہونے پر بحث کیوں؟

  15. برطانیہ پر عائد سفری پابندی کو کم کرنے کے لیے ایک یورپی سفارش

    corona

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    یوروپی یونین کے رکن ممالک ، کورونا وائرس کی نئی قسم کے پھیلاؤ کے خدشات کے بعد برطانیہ کے ساتھ سفری پابندیوں کو مربوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    یورپی یونین کے زیادہ تر ممبر ممالک برطانیہ سے آنے والے مسافروں کے داخلے پر پابندی عائد کررہے ہیں۔

    منگل کے روز یوروپی کمیشن نے سفارش کی کہ ممالک پابندیوں کو کم کریں اور ضروری سفر دوبارہ شروع کرنے دیں۔

    تاہم ، یورپی یونین کے ممبر ممالک سرحد پار سے نقل و حمل کی پابندیوں کے بارے میں اپنے قوانین وضع کرنے کے لیے آزاد ہیں ، اور وہ اس معاملے پر اپنی پالیسیاں نافذ کرنے کا اہل ہیں۔

    اس تناظر میں تازہ ترین پیشرفت میں فرانس نے تصدیق کی کہ وہ برطانیہ سے آدھی رات کے وقت مقامی وقت کے مطابق اس آمدورفت کی اجازت دینا شروع کردے گی، اس شرط پر کہ کورونا وائرس کا منفی نتیجہ پیش کیا جائے۔

    نئی شرائط فرانسیسی اور یوروپی یونین کے شہریوں پر لاگو ہوں گی۔

    یورپی کمیشن نے ممبر ممالک سے سفارش کی کہ وہ لوگوں کو اپنے رہائشی ممالک میں اس شرط پر جانے کی اجازت دیں کہ وہ COVID-19 ٹیسٹ کروائیں۔ لیکن انھوں نے کہا کہ لوگوں پر زور دیا جانا چاہیے کہ وہ غیر ضروری سفر نہ کریں۔

    انھوں نے کہا کہ نقل و حمل میں کام کرنے والے ملازمین جیسے ٹرک ڈرائیوروں کو تمام سفری پابندیوں اور لازمی جانچ سے مستثنیٰ ہونا چاہیے۔

    یہ سفارش وروپی یونین کے سفیروں کے سامنے پیش کی جائے گی اور اس کے بعد ممبر ممالک مجوزہ ضوابط کو اپنانے پر غور کریں گے۔ تاہم بی بی سی کے برسلز کے نمائندے گیون لی کا کہنا ہے کہ ممالک اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد جاری رکھیں گے۔

    دریں اثنا جنوب مشرقی انگلینڈ کینٹ میں 1500 سے زیادہ ٹرک فرانس کے ساتھ بارڈر کھولنے کے منتظر، کینٹ میں پھنس گئے ہیں۔

    کچھ ممالک جیسے سپین، پرتگال اور ہنگری اپنے شہریوں کو صرف وطن واپس جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔

  16. بریکنگ, دنیا کے تمام سات براعظموں میں کوویڈ 19 کے کیسز

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس انٹارکٹیکا پہنچ گیا ہے ، جو اب تک اس وائرس کی وجہ سے کوویڈ 19 سے پاک تھا۔

    چلی کی فوج نے اس تحقیقی اسٹیشن "برنارڈو او ہیگنس" میں اس وبا کے 36 کیسز کی تصدیق کی ہے۔

    ان 36 افراد میں 26 فوجی اور 10 دیکھ بھال کرنے والے کارکن شامل ہیں جنہیں چلی منتقل کیا گیا۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے تمام سات براعظموں میں کوویڈ 19 بیماری کے کیسز اب ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔

  17. گالی کا مقابلہ گیت سے کرنے والی چینی گلوکارہ

  18. سیاستدانوں کی شادیوں میں شرکت: ’دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فصیحت‘

  19. بریکنگ, 501 وی ٹو: برطانیہ کے بعد جنوبی افریقہ میں کورونا کی ایک اور نئی قسم دریافت

    وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ دنیا کا واحد ملک نہیں جہاں کورونا وائرس کی کوئی نئی شکل دریافت کی گئی ہو: سائنسدانوں اور عالمی ادارہ صحت نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوبی افریقہ میں وائرس کی ایک اور نئی شکل پر تحقیق کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ملک کے کئی حصوں میں وبا بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔

    اس نئی قسم کو 501 وی ٹو کا نام دیا گیا اور یہ دسمبر کے اوائل میں دریافت ہوئی تھی۔ 18 دسمبر کو جنوبی افریقہ کے وزیر صحت زوالی مخیزی نے کہا تھا کہ یہ نئی قسم پہلے سے زیادہ مہلک ہے اور اس سے متاثر ہونے والوں میں اب تک نوجوانوں کی تعداد پہلے کی نسبت زیادہ ہے۔

    وزیر صحت کے مطابق جنوبی افریقہ کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وائرس کی یہ نئی شکل ایسے نوجوانوں کو پہلے کی نسبت زیادہ متاثر کر رہی ہے جنھیں کورونا کے ساتھ اور کوئی بیماری نہیں۔

    سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 21 دسمبر تک جنوبی افریقہ میں کورونا سے 24 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں جبکہ ملک میں متاثرہ افراد کی تعداد نو لاکھ سے زیادہ ہے۔

    جنوبی افریقہ میں بی بی سی کے نامہ نگار پوزما فلحانی کے مطابق 501 وی ٹو کا برطانیہ میں دریافت ہونے والی کورونا کی نئی قسم سے بظاہر کوئی تعلق نہیں۔

  20. کورونا کی نئی قسم سے بچوں کو کیا خطرہ ہے؟, جیمز گیلیگر، نامہ نگار برائے صحت، بی بی سی نیوز

    بچے

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    سائنسدان اس وقت یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کورونا وائرس کی نئی قسم بچوں پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے۔

    اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ نئی قسم بچوں میں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے، تو اس کے بڑے پیمانے پر تیزی سے پھیلانے کا جواز سامنے آ سکتا ہے۔

    پیر کو برطانوی وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اگر ممکن ہوا تو وہ جنوری میں سکول کھول دینا چاہتے ہیں۔

    تاہم اب تک یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ اس نئی قسم سے بچوں کو کوئی براہ راست خطرہ ہے۔

    دنیا بھر میں بچے کووڈ 19 وائرس سے زیادہ تر محفوظ رہے تھے اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ وائرس بچوں پر اُس طرح اثر انداز نہیں ہوتا جیسے بڑوں پر۔

    لیکن اگر وائرس کی نئی شکل ان کے ذریعے بھی پھیل سکتی ہے تو سکولوں اور دیگر تدریسی اداروں کو کھولنے کے حوالے سے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔

    وائرس کی نئی شکل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سائنسدانوں کے مطابق اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ جن راستوں سے وائرس جسم پر حملہ آور ہوتا ہے (ACE2 ریسیپٹر) وہ بچوں میں کم پائے جاتے ہیں۔

    لندن کے امپیریئل کالج سے منسلک پروفیسر وینڈی بارکلے کے مطابق کووڈ 19 کی نئی شکل کے لیے ایسے راستوں سے گزر کر جسم میں داخل ہونا آسان ہوگیا ہے۔

    لیکن ان کا کہنا تھا کہ اگر وائرس کی نئی شکل بچوں کے ذریعے دوسروں میں منتقل ہو سکتی ہے تو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ پہلے سے زیادہ بچوں کو متاثر بھی کرے۔

    برطانیہ سمیت دنیا بھر میں سائنسدان اور محقق وائرس کی نئی شکل کے بارے میں مزید جاننے کے لیے بہت تیزی سے کام کر رہے ہیں اور اب تک یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ کووڈ 19 کے عام وائرس سے 50 سے 70 فیصد زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے۔