طالبان نے افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمت کے آخری گڑھ پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔
ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں طالبان کے ترجمان ذبیح الللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ ’اللہ کی مدد اور ہمارے لوگوں کے تعاون سے ملک میں مکمل سلامتی کی طرف تازہ ترین کوششوں کے نتائج برآمد ہوئے ہیں اور صوبہ پنجشیر امارت اسلامیہ کے مکمل کنٹرول میں آگیا ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’صوبے میں موجود کچھ باغی شکست کھا گئے ہیں اور باقی پنجشیر کے مظلوم اور باعزت لوگوں کو آزاد کراتے ہوئے بھاگ گئے۔‘
ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’ہم پنجشیر کے لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے ساتھ کسی بھی طرح امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا، وہ سب ہمارے بھائی ہیں، ہم ایک ملک اور ایک مقصد کے لیے مل کر خدمت کریں گے۔‘
دوسری جانب قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا ہے۔
ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں قومی مزاحمتی اتحاد کا کہنا ہے کہ این آر ایف فورسز لڑائی جاری رکھنے کے لیے وادی بھر میں تمام سٹریٹجک پوزیشنوں پر موجود ہیں۔ ہم افغانستان کے لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ طالبان اور ان کے شراکت داروں کے خلاف جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انصاف اور آزادی حاصل نہیں ہو سکتی۔
تاہم بی بی سی آزادانہ طور دونوں فریقین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔
سوشل میڈیا پر شئیر کی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز میں طالبان جنگجوؤں کو پنجشیر کے گورنر ہاؤس (مقامِ ولایت) کے باہر سلفیاں لیتے اور امارت اسلامیہ کا سفید اور سیاہ جھنڈا لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
کلچرل کمیشن، امارت اسلامیہ افغانستان کے چیف احمد اللہ متقی نے بھی گورنر ہاؤس کے باہر کھڑے طالبان کی تصویر شئیر کی ہے۔
پنجشیر میں طالبان اور ان سے برسرپیکار قومی مزاحمتی فوج کے مابین لڑائی میں تیزی آ گئی ہے اور اتوار کو ہونے والی جھڑپوں میں مزاحمتی محاذ کے دو اہم رہنما اور ایک اہم طالبان کمانڈر ہلاک ہوئِے ہیں۔
قومی مزاحمتی فوج کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ این آر ایف کے ترجمان فہیم دشتی کے علاوہ جنرل عبدالودود زارا طالبان سے لڑائی میں مارے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق مارے جانے والے کمانڈر جنرل عبدالودود شمالی مزاحمتی فوج کے لیڈر احمد مسعود کے قریبی رشتہ دار بھی تھے۔