لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

طالبان نے کہا ہے کہ تمام غیر ملکی اور اہل افغان شہری امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد بھی افغانستان چھوڑ سکیں گے۔ دوسری جانب برطانوی وزیرِ خارجہ آج جی سیون اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس میں شریک ہوں گے جس میں افغانستان کے متعلق بات کی جائے گی۔

لائیو کوریج

  1. ’گاؤں کے لوگ طالبان سے خوش نہیں تھے، پھر بھی جھوٹ موٹ تعریفیں کرتے‘

  2. طالبان قیادت کے اہم رہنما کون ہیں؟

  3. طالبان کے ہاتھ جنگی طیارے، گاڑیاں تو لگ گئیں مگر کیا وہ انھیں استعمال کر سکتے ہیں؟

  4. طالبان کا پنجشیر پر مکمل قبضے کا دعویٰ، قومی مزاحمتی محاذ نے طالبان کے دعوے کو ’جھوٹ‘ قرار دیا

  5. لوگوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت ہوگی، طالبان کی سو سے زائد ممالک کو یقین دہانی

    طالبان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانیہ سمیت دنیا کے سو کے قریب دیگر ممالک نے کہا ہے کہ طالبان نے اُنھیں یقین دہانی کروائی ہے کہ غیر ملکی شہریوں اور اہل افغان شہریوں کو 31 اگست کے بعد بھی افغانستان چھوڑنے کی اجازت دی جائے گی۔

    خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ معاہدہ منگل کے دن کے بعد بھی قائم رہے گا جب امریکہ اپنے آخری فوجیوں کو بھی افغانستان سے نکال لے گا۔

    دوسری جانب خبر رساں ادارے پی اے نیوز کے مطابق برطانوی سیکریٹری خارجہ جی سیون ممالک اور نیٹو، قطر اور ترکی کے حکام کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔

    اس اجلاس میں وہ متوقع طور پر برطانیہ کا مؤقف پیش کریں گے کہ طالبان کو انسانی حقوق سے متعلق اپنے وعدوں پر عمل پیرا رہنا ہو گا۔

    سفارتی ذرائع نے پی اے نیوز کو بتایا ہے کہ اس اجلاس میں ڈومینیک راب اس حوالے سے بات کریں گے کہ طالبان کے متعلق عالمی مؤقف کیسے عملیت پسندانہ اور طالبان کے اقدامات پر منحصر ہونا چاہیے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل برطانوی حکومت اصرار کر چکی ہے کہ افغانستان میں طالبان سے کیسے پیش آنا چاہیے، اس حوالے سے فیصلہ بین الاقوامی شراکت داروں سے اتفاقِ رائے کے بعد لیا جائے گا۔

  6. لوگوں کے انخلا کے معاملے پر طالبان سے بات چیت جاری ہے، میکخواں

    میکخؤاں

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فرانس کے صدر ایمانوئیل میکخواں نے کہا ہے کہ افغانستان سے لوگوں کے انخلا کے معاملے پر طالبان سے بات چیت جاری ہے، تاہم یہ فرانس کی جانب سے طالبان کو ملک کا نیا حکمران تسلیم کرنے کا اشارہ نہیں ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اُنھوں نے کہا کہ طالبان کو انسانی حقوق کی پاسداری کرنی ہو گی اور دہشتگردی کی مذمت کرنی ہو گی۔

    واضح رہے کہ گذشتہ چند روز میں فرانس سمیت کئی مغربی ممالک نے انکشاف کیا ہے کہ وہ افغانستان سے غیر ملکیوں اور خطرے کے شکار افغانوں کو نکالنے کے معاملے پر گفتگو کر رہے ہیں۔

    میکخواں نے عراق کے دورے پر ٹی ایف ون چینل سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہمیں افغانستان سے انخلا کرنا ہے۔ کنٹرول طالبان کے پاس ہے۔ عملی نکتہ نظر سے ہمیں یہ بات چیت کرنی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اُنھیں تسلیم کیا جائے گا۔‘

    صدر میکخواں نے کہا کہ طالبان کو انسانی قانون کا احترام کرتے ہوئے پناہ کی شرائط پر پورے اترنے والے افراد کو جانے دینا ہو گا اور تمام دہشتگرد تحریکوں کے خلاف ’نہایت واضح مؤقف‘ اپنانا ہوگا۔

    فرانس نے افغانستان سے تین ہزار لوگوں کو نکال کر اپنا انخلا کا مشن مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم صدر میکخواں کے مطابق اب بھی سینکڑوں یا ہزاروں لوگ ایسے ہو سکتے ہیں جنھیں نکالا جانا ضروری ہے۔

  7. طالبان: یونیورسٹیوں میں مردوں اور خواتین کی کلاسز الگ ہوں گی

    طالبان: یونیورسٹیوں میں مردوں اور خواتین کی کلاسز الگ ہوں گی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    طالبان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں نوجوان خواتین کو افغانستان کی یونیورسٹیوں میں اسی صورت تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہوگی اگر انھیں مرد طالب علموں سے الگ پڑھایا جائے گا۔

    مردوں کے ایک اجتماع سے خطاب میں طالبان کی جانب سے تعینات کردہ اعلیٰ تعلیم کی وزارت کے نئے سربراہ عبدالباقی حقانی کا کہنا تھا کہ طالبان چاہتے ہیں کہ تدریس اور نصاب اسلامی اقدار سے مطابقت رکھتے ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’مستقبل کے نظام میں، لڑکیوں کو تعلیم کا حق ہوگا لیکن وہ لڑکوں کے ساتھ ایک ہی کلاس روم میں تعلیم حاصل نہیں کرسکیں گی۔‘

    کچھ افغانوں نے اس خبر پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ کئی نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے یہ ممکن نہیں ہوگا کہ وہ معمر مرد یا خواتین لیکچرر رکھ سکیں تاکہ خواتین کے لیے بھی تعلیم کی سہولیات یقینی بنائی جائیں۔

    دریں اثنا ایک طالبان اہلکار نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مسلح جنگجو گروہ کے امیر ملا ہیبت اللہ اخونزادہ قندھار پہنچ چکے ہیں اور جلد وہ لوگوں کے سامنے آئیں گے۔

  8. اقوام متحدہ کا مغرب سے ’افغانستان کی حمایت جاری رکھنے‘ کا مطالبہ

    اقوام متحدہ کا مغرب سے ’افغانستان کی حمایت جاری رکھنے‘ کا مطالبہ

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اقوام متحدہ نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’افغانستان کی حمایت جاری رکھیں۔‘

    فرانس اور برطانیہ کی جانب سے اپنے شہریوں کے انخلا کی تکمیل کے بعد اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ’بیرونی دنیا‘ افغانستان میں انسانی ہمدردی کی کوششیں کے لیے حمایت جاری رکھے۔

    اقوام متحدہ کے کمشنر برائے انسانی حقوق روپرٹ کولویل کا کہنا ہے کہ ’فی الحال یہاں انسانی حقوق کی صورتحال کافی سنگین ہے اور یہ مزید خراب ہوسکتی ہے۔‘

    ان کے مطابق افغانستان میں انفراسٹرکچر (عمارتوں) کی بڑی سطح پر تباہی ہوئی ہے جس کا مطلب ہے کہ موسم سرما سے قبل ملک میں خوراک و ادویات کی فراہمی بڑھانے کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’باہری دنیا کو قدم بڑھانا ہوگا اور افغانستان کے منظرنامے میں رہنا ہوگا۔‘

  9. کیا ترکی کابل ایئرپورٹ چلائے گا؟

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    ترک صدر طیب اردوغان کا کہنا ہے کہ طالبان نے ترکی سے کابل ایئرپورٹ چلانے کی درخواست کی ہے مگر اس دوران سکیورٹی کا کنٹرول ان کے پاس رہنے کی شرط رکھی گئی ہے۔

    ترک خبر رساں ادارے انادولو میں شائع ہونے والے ان کے بیانات کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ ’ایئرپورٹ کے مسئلے پر طالبان کیا کہتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں سکیورٹی دو لیکن آپ اسے (ایئرپورٹ کو) چلائیں۔‘

    ’یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم آپ کو سکیورٹی کا کنٹرول دے دیں؟ اگر ہم سکیورٹی کا کنٹرول آپ کو دیں گے تو ہم دنیا کو کیسے سمجھائیں گے اگر وہاں ایک اور خونریزی ہوتی ہے؟ یہ آسان کام نہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ صورتحال قابو میں آنے کے بعد ترکی یہ فیصلہ کرے گا کہ آیا وہ کابل ایئرپورٹ کو چلائے گا یا نہیں۔

    تاہم بدھ سے اس بات کے بہت کم امکانات نظر آرہے ہیں کہ ترکی طالبان کی شرائط مان لے گا۔ انھوں نے بدھ کو افغانستان سے انتظامی امور پر تعینات اپنے 500 فوجیوں کے انخلا کا عمل شروع کر دیا تھا۔

  10. ’افغانستان میں موجود دہشتگردوں نے سرحد پار پاکستانی فوج پر فائرنگ کی‘, آئی ایس پی آر کا بیان

    پاکستان، افغانستان، سرحد

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغانستان میں موجود دہشت گردوں نے ضلع باجوڑ میں ان کی چوکی پر فائرنگ کی جس کے بعد پاکستانی فوج نے جوابی فائرنگ بھی کی۔

    اس بیان میں کہا گیا ہے کہ ’انٹیلیجنس رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج کی جوابی فائرنگ سے دو سے تین دہشت گرد ہلاک اور تین سے چار زخمی ہوئے۔‘

    آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں مردان کے رہائشی 28 سالہ سپاہی جمال اور چترال کے رہائشی 21 سالہ سپاہی ایاز ہلاک ہوگئے۔

    بیان میں کہا گیا کہ ’پاکستان اپنے خلاف سرگرمیوں کے لیے دہشت گردوں کی جانب سے افغان سرزمین کے استعمال کی شدید مذمت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ افغانستان میں موجودہ اور مستقبل کا سیٹ اَپ پاکستان کے خلاف اس طرح کی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دے گا۔‘

    تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات موجود نہیں کہ ان مبینہ دہشتگردوں کا تعلق کس گروہ سے تھا۔

  11. امریکہ افغانستان میں ’مزید فوجی کارروائیاں کرے گا‘

    جیک سلوون

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    امریکہ میں قومی سلامتی کے مشیر جیک سلوون نے کہا ہے کہ جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر حملے کے بعد امریکہ افغانستان میں مزید فوجی کارروائیاں کرے گا۔ اس حملے میں قریب 170 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں امریکی فوجی بھی شامل تھے۔

    انھوں نے سی بی ایس کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’صدر (جو بائیڈن) افغانستان میں ایک نئی جنگ شروع کرنا نہیں چاہتے۔‘

    ’اس کے باوجود وہ اپنے کمانڈروں سے بات کریں گے کہ ان افراد کے خلاف کارروائی کی جائے جنھوں نے کابل ایئرپورٹ پر ہمارے فوجیوں پر حملہ کیا۔ اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ دولت اسلامیہ خراسان کو نقصان پہنچنے جس نے یہ حملہ کیا۔‘

    ’جی ہاں، ہم (بذریعہ ڈرون) مزید فوجی کارروائیاں کریں گے جیسے ہم نے دولت اسلامیہ خراسان کے منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں کے خلاف کی۔ اور ہاں، ہم ان کے خلاف آپریشنز پر بھی غور کر رہے ہیں تاکہ انھیں جنگ کے میدان سے دور کیا جاسکے۔‘

    دولت اسلامیہ خراسان اس جہادی تنظیم کا وہ گروہ ہے جو افغانستان میں کارروائیاں کرتا ہے۔ اس نے کابل ایئرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

    جیک سلوون نے کہا ہے کہ حکام نے امریکہ میں حملوں کے ممکنہ خطرات پر ’بہت قریب سے نظر رکھی ہوئی ہے۔‘

    ’اب تک انٹیلیجنس کمیونٹی نے اپنے جائزہ میں بتایا ہے کہ افغانستان میں دہشتگرد گروہ بیرون ملک حملوں کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ لیکن یہ ممکن ہے کہ وہ یہ صلاحیت پیدا کر لیں۔‘

  12. کابل ایئرپورٹ حملہ: بائیڈن ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کو خراج تحسین پیش کریں گے

    بائیڈن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی صدر جو بائیڈن ڈیلاویئر میں ڈوور ایئر فورس بیس روانہ ہوئے ہیں جہاں وہ ان 13 امریکی فوجیوں کو خراج تحسین پیش کریں گے جو کابل ایئرپورٹ پر خودکش حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

    اس حملے میں قریب 170 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثر افراد افغان شہری تھے۔ دولت اسلامیہ خراسان نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

    امریکی صدر کے شیڈول کے مطابق وہ اور ان کی اہلیہ جِل بائیڈن ’ان فوجیوں کے خاندانوں سے ملیں گے جنھوں نے کابل میں امریکہ، اس کے اتحادیوں اور افغانوں کو بچانے کی خاطر اپنی زندگیاں گنوا دیں۔‘

    طالبان کی جانب سے انخلا کے لیے 31 اگست کی ڈیڈ لائن سے قبل غیر ملکی افواج کی واپسی کا عمل جاری ہے۔

    کابل ایئرپورٹ پر حملے کے بعد بائیڈن نے جوابی کارروائی میں ایک ڈرون حملے کا حکم دیا تھا۔

  13. امریکہ نے کابل میں ایک خودکش بمبار کے خلاف فوجی کارروائی کی: امریکی اہلکار

    امریکہ نے کابل میں خودکش بمبار کے خلاف فوجی کارروائی کی: امریکی اہلکار

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    اتوار کو امریکہ کی جانب سے افغانستان میں دولت اسلامیہ خراسان کے خلاف ایک فوجی کارروائی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس آپریشن میں ڈرون طیارے کے ذریعے کابل میں ایک میزائل لانچ کیا گیا تھا جس میں کار میں موجود ایک خودکش بمبار کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے مطابق یہ شخص کابل ایئرپورٹ پر حملہ کرنے والا تھا۔

    سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے ایک امریکی فوجی اہلکار نے کہا کہ ’ہمیں یقین ہے ہم نے اسی ہدف کو نشانہ بنایا جس کا ہم تعاقب کر رہے تھے۔‘

    اس کا کہنا تھا کہ ’ابتدائی معلومات کے مطابق کوئی شہری زخمی نہیں ہوا۔ کار سے بعد میں ہونے والے دھماکوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد موجود تھا۔‘

    خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ نے اس فضائی حملے میں کار میں بیٹھے ایک خودکش بمبار کو نشانہ بنایا ہے جو کابل ایئرپورٹ پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔

    یہ اطلاعات ایک ایسے وقت میں موصول ہوئی ہیں کہ جب عینی شاہدین کے مطابق کابل ایئرپورٹ کے قریب راکٹ حملہ کیا گیا جس کی اونچی آواز آئی اور عمارت سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا ان دونوں واقعات کا آپس میں کوئی تعلق ہے۔

    جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر حملے میں قریب 170 افراد ہلاک ہوئے جن میں 13 امریکی فوجی شامل تھے۔

  14. ’قریب 300 امریکی شہری اب بھی افغانستان میں ہیں‘

    انٹونی بلنکن

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ قریب 300 امریکی شہری اب بھی افغانستان میں موجود ہیں جنھیں وطن واپسی کا انتظار ہے۔

    نیوز چینل اے بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اب 300 یا اس سے کم امریکیوں پر پہنچ گئے ہیں جو گراؤنڈ پر ہیں اور اس وقت میں بھی کام کر رہے ہیں۔ تاکہ باقیوں کی واپسی ممکن ہوسکے۔‘

    بلنکن کا کہنا ہے کہ کچھ امریکیوں نے فیصلہ کیا ہے کہ طالبان کی 31 اگست کی ڈیڈلائن کے بعد بھی وہ وہاں موجود رہیں گے لیکن ’وہ افغانستان میں پھنسنے والے نہیں ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے پاس ان کی واپسی کا بھی راستہ موجود ہے۔

  15. کابل میں امریکہ کی فوجی کارروائی

    خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے دو امریکی اہلکاروں نے کہا ہے کہ امریکہ نے اتوار کو کابل میں فوجی کارروائی کی ہے۔

    نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ان اہلکاروں نے بتایا کہ اس کارروائی میں دولت اسلامیہ خراسان کے مبینہ جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔

    روئٹرز کے مطابق امریکی فورسز نے اس فوجی کارروائی میں ایک ممکنہ خودکش بمبار کو نشانہ بنایا جو کار کے ذریعے کابل ایئرپورٹ پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ابتدائی معلومات کا حوالہ دے رہے ہیں، اور متنبہ کیا ہے کہ یہ معلومات بدل بھی سکتی ہے۔

    خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق طالبان کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ نے اس فضائی حملے میں کار میں بیٹھے ایک خودکش بمبار کو نشانہ بنایا ہے جو کابل ایئرپورٹ پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔

    اس امریکی آپریشن سے متعلق مزید معلومات موجود نہیں ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا اس کا تعلق ایئرپورٹ کے قریب ہونے والے راکٹ حملے سے ہے۔

  16. اُن افراد کی زندگی کیسی ہوتی ہے جو برطانیہ میں پناہ کی تلاش میں آتے ہیں؟

  17. ویڈیو: کابل میں دھماکے کے بعد کا منظر

    ٹوئٹر پر شیئر کی جانے والی ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کابل ایئرپورٹ کے قریب دھماکے کے بعد کی صورتحال کیا ہے۔

    یہ ویڈیو صحافی شفیع کریمی نے پوسٹ کی ہے۔

    ابتدائی طور پر بی بی سی آزادانہ طور پر اس ویڈیو کی تصدیق نہیں کرسکا۔ لیکن مزید تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. بریکنگ, کابل ایئرپورٹ کے قریب راکٹ حملے کی اطلاعات

    کابل سے متعدد اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ایئرپورٹ کے قریب ایک دھماکے کی اونچی آواز سنی گئی ہے۔

    سوشل میڈیا پر موجود کچھ تصاویر میں عمارتوں کے اوپر سیاہ دھواں اٹھتا دیکھا جاسکتا ہے۔

    وزارت صحت کے ایک اہلکار نے تصدیق کی ہے کہ علاقے میں دھماکہ ہوا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ دھماکے کی وجہ کیا ہے اور بی بی سی مزید تفصیلات ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل کی سابقہ حکومت کے ایک سکیورٹی اہلکار کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات سے پتا چلا کہ ’راکٹ ایک گھر پر گرا ہے۔‘

    وزارت صحت کے اہلکار نے بھی بی بی سی کو یہی بتایا ہے کہ ایسا لگتا ہے جیسے ایئرپورٹ کے قریب ایک گھر پر راکٹ آگرا ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ راکٹ ایئرپورٹ پر نہیں گرا۔

    خیال رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے متنبہ کیا تھا کہ جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے کی طرح مزید حملوں کا خطرہ موجود ہے۔

    جمعرات کو کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکے میں کم از کم 170 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں افغان شہریوں کے علاوہ امریکی فوجی بھی شامل تھے۔

  19. ’خدا کی قسم ہم طالبان کے ساتھ ہیں‘: وسعت اللہ خان کا کالم