فائزر کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر
تازہ تحقیق میں بات سامنے آئی ہے کہ ادویات بنانے والی عالمی کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر ہیں۔ ادھر جان ہاپکنز یونیورسٹی اور امریکی میڈیا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں پہلی بار ایک دن میں چار ہزار اموات ہوئی ہیں۔
لائیو کوریج
کورونا وائرس: امریکہ میں ایک دن میں چار ہزار اموات کا نیا ریکارڈ
،تصویر کا ذریعہEPA
امریکہ میں سیاسی حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس کے حوالے سے صورتحال بھی بدتر ہو رہی ہے۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی (جے ایچ یو) اور امریکی میڈیا کے حوالے سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں پہلی بار ایک دن میں چار ہزار اموات ہوئی ہیں۔
ایسوسی ایٹ پریس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق کئی ریاستوں میں یہ وائرس بڑھ رہا ہے، کیلیفورنیا خاص طور پر شدید متاثر ہوئی ہے۔
جے ایچ یو کے مطابق امریکہ میں وبائی امراض کے سبب اموات کی مجموعی تعداد 365،400 کو عبور کر چکی ہے۔
ملک کے سرفہرست متعدی امراض کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فوچی نے بتایا کہ یومیہ اموات میں اضافے کا امکان ہے۔
کورونا وائرس کے آغاز کی تحقیق کرنے والی عالمی ادارہ صحت کی ٹیم کو چین داخل ہونے سے روک دیا گیا، چین کی تردید
،تصویر کا ذریعہAFP
عالمی ادارہ صحت کی چین جانے والی ٹیم کو ملک میں داخل ہونے
سے روک دیا گیا ہے۔ اس ٹیم کے دورے کا مقصد تھا کہ ووہان شہر میں کووڈ 19 کے آغاز
کے بارے میں تحقیقات کرے۔
اس ٹیم کے دو رکن چین کے راستے میں تھے اور ڈبلیو ایچ او کا
کہنا ہے کہ ویزا نہ ملنے کی وجہ سے ان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
تاہم چین نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی اس دورے
کی تفصیلات اور تاریخ ابھی طے ہونا باقی ہے۔
اس تحقیق کے لیے دونوں فریقین کے مابین طویل عرصے سے
مذاکرات چل رہے تھے جس کے بعد چین نے رضامندی کا اظہار کیا تھا۔
سال 2019 کے آخر میں ووہان میں اس وائرس کی شناخت ہوئی تھی
اور کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز ایک جنگلی جانوروں کی مارکیٹ سے ہوا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر تیدروس نے کہا کہ انھیں ’بہت
مایوسی‘ ہوئی ہے کہ چین نے اجازت نہیں دی لیکن دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کے
ترجمان ہوا چن یونگ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ محض غلط فہمی ہو سکتی ہے۔‘
کورونا وائرس: جب بیٹی نے ماں کو اپنے سامنے دم توڑتے دیکھا
برطانیہ میں اندازاً ’50 میں سے ایک‘ شخص کورونا میں مبتلا ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کورونا وائرس کی وبا کے آغاز سے اب تک برطانیہ میں پہلی بار ایک ہی روز میں نئے تصدیق شدہ کل کیسز کی تعداد 60 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق اندازاً انگلینڈ میں پچاس میں سے ایک شخص کو اور لندن میں 30 میں سے ایک کو کورونا وائرس ہے۔
وہاں مزید 830 افراد کی 28 دن کے اندر ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
اس صورتحال کے باعث گذشتہ روز انگلینڈ اور سکاٹ لینڈ نے نئے لاک ڈاؤن کی صورت میں سخت پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔
وزیراعظم بورس جانسن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں تیرہ لاکھ افراد کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسین لگائی گئی ہے۔ اس میں انگلینڈ میں 23 فیصد ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کی عمر 80 برس سے زیادہ ہے۔
تاہم انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت ملک میں دس لاکھ سے زیادہ افراد کورونا سے متاثر ہیں۔ اور ہسپتالوں میں وبا کی پہلی لہر کی نسبت 40 فیصد زیادہ مریض موجود ہیں۔
حکومت کے چیف میڈیکل ایڈوائزر پروفیسر کرس کہتے ہیں کہ ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ وائرس پھیلا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک میں اندازاً 50 میں سے ایک شخص کورونا کا شکار ہے اور یہ ملک کے کچھ حصوں میں زیادہ ہے اور کچھ میں کم ہے۔
کوویکسِن: انڈیا نے مقامی ویکسین آزمائش مکمل ہونے سے پہلے ہی کیوں منظور کرلی؟
آسٹریلیا: چمگادڑ کے سینڈوچ والے اشتہار کی تحقیقات کا حکم
برطانیہ میں نئے لاک ڈاؤن کے دوران کس قسم کی پابندیاں عائد رہیں گی؟
،تصویر کا ذریعہMartin Rickett
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کورونا وائرس کی وبا کے پیشِ نظر برطانیہ میں نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔
قوم سے خطاب میں بورس جانسن نے کہا کہ جب ملک کورونا کی پہلی قسم کے وائرس سے لڑ رہا تھا تو ہم اس کے لیے اکھٹے کوششیں کر رہے تھے اور ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ خطرناک اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ ہمیں اب اور کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کورونا وائرس کی اس نئی قسم پر قابو پایا جا سکے اور ویکسین کو برطانیہ بھر میں تقسیم کیا جائے۔
برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہسپتال کورونا وائرس کی وبا کے آغاز کی نسبت اب زیادہ دباؤ میں ہیں۔
بچوں اور بڑوں کو گھر پر رہنے کی ہدایت
نئی پابندیوں کے تحت عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ گھر پر رہیں اور کام پر جانے اور ضروری اشیا کی خریداری کے لیے ہی گھر سے نکلیں۔
پرائمری اور سکینڈری سکولوں کو کل سے دوبارہ فاصلاتی طریقہ تعلیم یعنی آن لائن سسٹم پر عمل کرنے کو کہا گیا ہے۔
فروری کے وسط میں برطانیہ صورتحال کا از سر نو جائزہ لے گا۔
فروری کے وسط تک ہی برطانیہ میں کیئر ہومز ریذیڈینٹس، سوشل کیئر ورکرز، 70 یا اس سے زائد کی عمر کے افراد اور بہت کمزور افراد کو کورونا وائرس کے خلاف ویکسین کا ایک نسخہ دیا جائے گا۔
اس پابندی کے دوران اجتماعی عبادت اور گروپس کی صورت میں ورزش پر بھی پابندی عائد رہے گی۔
،تصویر کا ذریعہGareth Fuller
امتحانات ملتوی
برطانیہ میں امتحانات کا سلسلہ التوا میں رہے گا۔ وزیر اعظم بورس جانسن نے بھی یہ واضح کر دیا ہے کہ موسم گرما میں بھی یہ امتحانات اب عام انداز میں منعقد نہیں کیے جا سکیں گے کیونکہ کم از کم آدھی مدت کے لیے تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔
ایک حکومتی ذریعے نے بی بی سی نیوز کو بتایا ہے کہ اے لیول اور جی سی ایس ایز کے امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ وائرس کی نئی قسم تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے اب فاصلاتی نظام تعلیم کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
نیشنل ایجوکیشن یونین نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت ایسے اقدمات اٹھا کر افراتفری کا سا سماں پیدا کر رہی ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کے مطابق کورونا وائرس کی نئی قسم کے بارے میں سائنس دانوں نے کہا ہے کہ یہ 50 سے 70 فیصد تک زیادہ منتقلی کی صلاحیت رکھتا ہے اور ممکنہ طورپر زیادہ لوگ اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
آن لائن خریداری میں اضافہ
برطانیہ میں نئی پابندیوں کے اطلاق سے قبل لوگوں کا کتابوں اور ضروری اشیا کی خریداری کے لیے آن لائن ایپس پر دباؤ بڑھ گیا جس سے سپر مارکیٹ انتظامیہ کو مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
برطانیہ میں اس طرح کی کیفیت پہلی بار اس وبا کے آغاز میں مارچ کے مہینے میں بھی دیکھنے کو ملی تھی۔
بریکنگ, پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 59 ہلاکتیں
،تصویر کا ذریعہDC Peshawar
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 1947 کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ 59 اموات ہوئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق متاثرین میں سب سے زیادہ مریض دارالحکومت اسلام آباد میں وینٹی لیٹر ہر ہیں جس کا تناسب 46 فیصد ہے۔ ہسپتالوں میں سب سے زیادہ مریض پشاور میں داخل ہیں جہاں یہ تناسب 57 فیصد بتایا گیا ہے۔
پانچ جنوری کو ملک میں کورونا کے کل مریضوں کی تعداد 35707 ریکارڈ کی گئی ہے۔
ملک بھر میں صحتیاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 444360 ہے۔
’وہ دوسرے قیدیوں سے کہتے کہ اس سے بات نہ کرو یہ دہشت گرد ہے‘
انگلینڈ میں قومی سطح پر نئی پابندیوں کا اعلان
،تصویر کا ذریعہPA Media
برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کورونا وائرس کی وبا کے پیشِ نظر انگلینڈ میں نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔
قوم سے خطاب میں بورس جانسن نے کہا کہ جب ملک کورونا کی پہلی قسم کے وائرس سے لڑ رہا تھا تو ہم اس کے لیے اکھٹے کوششیں کر رہے تھے اور ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ خطرناک اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے یہ واضح ہے کہ ہمیں اب اور کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کورونا وائرس کی اس نئی قسم پر قابو پایا جا سکے اور ویکسین کو برطانیہ بھر میں تقسیم کیا جائے۔
انھوں نے بتایا کہ کورونا وائرس کی نئی قسم کے بارے میں سائنس دانوں نے کہا ہے کہ یہ 50 سے 70 فیصد تک زیادہ منتقلی کی صلاحیت رکھتا ہے اور ممکنہ طورپر زیادہ لوگ اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہسپتال کورونا وائرس کی وبا کے آغاز کی نسبت اب زیادہ دباؤ میں ہیں۔
خیال رہے کہ نئی پابندیوں کے تحت عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ گھر پر رہیں اور کام پر جانے اور ضروری اشیا کی خریداری کے لیے ہی گھر سے نکلیں۔
پرائمری اور سکینڈری سکولوں کو کل سے دوبارہ فاصلاتی طریقہ تعلیم یعنی آن لائن سسٹم پر عمل کرنے کو کہا گیا ہے۔
برطانیہ، جنوبی افریقہ سے پاکستان آنے والے مسافروں کو پانچ جنوری سے وطن آنے کی مشروط اجازت
،تصویر کا ذریعہepa
کورونا وائرس کی دوسری لہر کو دیکھتے ہوئے پاکستان کے
نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے نئے قواعد کی روشنی میں سول ایوی ایشن نے نئے قواعد
جاری کیے ہیں جن کے تحت برطانیہ سے پاکستان آنے والے مسافروں کے لیے سفری پابندیوں
میں 31 جنوری تک توسیع کر دی۔
البتہ سول ایوی ایشن کے مطابق برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں
موجود پاکستانیوں کو پانچ جنوری سے پاکستان آنے کی مشروط اجازت ہو گی۔
دوہری شہریت کے حامل مسافروں کو سفر کی اجازت دے دی گئی ہے
جبکہ برطانیہ میں مقیم قلیل مدتی ویزہ والے پاکستانی مسافر بھی وطن واپس آ سکیں گے۔
سی اے اے کے مطابق ورک پرمٹ ویزے پر کام کرنے والے تمام پاکستانی
پاسپورٹ کے حامل شہری اور سفارتکار بھی پابندی سے استثنی ہوں گے جبکہ نائیکوپ اور پی
او سی کارڈ ہولڈرز بھی پاکستان کا سفر کرسکیں گے۔
تاہم سی اے اے کے مطابق برطانیہ سے آنے والے مسافروں کو سفر
سے قبل کورونا ٹیسٹ لازمی کروانا ہو گا اور پاکستان پہنچنے پر ڈس انفیکشن کے بعد مسافروں
کے ٹیسٹ لیے جائیں گے۔
سفارتکاروں کو بھی سفر سے 72 گھنٹے قبل کورونا ٹیسٹ کروانا
لازمی ہو گا اور پاکستان پہنچنے پر سفارتکاروں اور ان کی فیملیز کا دوبارہ ٹیسٹ لیا
جائے گا۔
رپورٹ منفی آنے کی صورت میں مسافروں کو پانچ دن قرنطینہ میں
گزارنا ہوں گے۔
بریکنگ, پاکستان کا تین مراحل میں تعلیمی ادارے دوبارہ کھولنے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہPTV
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا کہ صوبوں اور متعلقہ حکام سے مشورے کے بعد یہ فیصلہ ہوا ہے کہ نویں سے بارویں تک کلاسز کے لیے تعلیمی ادارے کھول دیے جائیں گے۔
25 جنوری سے پرائمری سے آٹھویں تک کلاسز کے طلبا سکول آنا شروع کر دیں گے جبکہ یکم فروری سے تمام یونیورسٹیاں کھول دی جائیں گی۔
وفاقی وزیر تعلیم کے مطابق بورڈ کے امتحانات مئی اور جون میں ہو سکیں گے۔
شفقت محمود نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ تعلیمی ادارے 11 جنوری سے آن لائن کلاسز کا آغاز کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں کورونا وائرس سے مزید 39 افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 39 افراد ہلاک ہو گئے۔ اس وائرس سے سب سے زیادہ ہلاکتیں صوبہ سندھ میں ہوئیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 28 افراد وینٹیلیٹر پر تھے۔
اس وقت پاکستان میں کورونا وائرس متاثرین کی کل تعداد 35,722 بنتی ہے۔
بریکنگ, انڈیا نے کورونا وائرس ویکسین کی منظوری دے دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا نے ہنگامی بنیادوں پر کورونا وائرس کے خلاف دو مختلف اقسام کی ویکسین کے استعمال کی منظوری دے دی ہے۔
انڈیا کی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے آکسفورڈ یونیورسٹی کی تیار کردہ آسٹرا زینیکا اور ایک مقامی کمپنی بھارت بائیوٹیک کی تیار کردہ ویکسین کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔
انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے اسے ’ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔‘
اس سال انڈیا ترجیحی بنیادوں پر 30 کروڑ افراد کو یہ ویکسین لگائے گا۔ امریکا کے بعد انڈیا کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے جہاں اس وقت اس وائرس کے متاثرین کی تعداد ایک کروڑ اور تین لاکھ ہے جبکہ تقریباً ڈیڈھ لاکھ افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
خیال رہے کہ سنیچر کو انڈیا نے 90 ہزار سے زائد ہیلتھ کیئر ورکرز کی اس ویکسین کی ملک بھر تک ترسیل کے سلسلے میں مشق کرائی ہے۔ انڈیا کی کل آبادی ایک ارب اور 30 کروڑ بنتی ہے۔
2020: وبا کے دوران محدود فضائی سفر کے باوجود حادثاتی اموات میں اضافہ
’اہلیہ کی آکسیجن کے لیے 40 ہزار روپے قرض لے چکا ہوں‘
چینی معیشت 2028 میں کیوں امریکہ سے آگے نکل جائے گی؟
چین کی ویکسین کتنی مختلف اور کتنی موثر ہیں؟
2021: دنیا کے بعض ممالک میں پابندیوں کے سائے میں نئے سال کا آغاز
پاکستان چین کی کمپنی سائنوفارم سے ویکسین کی بارہ لاکھ خوراکیں خریدے گا
وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فود چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان چین کی کمپنی سائنوفارم سے ویکسین کی بارہ لاکھ خوراکیں خریدے گا۔
ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا: ’کابینہ کمیٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ابتدائی طور پر چین کی کمپنی سائنوفارم سے ویکسین کی بارہ لاکھ خوراکیں خریدی جائیں گی جو 2021 کی پہلی سہ ماہی میں فرنٹ لائن ورکرز کو مفت مہیا کی جائیں گی، پرائیویٹ سیکٹر اگر کوئی اور بین الاقوامی طور پر منظور شدہ ویکسین امپورٹ کرنا چاہےتو وہ بھی کر سکتا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔