فائزر کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر

تازہ تحقیق میں بات سامنے آئی ہے کہ ادویات بنانے والی عالمی کمپنیوں فائزر اور بائیو این ٹیک کی ویکسین کورونا وائرس کی نئی اقسام کے خلاف بھی کارگر ہیں۔ ادھر جان ہاپکنز یونیورسٹی اور امریکی میڈیا کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں پہلی بار ایک دن میں چار ہزار اموات ہوئی ہیں۔

لائیو کوریج

  1. ایبٹ آباد: آبادی کے اعتبار سے 40واں شہر کورونا کے اعتبار سے پہلے نمبر پر کیسے؟

  2. آکسفرڈ کی آسٹرا زینیکا ویکسین کو برطانیہ میں استعمال کی منظوری دے دی گئی

    آکسفرڈ کی آسٹرا زینیکا ویکسین کو برطانیہ میں استعمال کی منظوری دے دی گئی ہے۔ کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر اس ویکسین کی پہلی خوراکیں سوموار سے دی جائیں گی۔

    برطانیہ نے اس ویکسین کی دس کروڑ خوراکوں کا آرڈر دیا ہے جس سے 50 کروڑ افراد کو یہ ویکسین مہیا آ سکے گی۔

    برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے ویکسین کی اس پیشرفت کو برطانوی سائنس کی ’فتح‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’اب ہم زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جلد از جلد یہ ویکسین مہیا کریں گے۔‘

    واضح رہے کہ منگل کے روز برطانہ میں کورونا کے 53153 نئے کیس سامنے آئے تھے جو ایک دن میں سامنے آنے والے اب تک کے سب سے زیادہ کیس ہیں۔

    ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  3. بریکنگ, کورونا وائرس: پاکستان میں اموات 10 ہزار سے تجاوز کر گئیں

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گذشتہ روز پاکستان میں کورونا وائرس 55 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد ملک میں کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

    یاد رہے کہ ملک میں کورونا وائرس کے باعث پہلی ہلاکت رواں برس مارچ میں ہوئی تھی۔

    ملک میں گذشتہ روز کورونا وائرس سے 2155 افراد متاثر ہوئے تھے۔

  4. کووڈ کے دوران سردیوں میں مطمئن، مثبت اور پرامید رہنے کے پانچ طریقے

  5. بریکنگ, برطانیہ: ایک دن میں کورونا کے 53 ہزار سے زیادہ نئے کیس

    برطانوی حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق منگل کے روز ملک میں کورونا وائرس کے ریکارڈ 53135 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔

    واضح رہے کہ گذشتہ روز کورونا کے 41385 نئے کیس جبکہ 357 اموات سامنے آئی تھیں۔

    یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اپریل میں وائرس کی پہلی لہر میں انفیشکن کی شرح تھی لیکن صحیح تعداد کا پتا لگانے کے لئے ٹیسٹنگ صلاحیت بہت محدود تھی۔

    برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

  6. ایسا ٹیسٹ جو 40 منٹ میں کورونا وائرس کی تشخیص کر سکتا ہے

    جرمنی میں وزارت صحت نے مُلک میں کورونا وائرس کے ایک ایسے ٹیسٹ کی اجازت دے دی ہے جس کی مدد سے صرف 40 منٹ میں یہ پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ آیا کس کو کورونا وائرس ہے اور کسے نہیں۔

    جی این اے بائیو سلوشنز نامی ایک بائیو ٹیکنالوجی کمپنی کے مطابق اس ٹیسٹ کا انحصار بھی پی سی آر ٹیسٹ پر ہے۔

    دو کلو سے بھی کم وزن والی یہ ٹیسٹنگ مشین ایک ہی وقت میں آٹھ سیمپلز کی جانچ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اُنھیں اُمید ہے کہ یورپی یونین اس نئے طریقہ کار کے استعمال کی باضابطہ منظوری تین ماہ میں دے دے گی۔

  7. اتنی جلد کوئی ویکسین کیسے آ گئی؟

    برطانیہ اور دیگر ممالک نے بڑے پیمانے پر ویکسین فراہم کرنے کی مہم شروع کردی ہے۔ اس مہم کے تحت ٹیکے کے ذریعے لوگوں کو ویکسین لگائی جارہی ہے تاکہ وہ کورونا وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔

    لیکن ویکسین بنانے کاعمل جسے عمومی طور پر 10 سے زیادہ برس لگ جاتے ہیں، ایک سال سے کم وقت میں کیسے تیار ہوگئی؟

    اس سوال کا جواب بی بی سی کی لارا فوسٹر نے تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔

  8. خیبر پختونخوا: برطانیہ سے آنے والے مسافروں میں سے پانچ افراد میں کورونا کی تصدیق, وائرس کی نئی قسم کی شناخت کے لیے نمونے این آئی ایچ بھجوا دیے گئے

    bbc

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں برطانیہ سے آنے والے مسافروں میں سے پانچ میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے لیکن اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان میں کووڈ 19 وائرس کی وہ قسم بھی شامل ہے جو برطانیہ میں پھیل چکی ہے یا نہیں۔

    محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ خیبرپختونخوا میں اب تک پانچ ایسے افراد میں کووڈ 19 وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جو حال ہی میں برطانیہ سے آئے ہیں ۔ ان میں سے چار متاثرین پشاور اور ایک ایبٹ آباد میں ہیں۔

    حکام نے بتایا کہ ان افراد کے نمونے این آئی ایچ بھیجے گئے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ کہیں ان میں کووڈ 19 وائرس کی وہ قسم تو شامل نہیں ہے جو برطانیہ میں پھیل چکی ہے۔

    حکام کا کہنا تھا کہ ان کے ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    خیبر پختونخوا میں برطانیہ سے آنے والے 27 افراد کے نمونے بھیجے گئے تھے جن میں سے پانچ میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    حالیہ عرصے میں برطانیہ سے تقریباً 149 مسافروں نے خیبر پِختونخوا کا سفر کیا ہے اور ان میں سے 44 کی شناخت ہو چکی ہے جبکہ باقی کو تلاش کیا جا رہا ہے۔

  9. فضائی ٹریفک میں 67 فیصد کمی: 2020 ہوا بازی کی صنعت کے لیے تباہ کن سال رہا

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فضائی صنعت سے وابستہ ایک تجزیہ کار کے مطابق، گذشتہ سال کے مقابلے میں 2020 میں ایئر لائن مسافروں کی آمدورفت کے تخمینے میں 67 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

    ہوا بازی کے تجزیہ کار سیریم کے چیف ایگزیکٹو، جیریمی بوون نے کہا ہے کہ یہ حقیقت ہے کہ رواں سال ’ہوا بازی کی صنعت کے لیے تباہ کن‘ رہا۔

    انھوں نے کہا ’ہم نے دیکھا ہے کہ 21 سالوں سے ہونے والی ترقی پر چند مہینوں نے پانی پھیر دیا۔‘

    مسٹر بوون نے کہا کہ 2019 میں آدھی پروازیں اڑیں اور صرف ایک تہائی مسافروں نے سفر کیا۔

    انھوں نے کہا ’اس وقت ہم دیکھ رہے ہیں کہ دنیا میں ہر جگہ بین الاقوامی سفر کم ہورہا ہے لیکن ایشیائی خطے میں اندرونِ ملک سفرمیں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے خاص طور پر چین میں۔‘

    ’اس وقت چین میں اندرونِ ملک سفر ریکارڈ سطح پر ہے۔‘

    bbc
  10. کورونا کے بعد اگلی وبا کہاں سے پھوٹے گی؟

    کورونا وائرس نے دنیا بھر کی معیشت اور بہت سی زندگیوں کو متاثر کیا ہے، مگر ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ کسی وائرس نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہو۔

    سارس، سوائین فلو اور ایبولہ وائرس جیسی کئی مہلک بیماریوں نے اس صدی کے آغاز پر دنیا کو پریشان کیا۔

    کئی سو ایسے نئے وائرس جانوروں میں موجود ہیں جو انسانوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور محققین ان کے بارے میں معلومات جمع کرنے میں مصروف ہیں۔ مگر کیا ہم ان خطرات کو نظر انداز کر سکتے ہیں؟

  11. روسی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ملک میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین گنا زیادہ ہے

    russia

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    روسی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ اس سال ملک میں تجاوز کرنے والی 80 فیصد اموات کورونا وائرس کے باعث ہوئی ہیں۔

    روسی نائب وزیر اعظم تاتیانہ گولیکووا نے کہا ہے کہ روسی حکومت کے محکمہ شماریات کے مطابق جنوری سے نومبر تک سال 2019 کے مقابلے میں 223000 سے زیادہ اموات ہوئی ہیں۔

    اس تعداد کو اگر ملک میں ہونے والی اب تک کورونا وائرس کی تصدیق شدہ اموات میں شامل کیا جائے تو مجموعی تعداد 186000 سے زیادہ ہو جاتی ہے۔

    اس اضافے سے قبل سرکاری طور پر روس میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 55000 کے قریب تھی۔

    اس اضافے کے بعد روب سب دنیا میں اموات کے اعتبار سے تیسرے سب سے متاثرہ ملک ہے۔

    واضح رہے کہ روس نے اپنے ملک میں کورونا وائرس سے مقابلے کی ویکسین سپٹنک تیار کر لی ہح اور عوام میں اس کا استعمال شروع ہو چکا ہے۔

  12. انڈیا میں بھی کورنا وائرس کی نئی قسم کے متاثرین کی تشخیص

    covid

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانیہ سے شناخت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کے متاثرین کی اب انڈیا میں بھی تشخیص ہوگئی ہے جب برطانیہ سے لوٹنے والے چھ مسافروں کے نمونے نئی قسم والے وائرس کی ساخت سے مشابہت رکھتے تھے۔

    انڈین حکام نے مسافروں کو علیحدہ کر دیا ہے اور ان کے ملنے والوں سے رابطہ کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ ان کے بھی ٹیسٹس کیے جائیں۔

    انڈین حکومت نے کہا ہے کہ برطانیہ سے لوٹنے والے ہر مسافر کو پی سی آر ٹیسٹ کرانا لازمی ہوگا اور اگر مثبت نتیجہ آیا تو حکومتی لیباریٹری یہ جانچ کرے گی کہ وہ سیمپل برطانیہ سے ملنے والی قسم سے مشابہت رکھتا ہے یا نہیں۔

    گذشتہ مہینے برطانیہ سے 33 ہزار کے قریب مسافر انڈیا آئے ہیں جن میں سے 114 میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے اور ان کے نمونوں کو مزید تجزیہ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔

    اس نئی قسم کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ تیزی سے منتقل ہوتا ہے لیکن اس کے زیادہ موذی ہونے کے بارے میں حتمی رائے نہیں ہے۔

    انڈیا میں ایک کروڑ سے زیادہ متاثرین کی تشخیص ہو چکی ہے اور امریکہ کے بعد دنیا کے سب سے زیادہ متاثرین انڈیا میں ہیں۔

  13. بریکنگ, مثبت آنے والے تین نمونوں کی ساخت کورونا وائرس کی نئی قسم سے 95 فیصد مشابہت رکھتی ہے: محکمہ صحت صوبہ سندھ

    covid

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    منگل کو سندھ حکومت کے محکمہ صحت کے مطابق برطانیہ سے کراچی لوٹنے والے 12 مسافروں کے کیے گئے ٹیسٹس میں سے مثبت آنے والے چھ نمونوں میں سے تین نمونوں کی ساخت کورونا وائرس کی نئی قسم سے 95 فیصد مشابہت رکھتے ہیں۔

    محکمہ صحت سندھ کی ترجمان نے کہا کہ ان سیمپلز کی ساخت 95 فیصد تک برطانیہ میں ملنے والے وائرس سے ملتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان مسافروں سے ملنے والوں کو کونٹیکٹ ٹریس کیا جا رہا ہے تاکہ انھیں علیحدہ کیا جا سکے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  14. ’اگر انھوں نے سوچا ہوتا تو آج میری بیٹی اور اہلیہ زندہ ہوتیں‘

  15. کورونا وائرس کی وبا آخر کب ختم ہوگی؟

    کورونا وائرس کی وجہ سے اب دنیا بھر میں اربوں لوگ لاک ڈاؤن کی وجہ سے اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں۔ معیشتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کروڑوں افراد بے روزگار ہوئے ہیں۔مگر کیا یہ وبا کبھی ختم ہوگی اور اگر ہاں تو اس میں کتنا عرصہ لگ سکتا ہے، دیکھیے اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  16. فلپائنی صدر کی سکیورٹی ٹیم کو غیر منظور شدہ ویکسین لگائی گئی

    EPA

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    فلپائن کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے صدر روڈریگو ڈوڑٹی کی سکیورٹی ٹیم کے ممبروں کو چینی ساختہ غیر منظور شدہ ویکسین دیے جانے کے بعد دیگر ایسی غیر منظور شدہ ویکسینز کے استعمال کے خلاف انتباہ جاری کیا ہے ۔

    ایف ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے ایک بیان میں کہا ’ویکسینز کی منظوری صرف اس صورت میں دی جائے گی جب کوئی مناسب سائنسی ثبوت موجود ہو جس سے یہ ظاہر کیا جاسکے کہ اس سے فائدہ زیادہ ہے۔‘

    ایف ڈی اے کی طرف سے ابھی تک کسی کورونا وائرس ویکسین کو گرین لائٹ نہیں دی گئی ہے۔

    اے ایف پی نیوز ایجنسی کے مطابق، ملک کی صدارتی سیکیورٹی ٹیم کے سربراہ نے پیر کے روز کہا کہ ڈوورٹے کے ساتھ قریبی رابطے میں آنے والے کارکنوں کو سینوفرم جب سے حفاظتی ٹیکے لگائے گئے تھے، لیکن انھوں نے مزید کہا کہ صدر ابھی تک ’سب سے زیادہ موثر ویکسین کے منتظر ہیں۔‘

    جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق، فلپائن میں وبائی بیماری شروع ہونے کے بعد سے اب تک470،000 سے زیادہ کورونا وائرس متاثرین اور 9،124 اموات کی اطلاعات ہیں۔

  17. چین: ووہان سے وائرس کی ابتدا سے متعلق رپورٹنگ دینے والی خاتون صحافی کو چار سال قید کی سزا

    Youtube Screen Shot

    ،تصویر کا ذریعہYoutube Screen Shot

    ژانگ ژان نامی چینی صحافی، جنھوں نے گذشتہ سال کورونا وائرس کے آغاز کے بارے میں چینی شہر ووہان سے رپورٹنگ کی تھی، چینی حکام نے انھیں چار سال کے لیے قید کی سزا سنائی ہے۔

    حکام نے ژانگ ژان پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے عوام کو اپنی رپورٹنگ کے ذریعے مشتعل اور پریشان کرنے کی کوشش کی۔

    چین میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف اس طرح کی دفعات لگائی جاتی ہیں۔

    ژان، ایک 37 سالہ سابق وکیل ہیں۔ انھیں مئی میں حراست میں لیا گیا تھا اور وہ کئی ماہ سے بھوک ہڑتال پر تھیں۔

    ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کی طبیعت خراب ہے۔

    ژانگ ژان نے ووہان شہر کی انتظامیہ پر کورونا وائرس کے خلاف لیے گئے ابتدائی اقدامات پر تنقید کی تھی۔

  18. کورونا وائرس اور سیکس ورکر کے ادھورے خواب

    دنیا بھر میں سیکس انڈسٹری میں کام کرنے والوں کی زندگیاں کورونا وائرس اور اس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاوٴن کے باعث متاثر ہوئی ہیں۔

    اس وبا کے پھیلنے سے پہلے دلی کی لتا کو امید تھی کہ وہ یہ کام چھوڑ دیں گی۔ لیکن لاک ڈاوٴن کی وجہ سے ان کو یہ خواب ترک کرنے پڑے۔

    لتا کی زندگی کے بارے میں مزید جانیے اس ویڈیو میں۔

  19. برطانیہ: مزید 40 ہزار افراد میں وائرس کی تشخیص

    getty

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانوی حکومت کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق، برطانیہ بھر میں مزید 41،385 افراد میں کووڈ 19کی تصدیق ہوئی ہے۔

    مزید 357 ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔

    اس کے علاوہ مزید 2143 افراد کو ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔

  20. کورونا وائرس: بیٹ وومن کہلائے جانے والی چینی سائنسدان شی زینگلی اپنی لیبارٹری کا دورہ کروانے کے لیے تیار, جان سڈورتھ بی بی سی نیوز، یونن

    GETTY IMAGES

    ،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

    چین کے شہر ووہان کی اُس لیبارٹری سے تعلق رکھنے والی سائنسدان جن پر الزام ہے کہ اُن کی لیبارٹری کی غفلت سے کورونا وائرس باہر پھیلا، نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس الزام کو غلط ثابت کرنے کے لیے ماہرین کے 'کسی بھی طرح کے دورے' کے لیے تیار ہیں۔

    پروفیسر شی زینگلی کا حیرت انگیز بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی ادارہ صحت کی ٹیم آئندہ ماہ ووہان جانے کی تیاری کر رہی ہے تاکہ کووڈ 19 کی وبا کے آغاز کی تحقیقات کر سکے۔

    چین کے جنوب مغربی صوبے یونن کے دور دراز ضلع ٹونگوان پہنچنا عموماً مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جب حال ہی میں بی بی سی کی ایک ٹیم نے وہاں جانے کی کوشش کی تو یہ علم ہوا کہ یہ ناممکن تھا۔

    بے نشان کاروں میں سادہ لباس پولیس اہلکار اور دیگر عہدیدار تنگ اور خراب سڑکوں پر کئی میل تک ہمارا پیچھا کرتے رہے۔ جب ہم رکتے تو وہ رک جاتے اور جب ہمیں واپس آنے پر مجبور کیا گیا تب وہ بھی ساتھ ہی پیچھے مڑ گئے۔ مزید پڑھیے اس رپورٹ میں۔