آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ، قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دیا

طالبان نے افغانستان میں مزاحمت کے آخری گڑھ پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے ’جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ بی بی سی آزادانہ طور پر دونوں فریقین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

لائیو کوریج

  1. ’میں نے خود طالبان کو لوگوں پر ظلم کرتے دیکھا‘

    بی بی سی اُردو نے طالبان کے گذشتہ دور اور اُس وقت کے افغانستان کے حالات کا احاطہ کرنے کے لیے قسط وار آڈیو سٹوریز کا سلسلہ شروع کیا ہے جس کی چوتھی قسط میں ایک خاتون کی کابل سے نکل کر ایک گاؤں میں پناہ لینے کی کہانی پیش کی گئی ہے۔

  2. افغانستان میں نئی حکومت کے قیام سے متعلق طالبان کا اجلاس

    طالبان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق تین روزہ اجلاس ختم ہوگیا ہے۔ امریکہ نے گذشتہ روز ملک سے اپنے فوجیوں کا انخلا مکمل کرلیا تھا جسے اس گروہ نے اپنی فتح قرار دیا۔

    طالبان کے مطابق ان کے امیر ملا ہبت اللہ اخونزادہ نے اس اجلاس کی صدارت کی تھی جس میں ’ملک کی موجودہ صورتحال، سکیورٹی اور سماجی مسائل‘ پر بات چیت کی گئی۔

    نئی افغان حکومت سے متعلق کئی قیاس آرائیاں گردش میں ہیں مگر ان میں سے کسی بھی اطلاع کی تصدیق نہیں ہوئی۔

    طالبان نے کہا ہے کہ وہ امریکہ سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’یہ فتح تمام افغانوں کی ہے۔‘

    افغان پارلیمان کی سابق ڈپٹی سپیکر فوزیہ کوفی، جو ملک چھوڑ چکی ہیں، نے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ نئی حکومت میں تمام افغانوں کو نمائندگی دیں۔

    طالبان نے جدید طرز حکمرانی کا وعدہ کیا ہے مگر افغانستان کے کچھ حصوں میں ابھی سے خواتین اور لڑکیوں پر سختیوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔

  3. تصاویر: طالبان کے حمایتی قندھار میں مارچ کر رہے ہیں

    افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد طالبان اور ان کے حمایتی جنوبی شہر قندھار میں جشن منا رہے ہیں۔

    طالبان تحریک کا آغاز بھی قندھار سے ہوا تھا جو ملک کا دوسرا سب سے بڑا شہر ہے۔

    منگل کو طالبان کے حمایتی ان کے پرچم لیے مارچ کر رہے تھے۔ انھوں نے اس طرح اپنے ملک میں امریکہ کی 20 سالہ جنگ کے خاتمے کا خیر مقدم کیا۔

  4. آخری امریکی فوجی افغانستان چھوڑ گئے

    امریکہ اور طالبان کے درمیان افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے لیے 31 اگست کی ڈیڈلائن طے پائی تھی۔ امریکی انخلا مکمل ہونے پر طالبان نے ہوائی فائرنگ کر کے جشن منایا۔

  5. ’امریکی فوج نے کابل ایئرپورٹ پر پنجروں میں اپنے کتے نہیں چھوڑے‘

    امریکی وزارت دفاع کے ترجمان جان کربی نے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے کابل ایئرپورٹ پر پنجروں میں اپنے کتے چھوڑنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔

    انھوں نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’امریکی فوج نے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اپنے کوئی کتے پنجروں میں نہیں چھوڑے۔۔۔

    ’گردش کردہ تصاویر ان جانوروں کی ہیں جو کابل سمال اینیمل ریسکیو کی حفاظت میں تھے۔ ایسے کوئی کتے وہاں موجود نہیں جو ہماری حفاظت میں تھے۔‘

  6. ’طالبان سے عارضی رابطے سفارتی منظوری کے برابر نہیں‘

    جرمن چانسلر انگیلا مرکیل نے کہا ہے کہ افغانستان میں 10 ہزار سے 40 ہزار مقامی افراد کی وہ تعداد موجود ہے جو ممکنہ طور پر جرمنی آنا چاہتے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان افراد کو جرمنی میں پناہ دینے کا معاملہ افغانستان میں طالبان کی طرزِ حکمرانی پر منحصر ہے۔

    جرمنی نے اپنے انخلا میں قریب 5300 افراد کو منتقل کیا ہے جن میں چار ہزار سے زیادہ افغان شہری ہیں۔

    انھوں نے برلن میں پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ کابل میں یورپی یونین کی موجودگی کے امکانات کے حوالے سے وہ ان ممالک سے رابطے میں ہیں۔ اور اس طرح طالبان سے بھی رابطے کیے جا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ طالبان سے رابطے عارضی ہیں اور یہ ’سفارتی منظوری کے برابر نہیں۔‘

    انھوں نے امدادی سامان کی ترسیل کے لیے کابل ایئرپورٹ کو اہم قرار دیا ہے۔ ’یہ ایئرپورٹ افغانستان کے وجود کے لیے اہم ہے ورنہ وہاں امداد اور طبی سامان نہیں پہنچ پائے گا۔‘

  7. کابل ایئرپورٹ کو فعال رکھنا ’ضروری‘ ہے: نیٹو

    نیٹو سربراہ جینس سٹولٹنبرگ نے کہا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کو فعال رکھنا ’ضروری ہے‘ تاکہ افغانستان سے نکلنے کے خواہشمند لوگ ایسا کر سکیں۔

    اے ایف پی کو ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ کھلا رکھنا چاہیے تاکہ ’افغان لوگوں کو امدادی سامان دیا جاسکے اور لوگوں کے وہاں سے نکلنے کا عمل جاری رہے۔‘

    انھوں نے بتایا کہ کچھ لوگ کابل سے جانا چاہتے تھے مگر وہ فوجی انخلا کا حصہ نہیں تھے۔

    نیٹو سربراہ نے کہا کہ ’ہم انھیں بھولیں گے نہیں۔‘

    امریکہ کے سول ایوی ایشن کے ادارے نے کابل ایئرپورٹ کے حوالے سے اپنی تنبیہ میں کہا ہے کہ یہ فی الحال ’کسی کے کنٹرول میں نہیں۔‘

  8. ’ہمیں روٹی اور پانی چاہیے‘: کابل کے شہری

    افغانستان میں امریکی انخلا کی تکمیل کے بعد کابل میں لوگ اپنا ردعمل دے رہے ہیں۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے ایک شہری نے کہا ’میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہم اپنی سرزمین پر ایک دوسرے ملک کو دیکھنا نہیں چاہتے۔ ہم خوش ہیں کہ سکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے۔ لیکن ہمیں روٹی اور پانی چاہیے۔‘

    دیگر شہریوں نے بینکوں اور دفاتر بند ہونے پر تشویش ظاہر کی ہے۔

    ایک شہری نے کہا کہ ’طالبان حکومت سے ہماری توقع ہوگی کہ بینکوں کو کھولا جائے، سرکاری ملازمین کو کام پر جانے دیا جائے کیونکہ ہمارے لیے پیسہ اہم ہے۔‘

    ’میں پچھلے 17 سے 18 دنوں تک بے روزگار ہوں اور گھر پر بیٹھا ہوں۔ اور یہ آسان نہیں کیونکہ مجھے کرایہ، بجلی کا بل اور دیگر اخراجات اٹھانے ہیں۔‘

  9. دوحہ میں انڈین سفیر کی طالبان رہنما سے ملاقات

    قطر کے دارالحکومت دوحہ میں انڈین سفیر دیپک میتل کی طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ محمد عباس ستانکزئی سے ملاقات ہوئی ہے۔

    انڈیا کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق دونوں فریقین میں افغانستان میں پھنسے انڈین شہریوں کی باحفاظت اور جلد واپسی پر بات ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ انڈیا آنے کے خواہشمند افغان شہری، خاص کر اقلیتیں، بھی زیر بحث رہے۔

    میتل نے طالبان کو انڈیا کی اس تشویش سے باور کرایا کہ افغان سرزمین انڈیا مخالف یا دہشتگردی کی سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

    طالبان کے نمائندے نے انڈین سفیر کو یقین دہانی کرائی کہ ان مسائل کو مثبت انداز میں حل کیا جائے گا۔

  10. طالبان: ہم لوگوں کی خدمت کرنے آئے ہیں

    افغانستان سے امریکی افواج کے 20 سال بعد مکمل انخلا کے بعد طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے قومی اتحاد کا مطالبہ کیا ہے۔

    انھوں نے افغانوں سے اپیل کی ہے کہ ’ہمیں اپنے اختلافات بھول کر متحد ہونا ہوگا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری ملک کی حمایت نہیں کرے گی اگر لوگ متحدہ نہیں ہوں گے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ آنے والی حکومت تمام افغانوں کی نمائندگی کرے گی۔ انھوں نے ملک کو درپیش معاشی مسائل پر بھی بات کی اور کہا کہ دوسرے ممالک کو افغانستان میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ وہ لوگوں کی خدمت کرنے آئے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان عالمی برداری سے ’اچھے تعلقات‘ چاہتے ہیں اور ہر مسئلے کو دوستانہ طریقہ سے حل کرنے کے خواہش مند ہیں۔

  11. پنجشیر: طالبان اور مخالف اتحاد میں ’جھڑپوں‘ کی اطلاعات

    افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد وادی پنجشیر میں طالبان اور اس کے مخالف اتحاد کے جنگجوؤں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ دونوں طرف ہلاکتوں اور زخمیوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر اور منگل کو طالبان اور ان کے مخالف اتحاد کے جنگجوؤں کے درمیان وادی پنجشیر میں جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں کم از کم سات افراد ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے ہیں۔

    پنجشیر وہ واحد صوبہ ہے جو افغانستان میں طالبان کے کنٹرول میں نہیں ہے۔

    طالبان کے خلاف اتحاد کے ترجمان فہیم دستی نے کہا ہے کہ وادی کے مغربی داخلی راستے پر طالبان نے ان کے مقامات پر حملہ کیا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے طالبان اس حملے سے اتحاد کی دفاع کی صلاحیت دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ان جھڑپوں میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    طالبان نے تاحال اس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

  12. ایمنسٹی انٹرنیشنل کا امریکہ سے ڈرون حملے پر شفاف تحقیقات کا مطالبہ

    انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اتوار کو کابل ایئرپورٹ کے قریب امریکی ڈرون حملے پر ’معتبر اور شفاف تحقیقات‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ کابل کے ایک خاندان نے اس ڈرون حملے میں اس کے چھ بچوں سمیت 10 افراد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔

    امریکہ نے ابتدائی طور پر کہا تھا کہ ڈرون حملے میں کوئی شہری ہلاکت نہیں ہوئی اور اس سے دولت اسلامیہ خراسان کے ایک جنگجو کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ بعد میں امریکی فوج نے اس پر تحقیقات کا اعلان کیا۔

    امریکہ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پال او برائن نے کہا ہے کہ امریکہ پر ذمہ عائد ہے کہ اس خاندان کے افراد کے نام بتائیں جو ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے ہیں، اپنے اقدامات کا اعتراف کریں اور متاثرین کو معاوضہ دیں۔

    اس بیان میں کہا گیا کہ دو دہائیوں تک امریکہ نے بغیر کسی احتساب ڈرون حملے کیے ہیں اور افغانستان اور دیگر ممالک میں امریکی اقدامات سے کئی عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

    امریکہ کا دعویٰ تھا کہ ڈرون حملے کے بعد دھماکے سے معلوم ہوتا ہے کہ کار میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا جبکہ کابل کے اس خاندان نے کہا ہے کہ امریکی فوجی کارروائی غلط معلومات پر مبنی تھی۔

  13. طالبان حکومت کے ساتھ کام کرنے سے متعلق فیصلہ ’قبل از وقت‘ ہوگا: برطانیہ

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کے ترجمان نے منگل کو کہا ہے کہ یہ فیصلہ ابھی قبل از وقت ہے کہ نام نہاد دولت اسلامیہ کے خاتمے کے لیے برطانیہ طالبان کی حکومت کے ساتھ کیسے اور کب کام کرے گی۔

    انھوں نے کہا ہے کہ اس کا تعین ان وعدوں کی تکمیل پر ہوگا جو طالبان نے انسانی حقوق کے حوالے سے کیے ہیں۔ ’اس مرحلے پر یہ فیصلہ قبل از وقت ہے کہ آیا ہم طالبان کے ساتھ آگے کام کریں گے اور کیسے۔‘

    ’اس کا انحصار اب سے ہونے والے اقدامات پر ہوگا۔ ہم نے پہلے بھی کہا ہے کہ ہم ان پر دباؤ ڈالیں گے کہ ان معیاروں اور دعوؤں پر پورا اتریں۔‘

  14. افغانستان میں امن و استحکام کے لیے عالمی برادری تعاون جاری رکھے: قریشی

    پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے جرمن ہم منصب ہیکو ماس سے اسلام آباد میں ملاقات کی ہے اور ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا ہے۔

    اس موقع پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ملاقات میں دونوں جانب سے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کو معاشی تباہی سے بچانے کے لیے عالمی برادری کو باہمی مشاورت اور کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ افغان عوام کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر معاونت بھی ضروری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں پاکستان کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے پندرہ اگست سے تیس اگست کے دوران قریب دس ہزار افراد کا انخلا کیا ہے۔ تاہم انھوں نے ان افراد کی تفصیلات نہیں دیں۔

    شاہ محمود قریشی نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام کے لیے تعاون کریں۔

    جرمنی ’طالبان کے وعدوں کی تکمیل کا منتظر ہے‘

    دوسری طرف جرمن وزیر خارجہ ہیکو ماس کا کہنا تھا کہ جرمنی افغانستان کے ہمسایہ ممالک کی حمایت جاری رکھے گا جو اس صورتحال سے متاثر ہو رہے ہیں۔ انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ جرمنی ان مشکلات میں پاکستان اور افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔

    ہیکو ماس کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے پر جرمنی پاکستان سے باہمی تعاون جاری رکھے گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’طالبان نے وعدے کیے ہیں۔ آئندہ دنوں اور ہفتوں میں ہم دیکھیں گے کہ آیا ہم ان پر یقین کر سکتے ہیں۔‘

    ’طالبان ایک نئی حکومت بنانا چاہتے ہیں۔ اس سے پتا چلے گا کہ آیا (تمام افغانوں کی) شمولیت کے مطالبے کو پورا کیا گیا ہے یا نہیں۔‘

  15. کابل میں امریکی ڈرون حملہ: ’گاڑی میں ہمارے بچے بیٹھے ہوئے تھے‘

    امریکی فوج نے کابل میں کیے گئے ڈرون حملے میں 'افغان شہریوں کی ہلاکت' کی تحقیقات شروع کر دیں ہیں۔ ابتدائی طور پر اس ڈرون حملے میں دولت اسلامیہ خراسان کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

    متاثرہ خاندان نے یہ امریکی دعویٰ مسترد کر دیا کہ نشانہ بنائی جانے والی گاڑی داعش کے خودکش حملہ آور کے استعمال میں تھی۔ خاندان کے ایک فرد کا کہنا ہے کہ ’گاڑی میں میری دو سال کی بیٹی بھی بیٹھی ہوئی تھی۔‘

  16. امریکی فوج کے جانے کے بعد کابل ایئرپورٹ پر طالبان کے شغل

    امریکی افواج افغانستان سے انخلا کے وقت جو سامان اور جہاز اپنے ساتھ نہیں لے جا پائے اسے وہ ناکارہ بنا گئے ہیں۔ لیکن کابل ایئر پورٹ پر کھڑے یہ جہاز اور ہیلی کاپٹرز جہاں طالبان کو اپنی فتح کا احساس دلا رہے ہیں وہیں یہ ان کے لیے سامان تفریح بھی بنے ہوئے ہیں۔

  17. طالبان کا باضابطہ طور پر ’آزادی‘ کا اعلان: ’ہم عوام پر مسلط نہیں ہوئے ہیں‘, خدائے نور ناصر، بی بی سی

    افغان دارالحکومت کابل سے گذشتہ رات آخری امریکی فوجی طیاروں کے جانے کے بعد رات بھر کابل میں ہوائی فائرنگ ہوتی رہی اور صبح ہوتے ہی افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اُس حصے میں پہنچے جہاں رات تک امریکی فوجی مقیم تھے۔

    صحافیوں سے بات چیت میں طالب ترجمان نے کہا کہ وہ باضابطہ طور پر امریکی اور بیرونی افواج سے آزادی کا اعلان کررہے ہیں۔ ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ وہ امریکہ سمیت تمام ملکوں سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔

    ذبیح اللہ مجاہد کئی دیگر طالبان رہنماوں کے ساتھ ائیرپورٹ میں داخل ہوئے تو طالبان کے خصوصی سکیورٹی ’بدری 313‘ دستے نے اُن کا استقبال کیا اور اییر پورٹ کے اندر داخل ہوئے۔

    ایئرپورٹ داخل ہونے کے بعد اُنہیں خاص طور ایئرپورٹ کے اُس حصے میں لے جایا گیا جو گذشتہ رات تک امریکہ کے زیر کنٹرول تھا۔ اگرچہ زبیح اللہ مجاہد اور دیگر طالبان رہنما پہلے تو پیدل اُس طرف روانہ ہوئے لیکن بعد میں اُنہیں بتایا گیا کہ وہ جگہ تین یا چار کلومیٹر دور ہے، جس کے بعد ذبیح اللہ مجاہد اور تین دیگر طالبان رہنما ایک گاڑی میں بیٹھے جبکہ دیگر ساتھیوں کو کہا گیا کہ ’پیدل آجائیں اتنا فاصلہ نہیں ہے۔‘

    ایئرپورٹ پر کچھ غیرملکی صحافی بھی نظر آرہے تھے، جن میں صرف ایک خاتون تھی اور اُنھوں نے بھی حجاب کیا ہوا تھا۔

    طالبان کے حامیوں کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اب بھی ایک امریکی فوجی جہاز وہاں نظر آرہا ہے جو طالبان کے مطابق امریکی وہاں چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ ان ویڈیوز میں سُنا جاسکتا ہے کہ طالبان رہنما اپنے سکیورٹی دستے کو کہتے ہیں کہ ’جہاز کا محاصرہ کر لو‘۔

    ’ہم عوام پر مسلط نہیں ہوئے ہیں، عوام کے خادم ہیں‘

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر موجود طالبان کے سکیورٹی دستوں سے بھی مختصراً خطاب کیا اور کہا کہ وہ افغان عوام کا خیال رکھیں کیونکہ اُن کے مطابق افغان عوام نے گذشتہ بیس سال بہت ’ظلم اور تکلیفیں‘ جھیلیں ہیں۔

    ’آپ سب کو پہلے تو مبارکباد دیتا ہوں اور یقین دلانا چاہتا ہوں کہ یہ آزادی ہمیں آپ جیسے مجاہدوں، ہمارے فدائی نوجوانوں اور مخلص لیڈرشپ کی وجہ سے ملی ہیں۔ آپ سے یہ گزارش بھی ہیں کہ عوام کو تنگ نہ کریں کیونکہ ہماری عوام نے بیس سال سخت مشکل میں گزارے ہیں۔ ہم اُن پر مسلط نہیں ہوئے ہیں بلکہ اس عوام کے خادم ہیں۔‘

    رواں ماہ کی پندرہ تاریخ کو افغان صدر اشرف غنی کا ملک سے چلے جانے کے بعد طالبان جنگجو دارالحکومت کابل میں داخل ہوئے اور اس کے بعد ہزاروں لوگوں نے ایئرپورٹ کا رخ کر لیا اور وہاں سے باہر جانا چاہتے تھے۔ لگ بھگ دو ہفتے کابل ائیرپورٹ پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ انتظار کرتے رہے اور کئی ہزار افغان اور دیگر ملکوں کے لوگ وہاں سے باہر نکلنے میں کامیاب بھی ہوئے۔

    طالبان کا جشن لیکن کابل میں پھنسے بیشتر افغان پریشان

    رات بارہ کے تقریبآ بارہ بجے جوں ہی طالبان کو آخری امریکی فوجی جہاز کے نکلنے کی خبر ملی تو کابل شہر کے کئی علاقوں سے ہوائی شدید ہوائی فائرنگ شروع ہوئی۔

    طالبان اور اُن کے حامی نہ ایک دوسرے کو نہ صرف ’فتح‘ کی مبارکباد دے رہے تھے بلکہ شدید ہوئی فائرنگ بھی کرتے رہے۔

    کابل میں موجود ایک افغان خاتون جو افغانستان سے نکلنا چاہتی ہیں لیکن ایئرپورٹ کی بندش کی وجہ سے وہاں پھنس گئی ہیں انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ شدید فائرنگ اور ڈر کی وجہ سے وہ رات بھر نہیں سو پائیں۔

    ان کا کہنا تھا ’میں سو رہی تھی کہ اچانک ہر طرف سے فائرنگ کی آوازیں آنا شروع ہوئی۔ نیند سے جاگی تو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کوئی میرے کمرے کے سامنے ہی فائرنگ کر رہا ہے پھر پتہ چلا کہ فائرنگ آس پاس ہورہی ہے، لیکن یہ بعد علم ہوا کہ یہ تو جشن کی گولیاں چل رہی ہیں۔

    سید محسنی کابل کے ایک شہری ہیں جو طالبان کے سخت مخالفین میں سے ہیں۔ جب سے طالبان نے کابل کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے محسنی تب سے لے کر آج تک پریشان اور مایوس ہیں کیونکہ اُن کے بقول اُن کا ملک اور سب کچھ ختم ہوا۔

    ’جب سے ان لوگوں (طالبان نے) شہر پر قبضہ کیا ہے، ہمارا سب کچھ ختم ہوا۔ نہ ملک ہمارا رہا نہ ہم یہاں رہ سکتے ہیں اور نہ ہی رہنے کے قابل ہیں۔‘

    سید محسنی سمیت آج بھی کئی ہزار ایسے افغان ہیں جو افغانستان سے نکلنا چاہتے ہیں لیکن ایئرپورٹ اور زمینی راستوں کی بندش کی وجہ سے وہیں پر ’محصور‘ ہیں۔

  18. ’طالبان نے کچھ امریکیوں کو ہوائی اڈے پر آنے سے روک دیا‘

    اگرچہ آخری امریکی طیارہ افغانستان سے روانہ ہو چکا ہے تاہم اب بھی کئی امریکی شہری اور افغان باشندے ہوائی اڈے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    امریکی افواج کے سربراہ جنرل میک کینزی نے تصدیق کی کہ ایک اندازے کے مطابق ایک سو سے ڈھائی سو امریکی شہری یا تو اس وقت ہوائی اڈے پر نہیں پہنچ سکے یا ہوائی جہاز تک نہیں پہنچ پائے۔

    امریکی فوج کے ایک اہلکار کا کہنا تھا کہ طالبان نے آخر میں بہت سے لوگوں کو آنے نہیں دیا۔ انھوں نے ٹویٹ کیا کہ وہ ان میں سے بہت سے لوگوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔

    انھوں نے کہا کہ آخری لمحات میں طالبان کے ساتھ ربط قائم کرنا ناممکن ہو گیا تھا۔ انھوں نے گیٹ کے باہر تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔

    ان کے دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

    امریکی اہلکار الیکس پلٹساس نے یہ بھی کہا ہے کہ اب بھی انخلا کے خواہش مند افراد ان سے رابطہ کر رہے ہیں لیکن کچھ افراد امریکی حکام کے ساتھ رجسٹر نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’ہم ان لوگوں کو نہیں بچا سکتے جن کے وہاں ہونے کا ہمیں علم ہی نہیں ہے۔

  19. ’ترکی اور قطر طالبان سے کابل ایئرپورٹ کے انتظام پر مذاکرات کر رہے ہیں‘: فرانسیسی وزیر خارجہ

    فرانس کے وزیر خارجہ ژون یوے لے ڈریان کا کہنا ہے کہ طالبان کابل ایئرپورٹ کے انتظام کے حوالے سے قطر اور ترکی کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔

    ان مذاکرات میں ایئرپورٹ کا جلد از جلد انتظام سنبھالنے اور اس کو محفوظ بنانے پر بات چیت کی جا رہی ہے تاکہ جو افعانستان چھوڑ کر جانا چاہتےہیں وہ کمرشل پروازوں کے ذریعے جا سکیں۔

    فرانس کےوزیر خارجہ نے فرانس ٹو ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایئرپورٹ کا انتظام سنبھالنے سے متعلق قرار داد پر ضرور عملدرآمد ہونا چاہیے۔ ایئرپورٹ کے انتظام کے حوالے سے قطر اور ترکی سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایئرپورٹ تک رسائی کو محفوظ بنایا جائے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ فرانس طالبان پر دباؤ ڈالے رکھے گا تاہم وہ ان سے مذاکرات نہیں کر رہا ہے۔

    کابل ایئرپورٹ کا نظام کون چلائے گا؟

    جہاں تک امریکہ کا تعلق ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے جمعے کو کہا تھا کہ ’ایئرپورٹ افغان عوام کو واپس کرنا ضروری تھا۔‘

    حالیہ ہفتوں میں نیٹو نے ایئرپورٹ پر سویلین اہلکاروں کی سکیورٹی، ایئر ٹریفک کنٹرول ، ایندھن کی فراہمی اور مواصلات کا خیال رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

    سکیورٹی کے ساتھ ساتھ ترکی کے ساتھ ایئرپورٹ کا انتظام چلانے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔

    ترک صدر رجب طیب اردغان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک طالبان کی پیشکش کا جائزہ لے رہا ہے مگر طالبان ایئرپورٹ کی سکیورٹی سنبھالنے پر زور دے رہے ہیں۔

    ترک صدر اس تجویز کے حامی دکھائی نہیں دیتے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ’فرض کریں آپ سکیورٹی کا نظام سنبھال لیتےہیں لیکن اگر یہاں دوبارہ کوئی حونریزی ہوتی ہے تو ہم دنیا کو کیا کہے گے؟

    کابل ایئرپورٹ کس حالت میں ہے؟

    امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ بری حالت میں ہے اور اس کا بنیادی ڈھانچہ یا تو تباہ ہو چکا ہے یا بہت خستہ حال ہے۔

    ایک پائلٹ نے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان کے قبضے کے ابتدائی دنوں میں مسافروں کی افراتفری کے دوران ایئرپورٹ ٹرمینل کی عمارت کو کافی نقصان پہنچا۔

    اس کے علاوہ مسافروں کے لیے بنے ہال سمیت ایئرٹریفک کنٹرول ٹرمینل جیسے بنیادی انفراسٹریکچر بھی تباہ ہو چکا ہے اور کمرشل پروازوں کو چلانے کے لیے اس کی دوبارہ تعمیر کی ضرورت ہے۔

  20. ’ہماری خواہش ہے کہ دوبارہ کبھی ہمارے ملک پر حملہ نہ ہو‘: ذبیح اللہ مجاہد

    طالبان کی پروپیگنڈا ویب سائٹ چلانے والے طارق غزنوی نے طالبان رہنماؤں کے کابل ایئرپورٹ سے چند ویڈیو کلپ پوسٹ کیے ہیں۔

    ان میں سے ایک میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد مکمل فوجی وردی میں نظر آنے والے جنگجوؤں کے ایک گروہ سے خطاب کر رہے ہیں۔

    اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ان جنگجوؤں کو ’آزادی حاصل‘ کرنے پر ان کی کوششوں پر مبارکباد دے رہے ہیں۔‘

    اس ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں آپ کی قربانیوں پر فخر ہے، یہ آپ کی اور آپ کے رہنماؤں کو پیش آنے والی مشکلات کی وجہ سے ہے۔ یہ (ہمارے رہنماؤں) کی ایمانداری اور صبر کی وجہ سے ہے کہ آج ہم آزاد ہیں۔‘

    ’لہذا میں آپ کو پوری افغان قوم کو مبارکباد دیتا ہوں، ہماری خواہش ہے کہ دوبارہ کبھی ہمارے ملک پر حملہ نہ ہو۔ ہم امن، خوشحالی اور مکمل اسلامی نظام چاہتے ہیں۔‘

    انھوں نے طالبان جنگجوؤں پر زور دیا کہ وہ افغان عوام کے ساتھ ’اچھے انداز‘ میں پیش آئیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ میں آپ سے یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ آپ لوگوں سے برتاؤ کرتے وقت خیال کریں۔ اس قوم نے بہت کچھ برداشت کیا ہے۔ افغان عوام کو ہمدردی اور محبت سے پیش آنے کے حقدار ہیں۔ لہذا ان کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں۔ ہم ان کے ملازم ہیں۔ ہم نے اپنے آپ کو ان پر مسلط نہیں کرنا ہے۔‘