شمالی مزاحمتی محاذ اور طالبان کے اہم کمانڈرز پنجشیر کی لڑائی میں ہلاک
پنجشیر میں طالبان اور ان سے برسرپیکار شمالی مزاحمتی فوج کے مابین لڑائی میں تیزی آ گئی ہے اور اتوار کو ہونے والی جھڑپوں میں جہاں مزاحمتی محاذ کے دو اہم رہنما اور ایک اہم طالبان کمانڈر ہلاک ہوئِے ہیں۔
مزاحمتی فوج کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ این آر ایف کے ترجمان فہیم دشتی کے علاوہ جنرل عبدالودود زارا طالبان سے لڑائی میں مارے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مارے جانے والے کمانڈر جنرل عبدالودود شمالی مزاحمتی فوج کے لیڈر احمد مسعود کے قریبی رشتہ دار بھی تھے۔
فہیم دشتی احمد شاہ مسعود کے بہت قریب ساتھی تھے۔ احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے انسٹاگرام پر لکھا کہ فہیم دشتی نے ’احمد شاہ مسعود پر حملے میں اپنی آنکھیں کھو دیں اور پنجشیر پر ایک اور حملے میں اپنی جان دے دی۔‘
فہیم دشتی 2001 میں احمد شاہ مسعود پران دو خودکش حملہ آوروں کے حملے کے دوران زخمی ہوئے تھے ، جو صحافیوں کے بھیس میں کمانڈر مسعود کا انٹرویو کر رہے تھے۔
پنجشیر کی لڑائی میں ایک اہم طالبان کمانڈر اور ان کے 13 محافظوں کے بھی مارے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔
طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجو اب پنجشیر کے صوبائی دارالخلافہ بزراک میں داخل ہو چکے ہیں جہاں لڑائی میں انھوں نے دشمن کوخاصا جانی نقصان بھی پہنچایا ہے تاہم شمالی مزاحمتی محاذ کی جانب سے ان دعووں کو رد کیا گیا ہے۔