آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ، قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دیا

طالبان نے افغانستان میں مزاحمت کے آخری گڑھ پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے ’جھوٹ‘ قرار دیا ہے۔ بی بی سی آزادانہ طور پر دونوں فریقین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, جنرل فیض حمید نے دورہِ کابل کے دوران ملا برادر سے ملاقات کی، ذبیح اللہ مجاہد

    ذبیح اللہ مجاہد نے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کے دورہ کابل کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے طالبان رہنما ملا برادر سے ملاقات کی ہے۔

    جنرل فیض حمید کے دورے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ’کل آنے والے وفد کے خدشات ڈیورنڈ لائن کی حفاظت اور جیلوں سے بھاگنے والے قیدیوں سے متعلق تھے کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کرکے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔‘

    طالبان ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم نے انھیں تسلی کروائی ہے کہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونے دیں گے۔

    انھوں نے بتایا کہ پاکستانی وفد نے طالبان کو ائیر پورٹ فعال کرنے میں مدد کی پیشکش بھی کی مگر ہم نے انھیں کہا کہ ’ہم آپ کی پیشکش کا شکریہ ادا کرتے ہیں مگر پہلے ہمیں اپنا سسٹم بنا لینے دیں پھر ہم آپ سے رابطہ کریں گے۔‘

  2. بریکنگ, طالبان ترجمان: ’خواتین سے درخواست ہے مظاہرے نہ کریں‘

    کابل میں پریس کانفرنس کے دوران طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد سے خواتین کے مظاہرے میں تشدد کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انھوں نے تشدد کرنے والے جنگجوؤں کی مزمت نہیں کی اور کہا کہ ’کبھی کبھار گرما گرمی ہو جاتی ہے۔‘

    ’کل کے مظاہرے میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے فوجیوں کو بھیڑ یا مظاہرے سے نمٹنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا لہذا انھوں نے وہی کیا جو ان سے بن پایا۔ کوشش کر رہے ہیں کہ دوبارہ ایسا نہ ہو۔‘

    انھوں نے خواتین سے درخواست کی کہ ابھی مظاہرے نہ کریں اور احتیاط کریں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہم ابھی ابھی ایک پرانی کیفیت سے نکلے ہیں، یہ احتجاج کے لیے بہت برا وقت ہے۔ حکومت مکمل طور پر فعال نہیں ہے۔ کوئی نہیں جو ان کے مطالبات کا جواب دے سکے۔ سکیورٹی کی صورتحال بھی غیر متوقع ہے۔ آپ نے دیکھا کہ ہوائی اڈے پر کیا ہوا۔

    ’لہذا حکومت بننے کے بعد خواتین کو صحیح وقت پر احتجاج کرنے اور کسی ایسے شخص کے سامنے آواز اٹھانے کا حق ہے جو انھیں جوابدہ ہو۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ آہستہ آہستہ خواتین اپنے کام پر واپس آ رہیں ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ ان کے ساتھ کوئی بدتمیزی ہو۔

    ’خواتین ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں، ہم ان کے حقوق کا احترام کرتے ہیں جو شریعت نے انھیں دیے ہیں۔‘

  3. بریکنگ, ’پاکستانی وفد کو یقین دلایا ہے کہ ہماری سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی‘

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’ہم نے پاکستانی وفد کو یقین دلایا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ کل پاکستان کے سکیورٹی سے وابستہ افراد کابل آئے تھے ’ان کے خدشات تھے کہ افغانستان میں جیلوں سے بھاگے ہوئے قیدی پاکستان کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔‘

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’سرحد پر ہمارے لوگوں کو روکا ہوا ہے اور تجارت نہیں ہونے دی جا رہی‘۔ انھوں نے حکومت پاکستان سے درخواست کی ہے کہ مہاجرین کو آنے جانے دیں۔

    ’ہم نے کل آنے والے پاکستانی وفد سے بات کی ہے کہ ہمارے لوگوں کو آنے جانے کی سہولت فراہم کریں تاکہ آرام سے تجارت ممکن ہو سکے۔‘

  4. بریکنگ, ’ایک ایسا آئین بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جو اسلامی اور سب کے لیے قابلِ قبول ہو‘

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے افغان آئین پر کام کر رہے ہیں جو اسلامی ہو اور سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔

  5. بریکنگ, ’جلد از جلد حکومت کا اعلان کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘

    ذبیح اللہ مجاہد نے ان اطلاعات کو مسترد کیا کہ نئی حکومت کے اعلان میں تاخیر کی وجہ طالبان کے اندرونی اختلافات ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں بھی حکومت کا اعلان کرنے کی بہت جلدی ہے‘ اور وہ کوشش کر رہے ہیں کہ جلد از جلد حکومت کا اعلان کریں تاہم مشاورت جاری ہے اور کچھ تکنیکی مسائل پر کام ہو رہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش ہے جو لوگ پہلے فوج کا حصہ تھے انھیں دوبارہ سے نوکریوں پر واپس لے کر آئیں کیونکہ وہ پروفیشنل لوگ ہیں اور ’ہمیں پولیس، فوج اور انٹیلیجنس میں پروفیشنل، تربیت یافتہ لوگوں کی ضرورت ہے۔‘

  6. بریکنگ, امریکی افواج نے جان بوجھ کر ایئرپورٹ کو نقصان پہنچایا: ذبیح اللہ مجاہد

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ائیر پورٹ طالبان کے لیے بہت اہم ہے اور وہ ترکی اور قطر کی مدد سے ائیر پورٹ کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ان کا کہنا ہے کہ امریکی افواج نے جان بوجھ کر ائیر پورٹ کو نقصان پہنچایا ’جہاں جہاں ان کا بس چلا وہاں انھوں نے راکٹ مارے، ٹائر پنکچر کیے۔‘

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ امریکیوں نے ناصرف سیویلین ائیر پورٹ بلکہ فوجی ائیر پورٹ کو بھی نقصان پہنچایا۔

    ’ریڈرار ہمارے ملک کا اثاثہ تھا انھوں نے اسے بھی نقصان پہنچایا، یہ آخری دشمنی تھی جو امریکیوں نے ہمارے ملک کے ساتھ کی اور یہ بہت افسوسناک ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ڈرائی پورٹ فعال ہیں، زمینی راستوں سے کھانے پینے کا سامان آ رہا ہے، تجارت ہو رہی ہے اور بینک آہستہ آہستہ معمول کی جانب آ رہے ہیں۔

  7. بریکنگ, ذبیح اللہ مجاہد کا کابل میں لوٹ مار کرنے والے جرائم پیشہ عناصر کو پکڑنے کا دعویٰ

    ذبیح اللہ مجاہد نے کابل میں جرائم پیشہ عناصر کو پکڑنے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ طالبان کابل شہر میں لوٹ مار، چوری اور لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو پکڑ رہے ہیں اور ان کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ طلبان نے اپنے کارکنان کو ہوائی فائرنگ سے منع کیا ہے تاکہ بیت المال کا نقصان نہ ہو ’ابھی ہم نے پنجشیر کا کنٹرول سنبھالا ہے تو ایک گولی بھی نہیں چلی ہے۔‘

    یاد رہے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر کابل میں ہونے والی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

  8. بریکنگ, ذبیح اللہ مجاہد کا پنجشیر میں بجلی، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ بحال کرنے کا اعلان

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پنجشیر میں بجلی، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو بجلی، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی بندش سے زحمت پہنچی ہے، ہم ان سے معذرت چاہتے ہیں۔

  9. بریکنگ, پنجشیر کے لوگ ہمارے جسم کا حصہ ہیں، ذبیح اللہ مجاہد

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ پنجشیر کے عوام ہمارے بدن کا جز ہیں اور ہم انھیں اور مجاہدین کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتے۔

    ’پنجشیر کے مجاہدین ہمارے لیے افتخار کا باعث ہیں اور یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم انھیں بری نظر سے بھی دیکھیں۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ ہمارے لیے سب افغان برابر ہیں اور ہم پنجشیر کے عوام اور قندھار کے عوام میں کوئی فرق نہیں رکھتے۔

  10. بریکنگ, بہت سے لوگ افعانستان کو واپس جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں، ذبیح اللہ مجاہد

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ افعانستان کو واپس جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں لیکن امارات اسلامی اس کی بالکل اجازت نہیں دے گی۔

    ان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افواج کا افغانستان سے انخلا ہمارے لیے فخر کی بات تھی جس کے بعد افغانستان میں امن ہونا چاہے تھا، اور ہم اسی نیت سے کابل آئے لیکن جو بھی اسلحے کو ہاتھ میں لے گا، جو بھی مزاحمت کرے گا، جنگ کرے گا، وہ ہماری ساری قوم کا دشمن ہے کیونکہ جنگ نہیں امن چاہتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’امید ہے سب اپنی آزادی کا خیال رکھیں گے اور جنگ سے گریز کریں گے۔‘

  11. بریکنگ, مجبور ہو کر فوجی کارروائی کی تاکہ اس فتنے کو آخر تک پہنچا سکیں، ذبیح اللہ مجاہد

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ طالبان نے مذاکرات کے ذریعے پنجشیر کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی پوری کوشش کی اور اس کے لیے پنجشیر کے علمائے کرام، وہاں کے مجاہدین اور شہریوں سے بھی رابطہ کیا۔

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ہم نہیں چاہتے تھے کہ ریاست کے اندر ریاست قائم ہو، لہذا طالبان نے برادرانہ طریقے سے پنجشیر کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی پوری کوشش کی۔

    ’ہم نے ایک بھی گولی چلائے بغیر پنجشیر کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا اور فوجی آپریشن کرنا پڑا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے مذاکرات کے لیے جو لوگ پنجشیر بھیجے انھیں منفی جواب دیا گیا اور مذاکرات سے انکار کیا گیا۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے ’مجبور ہو کر ہمیں فوجی کارروائی کرنی پڑی تاکہ اس فتنے کو آخر تک پہنچا سکیں۔‘

  12. بریکنگ, پوری پنجشیر وادی طالبان کے قبضے میں ہے، ذبیح اللہ مجاہد کا دعویٰ

    ذبیح االلہ مجاہد نے کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پنجشیر میں دشمن کے مکمل علاقے پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور پوری وادی طالبان کے کنٹرول میں ہے۔

    انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ طالبان نے افغانستان کے تمام جنگی سازو سامان پر قبضہ حاصل کر لیا ہے۔

    ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ طالبان اس ملک میں کہیں پر بھی کسی بھی طرح کی جنگ نہیں چاہتے لیکن کچھ لوگ کابل سے فرار ہو گئے اور بیت المال کے اسلحے کو استمعال کرتے ہوئے حکومت اور لوگوں کے لیے سردرد بنے۔

    ’ہم افغانستان کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ متحد رہیں اور دوبارہ ایسے حالات نہ بننے دیں۔‘

  13. صوبہ لوگر میں عمارتوں پر گولیوں کے نشان اور زیرِ زمین موجود ذخائر, ملک مدثر - بی بی سی لوگر

    صبح سات بجے ہم کابل سے افغانستان کے صوبہ لوگر کے لیے روانہ ہوئے۔ اس بار ماضی کے برعکس ہماری میزبانی یا رہنمائی طالبان نے کرنا تھی۔

    راستے میں تین چار مقام پر طالبان کے چیک پوسٹ تھے۔ ایک چیک پوائنٹ پر گزرتے ہوئے ایک طالب کی نظر میرے کیمرے پر پڑی تو اس نے چیخ کر کہا کہ ’کیمرہ کہاں لے کر جا رہے ہوں‘ لیکن اتنی دیر میں ہم چیک پوسٹ پار کر چکے تھے۔

    لوگر افغانستان کے جنوب مشرق میں واقع ہے جہاں جانے کے لیے چمن حضوری اور جادئے میوند سے گزرنا ہوتا ہے۔

    لوگر کے دارالحکومت پل عالم پہنچنے پر ہم کلچر اور اطلاعات کے دفتر گئے۔ وہاں دیوار پر لگے پینا فلکس پر تاریخی شخصیات کی تصاویر بھی تھیں لیکن ایک تصویر پر سفید کاغذ تھا۔

  14. طالبان کے اقتدار میں آنے کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟, جیمز لینڈیل، سفارتی نامہ نگار

    کچھ مغربی ممالک کو یہ امید ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت پر اثر و رسوخ استعمال کیا جا سکے گا۔ ان ممالک کو یہ امید بھی ہے کہ پاکستان اس حوالے سے ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

    پاکستان کا افغانستان کے ساتھ منفرد نوعیت کے تعلقات ہیں۔ دونوں ممالک کی ایک دوسرے کے ساتھ 2570 کلو میٹر طویل سرحد ہے۔ دونوں ممالک کے مابین اہم کاروباری شراکت داری بھی ہیں۔ ان میں کئی ثقافتی، لسانی اور مذہبی روابط پائے جاتے ہیں۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے ایک بار دونوں ممالک کے بارے میں کہا تھا کہ یہ دو ایسے بھائیوں کی طرح ہیں جنھیں ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا ہے۔

    مگر کچھ ممالک جو اسلام آباد کے ساتھ اپنے تعلقات پر بحال کرنے کے منتظر ہیں ان میں اس حوالے سے منقسم رائے پائی جاتی ہے۔

    کچھ کے نزدیک پاکستان ’جہادی دہشتگردی‘ کے خلاف جنگ میں کوئی مضبوط اتحادی ثابت نہیں ہوا ہے۔ امریکہ سمیت کچھ دیگر ممالک طویل عرصے سے پاکستان پر یہ الزام عائد کرتے آئے ہیں کہ یہ ملک طالبان کی مدد کرتا ہے۔ تاہم پاکستان اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے۔

    ابھی مغربی ممالک یہ چاہتے ہیں کہ طالبان ان کے شہریوں کا افغانستان سے محفوط انخلا یقینی بنائے، انسانی بنیاد پر دی جانے والی امداد کے رستے کھول دے اور بہتر انداز میں نظام حکومت چلائے۔

  15. طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ، قومی مزاحمتی محاذ کی تردید

    طالبان نے افغانستان میں طالبان کے خلاف مزاحمت کے آخری گڑھ پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں طالبان کے ترجمان ذبیح الللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ ’اللہ کی مدد اور ہمارے لوگوں کے تعاون سے ملک میں مکمل سلامتی کی طرف تازہ ترین کوششوں کے نتائج برآمد ہوئے ہیں اور صوبہ پنجشیر امارت اسلامیہ کے مکمل کنٹرول میں آگیا ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ’صوبے میں موجود کچھ باغی شکست کھا گئے ہیں اور باقی پنجشیر کے مظلوم اور باعزت لوگوں کو آزاد کراتے ہوئے بھاگ گئے۔‘

    ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ’ہم پنجشیر کے لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے ساتھ کسی بھی طرح امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا، وہ سب ہمارے بھائی ہیں، ہم ایک ملک اور ایک مقصد کے لیے مل کر خدمت کریں گے۔‘

    دوسری جانب قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا ہے۔

    ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں قومی مزاحمتی اتحاد کا کہنا ہے کہ این آر ایف فورسز لڑائی جاری رکھنے کے لیے وادی بھر میں تمام سٹریٹجک پوزیشنوں پر موجود ہیں۔ ہم افغانستان کے لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ طالبان اور ان کے شراکت داروں کے خلاف جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انصاف اور آزادی حاصل نہیں ہو سکتی۔

    تاہم بی بی سی آزادانہ طور دونوں فریقین کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کر سکا۔

    سوشل میڈیا پر شئیر کی جانے والی تصاویر اور ویڈیوز میں طالبان جنگجوؤں کو پنجشیر کے گورنر ہاؤس (مقامِ ولایت) کے باہر سلفیاں لیتے اور امارت اسلامیہ کا سفید اور سیاہ جھنڈا لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    کلچرل کمیشن، امارت اسلامیہ افغانستان کے چیف احمد اللہ متقی نے بھی گورنر ہاؤس کے باہر کھڑے طالبان کی تصویر شئیر کی ہے۔

    پنجشیر میں طالبان اور ان سے برسرپیکار قومی مزاحمتی فوج کے مابین لڑائی میں تیزی آ گئی ہے اور اتوار کو ہونے والی جھڑپوں میں مزاحمتی محاذ کے دو اہم رہنما اور ایک اہم طالبان کمانڈر ہلاک ہوئِے ہیں۔

    قومی مزاحمتی فوج کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ این آر ایف کے ترجمان فہیم دشتی کے علاوہ جنرل عبدالودود زارا طالبان سے لڑائی میں مارے گئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق مارے جانے والے کمانڈر جنرل عبدالودود شمالی مزاحمتی فوج کے لیڈر احمد مسعود کے قریبی رشتہ دار بھی تھے۔

  16. طالبان پر خاتون پولیس اہلکار کو گھر میں گھس کر قتل کرنے کا الزام

    افغانستان کے صوبہ غور سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق دارالحکومت فیروز کوہ میں مبینہ طور پر طالبان نے ایک خاتون پولیس اہلکار کو اس کے گھر میں گھس کر گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔

    اس واقعے کے متعلق بانو نگار نامی خاتون کے رشتے داروں نے بی بی سی کو بتایا ہے جن کا دعویٰ ہے کہ وہ اس کے عینی شاہد ہیں۔

    یہ قتل افغانستان میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے مبینہ مظالم کی اطلاعات کے درمیان ہوا ہے۔

    بی بی سی نے طالبان حکام سے اس بارے میں بات کرنے کی کوشش کی تو ان کا کہنا تھا کہ ان کا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں اور وہ اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ ’ہمیں اس واقعے کا علم ہے اور میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ طالبان نے اس خاتون کو قتل نہیں کیا۔ ہماری تحقیقات جاری ہیں۔‘

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان نے پہلے ہی سابق حکومت کے لیے کام کرنے والے افراد کو معافی دینے کا اعلان کر دیا ہے اور ممکن ہے کہ نگار کا قتل ’ذاتی دشمنی یا کسی دیگر وجہ سے ہوا ہو۔‘

    اس واقعے کی تفصیلات ابھی تک واضح نہیں ہیں کیونکہ فیروزکوہ میں کچھ لوگوں کو اس بات کا خوف ہے کہ اگر انھوں نے اس بارے میں بات کی تو ان کے خلاف انتقامی کارروائی ہو سکتی ہے۔

  17. طالبان کے زیرِ کنٹرول ہرات میں زندگی اب کیسی ہے؟

    ہرات آبادی کے لحاظ سے افغانستان کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ بی بی سی نے ہرات کے شہریوں سے پوچھا کہ طالبان کے زیرِ کنٹرول اس شہر میں اب زندگی کیسی ہے؟

  18. افغان جامعات میں مرد اور خواتین طالبعلموں کو الگ الگ بٹھانے کا حکم

    افغانستان پر طالبان کے قبضے کے نتیجے میں آنے والے تعطل کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں تعلیمی اداروں میں تدریس کا عمل ایک مرتبہ پھر شروع ہو گیا ہے تاہم طالبان نے ملک کی جامعات میں مردوں اور خواتین کو الگ الگ تعلیم دینے کے حوالے سے قواعد و ضوابط جاری کیے ہیں۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کو سامنے آنے والی ایک دستاویز میں کہا گیا ہے کہ جامعات میں مرد اور خواتین طالبعلموں کو ایک ساتھ نہ بیٹھنے دیا جائے، انھیں الگ الگ بٹھایا جائے اور ضروری ہو تو اس تقسیم کے لیے پردہ استعمال کیا جائے۔

    یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہترین صورتحال تو یہ ہونی چاہیے کہ خواتین کے لیے خاتون اساتذہ ہوں تاہم اگر ایسا ممکن نہ ہو تو ’اچھے کردار کے حامل بزرگ مردوں‘ کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

    طالبات کو اس بات کا بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ عبایہ، چادر اور حجاب یا پھر نقاب کا لازمی استعمال کریں۔

  19. امریکی قانون ساز کا طالبان پر افغان اور امریکی شہریوں کو افغانستان سے نکلنے سے روکنے کا الزام

    ایک امریکی قانون ساز نے طالبان پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ افغانوں اور امریکیوں کو مزار شریف کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے ذریعے افغانستان سے نکلنے سے روک رہے ہیں۔

    امریکہ کی ریپبلکن پارٹی کے رکن مائیکل میک کول نے اتوار کو کہا ہے کہ ’گذشتہ دو دن سے‘ جہاز ہوائی اڈے سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ایک این جی او نے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے پاس کچھ ایسے لوگ موجود ہیں جو کسی فلائٹ میں سوار ہونے کے منتظر ہیں۔

    تاہم طالبان کی جانب سے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے انھیں پروپیگنڈا قرار دیا گیا ہے۔

    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ’یہ سچ نہیں۔ ہمارے مجاہدین کو عام افغان شہریوں سے کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ پروپیگنڈا ہے اور ہم اس کو مسترد کرتے ہیں۔‘

    ریپبلکن پارٹی کے رکن مائیکل میک کول نے فاکس نیوز کو بتایا ہے کہ وہاں چھ طیارے ہیں جو امریکی شہریوں اور افغان ترجمانوں کے ساتھ ایئرپورٹ پر انتظار کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’محکمہ خارجہ نے ان پروازوں کو کلیئر کر دیا ہے اور طالبان انھیں ہوائی اڈے سے باہر نہیں جانے دے رہے۔‘

    مائیکل میک کول نے مزید کہا ’ہم وجہ جانتے ہیں کیونکہ طالبان اس کے بدلے میں کچھ چاہتے ہیں۔‘