افغان دارالحکومت کابل سے گذشتہ رات آخری امریکی فوجی طیاروں کے جانے کے بعد
رات بھر کابل میں ہوائی فائرنگ ہوتی رہی اور صبح ہوتے ہی افغان طالبان کے ترجمان
ذبیح اللہ مجاہد حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اُس حصے میں پہنچے جہاں رات تک
امریکی فوجی مقیم تھے۔
صحافیوں سے بات چیت میں طالب ترجمان نے کہا کہ وہ
باضابطہ طور پر امریکی اور بیرونی افواج سے آزادی کا اعلان کررہے ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ سمیت تمام ملکوں سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد کئی دیگر طالبان رہنماوں کے ساتھ ائیرپورٹ میں داخل
ہوئے تو طالبان کے خصوصی سکیورٹی ’بدری 313‘ دستے نے اُن کا استقبال کیا اور اییر
پورٹ کے اندر داخل ہوئے۔
ایئرپورٹ داخل ہونے کے بعد اُنہیں خاص طور ایئرپورٹ کے اُس حصے میں لے جایا
گیا جو گذشتہ رات تک امریکہ کے زیر کنٹرول تھا۔ اگرچہ زبیح اللہ مجاہد اور دیگر
طالبان رہنما پہلے تو پیدل اُس طرف روانہ ہوئے لیکن بعد میں اُنہیں بتایا گیا کہ وہ جگہ تین یا چار کلومیٹر دور ہے، جس کے بعد ذبیح اللہ مجاہد اور تین
دیگر طالبان رہنما ایک گاڑی میں بیٹھے جبکہ دیگر ساتھیوں کو کہا گیا کہ ’پیدل
آجائیں اتنا فاصلہ نہیں ہے۔‘
ایئرپورٹ پر کچھ غیرملکی صحافی بھی نظر آرہے
تھے، جن میں صرف ایک خاتون تھی اور اُنھوں نے بھی حجاب کیا ہوا تھا۔
طالبان کے حامیوں کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اب
بھی ایک امریکی فوجی جہاز وہاں نظر آرہا ہے جو طالبان کے مطابق امریکی وہاں چھوڑ
کر چلے گئے ہیں۔ ان ویڈیوز میں سُنا جاسکتا ہے کہ طالبان رہنما اپنے سکیورٹی دستے
کو کہتے ہیں کہ ’جہاز کا محاصرہ کر لو‘۔
’ہم عوام پر مسلط نہیں ہوئے ہیں، عوام کے خادم ہیں‘
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر موجود طالبان کے سکیورٹی دستوں سے بھی مختصراً خطاب کیا اور کہا کہ وہ افغان عوام کا خیال رکھیں کیونکہ اُن کے مطابق افغان عوام نے گذشتہ بیس سال بہت ’ظلم اور تکلیفیں‘ جھیلیں ہیں۔
’آپ سب کو پہلے تو مبارکباد دیتا ہوں اور یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یہ آزادی ہمیں آپ جیسے مجاہدوں، ہمارے فدائی نوجوانوں اور مخلص لیڈرشپ کی وجہ سے ملی ہیں۔ آپ سے یہ گزارش بھی ہیں کہ عوام کو تنگ نہ کریں کیونکہ ہماری عوام نے بیس سال سخت مشکل میں گزارے ہیں۔ ہم اُن پر مسلط نہیں ہوئے ہیں بلکہ اس عوام کے خادم ہیں۔‘
رواں ماہ کی پندرہ تاریخ کو افغان صدر اشرف غنی کا ملک سے چلے جانے کے بعد طالبان جنگجو دارالحکومت کابل میں داخل ہوئے اور اس کے بعد ہزاروں لوگوں نے ایئرپورٹ کا رخ کر لیا اور وہاں سے باہر جانا چاہتے تھے۔ لگ بھگ دو ہفتے کابل ائیرپورٹ پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ انتظار کرتے رہے اور کئی ہزار افغان اور دیگر ملکوں کے لوگ وہاں سے باہر نکلنے میں کامیاب بھی ہوئے۔
طالبان کا جشن لیکن کابل میں پھنسے بیشتر افغان پریشان
رات بارہ کے تقریبآ بارہ بجے جوں ہی طالبان کو آخری امریکی فوجی جہاز کے نکلنے کی خبر ملی تو کابل شہر کے کئی علاقوں سے ہوائی شدید ہوائی فائرنگ شروع ہوئی۔
طالبان اور اُن کے حامی نہ ایک دوسرے کو نہ صرف ’فتح‘ کی مبارکباد دے رہے تھے بلکہ شدید ہوئی فائرنگ بھی کرتے رہے۔
کابل میں موجود ایک افغان خاتون جو افغانستان سے نکلنا چاہتی ہیں لیکن ایئرپورٹ کی بندش کی وجہ سے وہاں پھنس گئی ہیں انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ شدید فائرنگ اور ڈر کی وجہ سے وہ رات بھر نہیں سو پائیں۔
ان کا کہنا تھا ’میں سو رہی تھی کہ اچانک ہر طرف سے فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوئی۔ نیند سے جاگی تو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کوئی میرے کمرے کے سامنے ہی فائرنگ کر رہا ہے پھر پتہ چلا کہ فائرنگ آس پاس ہورہی ہے، لیکن یہ بعد علم ہوا کہ یہ تو جشن کی گولیاں چل رہی ہیں۔
سید محسنی کابل کے ایک شہری ہیں جو طالبان کے سخت مخالفین میں سے ہیں۔ جب سے طالبان نے کابل کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے محسنی تب سے لے کر آج تک پریشان اور مایوس ہیں کیونکہ اُن کے بقول اُن کا ملک اور سب کچھ ختم ہوا۔
’جب سے ان لوگوں (طالبان نے) شہر پر قبضہ کیا ہے، ہمارا سب کچھ ختم ہوا۔ نہ ملک ہمارا رہا نہ ہم یہاں رہ سکتے ہیں اور نہ ہی رہنے کے قابل ہیں۔‘
سید محسنی سمیت آج بھی کئی ہزار ایسے افغان ہیں جو افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن ایئرپورٹ اور زمینی راستوں کی بندش کی وجہ سے وہیں پر ’محصور‘ ہیں۔