آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ، قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دیا

طالبان نے افغانستان میں مزاحمت کے آخری گڑھ پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے ’جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ بی بی سی آزادانہ طور پر دونوں فریقین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

لائیو کوریج

  1. طالبان کے اقتدار میں آنے کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟

    کچھ مغربی ممالک کو یہ امید ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت پر اثر و رسوخ استعمال کیا جا سکے گا۔ ان ممالک کو یہ امید بھی ہے کہ پاکستان اس حوالے سے ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ مگر کچھ ممالک جو اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات پر بحال کرنے کے منتظر ہیں ان میں اس حوالے سے منقسم رائے پائی جاتی ہے۔

    • ’تم محرم کے بغیر کیوں سفر کر رہی ہو، واپس جاؤ‘

      ایک تاریخی لمحہ ہمارے سامنے ہے اور ایک تاریخی ماضی ختم ہونے کو ہے۔ ایسے بل بورڈز جن پر خوشی سے دمکتے چہرں والی دلہنیں سفید لباس اور سرخ لپ سٹک میں دکھائی دے رہی تھیں، ان کے چہروں پر کالک ملی جا رہی ہے۔ پڑھیے کابل سے لیز ڈوسیٹ کی رپورٹ۔

    • کابل ایئرپورٹ سے اندرونِ ملک پروازوں کا آغاز

      قطری ٹیکنیکل ٹیم کی جانب سے کابل ایئرپورٹ کو گھریلو امداد اور پروازوں کے لیے دوبارہ کھولنے کے بعد ، اریانا افغانستان ایئرلائن کا کہنا ہے کہ اس نے ہفتے سے کابل اور ملک کے تین بڑے شہروں کے درمیان کچھ پروازیں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔

      کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ کابل اور مغرب میں ہرات شہر ، شمال میں مزار شریف اور جنوب میں قندھار کے درمیان پروازیں شروع ہوئی ہیں۔

      الجزیرہ کے مطابق ، افغانستان میں قطر کے سفیر نے پہلے کہا تھا کہ اس ملک کی ایک تکنیکی ٹیم امداد حاصل کرنے کے لیے کابل ہوائی اڈے کو دوبارہ کھولنے میں کامیاب ہے۔

      ہوائی اڈے کو دوبارہ کھولنا ، جو بیرونی دنیا اور پہاڑی ملک کے مختلف حصوں کے لیے ایک اہم ربط فراہم کرتا ہے ، 15 اگست کو کابل پہنچنے والے طالبان کی ترجیح رہی ہے۔

    • پنجشیر میں پہاڑ پر دھماکے سے طالبان محصور: مزاحمتی فورسز کا دعویٰ

      افغانستان میں پنجشیر کی وادی میں طالبان اور مزاحمتی اتحاد کے مابین لڑائی میں تیزی آ گئی ہے اور مزاحمتی تحریک کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ دشتِ ریوت کے علاقے میں طالبان فوجیوں کا محاصرہ کر لیا گیا ہے۔

      بی بی سی فارسی سروس کے مطابق پنجشیر میں مزاحمتی تحریک کے ترجمان فہیم دشتی نے طالبان ایک پہاڑ پر بم دھماکے کی وجہ سے اس علاقے میں محصور ہو گئے تھے۔

      ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی تمام گاڑیاں اور سامان پیچھے رہ گیا ہے۔

      انہوں نے مزید کہا کہ خاک کوتل کے علاقے میں بھی شدید لڑائی جاری ہے ، تاہم طالبان نے ابھی تک اس واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

      طالبان نے اس سے قبل دو پنجشیر کے دو اضلاع پر قبضے کا دعویٰ کیا تھا۔

      طالبان اور مزاحمتی اتحاد دونوں کے تازہ دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

      تاہم کابل کے ایمرجنسی ہسپتال کے عہدیداروں نے بتایا کہ طالبان پنجشیر پر آگے بڑھ چکے ہیں اور انابا کے علاقے میں پہنچ گئے ہیں ، جہاں ہسپتال کی ایک شاخ بھی کام کر رہی ہے۔

      ایمرجنسی ہسپتال نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ پنجشیر میں شدید لڑائی کی وجہ سے ان کے آپریشن میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی اور کچھ زخمیوں کو انابا کے علاقے میں ان کے طبی مرکز میں لے جایا گیا۔

      ہنگامی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ لڑائی نے مقامی لوگوں کو اپنے گھروں اور دیہات سے بھاگنے پر مجبور کر دیا ہے اور ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورک متاثر ہو گیا ہے۔

      پنجشیر افغانستان کا آخری صوبہ ہے جو طالبان کے کنٹرول سے باہر ہے اور حالیہ دنوں میں وہاں محاذ مزاحمت اور طالبان کے درمیان خونریز جھڑپیں ہوئی ہیں۔

    • میں پنجشیر میں ہوں: سابق نائب صدر امر اللہ صالح

      افغانستان کے سابق نائب صدر امر اللہ صالح نے کہا ہے کہ وہ پنجشیر میں ہی موجود ہیں اور ملک چھوڑ کر کہیں نہیں گئے۔

      سنیچر کو بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ یہ اطلاعات کہ میں ملک چھوڑ چکا ہوں مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ میں یہاں ہوں اور ہم نے صورتحال کے حوالے سے بہت میٹنگز کی ہیں، صورتحال مشکل ہے۔

      ان کا کہنا تھا کہ ہم طالبان اور ان کے القاعدہ اتحادیوں، خطے اور باہر سے موجود دہشت گرد گرہوں اور ہمیشہ کی طرح انھیں پاکستان کی پشت پناہی ہے کے حملوں کی زد میں ہیں۔

      امراللہ صالح کا کہنا ہے کہ ہم نے زمین پر قبضہ کر رکھا ہے، ہم مزاحمت کر رہے ہیں۔

      ’مزاحمت ہتھیار نہیں ڈالے گی، دہشت گردی کے سامنے جھکے گی۔ یہ جاری رہے گی، مشکلات ہیں لیکن میں بھاگا نہیں ہوںں فرار نہیں ہوا۔‘

      سابق نائب صدر نے مزید کہا کہ میں اس ویڈیو کے ذریعے آپ کو یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس وقت کچھ کہا جائے کہ میں زخمی ہوں یا فرار ہو گیا ہوں بے بنیاد اور جھوٹی خبریں ہیں۔‘

    • ’انابا‘ ڈسٹرکٹ میں طالبان کا کنٹرول

      افغان صوبے پنجشیر سے آنے والی رپورٹس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ طالبان فورسز اس کے کچھ علاقوں میں داخل ہو گئی ہیں اور انھوں نے انابا ڈسٹرکٹ کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

      بی بی سی فارسی کے مطابق کابل میں موجود کے ایک ہسپتال نے گذشتہ شب اعلان کیا تھا کہ طالبان جنگجو پنشیر کی وادی کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں اور وہ انابا نامی گاؤں میں داخل ہو گئے ہیں۔ وہاں اس ادارے کا ایک میٹرنٹی ہوم اور ایک میڈیکل سینٹر ہے۔

      ہسپتال کی جانب سے ٹوئٹر پر اعلان کیا گیا کہ اس جنگ نے ان کے ہسپتال کی سروسز کو متاثر نہیں کیا اور انابا میں بہت سے زخمیوں کو لایا گیا ہے۔

    • بریکنگ, کابل: خواتین کے حقوق کے کارکنوں کا احتجاج پرتشدد ہوگیا

      کابل میں خواتین کے حقوق کی کچھ کارکنوں اور صحافیوں کی جانب سے کیا جانے والا احتجاج پرتشدد ہوگیا ہے۔

      سنیچر کی صبح اس سے پہلے بھی خقوق نسواں کے امتعدد کارکنوں نے خواتین کے حقوق کی حمایت میں اسی طرز کا احتجاج کیا تھا۔

      افغانستان کے نجی ٹیلی ویژن سٹیشن طلوع کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان نے صدارتی محل کی طرف مارچ کرنے والے مظاہرین کو روک دیا، جس کے بعد تشدد بھڑک اٹھا۔

      مظاہرین کا کہنا ہے کہ طالبان نے انہیں روکنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

    • کابل میں کرنسی ایکسچینج بازار 'پرنس پیلس کھول دیا گیا'

      طالبان کا کہنا ہے کہ کابل میں ایکسچینج اور کرنسی ایکسچینج مارکیٹ کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔

      طالبان کے ایک ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ بازار جو کہ شہزادہ سرائے کے نام سے جانا جاتا ہے ، دوبارہ کھل گیا ہے۔

      طالبان نے کہا تھا کہ وہ ڈالر کو بیرون ملک نہیں جانے دیں گے کیونکہ اس سے معیشت کمزور ہو جائے گی۔

      پرنس محل افغانستان کا سب سے بڑا کرنسی ایکسچینج سینٹر ہے۔

      اس سے قبل امریکی حکومت نے ترسیلات زر کی رقم افغانستان بھیجنے کی اجازت دی تھی اور اس کے فورا soon بعد ، ایک بڑی بین الاقوامی منی ٹرانسفر کمپنی ویسٹرن یونین نے افغانستان میں دوبارہ کام شروع کرنے کا اعلان کیا۔

    • پنجشیر میں شدید لڑائی جاری: طالبان کا قبضے کا دعویٰ، مزاحمتی اتحاد کی تردید

      افغانستان کی وادی پنجشیر (طالبان کے خلاف مزاحمت کا آخری گڑھ) میں شدید لڑائی جاری ہے۔

      طالبان ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ انھوں نے پنجشیر پر قبضہ کر لیا ہے، لیکن مزاحمتی اتحاد نے اس کی تردید کی ہے۔

      مزاحمتی اتحاد کے رہنماؤں میں سے ایک امر اللہ صالح نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا کہ وہ پنجشیر سے فرار ہو گئے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ صورتحال ’مشکل‘ ہے۔

      بتایا جا رہا ہے کہ پنجشیر میں لڑائی میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

      اطلاعات کے مطابق کابل اور دیگر شہروں میں پنجشیر پر طالبان کے قبضے کا جشن منانے والی فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد ہلاک اور دیگر زخمی ہوئے۔

      پنجشیر وادی، دارالحکومت کابل کے شمال میں افغانستان کے چھوٹے صوبوں میں سے ایک ہے اور یہ وہ واحد صوبہ ہے جو ابھی تک طالبان کے ہاتھ نہیں آ سکا۔

      طالبان مخالف یہ وادی جو پہاڑوں سے گھری ہوئی ہے اس میں ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد موجود ہیں۔

        مزاحمتی اتحاد، جس میں افغان سیکورٹی فورس کے سابق ارکان اور مقامی ملیشیا شامل ہیں، کی قیادت مقامی قبائلی رہنما احمد مسعود کر رہے ہیں۔ ان کے والد نے 1980 کی دہائی میں سویت اور 1990 کی دہائی میں طالبان کا کامیابی سے مقابلہ کیا تھا۔

        بی بی سی کو بھیجے گئے ایک ویڈیو پیغام میں افغانستان کے سابق نائب صدر صالح نے کہا کہ دونوں طرف سے جانی نقصان ہوا ہے۔

        انھوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایک مشکل صورتحال میں ہیں۔ ہم طالبان کے حملے کی زد میں ہیں۔

        لیکن انھوں نے مزید کہا: ’ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے، ہم افغانستان کے لیے کھڑے ہیں۔‘

        انھوں نے کہا کہ وہ لوگوں کو یقین دلانے کے لیے ویڈیو شیئر کر رہے ہیں کہ ان کے پنجشیر سے فرار کی غلط خبریں نشر کی جا رہی ہیں۔

        تاہم بی بی سی آزادانہ طور پر ان کے مقام کی تصدیق نہیں کر سکا۔

        طالبان حکام پنجشیر میں فتح کے دعوے کر رہے ہیں، ایک کمانڈر نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’اللہ کے فضل سے ہم پورے افغانستان پر قابض ہیں۔ مزاحمت کاروں کو شکست ہوئی ہے اور پنجشیر اب ہمارے قبضے میں ہے۔‘

        طالبان اب ملک کے باقی حصوں پر قابض ہیں اور توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں نئی ​​حکومت کا اعلان کریں گے۔

      • سرای شهزاده: کابل کی سب سے بڑی منی چینجر مارکیٹ کھل گئی

        طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق آج سے پرنس پیلس ’سرای شهزاده‘ کابل کی سب سے بڑی منی چینجر مارکیٹ کو عوام کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

      • بریکنگ, آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کابل پہنچ گئے

        پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسی یعنی آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کابل پہنچ گئے ہیں۔

        طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے پاکستان کے کسی اعلیٰ عہدے دار کا یہ پہلا دورہِ کابل ہے۔

        کابل کے سرینا ہوٹل میں کچھ غیر ملکی صحافیوں نے پاکستان کے انٹیلیجنس چیف سے اس دورے کے بارے میں سوال کیا۔

        جنرل فیض حمید نے ایک رپورٹر کے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ افغانستان میں امن اور استحکام کے لیے کام کر رہے ہیں اور اس معاملے پر بات چیت کے لیے کابل گئے تھے۔

        توقع کی جا رہی ہے کہ اس دورے کے دوران وہ طالبان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

      • کابل: طالبان جنگجوؤں کی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک، 41 زخمی

        گذشتہ رات طالبان جنگجوؤں کی جانب سے کابل میں کی گئی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں 17 ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔

        طلوع نیوز نے کابل کے ایمرجنسی ہسپتال کے حوالے سے بتایا ہے کہ 17 لاشوں اور 41 زخمی افراد کو ہسپتال لایا گیا جو گذشتہ رات کی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک یا زخمی ہوئے۔

        گذشتہ رات فائرنگ کی اطلاعات کے بعد طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے جنگجوؤں کو ہوائی فائرنگ سے گریز کرنے کو کہا تھا۔

        ٹویٹر پر پوسٹ کیے گئے پیغام میں طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ہوائی فائرنگ کے بجائے خدا کا شکر ادا کریں۔

        ’ہتھیار اور گولہ بارود آپ کے ہاتھ میں ہے، کسی کو ان کو ضائع کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ گولیاں عام شہریوں کو زیادہ نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس لیے بلا ضرورت گولی نہ چلائیں۔‘

      • قطر: طالبان رہنما شیر محمد عباس ستانکزئی کی پاکستانی سفیر سے ملاقات

        طالبان رہنما شیر محمد عباس ستانکزئی نے اپنے وفد کے ہمراہ قطر میں پاکستان کے سفیر اور پاکستانی وفد سے ملاقات کی ہے۔

        طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے اس ملاقات کے حوالے سے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ دونوں فریقوں نے موجودہ افغان صورتحال، انسانی امداد، باہمی دلچسپی اور احترام پر مبنی دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔

        ملاقات میں افغانستان کی تعمیر نو، طورخم اور سپن بولدک میں لوگوں کی نقل و حرکت کو آسان بنانے سے متعلق مسائل پر بھی بات چیت کی گئی۔

      • طالبان کا پنجشیر پر قبضے کا دعویٰ، مزاحمتی اتحاد کی تردید

        تین طالبان ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے وادی پنجشیر پر قبضہ کر لیا ہے۔

        ایک طالبان رہنما نے خبر رساں ادارے کو بتایا ہے کہ ’تخریب کاروں کو ہرا دیا گیا ہے اور پنجشیر اب ہمارے قبضے میں ہے۔‘ تاہم آزادانہ طور پر طالبان کے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

        طالبان مخالف مزاحمتی فرنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انھیں طالبان پر سبقت حاصل ہے۔

        قیاس آرائیوں کے مطابق کابل میں ہوائی فائرنگ کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ ملا برادر کو ریاست کا سربراہ تعینات کر دیا گیا ہے۔

        دریں اثنا سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ پنجشیر وادی میں ہی موجود ہیں۔

        انھوں نے کہا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ طالبان قبضے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

        امراللہ صالح نے واضح کیا کہ ’ہم ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔ ہم افغانستان کے لیے کھڑے ہیں۔‘

      • طالبان سے بات چیت کے لیے قطری سفارتکار کی کابل آمد

        قطر کی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار طالبان رہنماؤں سے بات چیت کے لیے کابل پہنچ گئے ہیں۔

        قطری سفارتکار ڈاکٹر مطلق بن مجید القحطانی جمعے کو نئی افغان حکومت کے قیام اور کابل ایئرپورٹ کی بحالی پر بات چیت کے لیے جمعے کو افغانستان پہنچے ہیں۔

        ان کا کہنا تھا کہ ’اس عمل میں بطور ایک غیر جانبدار ثالث، قطر نے تمام فریقین سے رابطے کیے ہیں۔ اس وقت ہماری ترجیح ہے کہ طالبان طاقت کی پُرامن منتقلی کی ضمانت دیں اور تمام افغانوں کی نمائندگی کرنے والی موثر حکومت بنائیں جس سے افغان شہریوں کی خدمت ہوسکے۔‘

        خلیجی ریاست قطر طالبان پر اثر و رسوخ رکھتی ہے۔ سنہ 2013 سے اب تک انھوں نے طالبان کے سیاسی دفتر کی میزبانی کی ہے اور قطر ہی کے شہر میں گذشتہ سال امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا۔

      • مزاحمتی اتحاد نے پنجشیر میں طالبان کی فتح کا دعویٰ مسترد کر دیا

        وادی پنجشیر میں طالبان مخالف مزاحمتی اتحاد نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ طالبان نے یہاں کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے وادی میں فتح حاصل کر لی ہے۔

        قومی مزاحمتی فرنٹ کے ترجمان علی نظاری نے کہا ہے کہ ان کے جنگجوؤں کو طالبان پر سبقت حاصل ہے۔

        انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’طالبان کی پروپیگنڈا مشین یہ دعوے دہرا رہی ہے کہ پنجشیر ان کے قبضے میں ہے۔ ہم یہ گذشتہ ہفتے سے دیکھ رہے ہیں اور یہ غلط ہے۔ بلکہ اس سے الٹ ہوا ہے۔ قومی مزاحمتی فرنٹ نے انھیں بھاگنے پر مجبور کیا ہے۔‘

        علی نظاری نے کہا ہے کہ مزاحمتی اتحاد نے وادی کے شمال مشرقی حصے میں طالبان کے جنگجوؤں کو گھیر لیا ہے۔

        ’یہاں کچھ سو طالبان جنگجو پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کا اسلحہ ختم ہو رہا ہے اور اس وقت وہ ہتھیار ڈالنے کی شرائط پر مذاکرات کر رہے ہیں۔‘

        دوسری طرف کابل میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ تاحال اس کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

      • پنجشیر میں طالبان اور مزاحمتی اتحاد کے درمیان لڑائی جاری

        بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ طالبان نے وادی پنجشیر، جہاں تاحال ان کا کنٹرول نہیں ہے، میں مزاحمتی اتحاد کے خلاف فوجی کارروائی شروع کر دی ہے۔

        اطلاعات کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور دونوں کا دعویٰ ہے کہ انھیں سبقت حاصل ہے۔ ان جھڑپوں میں سینکڑوں جنگجوؤں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

        تاہم سابق افغان نائب صدر امراللہ صالح نے سوشل میڈیا پر ان قیاس آرائیوں کی تردید کی ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

        انھوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ دعوے ’بے بنیاد ہیں‘ اور وہ ’اب بھی وادی میں موجود ہیں۔‘

      • حامد کرزئی کی طالبان اور مزاحمتی اتحاد کے درمیان مذاکرات کی کوششیں

        افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے پنجشیر وادی میں طالبان اور مزاحمتی اتحاد کے درمیان مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ہتھیار چھوڑ کر پُرامن طریقے سے بات چیت ہوسکے۔

        سنہ 2001 سے 2014 تک افغانستان کے صدر رہنے والے کرزئی نے ٹویٹ میں کہا کہ ’اصلاح پسندوں کی کوششوں کے باوجود، پنجشیر میں فوجی کارروائیاں اور لڑائی جاری ہے۔‘

        ان کا کہنا تھا کہ ’میں نہیں سمجھتے کہ اس کے نتائج ملک اور لوگوں کے مفاد میں ہوں گے۔ اسی لیے میں دونوں فریقین سے مطالبہ کرتا ہوں کہ جنگ واحد حل نہیں۔‘ کرزئی کا کہنا تھا کہ اس سے افغانستان میں صورتحال مزید خراب ہوگی۔

        جمعے کو پنجشیر میں طالبان مخالف اتحاد نے کہا تھا کہ وہ طالبان جنگجوؤں کی بڑی تعداد سے لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ وہ واحد علاقہ ہے جہاں طالبان کا کنٹرول نہیں ہے۔

        افغان سیاسی رہنماؤں حامد کرزئی اور عبداللہ عبداللہ نے گذشتہ ماہ سے کابل میں طالبان سے کئی ملاقاتیں کی ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ طالبان کابل میں عبوری انتظامیہ قائم کرسکیں۔

      • یورپی یونین طالبان کو تسلیم نہیں کرے گا

        یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔

        یورپی یونین کے خارجی امور کے سربراہ نے کہا ہے کہ افغان طالبان سے کسی بھی طرح کے رابطے ’سخت شرائط کی بنا پر کیے جائیں گے‘ اور صرف افغان شہریوں کی حمایت کی جائے گی۔

        واشنگٹن اور برطانیہ نے بھی اسی طرح کا موقف اختیار کیا ہے جبکہ روس اور چین نے طالبان کے معاملے پر نرم لہجہ اختیار کیا ہے۔

        یورپی یونین نے کہا ہے کہ غیر ملکیوں کے انخلا کے لیے یورپی یونین کابل میں ایک مشترکہ اثر و رسوخ کے لیے طالبان سے رابطے کرے گا اور یہ کوشش کی جائے گی کہ نئی افغان حکومت سلامتی اور انسانی حقوق سمیت اپنے دیگر وعدے پورے کریں۔

        سلووینیا میں وزرا خارجہ کے اجلاس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے تعاون کے ساتھ مسئلے پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔ اگر سکیورٹی کی شرائط پوری کی جاتی ہیں۔‘

        انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے معاملے پر یورپی یونین امریکہ، جی سیون، جی ٹوئنٹی اور دیگر تنظیموں سے رابطے کرے گا۔ ان کے مطابق افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ’علاقائی سطح پر سیاسی تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم‘ کا آغاز کیا جائے گا۔

      • طالبان سے بات کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ’مہذب اقوام کے خاندان‘ کا حصہ بنیں: روسی صدر

        روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ اگر افغانستان ایک ملک کے طور پر اکٹھا نہیں رہتا تو کوئی ایسی سیاست قوت نہیں ہو گی جس سے بات کی جا سکے۔

        جمعے کو ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ایک سیاسی قوت کو ’قانونی شکل‘ دینے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جانی چاہییں۔

        ولادیمیر پوتن نے یہ بات اس سوال کے جواب میں کہی جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا روس طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے گا یا نہیں۔ خیال رہے کہ روس نے طالبان کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دیا ہوا ہے۔

        روسی صدر کا کہنا تھا کہ طالبان جتنی جلدی ’مہذب اقوام کے خاندان‘ کا حصہ بنتے ہیں اتنی جلدی ہی ان سے رابطہ کرنا اور یہ بات منوانا آسان ہو گا کہ ضروری ہے کہ افغانستان ’مہذب دنیا کے کچھ قوانین کی پاسداری‘ کرے گا۔

        ان کا کہنا تھا کہ روس نہیں چاہتا کہ افغانستان ایک ایسا ملک بنے جہاں کوئی مرکزیت نہ ہو کیونکہ اگر ایسا ہوا تو وہاں کوئی نہیں ہو گا جس سے بات کی جا سکے۔