افغانستان کی وادی پنجشیر (طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری گڑھ) میں شدید لڑائی جاری ہے۔
طالبان ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ انھوں نے پنجشیر پر قبضہ کر لیا ہے، لیکن مزاحمتی اتحاد نے اس کی تردید کی ہے۔
مزاحمتی اتحاد کے رہنماؤں میں سے ایک امر اللہ صالح نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ وہ پنجشیر سے فرار ہو گئے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ صورتحال ’مشکل‘ ہے۔
بتایا جا رہا ہے کہ پنجشیر میں لڑائی میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کابل اور دیگر شہروں میں پنجشیر پر طالبان کے قبضے کا جشن منانے والی فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے۔
پنجشیر وادی، دارالحکومت کابل کے شمال میں افغانستان کے چھوٹے صوبوں میں سے ایک ہے اور یہ وہ واحد صوبہ ہے جو ابھی تک طالبان کے ہاتھ نہیں آ سکا۔
طالبان مخالف یہ وادی جو پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے اس میں ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد موجود ہیں۔
مزاحمتی اتحاد، جس میں افغان سیکورٹی فورس کے سابق ارکان اور مقامی ملیشیا شامل ہیں، کی قیادت مقامی قبائلی رہنما احمد مسعود کر رہے ہیں۔ ان کے والد نے 1980 کی دہائی میں سویت اور 1990 کی دہائی میں طالبان کا کامیابی سے مقابلہ کیا تھا۔
بی بی سی کو بھیجے گئے ایک ویڈیو پیغام میں افغانستان کے سابق نائب صدر صالح نے کہا کہ دونوں طرف سے جانی نقصان ہوا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایک مشکل صورتحال میں ہیں۔ ہم طالبان کے حملے کی زد میں ہیں۔
لیکن انھوں نے مزید کہا: ’ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے، ہم افغانستان کے لیے کھڑے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو یقین دلانے کے لیے ویڈیو شیئر کر رہے ہیں کہ ان کے پنجشیر سے فرار کی غلط خبریں نشر کی جا رہی ہیں۔
تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر ان کے مقام کی تصدیق نہیں کر سکا۔
طالبان حکام پنجشیر میں فتح کے دعوے کر رہے ہیں، ایک کمانڈر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’اللہ کے فضل سے ہم پورے افغانستان پر قابض ہیں۔ مزاحمت کاروں کو شکست ہوئی ہے اور پنجشیر اب ہمارے قبضے میں ہے۔‘
طالبان اب ملک کے باقی حصوں پر قابض ہیں اور توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں نئی حکومت کا اعلان کریں گے۔