فائزر کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر

تازہ تحقیق میں بات سامنے آئی ہے کہ ادویات بنانے والی عالمی کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر ہیں۔ ادھر جان ہاپکنز یونیورسٹی اور امریکی میڈیا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں پہلی بار ایک دن میں چار ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. 65 سالہ سکول ٹیچر جو موت سے چند ہفتے قبل ’پاپ سٹار‘ بنیں

  2. انڈیا اور پاکستان کشیدگی کے باوجود کس معاملے پر ایک دوسرے کے ساتھ ہیں؟

  3. کورونا متاثرین کا علاج کرتے ڈاکٹرز کا کرب

  4. امریکہ میں فائزر ویکسین استعمال کے لیے ہنگامی بنیادوں پر منظور

    امریکی میں ادویات کے نگراں ادارے ایف ڈی اے نے فائزر کی ویکسین کو ہنگامی بنیادوں پر منظور کر لیا ہے۔

    ادارے کا کہنا تھا کہ فائزر-بائیو این ٹیک ویکسین کی منظوری عالمی وبا کے دوران ایک بڑی کامیابی ہے۔

    امریکہ میں کورونا سے اب تک دو لاکھ 95 ہزار سے زیادہ اموات ہوچکی ہیں۔

    تحقیق کے مطابق یہ ویکسین کووڈ 19 سے حفاظت کے لیے 95 فیصد موثر ثابت ہوئی ہے۔ اسے ایف ڈی اے نے بھی استعمال کے لیے محفوظ قرار دے دیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ویکسین کا ابتدائی استعمال 24 گھنٹوں سے قبل شروع ہوجائے گا۔

  5. مصر: چینی ویکیسن کا استعمال ’اگلے چند گھنٹوں میں‘ شروع کر دے گا

    مصر

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    مصر کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں کورونا کے مریضوں کے لیے چین کی دوا ساز کمپنی سائنو فارم کی تیار کردہ ویکیسن کا استعمال اگلے ’چند گھنٹوں میں‘ شروع ہو جائے گا اور اسے مفت لگایا جائے گا۔

    مصر کی ایک نجی خبر رساں ویب سائٹ ’یوم سات‘ کے مطابق وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ویکیسن سب سے پہلے ترجیحی قرار دیے جانے والے افراد کو لگائی جائے گی۔

    مصر کے وزیر صحت ہالہ زائد کے مطابق ان ترجیحی قرار دیے جانے والے افراد میں ’قرنطینہ مراکز میں موجود طبی عملہ، ہسپتالوں میں موجود طبی عملہ اور وہ افراد شامل ہیں جو سرطان اور گردوں کے امراض کا شکار ہیں۔

    مصر کو دس دسمبر کو سائنوفارم ویکسن کی پہلی کھیپ میں 50 ہزار ویکسین موصول ہوئی تھی۔

    مصر میں حالیہ مہینوں میں اس ویکسین کے انسانوں پر استعمال کے تجربے بھی ہوئے تھے۔

    چینی ویکسین کے علاوہ مصر کو امریکی دوا ساز کمپنی فائزر اور اکسفورڈ یونیورسٹی اور آسٹرازنیکا کی تیار کردہ ویکسین ملنے کی بھی امید ہے۔

    مصر میں گذشتہ چند ہفتوں میں کورونا کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مصر کی وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے 445 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ 22 اموات ہوئی ہیں۔

  6. جرمنی اور روس میں کورونا سے ریکارڈ یومیہ ہلاکتیں

    جرمنی کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جرمنی میں کورونا کی دوسری لہر کے دوران یومیہ 29875 افراد میں وائرس کی تشخیص اور ایک ہی دن میں 585 افراد کی ہلاکت کے بعد ملک میں دوسری لاک ڈاؤن کے مطالبے نے زور پکڑ لیا ہے۔

    جرمنی میں وبا سے آغاز سے اب تک وائرس سے متاثرین اور اموات کی یہ یومیہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔

    جرمنی کے وزیر خزانہ پیٹر آلٹمایر نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں جلد اقدامات کرنا ہوں گے، ہمیں پہلے تیار کردہ حکمت عملی سے زیادہ اقدامات اٹھانے ہیں۔‘

    واضح رہے کہ جرمنی میں گذشتہ ماہ نومبر سے جزوی لاک ڈاؤن نافذ ہے اور ملک میں تفریحی مقامات، ریستوران اور بارز پہلے ہی بند ہیں اور کرسمس کے تہوار کے موقع پر ان پابندیوں میں کچھ نرمی کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا تھا۔

    جرمنی کے صحت عامہ کے سربراہ نے اس صورتحال کو ’انتہائی نازک‘ قرار دیا ہے۔ جبکہ جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یومیہ 500 ہلاکتیں قابل قبول نہیں ہے۔‘ انھوں نے سخت پابندیوں کے نفاذ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    جرمنی کے علاوہ کورونا کے دوسری لہر کہ دوران روس اور یوکرائن میں بھی جمعے کو ریکارڈ اموات ہوئی۔

    تاہم روس کی جانب سے جاری کردہ کورونا متاثرین اور اموات کے تازہ اعداد وشمار نے کچھ شکوک شبہات پیدا کیے ہیں۔

    روس کی وبائی امراض کی ٹاسک فورس کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے باعث 613 اموات ہوئی جس کے بعد ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 45893 ہو گئی ہے۔

    البتہ روس کے ’اضافی‘ اموات‘ کے بارے میں جاری کردہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق یہ دیگر وجوہات کے باعث اموات کی تعداد توقع سے زیادہ ہے۔روس میں گذشتہ برس اکتوبر کے ماہ میں ہونے والی اموات کے مقابلے میں رواں برس اکتوبر میں ہونے والی اموات کی تعداد تقریباً 50 ہزار زیادہ ہے۔

    روس کے اعداد و شمار جاری کرنے والے ادارے روسٹاٹ کا کہنا ہے کہ رواں برس اکتوبر میں ہونے والی اموات میں سے 22761 افراد مصدقہ یا مشتبہ کووڈ متاثرین تھے۔

  7. امریکہ میں فائزر ویکسین کی ہنگامی صورت میں استعمال کی جلد منظوری کی امید

    ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں ادویات کے نگران ادارے فیڈرل ڈرگ ایجنسی (ایف ڈی اے) کا کہنا ہے کہ وہ فائزر بائیو این ٹیک کی تیار کردہ کووڈ ویکسین کے ہنگامی صورت میں استعمال کی اجازت دے گا۔

    ایف ڈی اے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’وہ تیزی سے اس کی حتمی منظوری اور استعمال کی اجازت کے لیے تیزی سے کام کرے گا۔‘

    امریکی ہیلتھ سیکرٹری الیکس ازر کا کہنا تھا کہ ویکسین کے استعمال کی اجازت اگلے چند دنوں میں مل جانی چاہیے۔

    واضح رہے کہ دوا ساز کمپنی فائزر کی تیار کردہ ویکسین کو پہلے ہی برطانیہ، کینیڈا، بحرین اور سعودی عرب میں عوام کو لگانے کی منظوری مل چکی ہے۔

    بدھ کو امریکہ میں تین ہزار یومیہ اموات ہوئی تھی جو دنیا میں ایک دن میں کورونا سے ہونے والی اموات کیسب سے بڑی تعداد ہے۔

    جمعرات کو طبی ماہرین کے پینل نے ایف ڈی اے کو اس ویکیسن کی ہنگامی صورت میں استعمال کی اجازت دینے کی تجویز دی تھی۔ 23 رکنی پینل اس نتیجہ پر پہنچی تھی کہ اس ویکسین کے فوائد نقصانات یا اثرات سے زیادہ ہیں۔

  8. ایران میں کورونا سے مزید 232 افراد لقمہ اجل بن گئے

    ایران کی وزارت صحت کے مطابق کورونا سے پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران اس وائرس سے 232 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

    جبکہ مزید 9،594 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ ایران میں مریضوں کی کل تعداد 1،092،617 ہو چکی ہے۔

    ایرانی وزارت صحت کے مطابق ، کووڈ 19 سے متاثر 1،408 افراد ہسپتال میں داخل ہیں اور 5،760 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایران میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی کل تعداد 51،728 تک پہنچ گئی ہے ، لیکن ماہرین کا اندازہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

  9. بریکنگ, برطانیہ نے قرنطینہ کا وقت 14 دن سے کم کر کے 10 دن کر دیا

    قرنطینہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں طبی حکام نے اعلان کیا ہے کہ کووڈ کے مریضوں کے رابطے میں آنے والے افراد کے لیے خود کو قرنطینہ کرنے کا وقت اب 14 دن سے کم کر کے 10 دن کر دیا گیا ہے۔

    یہ تبدیلی ویلز میں پہلے سے جاری ہے اور اب اس کا اطلاق انگلینڈ ، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئر لینڈ میں بھی 14 دسمبر سے ہوگا۔

    زیادہ خطرے کا شکار ممالک سے لوٹنے والے افراد کو بھی 10 دن تک قرنطینہ کرنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔

    اس کا مطلب ہے کہ ایسے افراد جو 10 دن یا اس سے زائد سے قرطینہ میں ہیں وہ پیر کو اسے ختم کر سکتے ہیں۔

    ایک بیان میں چیف میڈیکل آفیسر نے زور دیا کے کووڈ کے پھیلاؤ اور اس کے تسلسل کو توڑنے کے لیے خود کو الگ کرنا بہت ضروری ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہم پر اعتماد ہیں کے ہم تنہائی اختیار کرنے کے دنوں میں کمی کر سکتے ہیں۔‘

    ماہرین کا کہنا ہے کہ انفکیشن کا شکار ہونے والے افرد میں 10 دنوں تک علامات ظاہر ہو جاتی ہیں ان مںی سے دو فیصد افراد یہ وائرس منتقل کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔

  10. ویکسین کے باوجود تائیوان میں پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ

    تائیوان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    تائیوان میں حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویکسین دی جا رہی ہے تاہم وائرس کے حوالے سے بہت زیادہ خبردار رہنا ہوگا۔

    وزیر صحت چین شی چنگ کا کہنا تھا کہ ویکسین کے سائنٹفک اعداد و شمار کے مطابق اس کے دیرپا اثرات اب بھی ناکافی ہیں۔

    ان کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا تھا کہ پہلی ویکسینیشن کے دوران لوگوں کو کو حفاظتی اقدامات جاری رکھنے چاہیئں۔

    تائیوان دنیا بھر میں کوووڈ کے ساتھ کامیابی سے نمٹنے والے علاقوں میں شامل ہے۔ اب تک یہاں مصدقہ کیسز کی تعداد صرف 724 ہے اور یہاں کبھی بھی لاک ٹاؤن نافذ نہیں کیا گیا۔

    وزیر وزیر صحت نے نہ تو ویکسین کے محفوظ ہونے پر سوال اٹھایا اور نہ اس کی قوت مدافعت فراہم کرنے کے حوالے سے تاہم انہوں نے زور دیا کہ اب تک واضح نہیں ہے کہ اس سے لوگوں کو کتنا اور کتنی دیر تک تحفظ مل سکتا ہے۔

    وائرس کے خلاف تائیوان کی متاثر کن کامیابی کی وجہ اس کے جلد اور سخت سرحدی کنٹرول کو قرار دیا جاتا ہے جہاں غیر ملکیوں یو کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور ملک میں آنے والوں کے لئے قرنطینہ کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔

  11. کووڈ 19 کی عالمی وبا کی بدولت کاربن کے اخراج میں ریکارڈ کمی

    کاربن

    ،تصویر کا ذریعہSPL

    ماہرین کے مطابق کووڈ 19 کی عالمی وبا کے دوران دوسری عالمی جنگ کے بعد پہلی بار کاربن ڈائی آسکائیڈ کے سالانہ اخراج میں ریکارڈ کمی واقع ہوئی ہے۔

    ایک نئی تحقیق کے مطابق آلودگی پیدا کرنے والی اس گیس کے اخراج میں رواں سال قریب سات فیصد کمی آئی ہے۔ فرانس اور برطانیہ میں آلودگی میں سب سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔

    وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لاک ڈاؤن اس کی ایک بڑی وجہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس چین عالمی وبا کا پھیلاؤ روکنے میں کامیاب ہوا اور بحالی کے اقدامات کیے گئے جن سے رواں سال مجموعی طور پر وہاں کاربن اخراج بڑھ سکتا ہے۔

    گلوبل کاربن پروجیکٹ ٹیم کے مطابق رواں سال کاربن اخراج میں 2.4 ارب ٹن کی کمی آئی ہے۔

    سنہ 2009 کے عالمی معاشی بحران کے وقت یہ کمی صرف نصف ارب ٹن تھی۔ اور دوسری عالمی جنگ کے اختتام کے وقت کاربن اخراج ایک ارب ٹن سے کم ہوگیا تھا۔

  12. چین: طیاروں میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عملے کو نیپی پہننے کی تجویز

    چین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین میں ہوا بازی کے نگراں ادارے نے تجویز دی ہے کہ طیاروں میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے عملہ ’ڈسپوزیبل نیپی‘ پہنے اور بیت الخلا جانے سے گریز کرے۔

    ملک میں ایئر لائنز کو جاری ہونے والی نئی ہدایات میں عملے کو نیپی پہننے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تجویز ان چارٹر طیاروں کے لیے ہے جو کووڈ 19 سے زیادہ متاثرہ علاقوں کا رُخ کرتے ہیں۔

    عالمی سطح پر کئی ایئر لائنز اور ایئر پورٹس نے اس حوالے سے حفاظتی ہدایات تشکیل دی ہیں تاکہ ہوا بازی کی صنعت کو بحال کیا جاسکے۔

    چین میں 49 صفحوں پر مشتمل نئی ہدایات کا مقصد بھی طیاروں میں وائرس کا پھیلاؤ روکنا ہے۔ نیپی پہننے کی تجویز ایسی جگہوں کے لیے جہاں ہر دس لاکھ میں سے 500 سے زیادہ لوگ وائرس سے متاثرہ ہیں۔

  13. آسٹریلیا میں غلطی سے ایچ آئی وی ٹیسٹ مثبت آنے پر ویکسین کا استعمال معطل

    ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہOxford University

    آسٹریلیا میں کورونا وائرس کی ممکنہ ویکسین کی آزمائش ایسے وقت میں ختم کرنا پڑی جب ایک رضاکار کا ایچ آئی وی ٹیسٹ غلطی سے مثبت آگیا۔

    ملک نے اس سے قبل دواساز کمپنی سی ایس ایل اور یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ سے ویکسین کی پانچ کروڑ 10 لاکھ خوراکیں خریدنے کی منظوری دی تھی۔

    حکومت کا کہنا تھا کہ مزید ویکسینز کے آرڈر سے خلا پُر کی جائے گی۔ سی ایس ایل اور یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ کے مطابق ایچ آئی وی کے یہ نتائج غلط تھے، یعنی آزمائش میں شامل رضاکاروں کی صحت خطرے میں نہیں۔

    آسٹریلیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ اب انھوں نے نووا ویکس ویکسین سے معاہدہ کیا ہے اور آکسفورڈ-اسٹرا زینیکا ویکسین کا موجودہ آرڈر بڑھا دیا ہے۔ برطانیہ نے رواں ہفتے فائزر کی ویکسین کا استعمال شروع کیا ہے۔

  14. کورونا کے خطرے کے باوجود کارکن لاہور جلسے میں کیوں جانا چاہتے ہیں؟

  15. امریکی ماہرین نے فائزر ویکسین کی ہنگامی منظوری کی تجویز دے دی

    ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی ادارے ایف ڈی اے کے طبی ماہرین نے فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین کی ہنگامی منظوری کی تجویز دے دی ہے۔

    یہ فیصلہ تب ہوا جب ایف ڈی اے کے 23 رکنی پینل نے اس ویکسین کے فوائد اور خطرات پر اجلاس رکھا۔ فائزر کو پہلے ہی برطانیہ، کینیڈا، بحرین اور سعودی عرب میں منظوری مل چکی ہے۔

    تاہم امریکہ میں اسے ابھی بھی ایف ڈی اے کی حتمی منظوری درکار ہے، جس کا فیصلہ آئندہ دنوں میں ہوجائے گا۔

  16. روس، امریکہ، چین، برطانیہ میں سے پاکستان کس ویکسین کو ترجیح دے گا؟

  17. کورونا کی پابندیوں کے سبب چار لاکھ افراد سمندر میں محصور: اقوام متحدہ

    سمندر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اقوام متحدہ کے ادارے بین الاقوامی میری ٹائم اورگنائزیشن یعنی آئی ایم او کا کہنا ہے کہ بحری جہازوں پر کام کرنے والے عملے کے تقریباً چار لاکھ سے زائد ارکان اس وقت سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے کنٹریکٹ ختم ہونے والے ہیں لیکن وہ کورونا کی وجہ سے پابندیوں کے باعث واپس نہیں جاسکتے۔

    ان میں سے کچھ افراد شاد سمندر میں تقریبا 18 مہینے سے کام کر رہے ہیں جو کہ گیارہ مہینے کی حد کی سے بھی زیادہ ہے۔

    آئی ایم او کا کہنا ہے کہ سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے ’افسوس کی بات ہے کہ سمندری جہاز رانوں، مچھیروں اور سمندری جہازوں میں کام کرنے والوں کے حقوق تو موجود ہیں تاہم وبا کے دوران یہ خطرے میں پڑ گئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا یہ ایک واضح انسانی حقوق کا مسئلہ ہے اس کی وجہ سے بے حد دباو اور تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔

    آئی ایم او کے مطابق سمندری عملے کے لاکھوں ارکان ان کے گھروں میں بھی پھنسے ہوئے ہیں وہ ان جہازوں پر واپس آکر اپنے خاندان کے لئے لیے روزگار بھی نہیں کما سکتے۔

    ایک امریکی کیپٹن ہیڈی مرزوگی کا کہنا تھا کہ جہاز پر ان کے قیام کا دورانیہ بڑھنے کی وجہ سے ان کے اور ان کے عملے دونوں پر بہت زیادہ اثرات پڑے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا ’جتنا زیادہ وقت آپ یہاں گزارتے ہیں آپ جسمانی طور پر بہت زیادہ تھکاوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘

    ’جب آپ بہت زیادہ تھک جاتے ہیں تو آپ اتنے چست نہیں رہتے جتنے آپ معمول کے کے دوران ہوتے ہیں‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہی تھکاوٹ حادثات کا سبب بنتی ہے۔

  18. کورونا وائرس کی ویکسین کے بارے میں افواہیں جو غلط ہیں

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس کی ویکسین سامنے آنے کے بعد انٹرنیٹ پر اس عالمی وبا اور اس کی ویکسین کے بارے میں کئی غلط خبریں اور افواہیں گردش کرنے لگی ہیں۔ طبی ماہرین ان افواہوں کے خلاف ایک جنگ لڑ رہے ہیں تا کہ دنیا کو اس وبا سے نجات حاصل ہو سکے۔

  19. کورونا ویکسین: مائیکرو چپس اور ڈی این اے میں تبدیلی جیسی افواہوں کی حقیقت کیا ہے؟

    کورونا ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کی ویکسین کے بارے میں وسیع پیمانے پر پائی جانے والے بہت سے غلط دعوؤں کی ہم نے جانچ کی ہے جن میں انسانوں کے اندر مائیکروچپ ڈالنے سے لے کر جینیٹک کوڈ کی تبدیلی تک کی بات کہی گئی ہے۔

    ہم نے سوشل میڈیا پر مستقل طور پر ایسے دعوے دیکھیں ہیں جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ویکسین آپ کسی طرح آپ کے ڈی این اے کو بدل دے گی۔

    بی بی سی نے اس بارے میں تین آزاد سائنس دانوں سے پوچھا تو انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی ویکسین انسانی ڈی این اے کو تبدیل نہیں کرے گی۔

    اسی طرح ایک اور سازشی نظریہ دنیا بھر میں پھیل رہا ہے جس کے مطابق اس میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ کورونا وائرس کی ویکسین کے بہانے مائیکرو چیپس لگانے کا منصوبہ ہے اور مائیکرو سافٹ کے شریک بانی بل گیٹس اس کے پیچھے ہیں۔ان دعوؤں کی حقیت کیا اس بارے میں تفصیل جاننے کے لیے بی بی سی کا تفصیلی مضمون پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

  20. جنوبی افریقہ میں کورونا کی دوسری لہر کا الزام نوجوانوں پر

    افریقہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی افریقہ میں کورونا کی دوسری لہر جاری ہے اور اس پھیلاؤ کے لیے الزام نوجوانوں پر عائد کیا جا رہا ہے۔

    وزیر صحت کا کہنا ہے کہ اس لہر میں زیادہ تر 15 سے 19 سال کے افراد متاثر ہو رہے ہیں۔

    اس کا آغاز کیپ ٹاؤن میں پر ہجوم نائٹ کلب سے ہوا۔ اس کے بعد ایک سپر سپریڈر تقریب نیسلن منڈیلا بے میں ایک یونیورسٹی منعقد ہوئی۔

    اور اب سکولوں میں سال کے اختتام پر امتحانات کے بعد پر ہجوم پارٹیز منعقد کی جا رہی ہیں۔

    وزیر صحت کا کہنا تھا ’نتایج سامنے اور واضح ہیں کہ جنوبی افریقہ کے نوجوان انفیکشن کی دوسری لہر پھیلا رہے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں 15 سے 19 سال کے افراد ہیں‘۔

    انھوں نے اس کے لیے مے نوشی والی تقریبات اور سماجی فاصلے اور ماسک پہننے کے اصولوں کی خلاف ورزی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔

    جنوبی افریقہ کے بعض علاقوں میں انفیکشن کے پھیلاؤ کی رفتار جولائی میں پہلے لہر سے کہیں زیادہ ہے۔

    دیگر افریقی ممالک جن میں زمبابوے اور کینیا شامل ہیں میں بھی انفیکشنز کی تعداد میں اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے۔