عمران خان کا چیف جسٹس سے ’جوڈیشل کمپلیکس میں قتل کی سازش‘ پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ
سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس کو لکھے خط میں ’قتل کی سازش، بربریت اور ریاستی دہشتگردی‘ کے واقعات کی جامع تحقیقات کی استدعا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہر عدالتی پیشی پر میں اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہوں۔‘
لائیو کوریج
بریکنگ, پیمرا نے عمران خان کی کوریج پر پابندی عائد کر دی
،تصویر کا ذریعہPEMRA
پیمرا جانب سے ایک نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ہے جس کے تحت تمام ٹی وی چینلز پر عمران خان کی تمام کوریج براہ راست نشر کرنے پرمکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔
نوٹیفیکیشن کے مطابق جیوڈیشل کمپلیکس میں پیشی سمیت عمران خان کی ریلی اور تقاریر ٹی وی چینلز پر براہ راست نشر نہیں کی جا سکیں گی
’بشری بیگم زمان پارک رہائش گاہ میں تنہا ہیں‘
عمران خان نے مزید کہا ہے کہ زمان پارک میں ان کی رہائش گاہ پر پنجاب پولیس نے آپریشن شروع کر رکھا ہے جہاں ’بشریٰ بیگم تنہا ہیں۔ وہ کس قانون کے تحت یہ کر رہے ہیں؟‘
ان کا کہنا ہے کہ ’لندن پلان کے تحت مفرور نواز شریف کو ایک تعیناتی پر رضامندی کے بدلے میں اقتدار دینے کا وعدہ کیا گیا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, عمران خان کے گھر کے باہر پولیس کی شیلنگ، رہائش گاہ کا دروازہ توڑ دیا گیا
زمان پارک آپریشن کے دوران پولیس نے تجاوزات ہٹاتے ہوئے عمران خان کی رہائش گاہ کا دروازہ توڑ دیا ہے اور شیلنگ کا سلسلہ جاری ہے۔
نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق ’اس وقت پولیس عمران خان کےگھر کا گیٹ پولیس کی جانب سے کرین کے ذریعے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پولیس نے مزاحمت سامنے آنے اور پتھراو کیے جانے پر شیلنگ بھی شروع کر دی ہے۔ واضح رہے کہ پتھراو کے نتیجے میں ایک پولیس والا زخمی بھی ہو گیا ہے۔
بریکنگ, عمران خان کے گھر کے اندر سے پولیس پر پتھراؤ
نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق اس زمان پارک پر واقع عمران خان کی رہائش گاہ کے اندر سے پولیس پر پتھراو شروع کر دیا گیا ہے۔
اس پتھراو کے نتیجے میں ایک پولیس والا زخمی بھی ہو گیا ہے۔
پی ڈی ایم حکومت مجھے جیل بھیجنا چاہتی ہے تاکہ میں انتخابی مہم کی قیادت نہ کر سکوں: عمران خان
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ ’تمام کیسز میں میری ضمانتوں کے باوجود پی ڈی ایم حکومت مجھے گرفتار کرنا چاہتی ہے۔‘
ٹوئٹر پر پیغام میں وہ کہتے ہیں کہ اس کے باوجود وہ اسلام آباد آ رہے ہیں اور قانون کی بالادستی میں یقین رکھتے ہیں۔ ’مگر اب ان چوروں کے ارادے ہر کسی کے لیے واضح ہوجانے چاہییں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ لاہور میں پولیس کے زمان پارک آپریشن کا مقصد ’عدالت میں میری پیشی کو یقینی بنانا نہیں بلکہ مجھے جیل میں ڈالنا تھا تاکہ میں انتخابی مہم کی قیادت نہ کر سکوں۔‘
ایک ویڈیو پیغام میں عمران خان نے دعویٰ کیا کہ یہ لندن پلان کا حصہ ہے اور نواز شریف کے حکم پر یہ سب ہو رہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اس سب کے باوجود کو آج عدالت میں پیش ہوں گے۔ ’ان کی بدنیتی بے نقاب ہوگئی ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ مجھے گرفتار کرنے لگے ہیں، اس کے باوجود میں اسلام آباد جا رہا ہوں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
بریکنگ, پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں کا آپریشن زمان پارک لاہور میں جاری
پنجاب پولیس نے پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاری کے لیے زمان پارک میں گرفتاریوں کا آپریشن شروع کر دیا ہے۔
پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد اس وقت بھی زمان پارک میں موجود ہے اور انھوں نے وہاں کیمپ لگائے ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ آئی جی پنجاب اور نگران وزیر اطلاعات نے دعوی کیا تھا کہ زمان پارک میں احتجاج میں موجود کچھ کارکنان ایسے بھی ہیں جن کا تعلق مبینہ طورپر کلعدم تنطیموں سے ہے۔
اس تناطر میں انھوں نے عدالت سےاستدعا کی تھی کہ انھیں زمان پارک تک رسائی دی جا ئے تاکہ وہ ان کارکنان تک پہنچ سکیں۔
بریکنگ, زمان پارک پر پولیس کا آپریشن شروع
عمران خان کی لاہور میں زمان پارک پر واقع رہائش گاہ کے اطراف پولیس نے گرینڈ آپریشن کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق’اس وقت زمان پارک کے اطراف کنٹینرز لگا دیے گئے ہیں جبکہ پولیس کی بھاری نفری زمان پاک میں موجود ہے۔‘
ترہب اصغر کے مطابق ’پولیس کی قیدی وین اور واٹر کینن کنال روڈ پر پہنچا دی گئی ہیں جبکہ پنجاب پولیس کی جانب سے اعلان کیا جا رہا ہے کہ وہ کسی پر وار کینن نکا استعمال نہیں کریں گے بلکہ وہ صرف گرفتاریوں کے لیے وہاں آئے ہیں۔‘
پولیس کے مطابق زمان پارک آپریشن ان کارکنان کی گرفتاری کے لیے کیا جا رہا ہے جن کے خلاف مختلف کیسز میں اس وقت مقدمار درج ہیں۔
،تصویر کا ذریعہbbc
بریکنگ, حادثے کے باعث کچھ کارکنان کلر کہار رُک گئے
،تصویر کا ذریعہpti
عمران خان کے قافلے میں موجود چند گاڑیوں کا موٹروے پر کلر کہار کے قریب حادثہ ہوا ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق عمران خان کے قافلے میں موجود تین گاڑیاں کلر کہار کے قریب ٹکرا گئیں اور اس کے نتیجے میں ایک گاڑی الٹ گئی۔
حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی میں شامل افراد کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔
،تصویر کا ذریعہPTI
حادثے کے بعد عمران خان نے زخمی کارکنوں کی وجہ سے قافلہ روک دیا اور اس کے کچھ دیر بعد روانہ ہوگئے۔
جوڈیشل کمپلیکس کے اردگرد سکیورٹی کے سخت انتظامات، پولیس کو ’الرٹ رہنے کی ہدایت‘
عمران خان کی پیشی کے سلسلے میں اسلام آباد پولیس کا پیغام: ’جوڈیشل کمپلیکس G-11 کے اطراف میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باعث ٹریفک کی آمد و رفت میں تعطل پیدا ہونے سے شہریوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ برائے مہربانی متبادل راستہ اختیار کریں۔ شہریوں سے گزارش ہے کہ لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کے پیشِ نظر غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں۔‘
دریں اثنا آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خان نے جوڈیشل کمپلیکس کا دورہ کیا اور ایک بیان کے تحت ’تمام تر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور پولیس افسران کو مزید الرٹ رہنے، انتظامات کو فول پروف رکھنے کی ہدایات جاری کیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
ادھر تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ داخلی راستے بند ہونے کی وجہ سے ’وکلا کو داخلے سے روکا جا رہا ہے۔ اسلام آباد پولیس اس حکومت سے غیر قانونی احکامات لینے کو تیار ہے۔‘
خیال رہے کہ صرف ان لوگوں کو جوڈیشل کمپلیکس داخلے کی اجازت ہے جن کے نام اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ فہرست میں شامل ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
جیوڈیشل کمپلیکس جی الیون اسلام آباد کے اطراف کے مناظر
توشہ خانہ کیس میں فرد جرم کی کارروائی کے لیے طلب کیے جانے پرچیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اب سے کچھ دیر بعد جیوڈیشل کنپلیکس اسلام آباد میں پیش ہوں گے۔ اس موقع پر جیوڈیشل کمپلیکس کے اطراف سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
جیوڈیشل کمپلیکس کے احاطے میں اس وقت غیر متعلقہ افراد کا داخلہ منع ہے اور وہاں میڈیا کی بڑی تعداد بھی موجود ہے۔
اسلام آباد کے علاقے جی الیون، جہاں جیوڈیشل کمپلیکس واقع ہے، کو کئی مقامات پر کنٹینرز لگا کر بند کیا گیا ہے۔
اس موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار بھی جگہ جگہ تعینات ہیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری اعلامیےکے مطابق اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ ہے جبکہ عدالت کے احاطے یا قریب کسی بھی مسلح شخص کی موجودگی ممنوع قرار دی گئی ہے۔
عمران خان کی عدالت پیشی کے لیے چار ہزار پولیس اہلکار تعینات
اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی پیشی کے سلسلے میں اسلام آباد کیپیٹل پولیس، ایف سی اور پنجاب پولیس کے چار ہزار جوان اور افسران جوڈیشل کمپلیکس تعینات ہوں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
عمران خان کی توشہ خانہ مقدمے میں پیشی: عدالت میں داخلے کے لیے اہل افراد کی فہرست جاری
،تصویر کا ذریعہPTI
عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں پیشی کے سلسلے میں عدالت میں داخلے کے لیے اہل افراد کی فہرست جاری کر دی گئی ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق توشہ خانہ کیس کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں عمران خان اور الیکشن کمیشن کے وکلا اور تحریک انصاف کی سینیئر لیڈر شپ کو داخلے کی اجازت ہے۔
،تصویر کا ذریعہIslamabad admin
عمران خان کے وکلا کی ٹیم میں خواجہ حارث، بیرسٹر گوہر اور شیر افضل مروت شامل ہیں۔
اعلامیہ کے مطابق عمران خان کے ہمراہ تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر، شبلی فراز، اسد قیصر،عمار کیانی، پرویز خٹک، محمود خان کو کمرہ عدالت ساتھ جانے کی اجازت ہے۔
عمران خان کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس کے اطراف سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور صرف متعلقہ اور محدود افراد کو جوڈیشل کمپلیکس داخلے کی اجازت ہے۔
اسلام آباد کے سیکٹر جی الیون میں واقع جیوڈیشل کمپلیکس کے اطراف کنٹینر لگا کے بند کر دیا گیا ہے تاکہ غیر متعلقہ افراد کا داخلہ روکا جا سکے۔
زمان پارک کے باہر صورتحال
تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان آج عدالتی پیشی کے لیے زمان پارک لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو رہے ہیں ۔ اس وقت زمان پارک کے باہر کی صورت حال سے آگاہ کر رہی ہیں ہماری نامہ نگار ترہب اصغر اس فیس بک لائیو میں۔
بریکنگ, عمران خان عدالت میں پیشی کے لیے لاہور سے اسلام آباد روانہ
،تصویر کا ذریعہPTI
چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان توشہ خانہ کیس میں پیشی کے لیے لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔
عمران خان قافلے کی صورت میں لاہور سے روانہ ہوئے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہpti
ایڈیشنل جج ظفر اقبال نے عمران خان کو آج فرد جرم عائد کرنے کے لیے طلب کر رکھا ہے۔
عمران خان کی رہائش گاہ پر بلٹ پروف گاڑی بھی پہنچا دی گئی: تحریک انصاف
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی اسلام آباد روانگی کے لیے ان کے پرسنل سیکیورٹی سٹاف نے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
تحریک انصاف کے مطابق ’عمران خان کی رہائش گاہ پر بلٹ پروف گاڑی بھی پہنچ گئی ہے جبکہ عمران خان رہائش گاہ کے گیٹ نمبر دو پر لگی رکاوٹ کو بھی لفٹر کے ذریعے ہٹا دیا گیا ہے۔‘
تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کارکنان کی جانب سے عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر ان کے حق میں نعرے بازی بھی کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب گلگت بلتستان پولیس کے کمانڈوز زمان پارک پہنچ گئے ہیں۔پی ٹی آئی کے مطابق یہ پولیس کمانڈوز عمران خان کی سیکورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔
عمران خان کے لیے پولیس کمانڈوز اور جیمر گاڑی وزیر اعلی گلگت بلتستان کے ہمراہ عمران خان کی لاہور میں رہائش گاہ پر پہنچی ہے۔
عمران خان کی مذاکرات کی پیشکش، کیا سیاسی بحران سے نکلنے کے لیے بات چیت ممکن؟
عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت آج: ’عمران خان کچھ دیر میں لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے‘
،تصویر کا ذریعہPTI
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت آج ہوگی جس میں عدالت کے حکم پر عمران خان عدالت میں پیش ہوں گے۔
توشہ خانہ کیس میں فرد جرم کی کارروائی کے لیے طلبی پر چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان آج اسلام آباد آئیں گے جہاں وہ ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں پیش ہوں گے۔
تحریک انصاف کے مطابق عمران خان قافلے کی صورت میں لاہور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوں گے۔
تحریک انصاف نے اعلان کیا تھا کہ عمران خان صبح ساڑھے سات بجے اسلام آباد کے لیے زمان پارک لاہور سے روانہ ہوں گے۔
پی ٹی آئی رہنما فیصل جاوید نے اپنی ٹویٹ میں اعلان کیا ہے ’اب سے کچھ دیر بعد اپنے لیڈر عمران خان کے ساتھ زمان پارک لاہور سے اسلام آباد روانہ ہوں گے-عمران خان پاکستان کی ضرورت ہیں ان کی جان کو سنگین خطرات لاحق ہیں- اللّٰہ تعالیٰ عمران خان کو سلامت رکھے ۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
دوسری جانب اسلام آباد میں دفعہ 144 کا نفاذ کر دیا گیا ہے۔ گزشتہ روز اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری اعلامیہ جاری کیا تھا جس میں پرائیویٹ کمپنیوں، سکیورٹی گارڈز یا کسی شخص کے اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی کا اعلان کیا گیا تھا۔
اعلامیہ میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ گاڑی چلاتے وقت اپنی گاڑی کا ملکیتی ثبوت ساتھ رکھیں۔
چیف کمشنر اسلام آباد کے حکم پر توشہ خانہ کیس کی سماعت ضلعی کچہری سے جوڈیشل کمپلیکس منتقل کردی گئی ہے ۔
کوہستان میں آتشزدگی سے ایک ہی خاندان کے 10 لوگ ہلاک: ’میری والدہ بچوں کو بچانے کے لیے اندر گئیں مگر خود بھی نہ بچ سکیں‘
توشہ خانہ کیس کی سماعت کچہری سے جوڈیشل کمپلیکس منتقل
عمران
خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت السام آباد کی سیسشن عدالت سے جوڈیشل کمپلیکس
منتقل کردی گئی۔
پہلے
یہ سماعت ایف ایٹ کچہری میں ہونا تھی تاہم پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے عمران
خان کو در پیش سکیورٹی خطرات کے پیش نظر خدشات کا اظہار یا جاتا تھا۔ اور اسی کو
عمران خان کے عدالت میں پیش ہونے سے معذوری کی وجہ قرار دیا گیا تھا۔
اب
عمران خان کو سنیچر کےروز توشہ خانہ کیس کے لیے جوڈیشل کمپلیکس جی11 الیون میں پیش ہونا
ہے۔
چیف
کمشنر نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت جوڈیشل کمپلیکس منتقل کی ہے۔
یہ
سماعت کورٹ نمبر ایک جوڈیشل کمپلیکس میں ہوگی۔
اسلام آباد میں دفعہ 144 نافد العمل: پرائیویٹ کمپنیوں، سکیورٹی گارڈز یا کسی بھی شخص کے اسلحہ ساتھ رکھنے پر پابندی
ترجمان
اسلام آباد کیپیٹل پولیس کے مطابق اسلام آباد میں دفعہ 144 نافذ العمل ہے۔
پولیس
کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق پرائیویٹ کمپنیوں، سکیورٹی گارڈز یا کسی شخص کے
اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی ہے۔
لوگوں
سے کہا گیا ہے کہ گاڑی چلاتے وقت اپنی گاڑی کا ملکیتی ثبوت ساتھ رکھیں۔
شہر کے
لیے ٹریفک پلان جلد ہی جاری کردیا گیا ہے۔
پولیس
نے شہریوں کو جی الیون ون اور جی ٹین ون کی طرف غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے
کی ہدایت کی ہے۔
پولیس نے کہا ہے کہ ’شہری
شناختی دستاویزات ہمراہ رکھیں اور چیکنگ کے دوران پولیس کے ساتھ تعاون کریں۔ شہری
کسی بھی مشکوک سرگرمی کے متعلق اطلاع فوری پکار 15 پر دیں۔‘