برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈومینک راب پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ افغانستان چھوڑنے کی کوشش کرنے والے برطانوی اور فرار ہونے والے دیگر افراد کے لیے محفوظ راستے کے حوالے سے بات چیت کی جا سکے۔
راب اپنے پاکستانی ہم منصب اور دیگر سینئر رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔
سیکریٹری خارجہ ایک ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب برطانیہ نے افغانستان کے پڑوسی ممالک کے لیے 30 ملین پاؤنڈ کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
اس فنڈنگ سے طالبان سے فرار ہو کر پڑوسی ممالک پہنچنے والے ہزاروں مہاجرین کو پناہ اوردیگر سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
سیکریٹری خارجہ کی حیثیت سے پاکستان کے اپنے پہلے دورے میں راب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ساتھ دیگر سینئر سویلین اور فوجی شخصیات سے ملاقات کریں گے۔
توقع کی جارہی ہے کہ ان ملاقاتوں میں طالبان سے پناہ گزینوں کے لیے محفوظ راستے کی اجازت حاصل کرنے اور افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کا گڑھ بننے سے روکنے کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔
سیکریٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ پڑوسی ممالک کو دی جانے والی 30 ملین پاؤنڈ امداد میں سے 10 ملین پاؤنڈ فوری طور پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ افغانستان کی سرحدوں پر سامان بھیجا جائے۔
جن ممالک میں پناہ گزینوں میں اضافے کا خدشہ ہیں، ان ممالک کو نئے آنے والوں کی پروسیسنگ اور ضروری خدمات اور سامان کی فراہمی کے لیے 20 ملین پونڈ دے جائیں گے۔
اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر نے اندازہ لگایا ہے کہ آنے والے مہینوں میں پانچ لاکھ سے زائد افراد افغانستان سے فرار ہو کر پاکستان، تاجکستان، ایران، ازبکستان اور ترکمانستان کی طرف پہنچیں گے۔
سیکرٹری خارجہ کا کہنا ہے: یہ بہت ضروری ہے کہ ہم افغانستان سے بھاگنے والوں کی مدد کریں اور وہاں کے بحران سے علاقائی استحکام کو کمزور نہ ہونے دیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ امداد برطانیہ کے انسانی ذمہ داریوں کو نبھانے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔