انڈیا کے ’یوگا گرو‘ کا کورونا کا علاج تلاش کرنے کا دعویٰ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کے معروف یوگا گرو بابا رام دیو کے کورونا وائرس کا آیورویدک علاج ڈھونڈنے کے دعوے پر طبی ماہرین نے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رواں ہفتے بابا رام دیو کو ایک تشہیری ویڈیو میں اپنی کمپنی پتانجلی کے بنائے پودے کے نمونے کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ ویڈیو میں زعفرانی رنگ کے کپڑے پہنے بابا رام دیو کا کہنا تھا ’ہم نے آشواگندھا پر سائنسی تحقیق کی ہے اور پایا ہے کہ یہ کورونا پروٹین کو انسانی پروٹین سے ملنے نہیں دیتا۔‘
انھوں نے اس سائنسی تحقیق کا کوئی ثبوت تو فراہم نہیں کیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ تحقیق ایک بین الاقوامی جریدے کو بھیج چکے ہیں، جس کا انھوں نے نام نہیں بتایا۔
فی الوقت کووِڈ-19 کا علاج یا اس کی روک تھام کے لیے کوئی ویکسین یا دوا منظور نہیں کی گئی ہے اور تمام دوائیں اور ویکسینز اب تک صرف تحقیقی مرحلے میں ہیں۔
انڈیا کی پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن کے پروفیسر ڈاکٹر گیریدھر بابو نے بابا رام دیو کے کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کے دعوے پر حکومت سے ایسی تشہیر پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے ’اس طرح کے پیغامات لوگوں کو تحفظ کی جھوٹی اُمید فراہم کرتے ہیں۔ جو لوگ تعلیم یافتہ نہیں ہیں وہ اس سے گمراہ ہوسکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ اس طرح کے معاملات میں بظاہر بے ضرر محسوس ہونے والی ٹویٹ بھی لوگوں کو الجھا سکتی ہے۔
بابا رام دیو اور پتانجلی کو اس حوالے سے کئی ای میلز بھیجی گئیں اور فون کالز بھی کی گئیں لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔
دوسری جانب بابا رام دیو نے یوگا فار کورونا کے ہیش ٹیگ کے ساتھ سلسلہ وار ٹویٹس میں انڈیا کی عوام کو یوگا کے ذریعے قوت مدافعت میں اضافے کی ترغیب دی ہے۔
آیورویدک ادویات کے شعبے میں پتانجلی کمپنی کا شمار انڈیا کے معروف ترین برانڈز میں ہوتا ہے جو اپنی ادویات کے ذریعے عوام کو قوت مدافعت بڑھانے کی تشہیر کر رہی ہے تاکہ وہ خود کو کورونا وائرس سے محفوظ رکھ سکیں۔
آیوروید جڑی بوٹیوں پر مبنی دواؤں، ورزش اور غذائی ہدایات پر مبنی ایک قدیم نظام ہے۔


















