آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ، قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دیا

طالبان نے افغانستان میں مزاحمت کے آخری گڑھ پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے ’جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ بی بی سی آزادانہ طور پر دونوں فریقین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

لائیو کوریج

  1. شمالی مزاحمتی محاذ اور طالبان کے اہم کمانڈرز پنجشیر کی لڑائی میں ہلاک

    پنجشیر میں طالبان اور ان سے برسرپیکار شمالی مزاحمتی فوج کے مابین لڑائی میں تیزی آ گئی ہے اور اتوار کو ہونے والی جھڑپوں میں جہاں مزاحمتی محاذ کے دو اہم رہنما اور ایک اہم طالبان کمانڈر ہلاک ہوئِے ہیں۔

    مزاحمتی فوج کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ این آر ایف کے ترجمان فہیم دشتی کے علاوہ جنرل عبدالودود زارا طالبان سے لڑائی میں مارے گئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق مارے جانے والے کمانڈر جنرل عبدالودود شمالی مزاحمتی فوج کے لیڈر احمد مسعود کے قریبی رشتہ دار بھی تھے۔

    فہیم دشتی احمد شاہ مسعود کے بہت قریب ساتھی تھے۔ احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود نے انسٹاگرام پر لکھا کہ فہیم دشتی نے ’احمد شاہ مسعود پر حملے میں اپنی آنکھیں کھو دیں اور پنجشیر پر ایک اور حملے میں اپنی جان دے دی۔‘

    فہیم دشتی 2001 میں احمد شاہ مسعود پران دو خودکش حملہ آوروں کے حملے کے دوران زخمی ہوئے تھے ، جو صحافیوں کے بھیس میں کمانڈر مسعود کا انٹرویو کر رہے تھے۔

    پنجشیر کی لڑائی میں ایک اہم طالبان کمانڈر اور ان کے 13 محافظوں کے بھی مارے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

    طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجو اب پنجشیر کے صوبائی دارالخلافہ بزراک میں داخل ہو چکے ہیں جہاں لڑائی میں انھوں نے دشمن کوخاصا جانی نقصان بھی پہنچایا ہے تاہم شمالی مزاحمتی محاذ کی جانب سے ان دعووں کو رد کیا گیا ہے۔

  2. کابل کے نواح سے سلفی مولوی کی لاش برآمد، طالبان کا ہلاکت میں ملوث ہونے سے انکار

    افغان ذرائع ابلاغ کے مطابق دارالحکومت کابل کے نواح سے ایک بااثر سلفی مولوی شیخ ابوعبیداللہ متوکلی کی لاش ملی ہے۔ انھیں چند روز قبل اغوا کیا گیا تھا۔

    شیخ ابوعبیداللہ کو شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ خراسان سے تعلق کی وجہ سے ماضی میں قید بھی کیا گیا تھا۔

    تاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ شیخ ابوعبیداللہ طالبان کی حراست میں تھے۔

    ترجمان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ عبیداللہ متوکل اور ان کے ایک شاگرد کی ہلاکت سے اسلامی امارت کے مجاہدین کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی کہ عبیداللہ متوکل کو چند دن قبل اغوا کیا گیا تھا اور ان کی لاش اتوار کو ملی۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسلامی امارت کے انٹیلیجنس اہلکار اس قتل کے ذمہ داران کو تلاش کر رہے ہیں۔

  3. بریکنگ, اگر طالبان پنجشیر اور اندراب پر حملے روک دیں تو مزاحتمی فورس بھی فوری جنگ بند کردے گی: احمد مسعود

    افغانستان میں طالبان مخالف مزاحتمی فورس کے سربراہ احمد مسعود نے اپنے سوشل میڈیا اکاوئنٹ کے پر ایک بار پھر معاملات کا مذاکرات کے ذریعے سے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    احمد مسعود کا کہنا ہے کہ وہ افغان علماء کی قرارداد کے بڑے متن کی حمایت کرتے ہیں۔ جس میں فوری طور پر جنگ کے خاتمے پر زور دیا گیا ہے۔

    احمد مسعود کے مطابق انھیں اس بات کی خوشی ہے کہ علما امن وسلامتی کے لیے کوشش کررہے ہیں۔ جس کی مزاحتمی فورس حمایت کرتے ہیں۔

    احمد مسعود کا کہنا تھا کہ مزاحتمی فورس جنگ ختم کرنے اور مزاکرات کے ذریعے سے معاملات کو حل کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اگر طالبان پنچشیر اور اندراب پر اپنے حملے روک دیں تو مزاحتمی فورس بھی فوری طور پر جنگ بند کردیں گے۔

    احمد مسعود کا کہنا تھا کہ اگر طالبان پنچشیر اور مزاحتمی فورس کے علاقوں سے اپنے فوج پیچھے ہٹائیں گے تو مزاحتمی فورس بھی مثبت اقدامات کرے گی۔ احمد مسعود کے مطابق وہ امید کرتے ہیں کہ طالبان علماء اور معززیں کے اجتماع میں ایسا کرنے کو تیار ہوں گے۔

    ’ہمیں امید ہے کہ طالبان افغانستان کے لوگوں کے مطالبے کو توجہ سے سنیں گے اور ان پر سنجیدگی سے عمل کریں گے۔‘

    احمد مسعود کا کہنا تھا کہ مزاحتمی فورس افغانستان کے بہترین مستقبل کے لیے ہر طرح کا ایسا تعاون کرنے کو تیار ہے جس میں افغانستان کے تمام طبقات کا اعتماد ہو اور ان کے پاس نمائندگی ہو۔

    مزاحتمی فورس کے ترجمان کے مطابق احمد مسعود کی جانب سے امن کی خواہش کوئی نئی بات نہیں ہے۔

    مزاحتمی فورس نے خود کبھی بھی جنگ کو دعوت نہیں دی مجبوری کے عالم میں اپنے دفاع کے لیے ہتھیار اٹھائے ہیں۔

    ترجمان کے مطابق ’طالبان کو مزاکرات کی پہلے بھی پیش کش کی تھی۔ اب دوبارہ پیش کی ہے۔ اس کا مقصد کمزوری نہیں بلکہ افغانستان کو کسی بحران اور انسانی المیہ سے بچانا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ طالبان مزاکرات کی میز پر بیٹھ کر معاملات کو حل کریں گے۔‘

  4. طالبان پر گھر میں گھس کر رشتہ داروں کے سامنے ایک خاتون پولیس اہلکار کو گولی مار کر قتل کرنے کا الزام

    افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں نے ایک صوبائی شہر میں ایک خاتون پولیس اہلکار کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ اس واقع کے متعلق خاتون کے رشتے داروں نے بی بی سی کو بتایا ہے۔

    مقامی میڈیا میں اس خاتون کا نام بانو نگار بتاتا گیا ہے اور انھیں وسطی صوبہ غور کے دارالحکومت فیروزکوہ میں انھیں کے گھر میں ان کے رشتہ داروں کے سامنے قتل کیا گیا ہے۔

    یہ قتل افغانستان میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے مبینہ مظالم کی اطلاعات کے درمیان ہوا ہے۔

    بی بی سی نے طالبان حکام سے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی ہے۔ خاتون پولیس اہلکار کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان نے تحقیقات کا وعدہ کیا ہے۔

  5. گرفتار ہونے والے طالبان میں زیادہ تر ’غیر ملکی اور ان میں سے بیشتر پاکستانی‘ ہیں: مزاحمتی محاذ

    صوبہ پنجشیر کا کنٹرول حاصل کرنے کے بارے میں طالبان کے دعووں کے باوجود، نام نہاد ’قومی مزاحمتی محاذ‘ کے عسکریت پسندوں کا کہنا ہے کہ ان کی افواج نے صوبے کا ضلع پریان طالبان سے دوبارہ چھین لیا ہے۔

    دوسری جانب طالبان کا کہنا ہے کہ انھوں نے صوبہ پنجشیر کے تمام علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے سوائے دارالحکومت بازارک اور رخا اضلاع کے۔

    دریں اثنا ، امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ مارک ملی نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں داعش اور القاعدہ کے بڑھنے سے ملک کو خانہ جنگی کا خطرہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ افغانستان کے نئے حالات دہشت گرد گروہوں کے دوبارہ ظہور کے لیے سازگار ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔

    پنجشیر جنگ میں پیش رفت کے متضاد دعوے سامنے آئے ہیں جب قومی مزاحمتی محاذ کے ترجمان فہیم دشتی نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ پیران کا علاقہ ’مکمل طور پر طالبان سے پاک‘ ہو گیا ہے۔

    دشتی نے دعویٰ کیا کہ جیسے ہی طالبان کا قافلہ واپس آیا، ’ان میں سے کم از کم ایک ہزار کو گھیر لیا گیا اور وہ مقامی لوگوں کی مدد سے مزاحمتی قوتوں کے ہاتھوں پکڑے گئے یا مارے گئے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ گرفتار ہونے والوں میں زیادہ تر ’غیر ملکی اور ان میں سے بیشتر پاکستانی‘ تھے۔

    اس سے قبل دن میں ، جناب فہیم دشتی نے دعویٰ کیا تھا کہ طالبان نے ایک پہاڑ پر دھماکے کی وجہ سے دشتِ ریوت کے علاقے کو گھیر لیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ طالبان کا تمام سامان اور گاڑیاں اپنی جگہ پر موجود ہیں۔

  6. اریانا افغان کی کابل سے اندرون ملک پروازیں شروع

    افغانستان کی سرکاری فضائی کمپنی اریانا کا کہنا ہے کہ اس نے دارالحکومت کابل اور تین بڑے شہروں کے درمیان اندرون ملک ہروازیں شروع کر دی ہیں۔

    یہ اعلان قطر کی طرف سے تکنیکی ماہرین کی ایک ٹیم کی جانب سے کابل ہوائی اڈے کا ایک حصہ کھولنے کے بعد کیا گیا ہے۔

    اریانا کے حکام نے ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ کابل، قندهار، مزار شریف اور ہرات کے درمیان پروازیں شروع کی گئی ہیں۔

    الجزیرہ نے افغانستان میں قطر کے سفیر کے حوالے سے بتایا کہ افغانستان کے لیے امداد کی مد میں قطری تنکنیکی ٹیم کی جانب سے کابل ائیر پورٹ کا ایک حصہ کھول دیا گیا ہے۔

    گذشتہ ہفتے ذبیح اللہ مجاہد کے سیکرٹری بلال کریمی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ترکی اور قطر کی طرف سے تکنیکی ٹیمیں حامد کرزئی ائیر پورٹ کی مرمت کے لیے افغانستان آئی تھیں۔

  7. پنجشیر میں طالبان کے حملے پسپا کر کے بھاری جانی نقصان پہنچایا: احمد مسعود کا دعوی

    افغانستان کے علاقے پنجشیر میں احمد مسعود کی قیادت میں قومی مزاحمتی محاذ نے اعلان کیا کہ طالبان کے حملوں کو پسپا کر دیا گیا ہے اور گروپ کو بھاری جانی نقصان پہنچایا گیا۔

    تاہم طالبان نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔

    این آر ایف کے ترجمان فہیم فطرت کا کہنا تھا کہ انھوں نے طالبان کو بھاری جانی نقصان پہنچایا اور انہیں مختلف علاقوں سے واپس دھکیل دیا گیا ہے۔

    دوسری طرف طالبان کے رکن انعام اللہ سمنگانی نے کہا کہ انھوں نے صوبے میں کچھ پیش رفت کی ہے۔

    روسی وزیر خارجہ نے جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے پر زور دیا۔

  8. افغانستان: لوگر صوبے میں کیا صورتحال ہے؟

    بی بی سی کے مدثر ملک افغانستان کے لوگر صوبے کے شہر پل عالم میں موجود ہیں۔

    مدثر ملک کے مطابق شہر میں بازار اور دکانیں وغیرہ کھلی ہیں اور معمولاتِ زندگی روٹین کے مطابق چل رہے ہیں۔

  9. افغانستان کے پڑوسی ممالک کا اجلاس: ’افغانستان میں امن پورے خطے کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے‘

    آج اتوار کے روز پاکستان نے افغانستان کے پڑوسی ممالک کے خصوصی نمائندوں کے ورچوئل اجلاس کی میزبانی کی جس میں افغانستان کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاکستان کے افغانستان کے لیے نمائندہ خصوصی، محمد صادق کی صدارت میں منعقد ہونے والے اس ورچوئل اجلاس میں ایران، چین، ترکمانستان، ازبکستان اور تاجکستان کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    وزارتِ خارجہ کے مطابق محمد صادق نے مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے اور مستحکم افغانستان سے پیدا ہونے والے نئے مواقع کا ادراک کرنے کے لیے علاقائی نقطہ نظر کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

    تمام ہمسایہ ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افغانستان میں امن پورے خطے کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے ضروری ہے۔

  10. ابراہیم رئیسی : ایران، افغانستان کے عوام کی مرضی سے قائم ہونے والی حکومت کی حمایت کرے گا

    ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا کہنا ہے کہ ان کا ملک افغانستان کی عوام کی مرضی سے قائم ہونے والی حکومت کی حمایت کرے گا۔

    خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سنیچر کے روز سرکاری ٹی وی پر بات کرتے ہوئے ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ’جتنی جلدی ممکن ہو‘ افغان عوام کو اپنی حکومت کا تعین کرنے کا اختیار ملنا چاہیے۔

    ’وہاں ایک ایسی حکومت قائم ہونی چاہیے جو عوام کی مرضی سے منتخب ہو۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ایران کی ہمیشہ سے خواہش رہی ہے کہ افغانستان میں خونریزی و جنگ کا خاتمہ ہو اور امن قائم ہو۔

    ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ’ایران، افغان عوام کی منتخب کردہ حکومت کی حمایت کرے گا۔‘

  11. جنرل فیض حمید کی گلبدین حکمت یار سے ملاقات، طلوع نیوز کا دعویٰ

    افغانستان کے نجی ٹیلی ویژن طلوع نیوز کے مطابق حزب اسلامی کے رہنما گلبدین حکمت یار کے قریبی ذرائع نے طلوع نیوز کو تصدیق کی کہ پاکستان کے انٹیلیجنس چیف جنرل فیض حمید نے کابل میں حکمت یار سے ملاقات کی ہے۔

    طلوع نیوز کے مطابق اس ملاقات میں افغانستان میں مخلوط حکومت پر بات چیت کی گئی ہے۔

  12. کیا طالبان افغان شہریوں کے بائیو میٹرک ڈیٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں؟

    بی بی سی نے اقوامِ متحدہ کی دستاویزات دیکھی ہیں جن میں یہ کہا گیا ہے کہ طالبان ان لوگوں کو ڈھونڈ رہے ہیں جنھوں نے امریکی اور نیٹو فوج کے ساتھ کام کیا یا کسی بھی حیثیت میں ان کا ساتھ دیا۔

    کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ امریکی فوج اور افغان حکومت کی طرف سے کثیر تعداد میں جمع گیا بائیومیٹرک ڈیٹا ان لوگوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

    بائیو میٹرک ڈیٹا میں عموماً لوگوں کی انگلیوں کے نشانات اور ان کی تصاویر شامل ہوتی ہیں۔

    انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس فرسٹ کے سینیئر ایڈوائزر برائن ڈولے نے بی بی سی ’ٹیک اینڈ ٹینٹ‘ پوڈکاسٹ کو بتایا کہ اس بارے میں زیادہ معلومات نہیں لیکن خیال یہی ہے کہ یہ کثیر ڈیٹا یا تو طالبان کے ہاتھ میں آ گیا ہے یا پھر آنے والا ہے۔

  13. امریکی اسلحہ اور یونیفارم پہنے طالبان کی سپیشل فورس بدری 313 کا پیغام

    طالبان کی سپیشل فورس بدری 313 نے اب کابل ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

    امریکی جا چکے ہیں لیکن پیچھے چھوڑے ہوئے اسلحے اور ہیلی کاپٹرز کو ناکارہ بنا گئے ہیں۔ طالبان کا دعویٰ ہے کہ اس کو ٹھیک کرنے کے لیے ان کے پاس ٹیم موجود ہے۔

  14. بریکنگ, شیخ رشید: طورخم پر کوئی پناہ گزین کیمپ نہیں

    شیخ رشید نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر موجود طورخم بارڈر کراسنگ کے مقام پر تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انڈیا کے بیانیے کو رد کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ طورخم پر کوئی پناہ گزین موجود نہیں ہیں اور نہ ہی کوئی کیمپ لگا ہوا ہے۔

  15. بریکنگ, شیخ رشید: ہماری قیادت نے طالبان سے ٹی ٹی پی پر ضرور بات کی ہو گی

    وزیرِ داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ہمارے اعلیٰ عہدیداروں نے یقیناً طالبان سے تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے متعلق بات کی ہو گی۔

    وزیرِ داخلہ نے طورخم کے دورہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے افغانستان میں طالبان کو یقین دلایا ہے کہ ہماری سرزمین ان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، اسی طرح انھوں نے بھی ہمیں یقین دلایا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

    شیخ رشید نے آئی ایس آئی کے سربراہ کے دورہ کابل کے حوالے سے کہا کہ اس سے قبل سی آئی اے کے سربراہ بھی کابل جا چکے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مستقبل میں پاکستان سے سیاسی وفد بھی کابل جا سکتا ہے تاہم اس کا فیصلہ وزیراعظم اور دفترِ خارجہ نے کرنا ہے۔

  16. لوگر میں سکولوں کی صورتحال: ’خوف کی وجہ سے حاضری بہت کم ہے‘, مدثر ملک، بی بی سی کابل

    افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سکولوں میں تعلیم کا سلسلہ جاری ہے، یہ دکھانے کے لیے طالبان نے بی بی سی کی ٹیم کو لوگر صوبے کے شہر پل عالم کا دورہ کروایا۔

    شہر میں لڑکے اور لڑکیوں دونوں کے سرکاری پرائمری سکول (پانچویں جماعت تک) کھلے ہیں اور ان میں درس و تدریس کا سلسلہ جاری ہے۔

    تاہم طالبان ابھی تک سرکاری ہائی سکولوں اور یونیورسٹیوں کو کھولنے کے متعلق فیصلہ نہیں لے سکے ہیں لہذا سرکاری ہائی سکول بند پڑے ہیں۔

    البتہ شہر میں موجود پرائیوٹ ہائی سکول کھلے ہیں لیکن وہاں پر لڑکے لڑکیوں کو الگ الگ بٹھایا جا رہا ہے۔

    ایک پرائیوٹ سکول کے پرنسپل نے بی بی سی کو بتایا کہ ’خوف کی وجہ سے حاضری بہت کم ہے۔ شاید جب لوگوں کے دلوں سے خوف کم ہو جائے گا تو وہ اپنے بچوں کو سکول بھیجنا شروع کردیں گے۔‘

  17. ’آئی ایس آئی کے سربراہ نے طالبان کی دعوت پر کابل کا دورہ کیا‘, فرحت جاوید، بی بی سی اردو اسلام آباد

    وزارت دفاع کے ذرائع نے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے دورے سے متعلق بی بی سی کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک روزہ دورہ طالبان کے دعوت پر کیا گیا ہے۔ دورے کے دوران کابل میں پاکستان کے سفیر سے ملاقات کے علاوہ ’طالبان کے نمائندوں‘ سے ملاقات بھی طے تھیں۔

    ذرائع کے مطابق دورے کا بنیادی مقصد ’دیگر ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی جانب سے پاکستان کو موصول ہونے والی وہ درخواستیں ہیں جن میں ان ممالک کے شہریوں اور اداروں کے ملازمین کے محفوظ انخلا میں مدد کا مطالبہ کیا گیا ہے۔‘

    پاکستان کے عسکری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ڈی جی آئی سی آئی کی ملاقات طالبان کی قیادت سے ہوئی ہے تاہم طالبان کی جانب سے اس ملاقات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

    ذرائع کے مطابق ’طالبان نمائندگان سے ملاقات میں غیر ملکی اور بعض افغان شہری جو بین الاقوامی اداروں کے ساتھ منسلک رہے ہیں، کے پاکستان کے راستے انخلا کے لیے مشترکہ میکنزم تیار کرنے پر بات چیت کی گئی تاکہ افغان اتھارٹیز کے ساتھ مل کر ان شہریوں کا پاکستان کے راستے انخلا ممکن بنایا جا سکے۔‘

    واضح رہے کہ برطانیہ اور امریکہ سمیت کئی ممالک، خصوصا ’نیٹو ممالک نے پاکستان سے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے مدد کی درخواست کی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی افغان وفد سے ملاقاتوں میں ’پاک، افغان سرحد کے معاملات بھی زیربحث آئے ہیں۔ ان میں خاص طور پر ان افراد کی آمد ورفت پر بات کی گئی جو روزانہ کی بنیاد پر سرحد کے آرپار نقل وحرکت کرتے ہیں۔ یہ بھی غور کیا گیا کہ اس امر کو یقیینی بنایا جائے کہ صرف وہی افراد سرحد پار کر سکیں جنھیں ایسا کرنے کی اجازت ہے۔‘

    ذرائع کے مطابق طالبان نمائندوں اور آئی ایس آئی کے سربراہ کے درمیان ملاقات میں یہ معاملہ بھی زیربحث آیا کہ کیسے ’تخریب کاروں اور دہشت گرد گروہوں کو افغانستان کی موجودہ صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھانے سے روکا جائے۔‘

    واضح رہے کہ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغان طالبان حکومت سازی کی کوشش کر رہے ہیں اور طالبان سمیت دیگر اتحادی گروہوں میں حکومت سازی کے معاملے پر اختلاف رائے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

    بعض ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جنرل فیض حمید کا دورہ، افغان طالبان کی صفوں میں انھی اختلافات کو ختم یا کم کرنے کی ایک کوشش بھی ہے۔

    پاکستان، خصوصاً آئی ایس آئی سے متعلق یہ تاثر عام ہے کہ یہ طالبان پر اثرورسوخ رکھتی ہے لیکن پاکستان نے ہمیشہ ایسے کسی بھی اثرورسوخ کے الزامات کو رد کیا ہے۔

  18. افغانستان میں حالات خانہ جنگی کی طرف جا سکتے ہیں: جنرل مارک ملی

    ایک اعلیٰ امریکی جنرل مارک ملی نے خبردار کیا ہے کہ اگر طالبان، افغانستان کے مقتدر حلقوں کو یکجا کرنے اور حکومت مستحکم کرنے میں ناکام رہے تو ملک میں خانہ جنگی ہونے کا خدشہ ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل مارک ملی کا کہنا ہے کہ ’عسکری تجربے کی بنیاد پر میرا اندازہ یہ ہے کہ حالات خانہ جنگی کی جانب جا سکتے ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ طالبان مقتدر حلقوں کو اکھٹا کرکے حکومت کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے یا نہیں۔‘

    جرمنی کی رامسٹین ایئر بیس سے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے جنرل ملی نے کہا کہ اگر طالبان ایسا نہیں کر سکتے تو اگلے تین سالوں میں ’القاعدہ کی تشکیل نو یا نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ جیسے دہشت گرد ایک نئے روپ میں سامنے آ سکتے ہیں۔‘

  19. کابل ڈائری: ’اٹھو، اٹھو جنرل فیض آ رہے ہیں‘

    ایک سینئیر فوجی افسر آگے بڑھے اور انھوں نے ہم صحافیوں سے کہا کہ ٹیکسٹ چلا دیں لیکن ویڈیو نہ چلائیں۔

    ابھی انھوں نے یہ کہا ہی تھا کہ باہر سے طالبان کا بندہ آیا اور اس نے بھی یہی مطالبہ دوہرایا کہ آپ خبر لکھ سکتے ہیں تصویر نہیں دینی۔

    اور تو اور وہاں قطری سکیورٹی والے نے جب یہی مطالبہ کیا تو ایک صحافی نے کہا کہ ’سر ہم تو نہیں چلائیں گے لیکن گوروں کا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘

    ان کا یہ کہنا ہی تھا کہ اسی لمحے چینل فور کی ایڈیٹر لنڈسے ہلسم نے ٹویٹ کر دی۔

  20. کیا کابل میں امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بننے والی کار میں بم تھا؟

    29 اگست کو کابل کے شمالی حصے میں ایک ڈرون حملہ ہوا جس میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے سات افراد مارے گئے، جس نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر یہ حملہ کیا۔ ان اطلاعات میں اسے مقامی دولت اسلامیہ کی طرف سے ایک بہت خـاص خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ اب وہ اس سارے معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے۔ اس حملے کے بارے میں مقامی افراد نے جو کچھ صحافیوں کو بتایا وہ امریکی دعوؤں کی نفی کرتا ہے۔