آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ، قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دیا

طالبان نے افغانستان میں مزاحمت کے آخری گڑھ پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے ’جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ بی بی سی آزادانہ طور پر دونوں فریقین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

لائیو کوریج

  1. امریکی کابل ایئر پورٹ پر کیا کیا چھوڑ گئے ہیں؟

  2. افغانستان میں طالبان: پاکستان آنے والے افغان شہری ’پناہ گزین‘ کیوں نہیں ہیں؟, سارہ عتیق، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    رخشندہ ایک ڈاکٹر ہیں جبکہ ان کے شوہر افغانستان پولیس میں افسر تھے۔ طالبان کی جانب سے کابل پر قبضے کے بعد وہ اپنے تین بچوں کے ہمراہ چمن بارڈر کے راستے پاکستان آئیں۔ ان کے پاس افغانستان کا پاسپورٹ تو ہے لیکن پاکستان کا ویزہ نہیں ہے اور اب وہ پریشان ہیں کے ان کی پاکستان میں کیا حیثیت ہو گی۔

    ایک وقت میں دنیا میں سب سے زیادہ پناہ گزینوں کی میزبانی کرنے والے ملک پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کے ان کا ملک مزید افغان پناہ گزینوں کو رکھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب پاکستانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ پہلے ہی 30 لاکھ افغان پناہ گزینوں جن میں سے آدھے رجسٹرڈ نہیں ہیں کی میزبانی کر رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کی تعداد 14 لاکھ ہے جبکہ آٹھ لاکھ 80 ہزار افغانوں کو افغان شہریت کارڈ دیا گیا ہے یعنی وہ پاکستان میں رہنے والے افغان شہری ہیں جبکہ چار سے پانچ لاکھ ایسے افغان شہری ہیں جن کی کسی قسم کی رجسٹریشن نہیں ہوئی۔

    پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا ہے کہ 20 سے 25 ہزار افغان شہری روزانہ کی بنیاد پر افغانستان سے پاکستان آ رہے ہیں تاہم وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کا اصرار ہے کہ اب تک پاکستان میں ایک بھی افغان پناہ گزین نہیں ہے۔

    تو پھر اس وقت نامکمل سفری دستاویزات کے ساتھ پاکستان آنے والے افغان شہریوں کی پاکستان میں حیثیت کیا ہے؟

    مزید تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں

  3. کابل میں پھنسے برطانوی اداروں کے لیے انگلش پڑھانے والے ایک استاد اپنے تحفظ کے بارے میں پریشان

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک انگریزی زبان کے سابق استاد جو ابھی افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں کا کہنا ہے کہ وہ اس بات پر پھچتا رہے ہیں کہ انھوں نے کیوں برطانوی مشن کے لیے کام کیا تھا کیونکہ اس وجہ سے اس وقت ان کی زندگی خطرے میں ہے۔

    ان کے مطابق مجھے انگریزوں کے ساتھ کام کرنے پر افسوس ہے۔ مجھے اس بات پر بھی پچھتاوا ہے کہ میں نے لوگوں کو انگلش سیکھنے میں مدد دی۔ مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ میں نے ایسے لوگوں کے ساتھ کیوں کام کیا جنھوں نے مجھے تنہا چھوڑ دیا اور یہاں سے فرار ہو گئے۔

    نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر انھوں نے مزید بتایا کہ انھوں نے برٹش کونسل سمیت برطانیہ کے لیے آٹھ سے نو سال تک کام کیا جس وجہ سے اس وقت وہ طالبان کے ہدف پر ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ وہ اس وجہ سے بھی ہدف ہیں کہ کابل میں کلاسز سے متعلق ان کی تصاویر کی تشہیر بھی کی گئی تھی۔

    ان کے مطابق جیسے ہی طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالا تو انھوں نے ملک چھوڑے کی کوشش کی مگر ان کی درخواست پر انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔ ان کے مطابق اس وقت سے وہ ابھی سو نہیں پا رہے ہیں۔

    جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر وہ کابل سے باہر نہ جا سکے اور طالبان نے انھیں تلاش کر لیا تو پھر کیا ہو سکتا ہے؟ ان کا جواب تھا کہ ان کی قسمت ان لوگوں سے مختلف نہیں ہو گی جنھوں نے برطانوی فوج اور میڈیا کے لیے کام کیا سے مختلف نہیں ہو گی۔۔۔ وہ مجھے مار دیں گے۔

  4. پناہ گزینوں کے بحران سے بچنے کے لیے طالبان سے روابط رکھنے ہوں گے: سابق برطانوی سفیر

    کابل میں سنہ 2012 سے 2014 تک برطانیہ کے سابق سفیر سر ویلم پیٹی کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ روابط کے ذریعے پناہ گزینوں کے بحران کو بچا سکتا ہے اور ملک کو دہشتگردی کی آماجگاہ بننے سے روکا جا سکتا ہے۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ طالبان جانتے ہیں کہ وہ ملک نہیں چلا سکتے ہیں۔

    ان کے مطابق اگر طالبان ایک حکومت چلانے جا رہے ہیں اور اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں تو انھیں دوسرے ممالک کے ساتھ روابط بڑھانے ہوں گے۔ لہٰذا ہمارے پاس بھی کارڈز تو موجود ہیں۔

  5. افغان پناہ گزین جنھوں نے برطانیہ کے لیے خدمات سر انجام دیں وہ مستقل رہائش کے اہل ہوں گے

    برطانیہ کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ایسے افغان پناہ گزین جنھوں نے ماضی میں برطانوی فوج یا حکومت کے لیے خدمات سر انجام دی ہیں وہ مستقل طور پر برطانیہ منتقل ہونے کے اہل ہوں گے۔

    ایسے پناہ گزین کو غیر معینہ مدت کے لیے برطانیہ میں رہنے کے اہل ہوں گے۔ اس سے پہلے انھیں صرف پانچ سال کی قیام کی اجازت دی جاتی تھی۔

    برطانیہ نے اس پروگرام کا نام آپریشن وارم ویلکم رکھا ہے۔ برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق وہ اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ ایسے افغان پناہ گزین برطانیہ سے بھرپور مدد حاصل کر سکیں اور وہ یہاں رہ کر اپنی زندگیوں کو سنوار سکیں۔

    خیال رہے کہ 13 اگست سے برطانیہ نے ایسے 8000 سے زائد افغان شہریوں کو جو برطانیہ کے آبادی کاری کی پالیسی پر پورا اترتے ہیں کا افغانستان سے انخلا یقینی بنایا ہے۔

    برطانیہ ابھی طالبان سے ایسے شہریوں کے محفوظ انخلا سے متعلق مذاکرات کر رہا ہے۔

    اس سے پہلے برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن کو ایسے افغان پناہ گزینوں کو افغانستان سے نہ نکالنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ برطانوی حکومت نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ برطانیہ نے اپنے سینیئر افسر سمن گیس کو دوحہ میں طالبان کی قیادت سے اس حوالے سے ملاقات کرنے کے لیے بھیجا ہے۔

  6. پنجشیر کے داخلی راستے پر طالبان کا حملہ 'پسپا'، طالبان کی تردید

    افغانستان کے صوبے پنجشیر میں طالبان مخالف قومی مزاحمتی فرنٹ نے دعوی کیا ہے کہ منگل کی رات کو انھوں نے وادی پنجشیر کے داخلی رستے پر طالبان کا حملہ پسپا کر دیا ہے جبکہ طالبان نے کہا ہے کہ انھوں نے ابھی اس وادی پر سرے سے حملہ ہی نہیں کیا ہے۔

    قومی مزاحمتی فرنٹ کے ترجمان فہیم دشتی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’طالبان اپنی قسمت آزمانا چاہتے تھے، لیکن وہ خوش قسمت نہیں تھے، ان کے حملے کو پسپا کر دیا گیا۔‘

    فہیم دشتی نے کہا کہ طالبان نے کئی افراد کو ہلاک اور زخمی کیا ہے اور کئی مزاحمتی جنگجو زخمی ہوئے ہیں۔

    تاہم طالبان نے بی بی سی کو بتایا کہ پنجشیر پر حملہ نہیں کیا گیا۔

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے معاون بلال کریمی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی افواج پنجشیر کا محاصرہ کر رہی ہیں لیکن انھیں امید ہے کہ پنجشیر کا مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل ہو جائے گا۔

    قومی مزاحمتی فرنٹ کے دعوے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ طالبان فورسز جو کہ ’صوبہ پروان میں تھیں‘ تو ان پر اپوزیشن نے حملہ کر دیا۔ ان کے مطابق اس جھڑپ میں ان کی افواج مخالفین کے کئی مورچوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئیں اور دشمن کی افواج وہاں سے بھاگ گئیں۔

    احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کی قیادت میں طالبان مخالف مزاحمتی افواج پنجشیر وادی میں طالبان کے خلاف ہیں۔

    اس سے قبل بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے احمد مسعود نے کہا تھا کہ وہ طالبان سے ایسی حکومت بنانے کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہیں جو افغانستان کے تمام لوگوں کی نمائندگی کرے اور تمام شہریوں کے حقوق کی ضمانت دے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر طالبان نے جنگ کی تو وہ ان اصولوں کے دفاع کے لیے تیار ہیں جن پر افغان عوام یقین رکھتے ہیں۔

  7. افغانستان میں طالبان: دوسری عالمی جنگ کے بعد سے امریکہ اکثر جنگیں کیوں ہار جاتا ہے؟

    افغانستان سے امریکہ کی واپسی کے بعد اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دنیا کا سب سے طاقتور ملک جس کے پاس جدید ترین فوج، جدید ترین ٹیکنالوجی اور جدید ترین فضائیہ ہے وہ طالبان کو شکست کیوں نہیں دے سکا؟

    امریکی دانشور اس بات پر حیران ہیں کہ امریکہ دورِ جدید میں جنگیں کیوں نہیں جیت پاتا؟

    سوال یہ بھی اہم ہے کہ کیا امریکی افواج کی واپسی کے بعد افغانستان میں امریکی حصے داری کا خاتمہ ہو جائے گا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب چین اور روس نے بڑھ کر طالبان کے ساتھ رشتہ قائم کیا ہے؟

  8. افغانستان 'سلطنتوں کا قبرستان': برطانیہ، روس کے بعد امریکہ بھی شکست سے دوچار، افغانستان میں آخر ایسی کیا خاص بات ہے؟

    افغانستان میں آخر ایسی کیا بات ہے کہ اسے پوری دنیا 'سلطنتوں کے قبرستان' کے نام سے جانتی ہے؟ آخر امریکہ، برطانیہ، سوویت یونین سمیت دنیا کی تمام بڑی طاقتیں اسے جیتنے کی کوشش میں کیوں ناکام ہوئیں؟

    یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب افغانستان کی تاریخ اور اس کے جغرافیائی محل و وقوع میں پوشیدہ ہے۔

    19 ویں صدی میں برطانوی سلطنت، جو اس وقت دنیا کی سب سے طاقتور سلطنت تھی، اس نے اپنی پوری طاقت سے اسے فتح کرنے کی کوشش کی۔ لیکن سنہ 1919 میں برطانیہ کو بالآخر افغانستان چھوڑ کر جانا پڑا اور افغانوں کو آزادی دینی پڑی۔

    اس کے بعد سوویت یونین نے سنہ 1979 میں افغانستان پر حملہ کیا۔ اس کا ارادہ یہ تھا کہ سنہ 1978 میں بغاوت کے ذریعے قائم کی گئی کمیونسٹ حکومت کو گرنے سے بچایا جائے۔ لیکن انھیں یہ سمجھنے میں دس سال لگے کہ وہ یہ جنگ نہیں جیت پائیں گے۔

  9. آخری امریکی فوجیوں کی روانگی پر طالبان حمایتیوں کا جشن

    آج،31 اگست کو افغانستان میں امریکی قیادت میں نیٹو افواج کے ساتھ 20 سال سے جاری مشن باضابطہ طور پر ختم ہو گیا ہے۔ کابل شہر میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد طالبان حمایتی ہوائی فائرنگ کر کے جشن منا رہے ہیں۔

  10. بائیڈن کی گذشتہ ماہ کی افراتفری کو پسِ پشت ڈالنے کی کوشش, اینتھونی زرچر، بی بی سی شمالی امریکہ

    جو بائیڈن نے اپنی تقریر کے ذریعے ایک ماہ سے افغانستان میں جاری افراتفری اور اموات اور 20 برس کی امریکہ کی قبضے اور قومی ترقی کی کوششوں کو پسِ پشت ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

    انھوں نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکی انخلا کے مشن کی ’بے انتہا کامیابی‘ کے بارے میں بات کی جس میں ہزاروں افغان اور امریکیوں کو ایئرلفٹ کیا گیا۔

    وہ اپنی تقریر کے دوران کئی مرتبہ دفاعی انداز میں بات کرتے بھی دکھائی دیے جیسے کہ جب انھوں نے یہ کہا کہ امریکیو کو اگست میں امریکہ کے انخلا سے قبل 19 مرتبہ وارننگ دی گئی تھی۔ انھوں نے افغان رہنماؤں اور اتحادیوں پر ’بدعنوانی‘ کے الزامات عائد کیے جن پر امریکہ نے افغانستان میں انحصار کیا۔ انھوں ٹرمپ انتظامیہ کو بھی موردِ الزام ٹھہرایا کہ انھوں نے طالبان سے انخلا کے بارے میں ناکافی مذاکرات کیے۔

    انھوں نے ناکامیوں اور ان 13 امریکی فوجیوں اور سینکڑوں عام شہریوں کی اموات کے بارے میں بات کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگایا۔ اس کی بجائے انھوں نے ’ہمیشہ جاری رہنے والی جنگ‘ کی قیمت سے متعلق تفصیل سے بات کی۔ جس میں ہزاروں امریکی فوجی ہلاکتوں، ہزاروں زخمیوں اور کھربوں ڈالرز کے نقصان کے بعد طالبان کے کنٹرول کے بارے میں بات کی گئی۔

    انھوں نے کہا کہ امریکہ کا افغانستان میں کوئی اہم مفاد نہیں تھا اور القائدہ کے خاتمے کا مشن اور مزید دہشتگرد حملوں کو روکنے متعلق کامیابی ایک دہائی قبل ہی مل چکی تھی۔

    انھوں نے کہا کہ ’جنگ ختم کرنے کا وقت ہو چکا تھا۔‘ انھوں نے اس کے بعد امریکی خارجہ پالیسی کی بنیادی سوچ کو ایک مختلف پیرائے میں رکھتے ہوئے کہا کہ امریکی خارجہ پالیسی کا انحصار فوجی تعیناتیوں پر کم اور سفارت کاری اور بین الاقوامی معاونت پر زیادہ ہو گا تاکہ چین اور روس کا سامنا کیا جا سکے۔

    عوامی رائے عامہ کے سروے یہ دکھاتے ہیں کہ امریکی افغانستان سے انخلا کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہیں تاہم اکثر اس انخلا کے مشن سے زیادہ خوش نہیں ہیں۔ وائٹ ہاؤس حکام کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ عوام صدر کے اس فیصلے سے خوش ہو گے اور گذشتہ دنوں کے واقعات کو بھول جائیں گے۔

  11. بائیڈن کی تقریر ’ایسا دوبارہ نہ کرنے‘ کی سوچ کی عکاس, گیری او ڈونوگ، نامہ نگار واشنگٹن

    بائیڈن کے تقریر میں جو پیغام بالعموم دینے کی کوشش کی گئی وہ یہ تھا کہ ہم ایسا دوبارہ نہیں کر سکتے۔

    اگر ہمیں کسی دوسرے ملک میں کوئی خطرہ محسوس ہو گا تو ہم اس سے ضرور نمٹیں گے، لیکن ہمیں دوسرے ممالک کی جنگیں نہیں لڑنی اور ہمیں دوبارہ کسی قوم کی ترقی کے لیے وہاں جا کر کام نہیں کرنا۔

    یہ تقریر بائیڈن کی ایک نئی سوچ کی عکاس ہے۔ ہمیں یہ تو معلوم تھا کہ وہ ایک عرصے سے اس سوچ کی حمایت کرتے رہے ہیں اور اب ہم نے انھیں اس کی بنیاد پر آئندہ کے لیے ایک نئی حکمتِ عملی دیتے ہوئے دیکھا ہے۔

  12. بائیڈن کا انتباہ: ’امریکہ کو نقصان پہنچانے والوں کو قیمت ادا کرنی ہو گی‘

    بائیڈن کا کہنا تھا کہ ’جو افراد امریکہ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، امریکہ کبھی بھی سکون سے نہیں بیٹھے گا۔ ہم کبھی بھی معاف نہیں کریں گے، بھولیں گے نہیں، ہم آپ کو دنیا کے کسی بھی کونے سے پکڑیں گے اور آپ کو اس کی قممت ادا کرنی ہو گی۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ سفارت کاری اور امداد کے ذریعے افغانوں کی مدد جاری رکھے گا، امریکہ افغانوں کے حقوق کے لیے بات کرتا رہے گا، خاص کر خواتین اور لڑکیوں کے حقوق۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں واضح کر چکا ہوں کہ انسانی حقوق ہماری خارجہ پالیسی کا مرکز ہیں۔

    ’افغانستان میں جنگ اب ختم ہو چکی ہے۔‘

  13. ’دولتِ اسلامیہ خراسان! ہمارا حساب ابھی برابر نہیں ہوا‘

    بائیڈن کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اسامہ بن لادن سے ایک دہائی قبل بدلا لیا اور القائدہ کا خاتمہ کر دیا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اب یہ ایک نئی دنیا ہے‘ اور ہمیں الشباب اور القائدہ کے حمایتی گروہوں اور دولتِ اسلامیہ سے خطرات درپیش ہیں۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نہیں مانتا کہ کسی دوسرے ملک میں ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی اور افغانستان میں اربوں خرچ کرنے سے امریکہ کے تحفظ اور سکیورٹی میں اضافہ ہوا۔‘

    انھوں نے کہا کہ امریکہ کو اپنی حکمتِ عملی کو بدلنا ہو گا اور اسے دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی ملک میں فوجی نہیں چاہییں۔

    ’ہم نے دولتِ اسلامیہ خراسان پر افغانستان میں موجودگی نہ ہونے کے باوجود حملہ کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’دولتِ اسلامیہ خراسان، ہمارا حساب ابھی برابر نہیں ہوا۔‘

  14. بائیڈن: میں افغانستان سے انخلا کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں

    صدر بائیڈن نے افغانستان سے امریکی انخلا کے فیصلے کی ذمہ داری لیتے ہوئے کہا کہ اس سے زیادہ عرصے تک افغانستان میں رہنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔

    انھوں نے کہا کہ ’کچھ افراد کا خیال ہے کہ ہمیں اس انخلا کا آغاز پہلے کر لینا چاہیے تھا اور کیا یہ اس سے بہتر انداز میں نہیں ہو سکتا تھا، میں اسے سے اتفاق نہیں کرتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر ہم جون یا جولائی میں بھی انخلا کا آغاز کرتے تب بھی ایئرپورٹ پر رش ہوتا۔ تب بھی یہ انتہائی مشکل اور خطرناک مشن ہوتا اور انخلا کا کوئی بھی مشن ’پیچیدگیوں اور مشکلات‘ کے بغیر مکمل نہیں کیا جا سکتا تھا۔

  15. ’ہمارا کام ابھی مکمل نہیں ہوا‘

    صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ ایسے امریکی باشندے جو اب بھی افغانستان میں موجود ہیں ہم ان کی انخلا میں مدد کریں گے ’اگر وہ چاہیں تو۔‘

    انھوں نے افغان عوام کے انخلا سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کسی ملک نے آج تک کسی دوسرے ملک کے باشندوں کو ایئرلفٹ کرنے کے لیے اتنا کام نہیں کیا جتنا ہم نے کیا۔ لیکن اب ہمارا کام مکمل نہیں ہوا۔‘

    بائیڈن کا کہنا ہے کہ وہ اس دعوے سے متفق نہیں ہیں کے انخلا بہت پہلے شروع ہو جانا چاہیے تھا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اب بھی کابل ایئرپورٹ کے باہر عوام کا ہجوم ہو گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ انخلا کا مشن ’انتہائی دباؤ اور حملوں‘ کے درمیان ڈیزائن کیا گیا تھا اور امریکیوں کو مارچ سے ہی متعدد مرتبہ وارننگ دی گئی تھی کہ وہ ملک چھوڑ دیں۔ انھوں نے کہا کہ جو 100 سے 200 امریکی افغانستان میں موجود ہیں ان کے پاس دونوں ممالک کی شہریت موجود تھی۔

    انھوں نے کہا کہ 90 فیصد امریکی باشندے جو افغانستان چھوڑنا چاہتے تھے ان کا انخلا یقینی بنایا جا چکے ہے۔ ہم وہاں رہ جانے والے امریکیوں اور ایسے افغانوں کے انخلا میں مدد کریں گے جنھوں نے امریکہ کی مدد کی تھی۔

  16. بائیڈن کی ’رحم کے مشن‘ کی تعریف

    امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی فورسز کی ’بے انتہا کامیابی‘ حاصل کرنے پر تعریف کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے اپنا کام کر دکھایا اور بہترین انداز میں کیا، اس دوران انھوں نے اپنی جانوں کی بازی لگا دی۔

    ’یہ کوئی جنگی مشن نہیں تھا بلکہ رحم کا مشن تھا۔‘

  17. امریکہ افغان افواج کی فوری پسپائی کے لیے ’تیار‘ تھا: جو بائیڈن

    امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے خطاب کے آغاز میں کابل سے ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ افراد کا انخلا یقینی بنانے پر امریکی افواج کا شکریہ ادا کیا۔

    انھوں نے کہا کہ ’یہ تعداد اس سے دگنی ہے جتنی اکثر ماہرین کے خیال میں ہو سکتی تھی۔ کسی بھی ملک نے آج تک اپنی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں کیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ آپریشن امریکی افواج، سفارت کاروں اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں کی ’صلاحیتوں، بے لوث جذبے اور بہادری‘ کے بغیر ممکن نہیں تھے۔

    ’انھوں نے ایسا ایک انتہائی بڑے ہجوم کی موجودگی میں کیا جو ملک چھوڑنا چاہتے تھے اور انھوں نے ایسا یہ جانتے ہوئے کیا کہ دولتِ اسلامیہ خراسان کے دہشتگرد اور طالبان کے دشمن اس ہجوم کے درمیان موجود ہیں۔‘

    اس آپریشن میں 13 امریکی فوجی ہلاک اور 20 زخمی ہوئے تھے۔

    بائیڈن نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کے اندازے کے برعکس افغان فوج 31 اگست کی ڈیڈلائن سے بہت پہلے پسپا ہو گئی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے اپنی نیشنل سکیورٹی ٹیم کو ہدایت کی تھی کہ وہ تمام نتائج کے لیے تیار رہیں، اس نتیجے کے لیے بھی۔ ہم اس وقت بھی تیار تھے جب افغان سکیورٹی فورسز ہمارے اندازوں کے برعکس اتنی دیر لڑائی نہ کر سکیں۔‘

    افغان جنگ میں 2400 سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک ہوئے اور 23 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔

  18. بریکنگ, بائیڈن کا امریکہ کے افغانستان سے انخلا کا دفاع

    امریکی صدر جو بائیڈن اس وقت وائٹ ہاؤس میں قوم سے خطاب کر رہے ہیں اور امریکہ کے افغانستان سے انخلا کا دفاع کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے تاریخ میں سب سے زیادہ افراد کو ایئرلفٹ کیا ہے۔ کسی بھی ملک نے کبھی ایسا نہیں کیا، صرف امریکہ کی یہ نیت اور یہ صلاحیت تھی۔

  19. کینیڈا کا پانچ ہزار افغان شہریوں کو پناہ دینے کا اعلان

    کینیڈا نے امریکہ کی جانب سے انخلا کے دوران لائے گئے پانچ ہزار افغان پناہ گزین کو پناہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

    کینیڈین حکومت نے کہا ہے کہ امریکہ اور کینیڈا کے درمیان معاہدہ ہوا ہے کہ باہمی تعاون سے امریکی اور کینیڈین شہریوں کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کی خدمت کرنے والے افغان شہریوں اور ان کے خاندانوں کو بھی محفوظ راستہ دیا جائے گا۔

    ان پانچ ہزار پناہ گزین کو اس منصوبے میں شامل کیا جائے گا جس کے تحت کینیڈا 20 ہزار پناہ گزین کو جگہ دینے جا رہا ہے۔ ان پناہ گزین میں اقلیتیں، انسانی حقوق کے کارکن، صحافی اور ایل کی بی ٹی کمیونٹی کے افراد شامل ہیں۔

    ان پناہ گزین کو، جو افغانستان سے نکل کر ابھی دوسرے ممالک میں مقیم ہیں، کینیڈا لایا جائے گا۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے لیے اپنی اہلیت اور دستاویزات کی شرائط لازم ہوں گی۔

    افغانستان سے انخلا میں کینیڈا نے قریب 3700 افراد کو واپس بلایا ہے۔ ان میں سے اکثر لوگ افغانستان میں کینیڈا کے مشن سے ساتھ منسلک رہے تھے۔

  20. صدر بائیڈن قوم سے خطاب میں افغان پالیسی کا دفاع کریں گے

    افغانستان سے امریکی انخلا مکمل ہونے پر امریکی صدر جو بائیڈن پاکستانی وقت کے مطابق رات 11 بج کر 45 منٹ پر خطاب کریں گے۔

    وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان کے مطابق وہ اس میں امریکی فوجیوں کا شکریہ ادا کریں گے جنھوں نے کابل سے ایک لاکھ 24 ہزار افراد کا انخلا ممکن بنایا۔ وہ اس آپریشن میں رضاکاروں اور سابقہ فوجیوں کا بھی شکریہ ادا کریں گے۔

    یہ ممکن ہے کہ بائیڈن 20 سال بعد امریکہ کے افغانستان سے انخلا پر اپنے فیصلے کا دفاع کریں گے۔

    وائٹ ہاؤس کے بیان کے مطابق صدر بائیڈن قومی مفاد کے زاویے سے اپنی خارجہ پالیسی اور امریکیوں کے تحفظ پر بات کریں گے۔

    اس کے بعد وائٹ ہاؤس کے ترجمان پریس بریفنگ دیں گے۔