اتوار کی شب کابل سے امریکہ روانہ ہونے
والے فوجی طیاروں میں ایک ہزار سے زیادہ شہریوں کی روانگی کے بعد افغانستان سے امریکی
شہریوں کے انخلا کا عمل تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور اگلے 48 گھنٹوں میں وہاں
تعینات فوجی دستے اور سفارتی عملہ بھی ملک چھوڑ دے گا۔
اس طرح 31 اگست کو تقریباً دو دہائی تک جاری رہنے والی امریکہ کی ’طویل
ترین جنگ‘ اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔
جب 15 اگست کو طالبان دارالحکومت کابل کے داخلی راستوں تک پہنچ گئے تھے تو
اسی اثنا میں کابل ایئرپورٹ پر ہزاروں افراد جمع ہونا شروع ہو گئے جو طالبان کے
خوف سے ملک چھوڑنے کے لیے بے تاب تھے۔
اس کے اگلے دو ہفتوں میں ہزاروں کی تعداد میں مغربی ممالک کے شہری اور اس
کے ساتھ ساتھ ان کے لیے کام کرنے والے افغان شہری اور ان کے خاندان والے بھی
افغانستان چھوڑنے میں کامیاب ہو گئے اور 15 دنوں میں تقریباً ایک لاکھ نوے ہزار
افراد افغانستان سے باہر جا چکے ہیں۔
امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان کے مطابق صرف 28 اگست کو 32 امریکی فوجی
طیاروں کی مدد سے چار ہزار افراد روانہ ہوئے جبکہ اتحادی ممالک کے 34 طیاروں میں
2800 افراد کابل سے پرواز کر گئے۔
ترجمان کے مطابق امریکہ جانے والے 117000 افراد میں سے 5400 امریکی شہری
جبکہ باقی تمام افغان شہری ہیں۔
برطانیہ نے اس عرصے میں 15 ہزار افرد کو ملک سے باہر نکالا ہے لیکن برطانوی
افواج کے سربراہ جنرل نک کارٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ کم از کم 1100 افغان ایسے
ابھی بھی ہیں جنھیں وہ کابل سے نہیں نکال سکے اور انھیں اس کا بہت افسوس ہے۔
تاہم چند برطانوی قانون سازوں کا خیال ہے کہ افغانستان میں رہ جانے والے
افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔
امریکہ اور برطانیہ کے علاوہ افغانستان سے جن ممالک نے کم از کم ہزار سے
زیادہ افراد کو وہاں سے نکالا ہے ان کی تعداد دس ہے۔
ان ممالک کی تفصیلات ذیل میں ہیں: