آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ، قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دیا

طالبان نے افغانستان میں مزاحمت کے آخری گڑھ پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے ’جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ بی بی سی آزادانہ طور پر دونوں فریقین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

لائیو کوریج

  1. افغان ایتھلیٹ ذکیہ خدادادی ٹوکیو پیرا اولمپکس میں شرکت کے لیے پہنچ گئیں

    افغانستان کی تائیکوانڈو ایتھلیٹ ذکیہ خدادادی ایک خفیہ بین الاقوامی کوشش کے بعد آخر کار ٹوکیو پیرا اولمپکس میں شرکت کے لیے پہنچ چکی ہیں اور جعمرات کے روز انھوں نے اس مقابلے میں حصہ بھی لیا ہے۔

    یاد رہے کہ وہ سنہ 2004 کے بعد ایسا کرنے والی پہلی افغان خاتون بن گئی ہیں۔

    22 برس کی ذکیہ خدادادی اور ان کے ساتھی کھلاڑی حسین رسولی سنیچر کے روز بذریعہ پیرس ٹوکیو پہنچے ہیں، اس سے قبل طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد انھوں نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کابل سے نکلنے میں مدد کی اپیل کی تھی۔

    کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان سے بچ نکلنے کے خواہشمند سینکڑوں افراد کابل ایئرپورٹ پر جمع ہو گئے تھے جس کی وجہ سے یہ دونوں کھلاڑی شیڈول کے مطابق روانہ نہیں ہو سکے تھے۔ پیرا اولمپکس کے حکام نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ شاید یہ دونوں کھلاڑی اس ایونٹ کے لیے نہ پہنچ سکیں۔

    تاہم جمعرات کے روز ذکیہ خدادادی حجاب پہنے تائیکوانڈو کے اوپننگ میچ کے لیے ہال میں داخل ہوئیں۔

    سنہ 1960 میں شروع ہونے والے پیرا اولمپکس میں وہ افغانستان کی نمائندگی کرنے والی دوسری خاتون ہیں۔

  2. طالبان کی نئی حکومت کا اعلان جلد متوقع

    افغانستان کے طالبان حکمران آج یعنی جمعرات کو اپنی نئی حکومت کا اعلان کرنے والے ہیں۔

    ملک میں 20 سال سے جاری جنگ تو ختم ہو گئی لیکن اسلام پسند ملیشیا کے کابل پر قبضے کے دو ہفتوں بعد ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔

    طالبان عہدیدار احمد اللہ متقی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ کابل کے صدارتی محل میں ایک تقریب کی تیاری کی جا رہی ہے۔

    ایک اعلیٰ طالبان عہدیدار نے گذشتہ ماہ خبر رساں ادارے رؤٹرز کو بتایا تھا کہ توقع ہے کہ سپریم لیڈر ہبت اللہ اخونزادہ کے ماتحت ایک گورننگ کونسل بنائی جائے گی۔ جس سربراہی صدر کرے گا۔

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی عطیہ دینے والے اور سرمایہ کاروں کی نظر میں نئی ​​حکومت کی قانونی حیثیت افغانستان کی معیشت کے لیے اہم ہو گی، جو کہ طالبان کے اقتدار میں واپسی کے بعد تباہی کے دہانے پر ہے۔

    طالبان کے سپریم لیڈر کے تین نائب ہیں: تحریک کے بانی ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب ، طاقتور حقانی نیٹ ورک کے رہنما سراج الدین حقانی اور گروپ کے بانی ارکان میں سے ایک، عبدالغنی برادر۔

    اسی طرح کی غیر منتخب لیڈر شپ کونسل کے ذریعے طالبان نے اپنی پہلی حکومت چلائی تھی جس نے 1996 سے لے کر 2001 میں امریکی قیادت میں بین الاقوامی افواج کے ہاتھوں بے دخلی تک شریعت کی بنیاد پرست شکل کو بے دردی سے نافذ کیا۔

  3. طالبان نے بارودی سرنگوں کی صفائی کی اجازت دے دی

    طالبان نے بارودی سرنگیں صاف کرنے والے ایک بڑے خیراتی ادارے ہالو ٹرسٹ کو افغانستان میں اپنا مشن بحال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

    خیال رہے کہ افغانستان میں گذشتہ دو دہائیوں میں ہونے والی جنگ کے دوران کئی بارودی سرنگیں بنائی گئی ہیں، جن کی صفائی اب شہریوں کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

    اس سے قبل برطانوی خیراتی ادارے ہالو ٹرسٹ نے کابل پر طالبان سے قبضے سے قبل افغانستان سے اپنا غیر افغان عملہ واپس بلا لیا تھا۔

    طالبان کی طرف سے اجازت ملنے کے بعد اب جمرات سے یہ ادارہ پھر سے اپنے ایک ہزار سے زائد ملازمین کے ساتھ پانچ صوبوں سے اپنے کام کا دوبارہ آغاز کرے گا۔ ادارے کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ہالو ٹرسٹ نے جنگ کے دوران بھی طالبان کے زیر انتظام علاقوں میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کا کام کیا تھا، جس کی وجہ سے طالبان کو اس ادارے پر اعتماد بھی ہے۔

  4. طالبان سے مذاکرات کے لیے برطانوی وزیر خارجہ قطر روانہ

    برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈومینک راب طالبان سے مذاکرات کے لیے قطر روانہ ہو گئے ہیں۔ دوحہ میں وہ طالبان قیادت سے افغانستان سے برطانوی شہریوں اور افغان مترجمین کے محفوظ انخلا سے متعلق بات کریں گے۔

    برطانوی وزیر خارجہ کا دورہ ایک ایسے وقت پر ہو رہا ہے جب برطانیہ میں حکومت پر کابل ایئرپورٹ سے انخلا کی حکمت عملی پر تنقید کی جا رہی ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ میں ڈومینک راب سے جولائی کو سامنے آنے والی دفتر خارجہ کی ان دستاویزات کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے ہیں جن میں یہ واضح طور پر بتا دیا گیا تھا طالبان پورے افغانستان کا انتظام تیزی سے سنبھال رہے ہیں۔

    برطانوی وزیر خارجہ اپنے دورہ قطر کے دوران امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ ان کی قطر کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی سے بھی ملاقات ہو گی۔

    برطانوی دفتر خارجہ کے مطابق اس دورے کے دوران ڈومینک راب چار نکات پر مذاکرات کریں گے: افغانستان کو دہشتگردوں کی آماجگاہ بنانے سے روکنا، افغانستان میں شہریوں کو جن مصائب کا سامنا ہے ان کا مؤثر جواب دینا، علاقائی امن کو یقینی بنانا اور طالبان کو انسانی حقوق سے متعلق جوابدہ بنانا۔

  5. 20 سالہ جنگ کے حوالے سے ’غصہ اور درد محسوس کرتا ہوں‘

    جنرل مارک ملی کہتے ہیں کہ 20 سالہ جنگ کے بارے میں وہ غصہ اور درد محسوس کرتے ہیں اور یہ احساسات ان خاندانوں کی طرح ہیں جو سوگ میں ہیں یا وہ فوجی جو اس وقت افغانستان میں موجود ہیں۔

    ’یہ انتہائی مشکل کام ہے، جنگ مشکل ہوتی ہے۔ یہ انتہائی وحشت ناک، ظالمانہ اور بے رحم ہوتی ہے۔ اور ہاں ہم سب میں غصہ اور درد موجود ہے۔‘

    وہ بتاتے ہیں کہ افغانستان میں ان کی کمانڈ میں 242 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ ’لیکن میں ایک پیشہ وارانہ فوجی ہوں، میں اپنے درد اور غصے کو چھپا کر اپنا مشن جاری رکھنے کی کوشش کروں گا۔‘

  6. کابل میں امریکی ڈرون حملہ ’برحق‘ تھا: جنرل مارک ملی

    جب پریس کانفرنس کے دوران اعلیٰ فوجی قیادت سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آیا کابل میں کیا جانے والا ڈرون حملہ جس میں امریکہ کے مطابق دولتِ اسلامیہ کا ایک ’منصوبہ ساز‘ ہلاک ہوا تھا۔

    جنرل ملی کا کہنا ہے کہ ’اس ڈرون حملے کے بعد بھی کچھ دھماکے سننے کو ملے تھے جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ امریکہ پراعتماد تھا کہ بارود سے بھری گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اس وقت اس بارے میں تحقیقات جاری ہیں لیکن ’تمام اقدامات قواعد کے مطابق کیے گئے، یہ حملہ برحق تھا۔‘

    جنرل ملی نے یہ مانا کہ اس دوران متعدد اموات ہوئیں اور ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

  7. واضح نہیں ہے کہ بے رحم طالبان تبدیل ہوں گے یا نہیں: امریکی جنرل

    چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملی کا طالبان میں کسی تبدیلی سے متعلق سوال کے جواب میں کہنا ہے کہ ’یہ ماضی میں ایک بے رحم گروہ تھا اور آیا اب اس میں کوئی تبدیلی آئے گی یہ وقت ہی بتائے گا۔‘

    ادھر وزیرِ دفاع لائڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ’توجہ دولتِ اسلامیہ خراسان پر ہی رہے گی۔‘ انھوں نے اس امکان کو رد نہیں کیا کہ آنے والے دنوں میں امریکہ طالبان کے ساتھ مل کر دولتِ اسلامیہ خراسان کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔

  8. امریکی فوجیوں کا مشن ’تاریخی اور بے باک‘ تھا: وزیرِ دفاع

    امریکی وزیرِ دفاع لائڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ امریکی فوجیوں کی جانب سے انخلا کا مشن ’بے باک اور تاریخی‘ تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے جہاز کے بعد جہاز بھر کر لوگوں کو وہاں سے نکالا جو قابلِ تحسین ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے 13 امریکی فوجیوں کے خاندانوں سے تعزیت کرتے ہیں اور آنے والے دنوں اور سالوں میں ان کی مدد کرنے کے لیے پرعظم ہیں۔

    انھوں نے رپبلکن جماعت کے چند اراکین کی جانب سے افغانوں کو ایئرلفٹ کیے جانے کے عمل پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ان افراد اور ان کے خاندانوں نے آزاد لوگوں کی سرزمین اور بہادر لوگوں کے گھر میں اپنی جگہ بنائی ہے۔ ہم ان افغانوں کو ان کے اعمال کی وجہ سے ہی خوش آمدید نہیں کرنا چاہتے بلکہ اس لیے بھی کہ ان کے کردار کی وجہ سے بھی۔

    انھوں نے کہا کہ میں اگلے ہفتے خلیجی ممالک کا دورہ کروں گا تاکہ ’وہاں اپنے شراکت داروں کا شکریہ ادا کر سکوں جنھوں نے افغانوں کو پناہ دینے اور محفوظ رکھنے میں ہماری مدد کی ہے۔‘

    انھوں نے 20 سالہ جنگ میں شریک افواج کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ جنگ تو ختم ہو گئی ہے لیکن ہم آپ کے ہمیشہ مشکور رہیں گے۔

  9. افغانستان سے نکلنے والے آخری امریکی فوجیوں کی تصاویر

    امریکی فوج کی جانب سے افغانستان سے نکلنے والے آخری امریکی فوجیوں کی تصاویر جاری کی گئی ہیں۔

    ان تصاویر کے ساتھ ایک ویڈیو بھی موجود ہے جس میں فوجیوں کو طیارے میں بیٹھتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ایک بیان کے مطابق یہ فوجی گلوب ماسٹر تھری طیارے پر سوار ہو کر کویت روانہ ہوئے تھے۔

  10. طالبان نے افغانستان میں مردوں کی ٹیم کو کرکٹ میچ کی اجازت دے دی: اطلاعات

    اطلاعات کے مطابق طالبان نے افغانستان میں مردوں کی کرکٹ ٹیم کو ملک پر اپنا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد پہلا انٹرنیشنل کرکٹ میچ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔ خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو حامد شنواری کا کہنا ہے کہ ’ہمیں اپنی ٹیم کو آسٹریلیا بھجوانے کی اجازت مل گئی ہے۔‘ اس سے پہلے آسٹریلوی بورڈ نے کہا تھا کہ وہ اب بھی ٹیسٹ میچ کی میزبانی کرنا چاہتے ہیں جو اس سے قبل گذشتہ برس کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے معطل ہو گیا تھا۔ اب یہ میچ نومبر کے آخر میں منعقد ہوں گے۔

  11. دو دہائیوں کی جنگوں میں امریکہ کے ’5.8 کھرب ڈالر لگے‘

    سنہ 2006 میں امریکہ نے ٹینتھ ماؤنٹین ڈویژن کے سپاہیوں کو آپریشن ماؤنٹین تھرسٹ میں طالبان سے لڑنے کے لیے تعینات کیا تھا۔

    براؤن یونیورسٹی کے امریکہ کی مختلف ممالک میں جنگوں پر اٹھنے والے اخراجات سے متلعق ایک پراجیکٹ میں بتایا گیا ہے کہ نائن الیون کے بعد سنہ 2022 کے آخر تک امریکہ افغانستان، عراق، پاکستان اور شام میں پانچ اعشاریہ آٹھ کھرب امریکی ڈالر لگائے گئے ہیں۔

    یہ اعداد و شمار، جن میں جنگوں کو چلانے کے لیے قرض پر لاگو سود کو بھی شامل کیا گیا ہے، اگلی دہائیوں میں صحت اور عمر رسیدہ یا ریٹائر ہو جانے والوں کے پراجیکٹ پر اٹھنے والے دو اعشاریہ دو ٹریلین ڈالر کی اضافی رقم کے ساتھ مزید بڑھ جائیں گے۔

    افغانستان اور عراق کی جنگیں امریکہ کی سابقہ جنگوں سے مختلف ہیں کیونکہ وہ ٹیکس اور وار بونڈزکے بجائے زیادہ تر قرض پر لیے جانے والے فنڈز کی مدد سے لڑی گئیں ہیں۔

    نیتا کراوفرڈ باسٹن یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے شعبے سے منسلک ہیں۔ وہ جنگوں کی قیمت سے منسلک پراجیکٹ میں شریک ڈائریکٹر بھی ہیں۔ سی بی ایس نیوز سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت اہم ہے کہ ہم جب رکیں اور سب ضائع ہونے والی زندگیوں کے متعلق سوچیں تو نائن الیون کے بعد سے امریکہ کی وسیع جنگوں اور انسداد دہشت گردی آپریشنز اور ان کے نتائج کو بھی مناسب طریقے سے دیکھیں۔

  12. قندھار میں ضبط کیے گئے امریکی سامان کے ساتھ طالبان کی پریڈ

    قندھار وہ دوسرا بڑا شہر ہے جہاں طالبان کی تنظیم کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ وہاں موجود اے ایف پی کے نامہ نگار نے بتایا کہ بدھ کو امریکی سامان کی نمائش کے لیے پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔

    نامہ نگار کے مطابق قندھار کے کرکٹ گراؤنڈ میں طالبان رہنما کرسیوں پر براجمان ہیں اور ان کے سینکڑوں حامی وہاں گراؤنڈ میں موجود ہیں اور وہ پریڈ شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    ہمویز اور متعدد امور سرانجام دینے کے لیے استعمال ہونے والے فوجی ٹرکوں کو قبصے میں لیا گیا اور کم ازکم ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر شہرکے اوپر پرواز کرتا دکھائی دیا۔ یہ ہتھیار اس وقت قبضے میں لیے گئے جب افغان نیشل ڈیفینس اور سکیورٹی فورسز نے ایک کے بعد دوسرے شہر میں ہتھیار ڈالنے شروع کیے۔ یہ افواہیں بھی تھیں کہ طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخونزادہ بھی پریڈ میں دکھائی دیں گے لیکن پھر ان کے بجائے طالبان کے گورنر نے آکر مجمع سے خطاب کیا۔

  13. کابل میں منی ایکسچینج کے کاروبار کے چند مناظر

    کابل میں اب آہستہ آہستہ زندگی معمول پر آ رہی ہے۔ ہمارے ساتھی ملک مدثر نے کابل کے سرائے شہزادہ بازار سے کرنسی کے کاروبار کے چند مناظر بھیجے ہیں۔

  14. طالبان حکومت کو افغانستان کی کرنسی کے ذخائر تک رسائی کی درخواست

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغانستان کے سینٹرل بینک بورڈ کے ایک سینئیر ممبر نے عالمی مالیاتی فنڈ اور امریکی محکمہ خزانہ سے کہا ہے کہ طالبان کی سربراہی میں موجود حکومت کو افغانستان کرنسی کے ذخائر تک رسائی دے۔

    افغانستان میں طالبان نے بہت جلد قبضہ حاصل کیا ہے لیکن یہ بہت مشکل دکھائی دیتا ہے کہ اس گروہ کو ملکی فارن ایکسچینج ریزروز یعنی زر مبادلہ کے ذخائر تک رسائی مل سکے، جن میں سے زیادہ تر ملک سے باہر پڑے ہیں۔

    امریکی حکومت نے کہا ہے کہ طالبان کو ان اثاثوں تک رسائی نہیں ملے گی جو امریکہ میں موجود ہیں۔ ادھر عالمی مالیاتی ادارے سے بھی کہا ہے کہ وہ افغانستان میں سرمایہ کاری کے لیے کچھ رقم بھی فراہم نہیں کرے گا۔

  15. افغانستان سے درجنوں کتوں اور بلیوں کو نکالنے کی کوششیں جاری

    جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں سمیت کابل میں چھوٹے جانوروں کے تحفظ اور امداد کے لیے کام کرنے والا ادارہ کے ایس اے آر افغانستان سے درجنوں کتوں اور بلیوں کو نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کرنل کیرن روگسبرے کو سوشل میڈیا پر کابل ائیر پورٹ پر لی گئی ان تصاویر کی وضاحت کرنی پڑی جن میں وہاں کتے اور بلیاں پنجروں میں بند دکھائی دے رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے امریکی فوج نے حامد کرزئی ایئر پورٹ پر پنجروں میں کوئی بلیاں اور کتے نہیں چھوڑیں۔ تاہم بیان میں جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں کے ان الزامات پر کوئی جواب نہیں دیا گیا جن میں کہا گیا ہے کہ ایئرپورٹ پر سابق افغان سکیورٹی فورسز کے لیے کام کرنے والے کتوں سمیت موجود 130 کتوں کا کیا ہو گا۔

    رپورٹس کے مطابق بہت سے کتوں اور ان کے نگرانوں کو ملٹری طیاروں پر داخل ہونے کی اجازت نہیں مل سکی اور بہت سے پرائیویٹ چارٹر طیارے ایئر پورٹ تک رسائی نہیں حاصل کر سکے۔ ایسے میں جب تیس اگست کو ایئرپورٹ خالی کیا گیا تو بہت سے کتوں کو چھوڑنا پڑا۔

  16. چین کی طالبان کو افغانستان کی تعمیرِ نو میں ہاتھ بٹانے کی پیشکش, بی بی سی مانیٹرنگ

    چین کی وزارتِ خارجہ نے طالبان پر ایک بار پھر زور دیا ہے کہ وہ شراکت داری پر مبنی حکومت کا قیام عمل میں لائیں اور دہشت گرد تنظیموں سے رابطے منقتع کر دیں۔

    ساتھ ہی وزارتِ خارجہ کی ترجمان وینگ وین بِن نے افغانستان میں قیامِ امن اور تعمیرِ نو کے کام میں مدد کرنے کی پیشکش کی۔

    چین کے سرکاری خبر رساں ادارے چائنہ نیوز سروس کے مطابق جب ترجمان سے پوچھا گیا کہ آیا بیجنگ اس حکومت کو تسلیم کرے گا جس کا اعلان چند روز میں متوقع ہے۔

    اس سے قبل ایک ترجمان نے بتایا تھا کہ چین کابل میں حکومت بننے کا انتظار کرے گا اور اس کے بعد ہی اسے تسلیم کرنے کا سوال پیدا ہوگا۔

    تاہم بدھ کو وینگ وین بِن کا کہنا تھا: ’چین کو امید ہے کہ افغانستان میں تمام فریق افغان عوام کی خواہشات اور بین الاقوامی برادری کی توقعات کا احترام کریں گے، ایک کھلا اور شراکت پر مبنی سیاسی نظام تشکیل دیں گے، اعتدال پسند پالیسیاں اپنائیں گے اور دہشت گرد تنظیموں سے رابطے ختم کر دیں گے۔‘

  17. طالبان: پنجشیر کی عوام ایسے لوگوں کو جگہ نہ دیں جو لڑائی کا راستہ چنتے ہیں

    طالبان نے پنجشیر کے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ اُن لوگوں کو جگہ نہ دیں جو مذاکرات کی بجائے لڑائی کا راستہ چُنتے ہیں۔

    بی بی سی کے خدائے نور ناصر کے مطابق طالبان کے دعوت و ارشاد کمیشن کے سربراہ امیر خان متقی نے اپنے ایک تازہ آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ نئے افغان حکومت میں پنجشیر کے لوگوں سمیت تمام افغان شامل ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اب پورے ملک میں کوئی جنگ نہیں ہے اور لوگ پرسکون ہیں۔ تو ایسے وقت میں پنجشیر کے لوگوں کو بھی پرسکون ماحول میں رہنے کی ضرورت ہے۔‘

    اگرچہ امیر خان متقی نے اس آڈیو پیغام میں کسی کا نام نہیں لیا، تاہم واضح رہے کہ معزول افغان نائب صدر امر اللہ صالح اور سابق افغان گوریلا کمانڈر احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود اس وقت پنجشیر میں ہیں اور انھوں نے طالبان کے خلاف مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔

    طالبان کے خلاف دونوں رہنما قومی مزاحمتی فرنٹ کے زہر اہتمام جنگجوؤں کی سربراہی کر رہے ہیں۔ طالبان رہنما امیر خان متقی کا کہنا تھا کہ جو لوگ کابل اور دیگر صوبوں میں مزاحمت کرنے میں ناکام رہے انھیں پنجشیر جیسے چھوٹے سے علاقے میں جنگ کو ہوا نہیں دینی چاہیے۔

  18. کابل ایئرپورٹ بند، سرحدی راہداریوں پر لوگوں کا ہجوم

    افغانستان سے نکلنے کے خواہش مند افراد کی ایک بڑی تعداد اس وقت ملک کی زمینی سرحدوں کا رخ کر رہی ہے جبکہ کابل میں حکومت کی غیر موجودگی نے ایک خلا پیدا کر دیا ہے جس کے بعد عیر ملکی فلاحی اداروں کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ وہ ملک کو بحرانی صورتحال سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

    بدھ کی صبح بینکوں کے باہر لمبی لمبی قطاریں بھی دیکھنے میں آئیں جبکہ ایک 22 سالہ خاتون نے روئٹرز کو بتایا کہ انھوں نے طالبان کو لائن میں لگی خواتین کو ڈنڈوں سے مارتے ہوئے دیکھا ہے۔

    ان کا کہنا تھا: ’میں نے اس سے پہلا ایسا کچھ نہیں ہوتے دیکھا اور میں بہت خوفزدہ ہو گئی ہوں۔‘

    کابل ایئرپورٹ اس وقت قابل استعمال نہیں اور امریکی انخلا کے بعد وہاں سے لوگوں کو نکالنے کا عمل زمینی سرحدوں پر منتقل ہو گیا ہے۔ چونکہ افغانستان کی کوئی بندرگاہ نہیں اس لیے ہمسایہ ممالک پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ سرحدی راہداریوں پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔

    روئٹرز کے مطابق پاکستانی حکام نے بتایا کہ طورخم کے مقام پر سرحدی راہداری پر افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور گیٹ کھلنے کا انتظار کر رہے ہیں۔

    دوسری جانب ایران کے ساتھ سرحد پر قلعہ اسلام کے مقام پر بھی لوگ پڑی تعداد میں جمع ہو رہے ہیں۔

  19. عباس ستانکزئی: ’نئی حکومت کا اعلان تین دن میں کیا جائے گا، ایئرپورٹ دو دن میں بحال ہوگا‘, خدائے نور ناصر، بی بی سی

    افغان طالبان کے قطر میں سیاسی دفتر کے نائب اور مذاکراتی ٹیم کے رکن شیر محمد عباس ستانکزئی نے کہا ہے کہ نئی حکومت کا اعلان تین دنوں تک ہو جائے گا۔

    بی بی سی پشتو ریڈیو کو دئیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ اس نئی حکومت میں گزشتہ 20 برس میں حکومت میں رہنے والے افراد شامل نہیں ہوں گے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کی اسلامی امارت ایک ایسی حکومت بنائے جس کو افغانستان کے اندر اور باہر حمایت حاصل ہو۔ یہ ایک انکلسیو حکومت ہوگی اور افغانستان کے تمام اقوام کی نمائندہ ہوگی۔ وہ چہرے جو گزشتہ 20 برس میں کسی نہ کسی شکل میں حکومت میں رہے ہیں وہ ہماری حکومت میں نہیں ہوں گے۔‘

    عباس ستانکزئی کے مطابق اُن کی نئی حکومت میں تقویٰ دار، پرہیزگار اور تعلیم یافتہ افراد شامل ہوں گے۔

    اس سے قبل طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ قندھار میں ان کے سربراہ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کی سربراہی میں تین روزہ اجلاس ختم ہوا ہے جس میں نئی حکومت کی تشکیل پر بات چیت ہوئی ہے۔

    قندھار میں بعض ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان کی مرکزی شوریٰ کے اس تین روزہ اجلاس میں ملا ہبت اللہ اخوندزادہ شریک تھے اور کئی عرصے بعد قندھار میں اس شوریٰ کا اجلاس ہوا۔

    کیا خواتین کے پاس حکومت میں اہم منصب ہوں گے؟

    شیر محمد عباس ستانکزئی نے اس انٹرویو میں بتایا کہ اُن کی حکومت میں خواتین شامل ہوں گی لیکن یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ خواتین اہم منصب یا وزارت کی سطح پر ہوں گیں یا نہیں۔

    ’اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نئی حکومت میں خواتین کی کافی تعداد ہوگی، لیکن یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ بڑے منصبوں پر فائز ہوں گیں۔‘

    عباس ستانکزئی نے دعویٰ کیا کہ اُن کی حکومت میں خواتین کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں ہیں اور دفاتر میں خواتین کام کریں گی۔

    کابل میں افغان سروس کے ایڈیٹر عنایت الحق یاسینی کے اس جواب میں کہ کیا انٹرنیشنل کمیونیٹی ایسی حکومت کو تسلیم کر لیں گے؟ عباس ستانکزئی نے کہا ’ان شااللہ ہمیں یقین ہیں کہ سب اس حکومت کو تسلیم کریں گے کیونکہ 20 برس بعد افغانستان میں امن قائم ہوا ہے اور ایک ایسی حکومت بن رہی ہے کہ پورے افغانستان میں جنگ نہیں ہیں۔‘

    عباس ستانکزئی کے مطابق گزشتہ 40 برس میں پہلی مرتبہ گزشتہ پندرہ دنوں میں افغانستان میں کہیں جنگ نہیں ہوئی ہیں۔

    وہ کہتے ہیں اس صورتحال کا نہ صرف افغانوں کو بلکہ بین الاقوامی برادری کو فائدہ لینے چائیے۔

    ’افغان ان شااللہ متحد اور متفق ہیں اور دنیا کو بھی چائیے کہ وہ اس صورتحال سے فائدہ اُٹھائیں اور ہماری حکومت کو تسلیم کر لیں۔‘

    شیر محمد عباس ستانکزئی کے مطابق اُن کی حکومت امریکہ سمیت یورپی یونین اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتی ہیں اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک کو بھی اس صورتحال سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔

    عباس ستانکزئی کے مطابق قطر میں اُن کے سیاسی دفتر کے اراکین مختلف ممالک کے سے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

    ایئرپورٹ دو دنوں میں بحال ہوجائے گا

    شیر محمد عباس ستانکزئی کے مطابق کابل میں حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امریکہ کے انخلا کے بعد دوبارہ بحالی کا کام جاری ہے اور دو دنوں میں دوبارہ فنکشنل ہوجائے گا۔

    عباس ستانکزئی کے مطابق ایئرپورٹ کی دوبارہ بحالی اور مرمت پر 25 سے 30 ملین ڈالر خرچہ ہوگا جو قطر اور ترکی کی جانب مدد کی جائے گی۔

    قانونی دستاویزات کے حامل افراد ملک سے باہر جا سکیں گے

    اس سوال کے جواب میں کہ کیا طالبان کی نئی حکومت ان افغانوں کو باہر جانے کی اجازت دیں گے جو افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں؟

    عباس ستانکزئی نے کہا کہ ’اُن لوگوں کو ایئرپورٹ اور دوسرے راستوں سے ملک سے باہر جانے دیا جائے گا جن کے پاس قانونی دستاویزات ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ بغیر پاسپورٹ اور ویزے کے کسی کو بھی ملک سے باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔

    عباس ستانکزئی کا کہنا تھا کہ بغیر دستاویزات کی وجہ سے ہی ایئرپورٹ پر بدنظمی پیدا ہوئی اور دعویٰ کیا کہ امریکہ اب دو ہزار سے پچیس سو کے قریب ایسے افغانوں کو واپس افغانستان منتقل کر رہا ہے جو اُن کے بقول قانونی دستاویزات کے بغیر وہاں چلے گئے تھے۔

  20. خود کش حملے سے پہلے برطانوی سفارتخانے نے افغان شہریوں کو کابل ایئرپورٹ کے ابے گیٹ پر جانے کو کہا

    بی بی سی کومعلوم ہوا ہے کہ کابل ائیرپورٹ کے باہر خود کش حملے سے قبل برطانوی حکام نے افغان شہریوں کو ابے گیٹ پر جانے کو کہا تھا۔

    بی بی سی کے پروگرام نائٹ شو نے ایسی ای میلز سامنے آئی ہیں، جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ کو ایئرپورٹ پر خطرے کے بارے میں معلوم تھا اس کے باوجود برطانوی سفارتخانے نے لوگوں کو ایئرپورٹ کے ابے گیٹ پر جمع ہونے کے بارے میں کہا تھا۔ یہ گیٹ بیرن ہوٹل کے قریب واقع ہے۔

    یاد رہے کہ اس خود کش حملے میں 200 لوگ مارے گئے تھے۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ان ای میلز پر تحقیقات کر رہی ہے۔

    ایک افغان شہری نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ خود کش حملے والے دن برطانیہ کی سرکاری ایڈوائس بہت مبہم اور متضاد نوعیت کی تھی۔

    منگل کو افغانستان سے آخری امریکی فوجی کے انخلا سے قبل کابل ائیرپورٹ کے گیٹ پر روزانہ ملک سے نکلنے کی امید پر ہزاروں افراد جمع ہوتے تھے۔ ان میں سے کچھ ایسے بھی تھے جنھیں برطانوی حکام نے اس گیٹ پر جمع ہونے کے بارے میں کہا تھا کیونکہ وہ افراد باہر جانے کی اہلیت رکھتے تھے۔

    حملے والے دن ہی ایک اور ای میل جو برطانوی سفارتخانے نے بھیجی تھی میں ایک سابق افغان مترجم سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ صیحح جگہ تک پہنچ چکے ہیں۔ اس ای میل میں کہا گیا تھا کہ براہ مہربانی یہ بتا دیں کہ آپ درست گیٹ پر کھڑے ہیں؟ ابے گیٹ۔۔۔

    بی بی سی نے مترجم کو طالبان سے بچانے کی غرض سے اس کا نام ظاہر نہیں کیا ہے۔

    سابق مترجم کے مطابق اگر میں برطانوی حکام کی ہدایات پر عمل کیا ہوتا تو میں آج زندہ نہ ہوتا۔ میں نے اس ای میل کے جواب میں کہہ دیا تھا کہ میں اس گیٹ پر موجود نہیں ہوں کیونکہ اس صورتحال میں اس گیٹ پر آنا میں محفوظ نہیں سمجھتا کیونکہ صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔

    اس گیٹ پر جانا سراسر بے وقوفی ہو گی اور یوں میں نے اپنی جان بچائی۔ یہ اپنی زندگی بچانے کے لیے ہمارا اپنا فیصلہ تھا۔