آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ، قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دیا

طالبان نے افغانستان میں مزاحمت کے آخری گڑھ پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے ’جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ بی بی سی آزادانہ طور پر دونوں فریقین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان افغانستان کے معاملے میں سب کچھ چھوڑ کر الگ نہیں ہو سکتا: شاہ محمود قریشی

    پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ غیرملکی حکومتیں طالبان سے رابطہ کرنے پر مجبور ہیں کیونکہ اس وقت وہی انچارج ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کا ہمسایہ ہونے کی وجہ سے پاکستان اس صورتحال سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نکل نہیں سکتا۔

    ادھر اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزیناں کا کہنا ہے کہ افغانستان سے پناہ کی تلاش میں پاکستان آنے والے افغانوں کی تعداد زیادہ نہیں۔

    یو این ایچ سی آر کے اسلام آباد میں ترجمان بابر بلوچ نے کہا ہے کہ افغانستان چھوڑنے والوں کی تعداد ’کم ہے‘ تاہم انھوں نے اس سلسلے میں کوئی اعدادوشمار جاری نہیں کیے۔

    یو این ایچ سی آر نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ پانچ لاکھ افغان باشندے ملک پر طالبان کے قبضے کے بعد ملک چھوڑ سکتے ہیں۔

  2. طالبان کو تسلیم نہیں کرتے لیکن بات چیت کے راستے کھلے ہیں: ڈومینک راب

    برطانوی وزیرِ خارجہ ڈومینک راب نے کہا ہے کہ برطانیہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا لیکن وہ ان سے بات چیت کے راستے کھلے رکھے گا۔

    دورۃ پاکستان کے دوران پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ کوئی نہیں چاہتا کہ افغانستان اقتصادی اور سماجی طور پر تباہ ہو اس لیے برطانیہ امدادی اداروں کے ذریعے امداد بھیجتا رہے گا۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کے معاملے میں ’پاکستان کی مدد اور کردار کلیدی ہو گا اور افغانستان کے ایک مستحکم اور پرامن مستقبل کے لیے ہمارے عزائم مشترکہ ہیں۔‘

  3. طالبان نے کابل کی شکل بدلنا شروع کر دی

    کابل میں موجود بی بی سی کے ملک مدثر کے مطابق طالبان نے شہر کی دیواروں پر بنے میورل اور مختلف اشتہار اتارنے کا کام شروع کر دیا ہے۔

    بی بی سی کی لیز ڈوسیٹ کا کہنا ہے کہ یہ کابل کی شناخت کو مٹانے کی کوشش ہے۔

    مقامی شہریوں کے مطابق دوحہ معاہدے کے بعد بنایا گیا ایک فن پارہ، جس میں ملا برادر اور زلمے خلیل زاد کو ہاتھ ملاتے دیکھا جاسکتا تھا، مٹا دیا گیا ہے اور اس کی جگہ ملا ہبت اللہ کا ایک قول لکھ دیا گیا ہے جس میں انھوں نے دشمن کے پروپاگینڈہ سے خبردار رہنے کا کہا ہے۔

  4. افغانستان کے لیے انسانی مدد پہنچانے والی پروازیں بحال

    اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے اس بات کیا تصدیق کیا ہے کہ افغانستان کے لیے انسانی مدد والی پروازوں کو بحال کر دیا گیا ہے۔ اس وت یہ پروازیں اسلام آباد سے افغانستان کے شہر مزار شریف اور قندھار کے لیے روانہ ہو رہی ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ایک ترجمان نے میڈیا کو بتایا ہے کہ 29 اگست سے مزار شریف کو یہ پروازیں جا رہی ہیں۔

    ان کے مطابق انسانی مدد بہم پہنچانے والی 160 تنظیموں کو افغانستان میں اپنا کام جاری رکھنے میں مدد فراہم کریں گی۔

    طالبان کے ملک پر کنٹرول سے قبل بھی افغانستان کا بڑی حد تک بیرونی امداد پر ہی انحصار تھا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ملک کے پیداواری بجٹ کا چالیس فیصد بیرونی امداد سے ملتا ہے۔

    اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے مطابق طالبان کے اقتدار میں دوبارہ آنے کے بعد افغانستان سے شہریوں کی بڑی تعداد کا انخلا دیکھنے میں آیا ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق اس سال پانچ لاکھ تک شہری اندرون ملک ہی در بدر ہو گئے ہیں۔

    اس وقت افغانستان ایک طویل دورانیے کی خشک سالی سے گزر رہا ہے جبکہ کورونا وائرس کی وبا نئے چیلنجز کا باعث بنی ہے۔

  5. بریکنگ, ’جب کابل میں حکومت گر گئی تو کابل ایئرپورٹ پر حملہ کرنے والا بھی جیل سے مفرور ہو گیا تھا‘, بی بی سی مانیٹرنگ

    نام نہاد دولت اسلامیہ کا کہنا ہے کہ 26 اگست کو کابل ایئرپورٹ پر خود کش حملہ کرنے والا اس وقت ایک جیل سے فرار ہو گیا جب اشرف غنی کی سربراہی میں سابق افغان حکومت ختم ہو گئی تھی۔

    اس خود کش حملے میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ مرنے والوں میں 13 امریکی فوجی بھی شامل تھے۔

    اطلاعات کے مطابق 15 اگست کو طالبان کابل کی پل چرخی جیل سے ہزاروں قیدیوں کو رہا کر دیا تھا جب انھوں نے شہر کا کنٹرول سنبھالا۔ طالبان نے دیگر شہروں سے بھی قیدیوں کو آزاد کر دیا تھا۔

    ایک آن لائن نیوز لیٹر میں نام نہاد دولت اسلامیہ نے بتایا ہے کہ خود کش حملہ آور عبدالرحمان ال لوگاری اور اس گروپ کے کئی اور ارکان اس وقت جیلوں سے آزاد ہو گئے جب سابق افغان حکومت گر گئی تھی۔

    اس نیوز لیٹر کے مطابق جیسے ہیں یہ حملہ آور جیل سے آزاد ہوا تو پھر یہ واپس تنظیم کے خود کش حملہ آور کرنے والا سکواڈ کا حصہ بن گیا تھا۔

  6. ’ترکی مزید پناہ گزینوں کی میزبانی نہیں کر سکتا‘, بی بی سی مانیٹرنگ

    ترکی کی حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ کے ترجمان عمر جیلک نے ایک بار پھر کہا ہے کہ اب ترکی مزید ایک پناہ گزین بھی نہیں لے سکتا۔ انھوں نے دیگر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان سے ممکنہ طور پر بڑی تعداد میں آنے والے پناہ گزینوں کی ذمہ داری اٹھائیں۔

    ترجمان کے مطابق اب ترکی مزید ایک پناہ گزین کو بھی تسلیم کرنے کیا صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔ ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق ایک پارٹی اجلاس کے بعد عمر جیلک نے کہا کہ ترکی ایسا ملک نہیں ہے کہ جو دوسرے ممالک کی ذمہ داری بھی خود اٹھائے۔

    انھوں نے کہا کہ ترکی کو بفر زون یا پناہ گزینوں کا کیمپ سمجھنے والے ممالک غلطی پر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ غیر انسانی طور پر حل نہیں کیا جا سکتا کہ ہم آپ کو پیسے دیں گے آپ پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں رکھیں۔ ترکی کے وزیر خارجہ نے بھی یورپی ممالک پر زور دیا ہ کہ وہ آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں۔

    خیال رہے کہ اس وقت ترکی میں 36 لاکھ تک شامی پناہ گزین ہیں جبکہ ہزاروں افغان بھی ترکی میں رہ رہے ہیں۔

  7. بالی ووڈ کے اداکار نصیرالدین شاہ کے طالبان کے خلاف تبصرے پر ایک نیا تنازع

    انڈیا کے اداکار نصیر الدین شاہ نے افغانستان پر طالبان کے قبضے پر تبصرہ کر کے ایک نیا تنازع کو ہوا دے دی ہے۔

    ایک ویڈیو پیغام میں نصیرالدین شاہ نے انڈیا میں بسنے والے ایسے مسلمانوں پر تنقید کی ہے جو طالبان کی فتح پر خوشیاں منا رہے ہیں جو کہ ایک بہت خطرناک نظیر ہے۔

    انھوں نے انڈیا کے اسلام اور دیگر دنیا میں رائج اسلام میں موازنہ بھی کیا۔

    نصیرالدین شاہ کے ان ریمارکس نے انڈیا کے مسلمانوں میں ایک غصہ پیدا کر دیا اور کہا کہ وہ ایک غلط تصویر پیش کر رہے ہیں۔

    تاہم انڈیا میں حکمران جماعت بی جے پی کے کئی حمایتی نصیرالدین شاہ کے ان ریمارکس کو سراہتے نظر آ رہے ہیں اور انھوں نے دیگر مسلمانوں سے بھی کہا کہ وہ اسی طرح طالبان کے خلاف اپنے خیالات کا اظہار کریں۔

    نصیر الدین شاہ نے کہا کیا ہے؟

    71 برس کے اداکا نے اردو میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ جو طالبان کی فتح پر جشن منا رہے ہیں انھیں ایک جدت والا اور سلجھا ہوا اسلام چائیے یا پھر وہ ماضی کے ان وحشی قسم کے نظام کے خواہاں ہیں۔

    نصیرالدین شاہ نے کہا کہ ہندوستانی اسلام ہمیشہ سے ایک ہی منفرد اور دیگر دنیا سے مختلف رہا ہے۔ اردو کے معروف شاعر مرزا غالب کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمیں سیاسی اسلام کی ضرورت نہیں ہے۔

    ان کے مطابق میں ایک انڈین مسلمان ہوں۔۔ اور میرا خدا سے ایک رسمی تعلق ہے۔ مجھے عملی اسلام کی ضرورت نہیں ہے۔

  8. حکومت سازی کے لیے اہم طالبان رہنما کابل پہنچ گئے

    طالبان حکام نے برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ حکومت سازی کی غرض سے اہم طالبان رہنما کابل میں جمع ہو گئے ہیں۔ ان حکام کے مطابق طالبان کے شریک بانی ملا برادر، طالبان کے بانی سربراہ ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب اور دوحہ میں مقیم طالبان کے سیاسی امور کے سربراہ شیر محمد عباس ستانکزئی کابل پہنچ گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد حکومت سازی کے لیے مشاورت شروع کر رکھی ہے۔

  9. پنجشیر وادی میں لڑائی میں شدت: فریقین کے ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے

    افغانستان کی وادی پنجشیر میں طالبان فورسز اور مزاحمتی گروپوں کے درمیان شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔

    طالبان نے کہا کہ انھوں نے کچھ علاقہ پر قبضہ کر لیا ہے اور قومی مزاحمتی محاذ کو ’بھاری‘ نقصان پہنچایا ہے۔

    لیکن فرنٹ کا کہنا ہے کہ اس کا وادی کے تمام داخلی راستوں پر کنٹرول ہے اور طالبان کے سینکڑوں جنگجو ہلاک ہو گئے ہیں۔

    خبر رساں ادارے رؤٹرز کے مطابق طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد جنگجو پنجشیر وادی میں داخل ہو گئے ہیں۔

    بی بی سی فارسی نے این آر ایف کے ترجمان فہیم دشتی کے حوالے سے بتایا کہ مذاکرات ناکام ہوئے کیونکہ دونوں فریقین کے مختلف مطالبات تھے۔

    انھوں نے کہا کہ وہ دو محاذوں پر طالبان سے لڑ رہے ہیں اور 350 طالبان جنگجو مارے گئے ہیں اور ایک بڑی تعداد کو قیدی بنا لیا گیا ہے۔

    طالبان جنگجوؤں کی جانب سے پولیس کے اعلیٰ افسران اور حکومتی افسران کی تلاش اور قتل کی رپورٹیں اس اعتدال پسند تصویر سے متصادم ہیں جو طالبان نے ملک کا کنٹرول سنبھالنے پر پیش کی تھی۔

  10. ڈومینک راب پاکستان کے دورے پر، افغانستان کے پڑوسی ممالک کے لیے 30 ملین پاؤنڈ امداد کا اعلان

    برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈومینک راب پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ افغانستان چھوڑنے کی کوشش کرنے والے برطانوی اور فرار ہونے والے دیگر افراد کے لیے محفوظ راستے کے حوالے سے بات چیت کی جا سکے۔

    راب اپنے پاکستانی ہم منصب اور دیگر سینئر رہنماؤں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    سیکریٹری خارجہ ایک ایسے وقت میں پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں جب برطانیہ نے افغانستان کے پڑوسی ممالک کے لیے 30 ملین پاؤنڈ کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

    اس فنڈنگ ​​سے طالبان سے فرار ہو کر پڑوسی ممالک پہنچنے والے ہزاروں مہاجرین کو پناہ اوردیگر سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔

    سیکریٹری خارجہ کی حیثیت سے پاکستان کے اپنے پہلے دورے میں راب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ساتھ دیگر سینئر سویلین اور فوجی شخصیات سے ملاقات کریں گے۔

    توقع کی جارہی ہے کہ ان ملاقاتوں میں طالبان سے پناہ گزینوں کے لیے محفوظ راستے کی اجازت حاصل کرنے اور افغانستان کو دہشت گرد گروہوں کا گڑھ بننے سے روکنے کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔

    سیکریٹری خارجہ کا کہنا ہے کہ پڑوسی ممالک کو دی جانے والی 30 ملین پاؤنڈ امداد میں سے 10 ملین پاؤنڈ فوری طور پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو فراہم کیے جائیں گے تاکہ افغانستان کی سرحدوں پر سامان بھیجا جائے۔

    جن ممالک میں پناہ گزینوں میں اضافے کا خدشہ ہیں، ان ممالک کو نئے آنے والوں کی پروسیسنگ اور ضروری خدمات اور سامان کی فراہمی کے لیے 20 ملین پونڈ دے جائیں گے۔

    اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے ادارے یو این ایچ سی آر نے اندازہ لگایا ہے کہ آنے والے مہینوں میں پانچ لاکھ سے زائد افراد افغانستان سے فرار ہو کر پاکستان، تاجکستان، ایران، ازبکستان اور ترکمانستان کی طرف پہنچیں گے۔

    سیکرٹری خارجہ کا کہنا ہے: یہ بہت ضروری ہے کہ ہم افغانستان سے بھاگنے والوں کی مدد کریں اور وہاں کے بحران سے علاقائی استحکام کو کمزور نہ ہونے دیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ یہ امداد برطانیہ کے انسانی ذمہ داریوں کو نبھانے کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔

  11. سہیل شاہین: طالبان کو کشمیر سمیت کہیں بھی مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنے کا حق ہے

    طالبان کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ طالبان انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے مسلمانوں کے حق میں آواز بلند کرنے کا حق رکھتے ہیں۔

    بی بی سی کے ساتھ ایک زوم انٹرویو میں طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے امریکہ کے ساتھ ہونے والے دوحہ معاہدے کی شرائط کو یاد کرواتے ہوئے کہا کہ ان کی کسی بھی ملک کے خلاف مسلح آپریشن کرنے کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔

    دوحہ سے بات کرتے ہوئے سہیل شاہین نے کہا کہ مسلمان ہونے کے ناطے یہ ان کا حق ہے کہ کشمیر، انڈیا اور کسی بھی دوسرے ملک میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے آواز اٹھائیں۔

    ان کے مطابق ’ہم اپنی آواز بلند کریں گے اور یہ کہیں گے مسلمان آپ کے اپنے لوگ ہیں، آپ کے اپنے شہری ہیں۔ آپ کے قانون کے تحت وہ برابری کے حقوق کے مستحق ہیں۔‘

  12. امریکی اسلحہ اور یونیفارم پہنے طالبان کا پیغام

    طالبان کی سپیشل فورس بدری 313 نے اب کابل ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ امریکی جا چکے ہیں لیکن پیچھے چھوڑے ہوئے اسلحے اور ہیلی کاپٹرز کو ناکارہ بنا گئے ہیں۔ طالبان کا دعوی ہے کہ اس کو ٹھیک کرنے کے لیے ان کے پاس ٹیم موجود ہے۔۔۔ : محمد ابراہیم

  13. برطانوی وزیرِ خارجہ کا دورہ پاکستان، افغانستان کی صورتحال زیرِ غور

    برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ڈومینک راب جمعرات کے روز دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ چکے ہیں جہاں دو دوطرفہ تعلقات کے علاوہ پاکستان میں اعلیٰ حکام کے ساتھ افغانستان کی صورتحال پر بھی بات چیت کریں گے۔

    پاکستان کے دفترخارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈومینک راب کی شاہ محمود قریشی سے باضابطہ میٹنگ ہو گی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان اور برطانیہ افغانستان میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور گذشتہ ماہ کے دوران دونوں ممالک کے رہنماؤں کے دوران افغانستان کی صورتحال پر کئی مرتبہ بات ہو چکی ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ ماہ پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کو برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کی جانب سے ٹیلی فون کال آئی تھی جس میں دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

  14. وادی پنجشیر میں طالبان اور مقامی جنگجوؤں کے درمیان تصادم کی اطلاعات

    وادی پنجشیر سے طالبان اور مقامی مزاحمت کاروں کے درمیان تصادم کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ پنجشیر وہ آخری صوبہ ہے جہاں اب تک طالبان کا کنٹرول قائم نہیں ہوا ہے۔

    دونوں ہی فریقین نے دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم بی بی سی ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’ہم نے مقامی مسلح گروہ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے پر آپریشن شروع کیا۔‘

    اُنھوں نے کہا کہ طالبان جنگجو علاقے میں داخل ہو کر کچھ حصے پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں تاہم قومی مزاحمتی محاذ برائے افغانستان (این آر ایف اے) کے ایک ترجمان نے کہا کہ اب بھی اُن کے گروپ کے پاس علاقے کا مکمل کنٹرول ہے اور اُنھوں نے طالبان حملہ ناکام بنا دیا ہے۔

  15. ’جنوبی افریقہ پاکستان میں موجود افغان پناہ گزینوں کو اپنے پاس نہیں ٹھہرا سکتا‘

    جنوبی افریقہ نے پاکستان چلے جانے والے افغان پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں جگہ دینے کی درخواست مسترد کر دی ہے اور کہا ہے کہ وہاں پہلے ہی دیگر ممالک سے پناہ گزینوں کی ’خاصی بڑی تعداد‘ موجود ہے۔

    حکومت نے کہا ہے کہ اسے ’پاکستان میں پناہ لینے والے متعدد افغان پناہ گزینوں کو‘ اپنے ملک میں رکھنے پر غور کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

    ’درخواست یہ تھی کہ اُنھیں اپنی حتمی منزلوں سے پہلی جنوبی افریقہ میں ٹھہرایا جائے۔‘

    ’مگر بدقسمتی سے جنوبی افریقہ کی حکومت ایسی کسی درخواست پر عمل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔‘

    جنوبی افریقہ اقتصادی تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم ملک ہے اور یہاں پناہ گزینوں کے لیے دنیا کی بہترین پالیسیز نافذ ہیں۔

    یہاں سنہ 2007 سے 2015 کے درمیان 10 لاکھ سے زائد افراد نے پناہ حاصل کی۔

    مگر انسانی حقوق کے گروہوں کا کہنا ہے کہ اب بھی بہت سی درخواستیں فائلوں میں پڑی ہیں اور زیادہ تر درخواست گزار غیر یقینی صورتحال کے شکار ہیں۔

  16. ویسٹرن یونین نے افغانستان پیسے بھیجنے کی سہولت بحال کر دی

    دنیا بھر میں رقم کی ترسیل کی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک ویسٹرن یونین نے کہا ہے کہ وہ افغانستان پیسے بھیجنے کی اپنی سروس بحال کر رہے ہیں۔

    یہ بات ویسٹرن یونین کے صدر برائے ایشیا، یورپ، افریقہ و مشرقِ وسطیٰ یاں کلاڈ فراہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات چیت میں کہی۔

    ویسٹرن یونین نے دو ہفتے قبل افغانستان میں اپنے آپریشنز معطل کر دیے تھے۔

    یاں کلاڈ فراہ نے کہا کہ یہ فیصلہ ملک پر طالبان کے قبضے کے بعد انسانی بہبود کی سرگرمیوں کو بحال کرنے کی امریکی کوششوں کا حصہ ہے۔

    اُنھوں نے کہا: ’افغانستان میں ہمارا زیادہ تر کاروبار باہر سے آنے والے اُن پیسوں پر ہے جس سے یہاں لوگ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرتے ہیں۔ اس لیے ہمارے پاس یہ وجہ ہے اور اسی لیے ہم اپنا کاروبار دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔‘

  17. طالبان نے پنجشیر کا گھیراؤ کر لیا، مزاحمت کاروں سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ

    افغانستان میں طالبان نے اطلاعات کے مطابق وادی پنجشیر کا گھیراؤ کر لیا ہے جو افعانستان پر طالبان کے قبضے کے خلاف مزاحم آخری صوبہ ہے۔

    یہاں موجود مزاحمت کاروں کا کہنا ہے کہ وہ ایک غیر مرکزی حکومت چاہتے ہیں جس میں مختلف نسلی گروہوں کے درمیان اقتدار تقسیم ہو۔

    اسی دوران ایک سینیئر طالبان رہنما نے مزاحمت کاروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان کے ساتھ سمجھوتہ کر لیں۔

    طالبان رہنما امیر خان متقی نے پنجشیر میں موجود افغانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں۔ اُنھوں نے کہا: ’امارتِ اسلامی افغانستان تمام افراد کا گھر ہے۔‘

    دوسری جانب احمد شاہ مسعود کے بیٹے اور پنجشیر میں طالبان مخالف مزاحمت کے رہنما احمد مسعود طالبان کی یقین دہانیوں پر قائل نظر نہیں آ رہے۔

    روئٹرز کے مطابق سی این این سے گفتگو میں اُنھوں نے کہا کہ ’بدقسمتی سے طالبان تبدیل نہیں ہوئے ہیں اور وہ اب بھی پورے ملک پر قبضے کے خواہشمند ہیں۔‘

    واضح رہے کہ افغانستان کی حالیہ تاریخ میں وادی پنجشیر نہایت اہمیت کی حامل رہی ہے۔

    اسّی کی دہائی میں یہ سوویت افواج کے خلاف بھی سخت مزاحم رہی اور جب 1996 میں طالبان نے افغانستان پر حکومت قائم کی، تب بھی یہ وادی طالبان کی پہنچ سے دور رہی۔

    پنجشیر میں داخلہ ایک بہت ہی تنگ راستے کے ذریعے ممکن ہے اور یہ کابل سے زیادہ دور نہیں بلکہ صرف 48 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

    یہ اردگرد موجود بلند و بالا پہاڑوں کے حصار میں محفوظ علاقہ ہے اور یہاں رہنے والے لوگوں کو قدرتی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

  18. ڈومینک راب: ’افغانستان کو کسی بھی انسانی بحران سے بچایا جائے گا‘

    برطانوی سیکرٹری خارجہ ڈومینک راب نے بتایا ہے کہ امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور قطر کے وزیراعظم سے ملاقات میں چار اہم نکات پر بات کی گئی ہے:

    • اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ افغانستان کو دوبارہ دہشتگردوں کا گڑھ نہ بننے دیا جائے۔
    • افغانستان کو کسی بھی انسانی بحران سے بچایا جائے گا اور اسی لیے ہم نے اس برس افغانستان کے لیے امداد دوگنی کر دی ہے۔
    • خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جائے گا۔
    • طالبان کے وعدوں کو جانچا جائے گا۔

    اپنے قطری ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم اس کا بہت احتیاط سے جائزہ لیں گے کہ انسانی حقوق کے شعبے میں اور خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔

  19. ڈومینک راب: برطانیہ کی حکومت ’طالبان کو تسلیم نہیں کرے گی‘

    برطانیہ کے سیکرٹری خارجہ ڈومینک راب نے کہا ہے کہ برطانیہ کی حکومت ’متوقع مستقبل میں طالبان کو تسلیم نہیں کرے گی۔‘

    دوحہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ برطانیہ کو اب ’اس نئی حقیقت سے ہم آہنگ ہونا ہو گا۔‘

    انھوں نے کہا کہ طالبان پر ’معتدل اثرورسوخ ڈالنے کے لیے‘ ایک گروپ بنانے کی ضرورت ہے۔

    ’بہت سے ممالک ایسے ہیں جو افغانستان کی صورتحال سے برا راست متاثر ہوئے ہیں جبکہ بہت سے ملک ایسے بھی ہیں جو انسانی خطرے اور حالت زار سے متاثر ہوں گے۔‘

    ’ہم یقینی طور پر انھیں دیکھ رہے ہوں گے اور سب سے اہم بات کہ جو یقین دہانی انھوں نے کرائی ہے وہ اس کے بارے میں کیا کرتے ہیں۔‘

  20. ہرات میں خواتین کا احتجاج: ’تعلیم، کام اور سکیورٹی ہمارا حق ہے، ہم خوفزدہ نہیں، متحد ہیں‘

    افغانستان کے شہر ہرات میں تقریباً 50 خواتین اپنے کام کرنے کے حق کے لیے اور نئی حکومت میں خواتین کی عدم شمولیت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں ہیں۔

    اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق خواتین نے احتجاج کے دوران ’تعلیم، کام اور سکیورٹی ہمارا حق ہے، ہم خوفزدہ نہیں، ہم متحد ہیں‘ کے نعرے لگائے۔

    اس احتجاج کی ایک آرگنائزر خاتون نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ چاہتی ہیں کہ طالبان خواتین کو نئی کابینہ میں شامل کریں۔

    ’ہم چاہتے ہیں کہ طالبان ہمارے ساتھ مشاورت کریں۔ ہمیں ان کی میٹنگز اور اجتماعات میں کوئی خاتون نظر نہیں آئیں۔‘