عمران خان کا چیف جسٹس سے ’جوڈیشل کمپلیکس میں قتل کی سازش‘ پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ
سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس کو لکھے خط میں ’قتل کی سازش، بربریت اور ریاستی دہشتگردی‘ کے واقعات کی جامع تحقیقات کی استدعا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہر عدالتی پیشی پر میں اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہوں۔‘
لائیو کوریج
پی ٹی آئی کے کارکنوں کی عمران خان کی گرفتاری کے لیے آنے والے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ
عمران خان کی گرفتاری کے لیے اسلام آباد پولیس لاہور میں
زمان پارک میں موجود ہے جہاں پولیس کی پیش قدمی کے بعد پی ٹی آئی کے کارکنوں اور
پولیس کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔
مظاہرین پولیس کو عمران خان کی رہائش گاہ تک پہنچنے سے روک
رہےہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کے کارکنوں
کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کیا گیا ہے۔
کارکنوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے بھی دکھائی دے رہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے اہلکار غیر ملسح ہیں اور وہ عدالتی احکامات پر عمل دار آمد
کروانے آئی ہے۔ زمان پارک کے تمام داخلی دروازوں پر پولیس موجود ہے۔
توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی گرفتاری کے وارنٹ لیے پولیس ٹیم زمان پارک موجود
،تصویر کا کیپشنپولیس اہلکاروں نے زمان پارک میں عمران خان کے وارنٹ گرفتاری تھام رکھے ہیں
اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے توشہ خانہ کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جس کے بعد وفاقی دارالحکومت اور لاہور کی پولیس نفری زمان پارک کے باہر موجود ہے۔ اس دوران تحریک انصاف کے کارکنان کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق پولیس کی بھاری نفری زمان پارک کے چاروں گرد موجود ہے۔
نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق پی ٹی آئی رہنما حسان نیازی اور ڈی آئی جی اسلام آباد شہزاد ندیم بخاری کے مابین مذاکرات ہوئے ہیں۔ ڈی آئی جی اسلام اباد نے حسان نیازی کو عدالتی احکامات کے بارے میں اگاہ کیا ہے۔
اس موقع پر پولیس ڈی آئی جی کا موقف ہے کہ ’عدالت نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔ ہم عدالتی احکامات کی تعمیل کے سلسلے میں آئے ہیں۔‘
دوسری طرف حسان نیازی نے انھیں بتایا ہے کہ ’عمران خان رہائشگاہ پر موجود نہیں ہیں۔ بہت سے کارکن زمان پارک موجود ییں، کوئی زبردستی کی گئی تو تصادم کا خطرہ ہے۔
’ہم نے ان وارنٹس کے خلاف عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔ ہمیں وقت دیں، ہم پیش ہو جائیں گے۔‘
اس دوران زمان پارک منتظمین نے عمران خان کے گھر جانے والے راستے کو کنٹینر لگا کر بند کر رکھا ہے۔
بریکنگ, گورنر نے خیبر پختونخوا میں الیکشن کے لیے 28 مئی کی تاریخ تجویز کر دی
گورنر خیبر پختونخوا نے صدر عارف علوی سے مشاورت کے بعد صوبے میں الیکشن کے لیے 28 مئی کی تاریخ تجویز کی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے حاجی غلام علی نے صوبے میں انتخابات کے لیے 28 مئی کی تجویز دی۔
توشہ خانہ سے گاڑیاں، 300 ڈالر سے زیادہ مالیت کے تحائف وصول کرنے پر پابندی
،تصویر کا ذریعہBMW
وفاقی کابینہ حکومت نے توشہ خانہ سے متعلق نئی پالیسی منظور کی ہے جس کے تحت وزرائے اعظم، صدور، ججز، سول اور فوجی افسران پر گاڑیاں اور 300 ڈالر سے زیادہ مالیت کے تحفے حاصل کرنے پر پابندی عائد ہوگی۔
اس کے مطابق اعلیٰ عہدیداران پر ملکی و غیر ملکی شخصیات سے نقدی بطور تحفہ وصول کرنے پر پابندی ہوگی۔ 300 ڈالر سے کم کے تحائف قیمت کے تعین اور ادائیگی کے بعد وصول کیے جا سکیں گے جبکہ 300 ڈالر سے زیادہ کے تحائف فوراً توشہ خانہ کی ملکیت بن جائیں گے۔
اس میں لکھا گیا ہے کہ اعلی عہدیداران تحفے ملنے پر 30 روز میں توشہ خانہ میں جمع کرائے جائیں گے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
توشہ خانہ سے قدیم نواردات اور گاڑیاں خریدنے پر پابندی کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ ’نواردارت حکومتی میوزیمز میں ڈسپلے کیے جائیں گے جبکہ تحفے میں ملی گاڑیوں کو کابینہ ڈویژن کے حوالے کیا جائے گا۔‘
اس پالیسی کے مطابق ہر سہ ماہی پر کابینہ ڈویژن اپنی ویب سائٹ پر توشہ خانہ کے تحائف کی فہرست اپ ڈیٹ کرے گی۔
صدور اور وزرائے اعظم جن تحائف کو وصول نہیں کر سکیں گے انھیں نیلام کر کے رقم بیت الامال اور خیراتی اداروں میں جمع کرائی جائے گی۔
جلد خراب ہونے والی اشیا کو بغیر توشہ خانہ جمع کرائے حاصل کیا جاسکے گا۔
اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کابینہ ڈویژن ایف بی آر اور نجی ماہرین کی مدد سے تحفوں کی اصل قیمت کا تعین کرے گی۔
ظل شاہ کی ہلاکت سے متعلق کیس میں فواد چوہدری نے حفاظتی ضمانت دائر کر دی
رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے لاہور میں ظل شاہ کی ہلاکت سے متعلق مقدمے میں اپنی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کر دی ہے۔
اس درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ متعلقہ عدالت میں پیشی تک حفاظتی ضمانت منظور کی جائے۔
چیف جسٹس عامر فاروق تھوڑی دیر بعد اس پر سماعت کریں گے۔
پنجاب کے الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا سلسلہ شروع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پنجاب کے مختلف رہنماؤں نے 30 اپریل کے الیکشن کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرانا شروع کر دیے ہیں۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق
ڈاکٹر یاسمین راشد نے پی پی 172 اور پی پی 173 سے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے ہیں
پی پی 161 لاہور سے تحریک انصاف کے رہنما عاطف چوہدری نے کاغذات نامزدگی جمع کروا دیے
عمر سرفراز چیمہ اور ناصر سلمان نے پی پی 155 سے کاغذات نامزدگی جمع کرا دیے
سابق وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز پی پی 146 اور پی پی 147 سے کاغذات جمع کروائیں گے
فواد چوہدری نے جہلم کے دو حلقوں پی پی 25 اور پی پی 26 سے کاغذات جمع کرائے
گلدان اور سگار کے ڈبوں سے مہنگی گھڑیوں تک، فوجی افسران نے توشہ خانہ سے کیا کچھ حاصل کیا؟
’عمران خان آپ کی بہت عزت کرتے ہیں‘ توہین الیکشن کمیشن کیس میں فواد چوہدری کا جواب
،تصویر کا ذریعہEPA
عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کیس کی سماعت ممبر نثار درانی کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے کی ہے۔
عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے ان کی عدم حاضری کی درخواست الیکشن کمیشن میں جمع کرائی اور کہا کہ عمران خان کے وارنٹ ہائی کورٹ نے معطل کیے ہیں۔ اسد عمر کے وکیل انور منصور نے کہا کہ وہ ناساز طبیعت کی وجہ سے پیش نہیں ہو سکے۔
فواد چوہدری کمیشن میں پیش ہوئے اور کہا کہ ’ہم نے آپ کی اتنی تعریف کی، اسے آپ نے نوٹ ہی نہیں کیا۔ آپ صرف تنقید سنتے ہیں، تعریف سنتے ہی نہیں۔‘
انھوں نے کہا ’الیکشن کمیشن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس کے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ پوری قوم کو دو اداروں پر اعتماد ہے، ایک الیکشن کمیشن پر اور ایک سپریم کورٹ پر۔
’یہ دو ادارے ملک کو موجودہ بحران سے باہر نکال سکتے ہیں۔ پوری قوم الیکش کمیشن کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہم الیکشن کمیشن کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری دعا ہے اللہ آپ کو استقامت دے اور اپ تمام تر دباؤ کو مسترد کر کے الیکشن کرائیں، کمیشن کے تمام ممبرز کے ماضی کے شاندار کیریئر ہیں۔ ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں۔ ہم ادارے اور آپ کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔‘
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ’آپ پر بہت دباؤ تھا لیکن آپ نے اس کی مزاحمت کی۔ ہم الیکشن کمیشن کے پیچھے کھڑے ہیں۔ خان اور اپنی طرف سے کہتا ہوں ہم آپ کی بہت عزت کرتے ہیں۔‘
ممبر کمیشن بابر بھروانہ نے کہا کہ ’جس دن اسمبلیاں توڑیں ہم نے گورنرز کو خط لکھا، ہم اس دن سے اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں۔‘
ممبر نثار درانی نے کہا کہ ’ہم کسی کے گالی دینے سے ناراض ہوں گے نہ تعریف پر خوش ہوں گے۔ ہمارا جو کام ہے، ہم کریں گے۔‘
وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ ’بطور کمیشن کے دوست کی حیثیت سے آپ کو کہتا ہوں کہ اپ کارروائی ڈراپ کریں۔ اس قصے کو ختم کیا جائے۔ آپ کا جو کردار اور توانائی ہے وہ الیکشن پر صرف کی جائے۔‘
فواد چوہدری نے کہا کہ ’الیکشن کمیشن کا نیوٹرل کردار نظر آنا چاہیے۔ ہماری گزارش ہے کہ اس کیس کو ڈراپ کر دیں۔ عمران خان لازمی الیکشن کمیشن میں آئیں گے، ان کی سکیورٹی کا معاملہ ہے، عمران خان کو ویڈیو لنک پر لے لیں۔‘
ممبر کمیشن نے کہا کہ اگلی سماعت پر دلائل ہونے چاہیے۔ کیس کی سماعت 28 مارچ تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
پنجاب، خیبرپختونخوا انتخابات: الیکشن کمیشن میں اہم اجلاس آج ہوں گے
الیکشن کمیشن آف پاکستان میں آج منگل کے روز اہم اجلاس طلب کیے گئے ہیں جن میں خیبرپختونخوا میں صوبائی اسمبلی انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ کرنے اور پنجاب اسمبلی کے انتخابات کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے جیسے امور زیر غور آئیں گے۔
اس کے علاوہ ان صوبائی اسمبلیوں میں انتخابات کے دوران فوجی دستوں کی تعیناتی سے متعلق بھی اہم اجلاس ہو گا جس میں فوجی حکام الیکشن کمیشن کے حکام سے ملاقات کریں گے اور انھیں بریف کریں گے۔
پنجاب میں الیکشن کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ہونے والے اجلاس میں نگران وزیراعلی پنجاب محسن نقوی، چیف سیکریٹری اور پولیس کے سربراہ شرکت کریں گے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن نے آج چیف سیکریٹری پنجاب سے پی ٹی آئی کی دفعہ 144 کے نفاذ اور انتخابی ریلیوں پر پابندی کے خلاف درخواست سے متعلق رپورٹ طلب کی ہے۔
اس بارے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیشن آئین کے تحت شفاف اور پرامن انتخابات کرانے کا پابند ہے۔
اس کے علاوہ الیکشن کمیشن آج چیف الیکشن کمشنر کی توہین سے متعلق کیس میں عمران خان، فواد چودھری اور اسد عمر کے خلاف نوٹسز کی سماعت بھی کرے گا۔
اس سے قبل سات مارچ کو الیکشن کمیشن نے سابق وزیراعظم اور چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور پارٹی کے سینیئر رہنما فواد چوہدری کے خلاف الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کی توہین سے متعلق کیس میں مسلسل غیر حاضری پر قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے تھے بعدازاں ہائیکورٹ نے معطل کر دیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے گزشتہ برس عمران خان سمیت پارٹی رہنما اسد عمر اور فواد چوہدری کو الیکشن کمیشن اور اس کے سربراہ کے خلاف غیر مہذب زبان استعمال کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔
تحریک انصاف نے مینار پاکستان پر اتوار کے روز جلسہ منعقد کرنے کی درخواست جمع کروا دی
پاکستان
تحریک انصاف نے صوبائی دارالحکومت لاہور کے مینار پاکستان گراؤنڈ میں اتوار کے روز
جلسے کے لیے ضلعی انتظامیہ کو درخواست دے دی ہے۔
درخواست
پی ٹی آئی لاہور کے صدر شیخ امتیاز کی جانب سے دی گئی ہے اور اس درخواست میں جلسے
کے آغاز کا وقت دن دو بجے بتایا گیا ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پی
ایس ایل میچ کے فائنل کی وجہ سے جلسے کا وقت دن میں رکھا گیا ہے۔
پی
ٹی آئی نے جلسہ پرامن رکھنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے انتظامیہ سے ضروری سکیورٹی
انتظامات کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔
عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ 16 مارچ تک معطل
،تصویر کا ذریعہEPA
خاتون جج کو دھمکی دینے کے مقدمے میں اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری 16 مارچ تک کے لیے معطل کر دیے ہیں۔
ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے وارنٹ پر عملدرآمد اور گرفتاری 16 مارچ تک کے لیے روک دی ہے۔
سماعت کے آغاز پر جج نے ریمارکس دیے کہ ’15 منٹ سے پڑھ رہا ہوں، مجھے آپ کی طرف سے دیے گئے دستاویزات سمجھ نہیں آ رہے۔‘
عمران خان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ’درخواست گزار عمران خان، سابق وزیراعظم ہیں۔ سکیورٹی مہیہ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ حکومت نے عمران خان سے سکیورٹی واپس لے لی ہے۔‘
جج نے ریمارکس دیے کہ ’کوئی ایسا خط جس میں لکھا ہو کہ عمران خان کی سکیورٹی واپس لے لی گئی؟‘ عدالت نے وکلا کو کل تک متعلقہ خطوط جمع کرانے کا حکم دیا۔
جج نے ریمارکس دیے کہ ’کچہری میں 2014 میں حملہ ہوا، کیا اس کے بعد کچہری شفٹ ہوئی؟ عمران خان کی حکومت تھی لیکن پھر بھی کچہری شفٹ نہیں ہوئی۔ آپ نے اپنے دور حکومت میں کچہری کو شفٹ نہیں کروایا۔‘
سرکاری وکیل کا موقف تھا کہ ’عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں طلب کر رکھا تھا۔‘
جج نے ریمارکس دیے کہ ’عمران خان کی الیکشن مہم تو شروع ہے‘ جس پر ان کے وکیل نے بتایا ’عمران خان جوڈیشل کمپلیکس پیش ہوئے۔‘
اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ ’جوڈیشل کمپلیکس پیش ہوئے لیکن کچہری تو پیش نہیں ہوئے نا۔ تحریکِ انصاف نام تو ہے، لیکن کِیا کیا ہے؟‘
’باتیں تو بہت ہوتی ہیں، تحریکِ انصاف کا کوئی ایک لیگل ریفارم بتا دیں؟ ویڈیو لنک پر بات ہو سکتی ہے لیکن لیگل ریفارم پر آپ کا دھیان ہی نہیں ہے۔‘
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ’کچہری میں عمران خان پہلے آ چکے ہیں، دوبارہ بھی آ سکتے ہیں۔ عمران خان کو کیس کی نقول فراہم کرنی تھیں، اس لیے عدالت نے بلایا تھا۔‘
’ذاتی حیثیت میں ملزم کو کیس کی نقول فراہم کیے جاتے ہیں، کسی اور کو نہیں کیے جاتے۔‘
سرکاری وکیل نے کہا کہ ’دفعات قابل ضمانت ہیں یا نہیں، اس کا وارنٹ گرفتاری سے تعلق نہیں۔‘
عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ’عمران خان سے سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے، یہی میرا کیس ہے۔۔۔ 21 مارچ کی تاریخ دے دیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی ویڈیو لنک کی درخواست ہے۔‘
جج نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کو بھی معلوم ہے ویڈیو لنک پر کیا ہونا ہے۔ پھر دو ماہ کی دے دیتا ہوں۔‘
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 16 تک ملتوی کی ہے اور عمران خان کے وکلا کو سکیورٹی واپس لینے سے متعلق دستاویزات پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
گذشتہ روز کی اہم خبریں۔۔۔
پیر کو اپنی پہلی انتخابی ریلی کے موقع پر عمران خان نے کارکنان کے ساتھ لاہور میں زمان پارک سے داتا دربار پہنچنے پر اعلان کیا کہ اتوار کو مینار پاکستان میں جلسہ کیا جائے گا۔
اسلام آباد کی عدالتوں نے چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف خاتون جج کو دھمکی اور توشہ خانہ سے متعلق کیسز میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ توشہ خانہ میں آنے والے تحائف حکومت پاکستان کو نہیں بلکہ وزیر اعظم کو ملتے ہیں اور یہی ملک کا قانون ہے۔
مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے لاہورمیں ایک تقریب سے خطاب کے دوران عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے اپنے کارکن ظلِ شاہ کی موت کو بھی سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا حالانکہ حقیقت ان کو معلوم تھی کہ وہ ہلاکت حادثاتی تھی۔ لیکن سائفر کی طرح اس کی لاش پر بھی کھیلا گیا۔‘