آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ، قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دیا

طالبان نے افغانستان میں مزاحمت کے آخری گڑھ پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے ’جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ بی بی سی آزادانہ طور پر دونوں فریقین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, امریکہ کا افغانستان سے 20 سالہ جنگ کے بعد انخلا مکمل: پینٹاگون

    پینٹاگون کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ امریکہ کی افواج کا افغانستان سے انخلا مکمل ہو چکا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل میکنزی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ اس طیارے کی تصاویر کچھ ہی دیر میں میڈیا سے شیئر کر دی جائیں گی۔ تاہم یہ طیارہ کہاں اترے گا اس حوالے سے تفصیلات سکیورٹی وجوہات کی بنا پر شیئر نہیں کی جا سکتیں۔

  2. بریکنگ, پینٹاگون بریفنگ کچھ ہی دیر میں۔۔۔

    اس وقت ہمیں غیر مصدقہ اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ افغانستان سے امریکی انخلا کی آخری پرواز کابل ایئرپورٹ سے روانہ ہو چکی ہے جس سے ممکنہ طور پر امریکہ کی افغانستان میں 20 سالہ موجودگی کا خاتمہ ہو چکا ہے۔

    پینٹاگون کی جانب سے نیوز بریفنگ کا آغاز کچھ ہی دیر میں ہونے والا ہے۔

  3. اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں افغانستان سے ڈیڈلائن کے بعد مزید افراد کے انخلا سے متعلق قرارداد منظور

    اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرارداد منظور کی گئی ہے جس میں طالبان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افغانستان سے لوگوں کا محفوظ انخلا کو یقینی بنائیں۔

    یہ قرارداد فرانس اور برطانیہ کی جانب سے پیش کی گئی تھی جس میں ایک محفوظ زون بنانے پر زور دیا گیا ہے جس کے ذریعے کابل ایئرپورٹ سے کچھ افغانوں کو 31 اگست کے امریکی فوج کے انخلا کے بعد بھی ملک سے باہر نکلنے کی سہولت میسر ہو گی۔

    اس قرارداد کی حمایت 13 ممالک نے کی جبکہ چین اور روس نے ووٹ دینے سے گریز کیا۔

    میٹنگ سے قبل فرانسیسی صدر امینوئل میکخواں کا کہنا تھا کہ مزید افراد کے انخلا سے متعلق طالبان سے مذاکرات جاری ہیں۔

    اس قرار داد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک یا دہشتگرد گروہ کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

  4. کچھ امریکی شہری اب بھی افغانستان میں ہیں جو واپس آنا چاہتے ہیں: وائٹ ہاؤس

    وائٹ ہاؤس کے مطابق افغانستان میں اب بھی ’کچھ‘ امریکی شہری موجود ہیں جو واپس آنا چاہتے ہیں۔

    امریکی حکومت کی پریس سیکریٹری کا کہنا ہے کہ حکام ان امریکی شہریوں کی تعداد کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو ایک اندازے کے مطابق قدرے کم ہے۔

    انھوں نے مزید کہا ہے کہ حکام افغانستان میں موجود امریکی شہریوں کو فون اور مسیج کر کے ان سے پوچھ رہے ہیں کہ آیا وہ واپس آنا چاہتے ہیں۔

    اس سے قبل قومی سلامتی کے مشیر جیک سلوون نے ان امریکی شہریوں کی تعداد 300 کے قریب بتائی تھی۔

    امریکی حکومت کی پریس سیکریٹری کے مطابق کچھ امریکی شہری، جو افغانستان میں موجود ہیں، وہ دوہری شہریت رکھتے ہیں اور بعض نے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا کہ آیا وہ واپس امریکہ آنا چاہتے ہیں یا نہیں۔

    14 اگست سے لے کر اب تک قریب چھ ہزار امریکیوں کا انخلا مکمل ہوچکا ہے۔

  5. برطانیہ کی مستحق افغانوں کو پناہ دینے کے لیے تعاون کی اپیل

    برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ نے جی سیون ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ مستحق لوگوں کو افغانستان سے محفوظ طریقے سے لانے کے لیے سب ایک ساتھ کام کریں۔

    ڈومینیک راب نے کہا کہ طالبان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دیں گے جو جانا چاہتے ہیں مگر اس سلسلے میں اقدامات پر ہی ان سے متعلق کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔

    برطانیہ کا فوجی انخلا مکمل ہوچکا ہے مگر برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مستحق لوگوں کو پناہ حاصل کرنے میں مدد کرے گی۔

    راب کے بیانات ایک ایسے وقت میں آئے ہیں جب امریکہ نے جی سیون ممالک کا ایک ورچوئل اجلاس بلایا ہے۔ اس میں کینیڈا، جاپان، جرمنی، فرانس اور اٹلی کے علاوہ نیٹو اور یورپی یونین بھی شامل ہیں۔

    ترکی اور قطر کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مغربی ممالک کے مقابلے طالبان پر زیادہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ وہ بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔

  6. اقوام متحدہ کا طالبان سے خواتین اور لڑکیوں کے تحفظ کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کی متعدد کمیٹیوں نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

    اقوام متحدہ کے دو ادارے، جو خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرتے ہیں، نے پیر کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ انھیں تعلیم، صحت، انسانی حقوق، صحافت، سرکاری ملازمین اور دیگر شعبوں میں خواتین اور لڑکیوں پر حملوں اور انھیں محدود رکھنے کی اطلاعات پر تشویش ہے۔

    طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد کام اور تعلیمی شعبوں میں خواتین کو حقوق دینے کا وعدہ کیا ہے۔

    مگر ان کمیٹیوں نے اب طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے وعدوں کی تکمیل کریں۔ اقوام متحدہ نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ طالبان خواتین کو ان کے حقوق اپنی سخت گیر اسلامی شریعت اور تشریح کے مطابق دینا چاہتے ہیں۔

    افغانستان میں سنہ 1990 کی دہائی میں طالبان کی حکومت کے دوران لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں تھی۔ خواتین صرف برقعہ پہن کر گھروں سے نکل سکتی تھیں اور ان کے لیے لازم تھا کہ گھروں سے باہر ان کے ساتھ ایک مرد موجود ہو۔

  7. دولت اسلامیہ کے خلاف اتحاد کا اس ’ظالمانہ دہشتگرد گروہ‘ کو شکست دینے کا عزم

    نام نہاد دولت اسلامیہ کے خلاف 83 ممالک کے اتحاد نے اس ’ظالمانہ دہشتگرد گروہ‘ کے خلاف لڑائی جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ دولت اسلامیہ خراسان نے کابل ایئرپورٹ پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    امریکی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم فوجی، انٹیلیجنس، سفارتی، معاشی اور قانون کے نفاذ سمیت قومی قوت کے ذریعے یہ یقینی بنائیں گے کہ اس ظالمانہ دہشتگرد گروہ کو شکست دیں گے۔‘

    اس بیان میں کہا گیا کہ اس کے اراکین کی نشاندہی کر کے انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔

    دولت اسلامیہ خراسان نے پیر کو کابل ایئرپورٹ پر راکٹ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جسے امریکی اینٹی میزائل سسٹم نے روکا تھا۔

    جمعرات کو دولت اسلامیہ خراسان نے کابل ایئرپورٹ پر خودکش دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں 13 امریکی فوجیوں اور 170 سے زیادہ افغان شہریوں کی ہلاکت ہوئی۔

  8. کابل میں خودکش بم دھماکے سے قبل امریکی فوج نے ’بڑے حملے‘ کی تنبیہ جاری کی تھی

    ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق امریکی فوج نے کابل ایئرپورٹ پر خوفناک خودکش دھماکے سے 24 گھنٹے قبل کابل میں بڑے حملے کی تنبیہ جاری کی تھی۔

    پینٹاگون کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے پولیٹیکو کے مطابق جوائنٹ چیف آف سٹاف جنرل مارک میلی نے کمانڈروں سے کہا تھا کہ دولت اسلامیہ خراسان کی جانب سے حملے سے متعلق ’اہم‘ انٹیلیجنس موصول ہوئی ہے۔

    اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکی حکام نے ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ کو بند کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ وہی گیٹ ہے جہاں دھماکہ پیش آیا۔

    پولیٹیکو کے مطابق امریکی فوجیوں نے گیٹ کھولے رکھا تاکہ قریبی بیرن ہوٹل سے برطانوی اہلکار ایئرپورٹ میں داخل ہوسکیں۔

    جمعرات کو اس حملے میں 170 سے زیادہ افغان شہری ہلاک ہوئے تھے جن میں 13 امریکی فوجی شامل ہیں۔

    اب تک کابل سے ایل لاکھ 22 ہزار لوگوں کو خصوصی پروازوں کے ذریعے نکالا جاچکا ہے جن میں 5400 امریکی شہری شامل ہیں۔

  9. امریکہ طالبان کے ساتھ ’موجودہ آپریشنز سے متعلق غلط فہمی دور کرے گا‘

    پینٹاگون نے اپنی بریفننگ میں یہ واضح طور پر نہیں بتایا کہ امریکی انخلا کا عمل کب تک جاری رہے گا اور آیا یہ 31 اگست کی ڈیڈلائن کے بعد بھی جاری رکھا جائے گا۔

    اس نے اس حوالے سے بھی میڈیا کو آگاہ نہیں کیا کہ مستقبل میں امریکہ کیسے طالبان کے ساتھ مل کر دولت اسلامیہ کے خلاف ڈرون حملے کرے گا۔

    پینٹاگون کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا کہ ’صدر (بائیڈن) نے واضح کیا ہے کہ ہم دہشتگردی کے خلاف اپنی صلاحیت برقرار رکھیں گے۔ یہ وہی صلاحیت ہے جو آپ گذشتہ 24 سے 36 گھنٹوں کے دوران دیکھ رہے ہیں۔‘

    ’میں نہیں سمجھتا کہ مستقبل میں دہشتگردی کے خلاف صلاحیت پر ہمارا بات کرنا صحیح ہوگا۔ یا اس بارے میں کہ ہم انخلا کس طرح جاری رکھیں گے۔‘

    جان کربی کا کہنا تھا کہ امریکہ طالبان رہنماؤں سے بات چیت کر رہا ہے تاکہ لڑائی ختم کی جاسکے اور موجودہ آپریشنز سے متعلق غلط فہمی دور ہوسکے۔

  10. ’افغانستان سے امریکی انخلا خطرناک مرحلے میں ہے‘, پینٹاگون کے ترجمان کا بیان

    پینٹاگون ترجمان جان ایف کربی نے اس سوال کا جواب دینے سے انکار کیا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے گرد کتنے دروازے لوگوں کی آمد کے لیے کھلے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ہمیشہ سے ایک خطرناک آپریشن رہا ہے لیکن خاص کر ابھی ہم آخری مرحلے میں ایک خطرناک وقت سے گزر رہے ہیں۔۔۔ (کابل ایئرپورٹ پر) خطرہ اب بھی منڈلا رہا ہے اور کئی کیسز میں یہ مخصوص ہے۔‘

    انھوں نے کہا ہے کہ افواج کے مسلسل انخلا کے دوران امریکہ کے پاس ایسی صلاحیت موجود ہے کہ وہ عام لوگوں کی واپسی کا آپریشن بھی جاری رکھ سکے۔

    تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا طالبان کی جانب سے دی گئی 31 اگست کی ڈیڈلائن کے دن بھی مزید پروازیں روانہ کی جائیں گی۔

    ڈرون حملے میں شہری ہلاکتوں پر جان کربی کا کہنا تھا کہ ’اس دنیا میں کوئی بھی فوج شہری آبادی کی ہلاکت روکنے کے لیے امریکی فوج سے زیادہ محنت نہیں کرتی۔ کوئی بھی نہیں چاہتا کہ کسی معصوم شخض کی جان لی جائے۔

    ’ہم اسے بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور جب ہم یہ جانتے ہیں کہ ہماری کارروائی کے دوران ایک معصوم جان لی گئی ہے، ہم اس کی شفاف تحقیقات کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے اس انٹیلیجنس معلومات کا دفاع کیا ہے کہ کابل ایئرپورٹ، امریکی فوجیوں اور افغان شہریوں کو اس وقت خطرہ لاحق تھا۔

    پینٹاگون کے پریس سیکریٹری سے پوچھا گیا ہے کہ امریکہ کس طرح ڈرون حملے میں شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کرے گا۔ ان کا جواب تھا کہ ’ہم معلومات کے مختلف ذرائع دیکھ رہے ہیں۔ اور ہم پریس رپورٹنگ جمع کر رہے ہیں اور اپنے طور پر صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

    ’اس میں طالبان کے ساتھ ہماری بات چیت بھی شامل ہے کہ انھوں نے کیا دیکھا ہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر امریکی فوج کا بیان تھا کہ اس فوجی کارروائی میں کوئی شہری ہلاکت نہیں ہوئی مگر اب تحقیقات جاری ہے۔

  11. کابل سے اب تک ایک لاکھ 22 ہزار افراد کو لایا گیا ہے: پینٹاگون

    امریکی وزارت دفاع (پینٹاگون) نے افغانستان سے امریکی انخلا پر ایک بریفننگ دی ہے۔

    پینٹاگون کے ترجمان جنرل ٹیلر نے کہا ہے کہ امریکہ اتوار کو کابل میں دولت اسلامیہ خراسان کے خلاف اپنے ڈرون حملے میں افغان شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات کر رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان اطلاعات کو کافی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

    کابل میں اس جائے وقوعہ پر ایک خاندان کا دعویٰ ہے کہ اس کے 10 افراد اس حملے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

    جنرل ٹیلر کے مطابق 14 اگست کو امریکی انخلا کے آپریشن کے آغاز سے اب تک ایک لاکھ 22 ہزار کے قریب لوگوں کو کابل سے لے جایا جاچکا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اتوار کو 26 فوجی طیاروں اور دو سویلین پروازوں کے ذریعے قریب 1200 افراد کو لے جایا گیا جن میں اتحادیوں کا عملہ بھی شامل تھا۔

  12. عالمی ادارہ صحت کا طیارہ کابل پہنچ گیا

    خوراک، ادویات اور دیگر سامان لیے عالمی ادارہ صحت کا ایک طیارہ کابل پہنچ گیا ہے۔ یہ امدادی سامان کا وہ پہلا طیارہ ہے جو کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد وہاں پہنچا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کے ایک علاقائی ڈائریکٹر احمد المندھاری نے کہا ہے کہ ادارے نے افغانستان میں صحت کے مراکز پر سامان پہنچایا ہے جہاں اس کی قلت تھی۔ اس طرح ادارے کی جانب سے صحت کی سہولیات کو جاری رکھا جاسکے گا۔

    اس طیارے میں 12.5 ٹن سامان موجود ہے جو دو لاکھ افراد سے زیادہ کی صحت کی ضروریات پوری کرسکے گا۔ اس میں 3500 سرجیکل اور 6500 ٹراما کے مریضوں کا سامان موجود ہے۔

    جمعے کو عالمی ادارۂ صحت نے کہا تھا کہ افغانستان میں آئندہ کچھ دنوں میں طبی سامان ختم ہوسکتا ہے۔ اس نے یہ امید ظاہر کی تھی کہ وہ پاکستان کی حکومت سے رابطے کے بعد شمالی افغانستان کے لیے سامان کی ترسیل کا ذریعہ قائم ہوسکتا ہے۔

    اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کا بحران پیدا ہو رہا ہے اور ملک کی ایک تہائی آبادی کو خوراک کی قلت جیسے خطرات کا سامنا ہے۔

  13. پنجشیر میں طالبان اور مخالف اتحاد کے مذاکرات جاری، ’ڈیڈلاک نہیں مگر پیشرفت کم ہے‘, محمد زبیر خان، صحافی

    افغانستان میں طالبان مخالف مزاحتمی اتحاد کے ترجمان جمشید دستی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گذشتہ دو روز کے دوران طالبان کی جانب سے پنجشیر میں مواصلاتی نظام کو معطل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔

    وادی پنجشیر کے علاوہ افغانستان کے قریب تمام علاقے طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ مزاحتمی اتحاد نے اپنے ذرائع سے مواصلاتی نظام کو نہ صرف بحال رکھا بلکہ طالبان اور کابل میں موجود کمپنیوں کو پیغام دیا گیا کہ ایسا کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

    جمشید دستی کا کہنا تھا کہ مواصلاتی نظام ختم کر کے رابطوں کے ذرائع ختم کرنے سے پوری دنیا کے اندر پنجشیر کے رہائشیوں کے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

    ’ہم نے طالبان سے کہا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کے علاوہ اخلاقیات کے بھی برخلاف ہوگا۔ انٹرنیٹ اور مواصلات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی کہا گیا ہے کہ اگر وہ پنجشیر میں مواصلاتی نظام بند کرتے ہیں تو وہ اپنے فرائض سے روگردانی کریں گے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ پنجشیر میں اشیائے ضرورت کی کوئی قلت نہیں ہے۔ ’نظام زندگی چل رہا ہے۔ اگر گھیراؤ لمبا ہوتا ہے تو ہمارے پاس منصوبے موجود ہیں۔ ہم لوگ پنجشیر کی وادی میں محصور رہ کر طویل عرصے کے لیے مزاحمت کے لیے تیار ہیں۔‘

    جمشید دستی کا کہنا تھا کہ اس وقت صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ’طالبان اپنی پوزیشن جبکہ مزاحتمی اتحاد کی فورسز اپنی پوزیشن پر ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ ہمارے طالبان کے ساتھ براہ راست اور بالاواسطہ رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ڈیڈلاک کی کوئی صورتحال نہیں ہے۔ مذاکرات میں پیشرفت کم ہے مگر مذاکرات کسی نہ کسی طرح جاری ہیں۔‘

    ’ہم اپنے اصولی موقف پر کھڑے ہیں۔ مذاکرات میں مدد کرنے والی تمام قوتوں اور شخصیات کو بتا دیا ہے کہ افغانستان کے لوگوں کے حقوق پر کوئی بھی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔‘

    امراللہ صالح: ’طالبان کے سامنے سرنڈر نہیں کروں گا‘

    دوسری طرف سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح نے جرمن اخبار میں لکھے اپنے مضمون میں کہا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے اور ان کا ڈیل کے ذریعے ہتھیار ڈالنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

    طالبان کی کابل آمد پر امراللہ صالح پنجشیر وادی میں طالبان مخالف اتحاد میں شامل ہوگئے تھے جبکہ صدر اشرف غنی کے متحدہ عرب امارات چلے جانے کے بعد انھوں نے خود کو ملک کا نیا صدر قرار دیا تھا۔

    وہ اس تحریر میں لکھتے ہیں کہ ’علاقائی اعتبار سے ہم تنہا ہیں مگر سیاسی اور اخلاقی اعتبار سے افغانستان ہمارے ساتھ ہے۔۔۔ طالبان نے سیاسی مفاہمت پر کبھی یقین نہیں کیا تھا۔‘

    انھوں نے اس میں وائٹ ہاؤس، امریکی صدر بائیڈن اور سابق صدر ٹرمپ پر بھی تنقید کی۔

    امراللہ صالح نے ’طالبان کا ساتھ دینے پر‘ پاکستان کے خلاف تجارتی پابندیوں کے علاوہ طالبان مخالف اتحاد کے لیے عالمی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔

  14. ’یورپی یونین کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مداخلت کرنی چاہیے‘, یورپی یونین کے ایک سفارتکار کا بیان

    یورپی یونین کے ایک سفارتکار نے کہا ہے کہ افغانستان میں صورتحال کی خرابی کے بعد اب یہ ضرورت درپیش ہے کہ یورپی ممالک کی جانب سے ’ہنگامی صورتحال میں اقدامات تیز کیے جائیں۔‘

    جوزف بوریل نے کہا ہے کہ امریکہ کے برعکس یورپی یونین اس قابل نہیں کہ اتنے کم وقت میں کابل ایئرپورٹ کے لیے اپنے فوجی روانہ کرے۔

    انھوں نے بتایا ہے کہ یورپی یونین کی حکومتیں ’اس تجربے سے سبق سیکھ سکتی ہیں‘ تاکہ وہ مستقبل میں بحرانوں سے بچنے کے لیے تیاری کر سکیں۔

    انھوں نے اٹلی کے ایک اخبار کو انٹرویو میں بتایا ہے کہ ایسے وقت میں جب امریکی ملوث ہونا نہیں چاہتے ’یورپی یونین کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مداخلت کرنی چاہیے۔‘

  15. دولت اسلامیہ نے کابل ایئرپورٹ پر راکٹ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نام نہاد دولت اسلامیہ نے پیر کو کابل ایئرپورٹ پر راکٹ حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

    ٹیلی گرام پر اس گروہ نے ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں کہا گیا کہ اس کے ’سپاہیوں نے کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر چھ راکٹ داغے تھے۔‘

    امریکی حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے پیر کو اپنے اینٹی میزائل سسٹم کے ذریعے کابل ائیرپورٹ پر داغے گئے پانچ راکٹ روک لیے تھے۔

    دولت اسلامیہ خراسان نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ حملہ کامیاب رہا۔ خیال رہے کہ امریکہ نے افغانستان میں دولت اسلامیہ خراسان کے مزید حملوں کے حوالے سے متنبہ کیا تھا۔

    جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر حملے میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ دولت اسلامیہ خراسان نے اس کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔

  16. طالبان نے مذہبی امور پر اشرف غنی کے سابق مشیر کو گرفتار کر لیا

    طالبان نے مذہبی امور پر افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی کے مشیر کو گرفتار کر لیا ہے۔

    مولوی محمد سردار زدران افغانستان میں قومی کونسل برائے مذہبی امور کے سابق سربراہ تھے۔ یہ ملک میں مذہبی امور کے حوالے سے سب سے بڑا ادارہ تھا۔

    ان کے بیٹے نے کہا ہے کہ انھیں طالبان نے خوست صوبے میں حراست میں لے لیا ہے۔ ایک تصویر جاری کی گئی ہے جس میں سردار زدران کی آنکھوں پر پٹی دیکھی جاسکتی ہے۔

    خیال ہے کہ ملک میں ان کا اثر و رسوخ ہے اور انھوں نے طالبان کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا تھا۔

  17. ’امریکہ کا اکثر سفارتی عملہ کابل سے روانہ‘

    ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ کابل ایئرپورٹ سے امریکی انخلا کا آخری مرحلہ جاری ہے جبکہ مرکزی سفارتی عملہ واپس روانہ ہوچکا ہے۔

    ایک دوسرے اہلکار نے تصدیق کی کہ امریکہ کا اکثر سفارتی عملہ کابل سے امریکہ کے لیے روانہ ہوچکا ہے۔

    تاہم ان اہلکاروں نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ان میں امریکی سفیر روس ولسن بھی شامل تھے جو آخری مرحلے میں واپس جائیں گے۔

    31 اگست کی طالبان کی ڈیڈلائن سے قبل یہ توقع کی جا رہی ہے کہ امریکہ کا تمام سفارتی عملہ منگل کو کابل سے واپس روانہ ہوجائے گا۔

    دوسری طرف وائٹ ہاؤس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے اتوار کو مزید 1200 افراد کے انخلا کا آپریشن مکمل کیا تھا۔

  18. ’یہ انسانی حقوق کے مزید بڑے بحران کا آغاز ہے‘: اقوام متحدہ

    کابل سے بین الاقوامی پروازوں کے ذریعے غیر ملکیوں کی واپسی کے دوران اقوام متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ ’اس سے ایک اور بھی بڑے انسانی حقوق کے بحران کا آغاز ہو رہا ہے۔‘

    اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے پناہ گزین فلیپو گرینڈی کہتے ہیں کہ ’گذشتہ دنوں کے دوران کابل ایئرپورٹ پر مناظر نے پورے دنیا میں ہمدردی کے جذبات ابھارے ہیں اور اس کی وجہ ہزاروں افغانوں کا خوف اور مایوسی ہے۔‘

    ’یہ مناظر ہماری سکرین سے ہٹ چکے ہیں مگر اب بھی لاکھوں لوگ بین عالمی برادری سے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں تقریباً تین کروڑ 90 لاکھ لوگوں میں سے تین کروڑ 50 لاکھ لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔ صرف سنہ 2021 میں ان کی تعداد پانچ لاکھ بڑھی ہے۔

    انھوں نے عالمی برادری سے انسانی ہمدردی کے کاموں کی حمایت کا مطالبہ کیا ہے۔

    اقوام متحدہ نے افغانستان کے ہمسایہ ممالک سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اپنی سرحدیں ایسے لوگوں کو لیے کھول دیں جو پُرتشدد واقعات کے خوف سے وہاں داخل ہونا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان پناہ گزین کی ایک بڑی تعداد ایران اور پاکستان میں آباد ہے لہذا دیگر ممالک کو بھی یہ ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

  19. کابل میں امریکی ڈرون حملے غیر قانونی ہیں: طالبان

    طالبان نے امریکی افواج پر الزام عائد کیا ہے کہ افغان سرزمین پر ان کا ڈرون حملہ غیر قانونی ہے۔

    اتوار کو امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے کابل میں ڈرون حملے کے ذریعے ایئرپورٹ پر ایک حملہ روکا تھا۔

    مگر چینی میڈیا کو ایک انٹرویو میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امریکی حکام کی جانب سے کسی خطرے کے بارے میں طالبان کو آگاہ کیا جانا چاہیے تھا۔ انھوں نے اس عمل کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

    ڈرون حملے کے متاثرین کے خاندان والوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس میں چھ بچے سمیت 10 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

    دریں اثنا امریکی فوج نے کہا ہے کہ وہ ڈرون حملے میں افغان شہریوں کی ہلاکت پر تحقیقات کر رہے ہیں۔

  20. پی آئی اے کا طیارہ افغانستان میں اقوام متحدہ کا امدادی سامان لے کر پہنچ گیا