عمران خان کا چیف جسٹس سے ’جوڈیشل کمپلیکس میں قتل کی سازش‘ پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ

سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس کو لکھے خط میں ’قتل کی سازش، بربریت اور ریاستی دہشتگردی‘ کے واقعات کی جامع تحقیقات کی استدعا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہر عدالتی پیشی پر میں اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہوں۔‘

لائیو کوریج

  1. عمران خان نے زمان پارک میں پارٹی رہنماوں کا اہم مشاورتی اجلاس طلب کر لیا

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں پنجاب پولیس کی جانب سے دہشت گردی اور دیگر دفعات کے تحت پرچے درج کروانے کے حوالے سے اہم امور پر مشاورت ہو گی۔

    تحریک انصاف کے مطابق ’اجلاس میں پنجاب پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی قائدین اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے لیے گھروں پر غیر قانونی چھاپوں کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی جبکہ گرفتار پی ٹی آئی کارکنان کی رہائی کے لیے بھی عدالت سے رجوع کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کی جائے گی۔‘

    اجلاس میں پی ٹی آئی کی چار رکنی قانونی ماہرین کی ٹیم بھی شرکت کرے گی۔

    تحریک انصاف کے مطابق ’مینارپاکستان میں پی ٹی آئی کے جلسے کی تیاریوں اور ضلعی حکومت سے اجازت کے حوالے سے اہم معاملات زیر بحث آئیں گے جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے ممکنہ آپریشن کے حوالے حکمت عملی پر بھی غور کیا جائے گا۔

    دوسری جانب زمان پارک کے باہر ایک بار پھر پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے خیمے لگانے اور زمان پارک گیٹ نمبرایک پرکنٹینر لگا ئے جانے کی اطلاعات ہیں۔

    پی ٹی آئی کے مطابق ’پولیس کے ممکنہ آپریشن کا خدشے کے باعث زمان پارک کے اطراف اور عمران خان کے گھر کی سکیورٹی پر پی ٹی آئی کارکنان اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔‘

  2. توشہ خانہ کیس میں بشریٰ بی بی سے نیب کے 15 سوالات, ترہب اصغر، بی بی سی اردو

    نیب کا نوٹس

    ،تصویر کا ذریعہNAB

    نیب نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو توشہ خانہ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں 21 مارچ کو طلب کر لیا ہے۔

    نیب راولپنڈی عمران خان اور ان کی اہلیہ کے خلاف اس معاملے میں تحقیقات کر رہا ہے اور ادارے کی دو رکنی ٹیم نوٹس لے کر پیر کی صبح عمران خان کے گھر پہنچی۔

    نوٹس میں بشریٰ بی بی سے 15 سوالات کے جواب طلب کیے گئے ہیں۔

    نیب کا نوٹس

    ،تصویر کا ذریعہNAB

  3. اسلام آباد ہائیکورٹ: عمران خان کی اپنے خلاف مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر نوٹسز جاری

    ISB HC

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران کی جانب سے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست اسلام آباد ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹسسز جاری کر دیے ہیں۔

    پیر کو درخواست کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے فریقین سے 27 مارچ تک جواب طلب کیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد کی حد تک عمران خان کے خلاف درج تمام مقدمات کا ریکارڈ طلب کیا۔

    اس درخواست کی سماعت کے موقع پر عمران خان کی جانب سے وکیل فیصل چوہدری عدالت میں پیش ہوئے اور اسلام آباد کی حد تک درج تمام مقدمات کی تفصیلات کی فراہمی کی استدعا کی۔

    عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے عدالت میں کہا کہ عمران خان کے خلاف 47 مقدمات اسلام آباد میں درج ہو گئے ہیں، اسلام آباد پولیس نے کچھ ایف آئی آرز چھپائی ہیں۔

    جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایف آئی آر سیلڈ نہیں ہوتی۔ ایف آئی آر پبلک دستاویزات ہے وہ سیل نہیں ہو سکتی اور پولیس تحقیقات کے لیے بلا لیتی ہے۔

    چیف جسٹس نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اعظم سواتی کیس کا فیصلہ پڑھا ہے؟

    عدالت نے کہا کہ کس کے خلاف کتنے مقدمات درج، ان کی ریکارڈ فراہمی سے متعلق کوئی قانون نہیں ہے۔ اعظم سواتی کے خلاف بھی پورے پاکستان میں مقدمات درج تھے۔

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ اگر ہمیں بتا دیا جائے تو پھر ہم قانونی راستہ اختیار کر لیں۔

    جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار تک فریقین کو نوٹسسز کرتا ہوں۔

    عدالت نے فریقین کو نوٹسسز جاری کرکے کیس کی سماعت 27 مارچ تک ملتوی کردی۔

  4. جوڈیشل کمپلیکس میں ہنگامہ آرائی کے مقدمے میں نامزد پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانتیں منظور

    PTI

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس میں توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کے مقدمے کی سماعت میں نامزد پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانتیں منظور کر لی گئی ہے۔

    پیر کے روز پی ٹی آئی رہنما اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوئے۔

    انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج راجہ جواد نے اسد عمر، راجہ خرم، علی نواز، مراد سعید، شہزاد وسیم اور زلفی بخاری کی عبوری ضمانتیں منظور کر لی ہیں۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد عمر، راجہ خرم، علی نواز، مراد سعید اور شہزاد وسیم کی تھانہ سی ٹی ڈی میں درج مقدمے میں عبوری ضمانتیں منظور کی گئی جبکہ زلفی بخاری کی تھانہ گولڑہ میں درج مقدمات میں عبوری ضمانت منظور ہوئی۔

    جج نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ ’دو ہفتوں تک کی عبوری ضمانتیں اس لیے دے رہے ہیں تاکہ شیلنگ سے بچا جائے اور روزے سکون سے رکھے جائیں۔

    مقدمے کی سماعت کے دوران جج نے پی ٹی آئی رہنماؤں سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بار تو پولیس نے آپ پر ڈکیتی کی دفعہ بھی لگا دی ہے۔‘

    جس پر پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ نئے مقدمات کی نئی ضمانتیں دائر کر رہے ہیں۔

    جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ ’پرانی سے تو نپٹ لینے دیں پھر نئی کو بھی دیکھتے ہیں۔

  5. قانون اور عدالت کا احترام نہیں ہوگا تو انارکی ہوگی: چیف جسٹس عمرعطا بندیال, محمد کاظم/ بی بی سی اردو

    سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کوئٹہ میں سپریم کورٹ کی نئی رجسٹری کی عمارت میں وکلا کی جانب سے دیے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک کے جوحالات ہیں اس میں بہت ضروری ہے کہ قربانی کے جذبے کے ساتھ ہم اکھٹے ہوکر چلیں اورجو اختلافات ہیں ان کو کئے جائیں۔‘

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے خطاب میں کہا ہے ’معاشرے میں امن و سکون کے لیے سب کو اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔ ریاست کا کام اپنے شہریوں کی حفاظت ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ میں ہم بنیادی طور پر قانون کے پوائنٹ کو طے کرتے ہیں۔ عدلیہ بلوچستان میں آکر عدل فراہم کرے گی لیکن اس کے لیے تعاون اپ نے کرنا ہے۔‘

    واضح رہے کہ کوئٹہ میں سپریم کورٹ کی رجسٹری کی اپنی یہ پہلی عمارت ہے جس میں پیر کے روز سے سپریم کورٹ کے دو بینچوں نے باقاعدہ کیسز کی سماعت کا سلسلہ شروع کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ہم بیٹھ کریہ عزم رکھتے ہیں کہ یہاں آئین اورقانون کی بالادستی ہویا آئین اور قانون نے جو حقوق دیئے ہیں ان کا نفاذ ہو‘اس کے لیے ہم ہمیشہ حاضر ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ’اللہ نے ابھی تک سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کو محفوظ رکھا ہے۔

    ’لیکن ہمارے دل میں بہت تکلیف ہوتی ہے جب ہماری ڈسٹرکٹ جوڈیشری میں لوگ جا کر بدسلوکی کرتے ہیں جو کہ قابل قبول نہیں ہے۔‘

    چیف جسٹس نے کہا کہ ’ہم وکلا سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ ہمارے دانشور ہیں۔ آپ نے عوام کو جا کر بتانا ہے کہ کیا طریقہ ہے۔ اگر قانون اورعدالت کا احترام نہیں ہوگا تو انارکی ہوگی۔‘

  6. بریکنگ, ’اب اگر کوئی پولیس کی طرف ہاتھ بڑھائے گا، وہ ہاتھ توڑ دیں گے: محسن نقوی

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہMohsinnaqvi/Facebook

    پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ محسن نقوی نے پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ ’پچھلے سات دن میں جو دہشت گردی ہوئی اس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنا رہے ہیں جس کا نوٹیفیکیشن آج جاری کر دیا جائے گا۔‘

    محسن نقوی نے بتایا ’دو دن پہلے جب پولیس نے زمان پارک کے اردگردعلاقے کو کلیئر کروایا تو کہا کہ دوبارہ یہی ہو گاT ہمیں روڈ بند کرنے دیں مگر میں نے روڈ کھولنے کی ہدایت کی۔‘

    ان کا کہنا تھا’جب کینال روڈ کھول دی تو اسی رات کو ایک پولیس والے کو وہاں مارا گیا ۔اس کو اپنی جان بچا کر بھاگنا پڑا، اس کا جو حال کیا گیا اس کی وڈیو میں آپ دیکھ سکتے ہیں ہم شیئر کر دیں گے۔‘

    محسن نقوی نے مذید کہا ’اس کے بعد ایک ایلیٹ کی گاڑی رات تقریبا 1:30 بجے گزر رہی تھی جو ڈیوٹی ختم کر کے واپس جا رہے تھے اس کو روک کر ان کے ہتھیار چھینے اور اس گاڑی کو توڑا گیا۔ تین بجے کے قریب اس گاڑی کو کینال میں پھینک دیا گیا۔ یہ کام عام کارکن نہیں کرتا یہ مجھے پتہ ہے۔‘

    محسن نقوی نے کہا کہ ’زمان پارک میں دہشت گردوں کی موجودگی کے شواہد موجود ہیں۔ پولیس والوں کو کسی صورت دھمکیاں دینے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

    محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ’آئی جی پنجاب کو کہا ہے کہ آج ان کو ایک ڈیڈ لائن دے دیں ۔ گورنمنٹ کی رٹ قائم ہو گی۔ اگر کوئی پولیس کی طرف ہاتھ بڑھائے گا وہ اب ہاتھ توڑ دیں گے۔یہ نہیں ہو گا کہ پولیس مار کھائے میں بہت دنوں سے صبر کی تلقین کر رہا تھا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’سیاسی سرگرمی کی اجازت ہے، یہ نہیں ہوگا کہ پولیس والوں کوگالیاں دیں اور پھر کہیں کہ سکیورٹی بھی دی جائے۔‘

    محسن نقوی نے کہا’زمان پارک آپریشن کے دوران دونوں بار رینجرز اور پولیس کو میں نے واپس آنے کا کہا تھا۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ کوئی بات ایسی نہ ہو جس سے جانی نقصان ہو۔ میں کسی صورت خون خرابہ نہیں چاہتا تھا‘

    انھوں نے بتایا کہ ان تمام غیرسیاسی سرگرمیوں سے متعلق تفصیلات کے لیے ہم الیکشن کمیشن کو بھی خط لکھ رہے ہیں۔

  7. اشتعال انگیزی، جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس پر حملے کے الزام میں 198 پی ٹی آئی کارکنان گرفتار:اسلام آباد پولیس

    اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے اشتعال انگیزی، جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ اور پولیس پر حملے کے الزام میں 198 پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

    ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس ۔مزید گرفتاریوں کے لئے پولیس ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔ پولیس کے مطابق وقوعہ میں ملوث تمام ملزمان کی کیمروں کی مدد سے شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔

    اسلام آباد پولیس نے پرتشدد واقعات پر تھانہ سی ٹی ڈی اور گولڑہ میں مقدمات درج کئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق مظاہروں میں شامل شرپسندوں کے پتھراو، جلاؤ گھیراؤ سے پولیس کے 58 افسران و جوان زخمی ہوئے۔ جلاؤ گھیراؤ میں پولیس کی 04 گاڑیاں جل گئیں، 09 گاڑیاں توڑ دی گئیں، 25 موٹر سائیکل جلائے گئے۔ پرتشدد کارروائیوں میں ملوث تمام شرپسند عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  8. پی ٹی آئی رہنما علی امین گنڈاپور کے خلاف چیک پوسٹ پر مبینہ ہنگامہ آرائی اور فائرنگ کرنے پر پرچہ درج

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/GovtOfPak

    بھکر میں سابق وفاقی وزیر رہنما علی امین گنڈاپور کی جانب سے مبینہ طور پر فائرنگ کرنے پر ان کے خلاف رپورٹ درج کر لی گئی ہے۔

    پولیس کے مطابق ’علی امین گنڈا پور ساتھیوں کے ہمراہ ڈیرہ اسماعیل خان جا رہے تھے۔ داجل کی چیک پوسٹ پر سابق وفاقی وزیر نے انتہائی تیز رفتاری اور لاپرواہی سے گاڑیاں زبردستی گزارنے کی کوشش کی۔‘

    پولیس کےمطابق ’داجل چیک پوسٹ پر چیکنگ کے لیے روکے جانے پر سابق وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور نے کی ہنگامہ آرائی کی۔‘

    پولیس کے مطابق ’اہلکاروں کی جانب سے روکے جانے پر علی امین گنڈا پور نے ہنگامہ آرائی شروع کردی اور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے۔‘

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہpolice

    پولیس کے مطابق واقعہ کی اطلاع ملنے پر ڈی پی او محمد نوید داجل چیک پوسٹ پہنچ گئے اور اب واقعہ کا جائزہ لیا جارہاہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب باؤنڈری پر واقع داجل چیک پوسٹ پر ہرآنے جانے والی گاڑیوں کی انٹری کی جاتی ہے

  9. ’لوگوں کی جان،املاک کے تحفظ ،ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے عمران خان کو گاڑی سے حاضری لگوانے کی ہدایت کی‘

    جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں سینیچر کے روز ہونے والی توشہ خانہ کیس کی سماعت کا تین صفحات کا تحریری حکم نامہ ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔

    حکم نامہ کے مطابق ’عمران خان 30 مارچ کو ذاتی حیثیت میں عدالت طلب کیا ہے اور آئندہ سماعت پر فوجداری کارروائی کے قابل سماعت ہونے پر دلائل ہوں گے۔‘

    عدالتی حکم نامے کے مطابق ’دن ساڑھے 3 بجے عدالت کو بتایا گیا عمران خان عدالت پہنچنے والے ہیں۔ جس پر انھیں چار بجے پیش ہو نے کی ہدایت کی گئی۔‘

    ’وکلا ، میڈیا باقی لوگوں نے بتایا عمران خان 4 بجے سے گیٹ کے باہر موجود ہیں۔‘

    حکم نامہ کے مطابق ’عدالت کو مطلع کیا گیا امن و امان کی صورتحال پتھراو کی وجہ سے عمران خان کا عدالت پہنچنا مشکل ہے اور مناسب ہو گا گاڑی سے ہی عمران خان کے دستخط کروا لئے جائیں۔‘

    حکم نامے کے مطابق ’لوگوں کی جان ، املاک کے تحفظ ، ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے گاڑی سے حاضری لگوانے کی ہدایت کی جس کے لیے شبلی فراز ، بیرسٹر گوہر اور ایس پی سمیع ملک کو دستخط کرانے بھیجا گیا۔‘

    حکم نامے کے مطابق’عدالت کو بعد میں بتایا گیا آرڈر شیٹ گم ہو گئی ہے جس کے بعد بیرسٹر گوہر ، خواجہ حارث اور ایس پی نے بیان قلم بند کروایا گیا۔‘

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہIsb HighCourt

    حکم نامہ کے مطابق ’عدالت کو بتایا گیا گم شدہ آرڈر شیٹ کمپیوٹر میں محفوظ ہےاور فائل گم ہونے کے تنازع کے حل کے لیے فائل دوبارہ بنائی گئی ہے ۔‘

    عدالت کے مطابق 18 مارچ کی تین دفعہ کی سماعتوں کا الگ الگ حکم نامہ جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ ایس پی سمیع ملک ، عمران خان کے وکلا بیرسٹر گوہراور خواجہ حارث کے بیانات حکم نامے کا حصہ ہیں۔

  10. پی ٹی آئی کا گورنر خیبرپختونخوا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا اعلان

    bbc

    پاکستان تحریک انصاف نے سپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود صوبے میں عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان میں ناکامی پر گورنر خیبرپختونخوا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔

    تحریک انصاف کے بیان کے مطابق ’سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر تیمور سلیم جھگڑا اور شوکت یوسفزئی کے ہمراہ سپریم کورٹ میں آج گورنر کے خلاف درخواست دائر کریں گے۔‘

    تحریک انصاف کے مطابق درخواست دائر کرنے کے بعد یہ وفد قانونی نکتہ جات کے بارے میں میٹیا پر تفصیلات سے آگاہ کرے گا۔

  11. اسلام آباد پولیس بغیر وارنٹ گرفتار کیے گئے تمام کارکنوں اور ان کے بچوں کو فوری رہا کرے: عمران خان

    BBC

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سابق وزیر اعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اسلام آباد پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنان کی بغیر وارنٹ مبینہ گرفتاریوں کی شدید مذمت کی ہے۔

    اپنی ایک ٹویٹ میں عمران خان نے لکھا ’اسلام آباد پولیس فاشزم کی انتہا پر پہنچ گئی ہے جو پی ٹی آئی کارکنوں کو اٹھانے کے لیے بغیر وارنٹ اُن کے گھروں پر چھاپے مار رہی ہے۔‘

    عمران خان کے مطابق ’جہاں کارکن موجود نہیں وہاں 10 سال سے کم عمر کے بچوں کو اٹھایا جاتا رہا ہے۔ ہم اپنے تمام کارکنوں اور ان کے بچوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں جنھیں گرفتار کیا گیا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    اس حوالے سے تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے بھی ایک وڈیو شیئر کی ہے جس میں مبینہ طور پر پولیس بغیر وارنٹ گرفتاری کارکن نہ ہونے پر کم عمر بچے کو اٹھا کر لے جا رہی ہے۔

    فواد چوہدری نے اپنے ویڈیو پیغام میں دعوی کیا ’اس وقت اسلام آباد اور لاہور میں ایک، دو، درجنوں نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے سینکڑوں کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں اور اس وقت سینکڑوں کارکن پولیس کی تحویل میں ہیں، جو آئین و قانون کے منافی ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

    پی ٹی آئی رہنما علی نواز اعوان نے بھی اپنی ٹویٹ میں دعویٰ کیا کہ اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پر پولیس نے چھاپہ مارا ہے۔ تاہم وہ محفوظ ہیں۔

    واضح رہے کہ ہفتے کے روز عمران خان کی پیشی کے موقع پر تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے ہنگامہ آرائی کے الزام میں اسلام آباد پولیس اب تک کم از کم 67 کارکنان کو گرفتار کرنے کا دعوی کر چکی ہے۔

    اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے اس سے قبل گذشتہ روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’سنیچر کو عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس پیشی کے موقع پر تحریک انصاف کے مظاہرین کے پولیس پر حملے کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی اسلام آباد میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔‘

    ترجمان کے مطابق پولیس نے اشتعال انگیزی میں ملوث گرفتار60 افراد کو مجاز عدالت میں پیش کردیا ہے اور مزید گرفتاریوں کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

    دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پارٹی کے 17 رہنماؤں پر جوڈیشل کمپلیکس پر ہنگامہ آرائی کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر دہشتگری کا مقدمہ بھی سنیچر کے روز ایس ایچ او تھانہ رمنا کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

  12. مسلم لیگ ضیا تحریک انصاف میں ضم ہو گئی: تحریک انصاف

    مسلم لیگ ضیا کے سربراہ اعجاز الحق نے اپنی جماعت کو عمران خان کی جماعت میں ضم کرنے کے بعد پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    تحریک انصاف کے بیان کے مطابق ’مسلم لیگ ضیا کے سربراہ نے عمران خان سے لاہور میں ان کی رہائش گاہ زمان پارک میں ملاقات کی اور باضابطہ طور پر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد اپنی پارٹی کو بھی اس میں ضم کر دیا ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ ن کے رہنما شیخ وقاص اکرم، سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی سمیت بعض دیگر سیاسی رہنما پی ٹی آئی میں شمولیت کا اعلان کر چکے ہیں۔

  13. تحریک انصاف نے زمان پارک آپریشن کرنے والے پولیس افسران کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا, ترہب اصغر بی بی سی اردو لاہور

    IK

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریک انصاف نے اپنے چئیرمین عمران خان کی زمان پارک رہائش گاہ پر سرچ آپریشن کرنے والے پولیس افسران کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے پولیس کے اس اقدام کو ہائی کورٹ کے حکم کی صریحاً خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    تحریک انصاف کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق مریم نواز اور رانا ثناء اللہ کیخلاف مقدمے کے اندراج کیلئے تھانہ ریس کورس میں درخواست سے دی گئی۔

    نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور آئی جی پولیس ڈاکٹر عثمان بھی مقدمے میں بطور ملزم نامزد کیے گئے ہیں۔

    مقدمے کی درخواست چیئرمین تحریک انصاف کی رہائش گاہ کے کیئرٹیکر اویس احمد کی جانب سے دی گئی ہے۔

    سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ، ڈی آئی جی آپریشنز افضال کوثر اور ایس ایس پی آپریشنز صہیب اشرف سمیت متعدد افسران اور اہلکاروں کو اس مقدمے میں ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

    درخواست میں حملے کے دوران پولیس کی جانب سے لے جائے جانے والے زمان پارک کے گارڈز کے لائسنس شدہ اسلحے کی تفصیلات بھی لف کردی گئیں۔

    حملے کے دوران تحریک انصاف کے کارکنان اور گھر کے عملے کے اٹھائے جانے والے قیمتی سامان کی تفصیلات بھی مہیا کردی گئیں۔

    درخواست کے مطابق پولیس نے حملے کے دوران ملازمین کے کم و بیش 50 ہزار نقدی پر ہاتھ صاف کیے پولیس کپڑے اور 10 جوڑے یونیفارمز بھی ساتھ لے گئی۔

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی عملے کی دستاویز، اے ٹی ایم کارڈز اور پرفیومز سمیت سب پر دل کھول کر ہاتھ صاف کیا گیا ہے۔ جبکہ گھریلو عملے کی ہیئر ڈریسنگ مشینوں تک کو نہ چھوڑا گیا۔

    پولیس کی جانب سے اٹھائے جانے والے اسلحے میں 9 ایس ایم جی گنز اور 2 پستول شامل ہیں۔

    تحریک انصاف نے کہا ہے کہ پنجاب میں پولیس کا نہایت قابلِ تشویش کردار ہے اور امن عامہ کی بجائے فساد و تشدد کے فروغ کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

  14. بریکنگ, موٹرسائیکل، رکشہ اور 800 سی سی گاڑیوں کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 50 روپےفی لیٹر تک سبسڈی کا منصوبہ

    پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے کم آمدن والے طبقے کے لیے پیٹرول کی قیمت میں 50 روپےفی لیٹر تک ریلیف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ پٹرولیم سبسڈی میں موٹر سائیکل اور رکشہ کے علاوہ آٹھ سو سی سی تک کی چھوٹی گاڑیاں استعمال کرنے والے صارفین کو شامل کیا جائے۔

    اے پی پی کے مطابق انھوں نے ہدایت کی کہ پیٹرولیم سبسڈی کا عملی پروگرام جلد از جلد مکمل کیا جائے اور پٹرولیم سبسڈی پر موثر عمل درآمد کے لیے تمام متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے جامع حکمت عملی مرتب کریں۔

    خیال رہے کہ چند دن قبل ہی پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر پانچ روپے اضافے کا اعلان کیا گیا تھا جس کے بعد ملک میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 272 روپے ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. ایسا الیکشن ہونے جا رہا ہے جو آئین کے تحت نہیں ہے، نتائج کوئی قبول نہیں کرے گا: وزیرداخلہ

    وزیرداخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ ’ہماری کوشش یہ ہے کہ تمام انتخابات ایک ہی بار اور نگران سیٹ اپ کے تحت ہوں۔‘ انھوں نے کہا کہ جو الیکشن کمیشن اور سپریم کہیں گے ہم ویسا ہی کریں گے۔

    تاہم ان کے مطابق ’ایسا الیکشن ہونے جا رہا جو آئین کے تحت نہیں ہے، ایسے الیکشن کے نتائج کو کوئی قبول نہیں کرے گا‘

  16. زمان پارک سے پکڑے جانے والے تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے: رانا ثنااللہ

    رانا ثناللہ

    وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ عمران خآن کی اہلیہ کا نہ صرف سیاست بلکہ ہر چیز سے لینا دینا ہے۔ ’بشری بی بی کا ہیرے کی پانچ قیراط کی انگوٹھی سے لے کر ٹرانسفر پوسٹنگ تک ہر چیز سے لینا دینا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ عمران خان آپ اپنے اس جھوٹ اور فراڈ کو حاوی کریں گے تو وہ اس طرح حاوی نہیں ہو گا۔

    وزیرِ داخلہ کے مطابق زمان پارک سے پکڑے جانے والے تمام افراد کی شناخت ہو چکی ہے ’آپ بتائیں آپ نے کس حیثیت سے انھیں گھر میں رکھا ہوا تھا۔ آپ جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ آور ہوئے اور پولیس افسران کے نام لے کر انھیں گالیاں دے رہے ہیں۔‘

    ’آپ سہولت چاہتے ہیں کہ آپ کی عدالتی حاضریاں سڑکوں پر لگیں۔‘ ان کے مطابق اگر ایسے حاضری لگانی تھی تو پھر کینال روڈ سے ہی حاضری لگوا دیتے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور دوسری طرف وہ جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ بھی کرنے جا رہے تھے۔

    انھوں نے کہا کہ گذشتہ 11 ماہ سے آپ اسلام آباد پر حملہ آور ہے۔ میں نے آپ کو دعوت نامہ بھیجا تھا کہ آپ ایک صوبائی حکومت کی مدد لے کر اسلام آباد پر حملے آور ہوں گا۔ آپ ملک میں انتشار چاہتے ہیں۔ آپ یہ سب حالات خراب کرنے کے لیے کر رہے تھے۔ تسلیم کرو کہ میں نے بڑی محنت سے حالات خراب کیے ہیں۔

    وزیر داخلہ نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پونے چار سال پوری محنت سے ملک کو اس حال کو پہنچایا۔ آپ نے اپنے دور حکومت میں ملک کی معیشت کو خراب کیا۔ آپ نے آئی ایم ایف سے ایسا معاہدہ کیا کہ ملک میں اتنی مہنگائی ہوئی اور پھر جاتے جاتے آئی ایم ایف سے معاہدہ توڑ دیا۔

  17. عمران خان 400 کے قریب مسلح افراد کو جوڈیشل کمپلیکس لے جانا چاہتے تھے: وزیر داخلہ رانا ثنااللہ خان

    وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان مسلسل جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں، مسلح جتھوں کے ساتھ عدالت جانا غنڈہ گردی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ عمران خان 400 کے قریب مسلح افراد کو جوڈیشل کمپلیکس لے جانا چاہتے تھے۔

    انھوں نے سوال اٹھایا کہ پولیس فہرست کے علاوہ لوگوں کو کیسے آنے دیتے۔ عمران خان نے کہا انھیں قتل کرنے کا منصوبہ تھا، کیا پولیس کو جوڈیشل کمپلیکس آنے والوں کی فہرست نہیں ملی۔

    وزیر داخلہ کے مطابق عمران چاہتے ہیں کہ توشہ خانہ سے متعلق کوئی عدالت ان سے نہ پوچھے۔ آپ توشہ خانہ کی تلاشی کیوں نہیں دیتے۔ آپ نے پہلے بھی لوگوں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے، اب مقدمہ بنا کر کیا کر لیں گے۔

    عمران خان نے پولیس افسران کے نام لے کر گالیاں دے رہے ہیں۔

    رانا ثنااللہ نے عمران خان کو مخاطب ہو کر کہا کہ ڈی جی اے این ایف اور شہریار سے جھوٹے بیانات دلوا رہے تھے اور جھوٹے مقدمات بنوا رہے تھے، اس وقت آپ کو جھوٹے مقدمات کا کوئی خیال نہیں آیا۔

  18. بدھ کو تحریک انصاف کا مینار پاکستان پر جلسہ ریفرنڈم ہو گا کہ عوام کدھر کھڑے ہیں: عمران خان کا اعلان

    IK

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں (انتظامیہ) نے ہم سے وعدہ کیا تھا کہ پیر کو یہ ہمیں مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کی اجازت دیں گے۔

    عمران خان نے کہا کہ اب ہم بدھ کو ہم جلسہ کر رہے ہیں اور مینار پاکستان پر ہونے والا یہ جلسہ ریفرنڈم ثابت ہو گا کہ عوام کدھر کھڑے ہیں۔

    سابق وزیراعظم کے مطابق میں جب بھی باہر نکلتا ہوں تو ایف آئی آر درج ہو جاتی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ آپ کا قتل کا پلان بنا ہوا ہے، سوچا ہے اس کے بعد کیا ہو گا؟‘ ان کے مطابق جنھوں نے اس ملک میں رہنا ہے انھیں اس کے مستقبل کے بارے میں فکر کرنی چاہیے باقی سب نے تو باہر بھاگ جانا ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ حالات ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں اور ایسی صورتحال ہو گی کہ لوگ سری لنکا کو بھول جائیں گے۔

    مجھے قتل کرنا یا گرفتار کر کے بلوچستان لے جانے کا پلان تھا

    سابق وزیراعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ سنیچر کو انھیں جوڈیشل کمپلیکس میں دو پلان تھے یا انھیں قتل کر دیا جائے یا پھر انھیں وہاں سے گرفتار کر کے بلوچستان لے جایا جائے۔

    ان کے مطابق حکومت مجھے گرفتار کر کے بلوچستان لے کر جانا چاہتی تھی تاکہ میں پارٹی ٹکٹ جاری نہ کر سکوں۔ مریم نواز پر تنقید کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ لیول پلیئنگ فیلڈ کا مطلب یہ ہے کہ کسی طرح مجھے رستے سے ہٹایا جائے۔

    عمران خان نے کہا کہ ’لوگوں کو اپنی لا انورسمنٹ پر ہی شک ہے کہ وہ قاتل ہیں اس لیے لوگ وہاں کھڑے ہو گئے تھے۔‘ انھوں نے کہا کہ میں اپنی بیوی کو خدا حافظ کہہ کر گھر سے نکلا کیونکہ مجھے پتا تھا کہ یہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ جب میں اسلام آباد کے ٹول پلازہ پر پہنچا تو مجھے ان کی نیت پر کوئی شک نہیں رہ گیا۔ موٹر وے بند کیا ہوا تھا۔ ان کا پلان تھا کہ عمران خان کے نکلنے کے بعد گاڑیوں کو روک دیا جائے۔ ان کے مطابق میں جب ٹول پلازہ سے نکلا تو دیگر گاڑیوں کو روک دیا گیا۔

    عمران کے مطابق ٹول پلازہ سے پھر عدالت تک پہنچنے تک پونے پانچ گھنٹے لگے یعنی پورا اسلام آباد اور موٹر وے ایک آدمی کے لیے بند کیا گیا جیسے کوئی بہت بڑا چور آ رہا ہے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ساری جگہوں سے پولیس اور ایف سی نکال کر لے آئے۔

  19. میرے گھر پر سرچ کے نام سے لوٹ مار کی گئی: عمران خان

    IK

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے آرڈر کو چھپا کر انسداد دہشتگردی کی عدالت سے لے جا کر حکمنامہ لیا اور اس میں بھی یہ لکھا ہے کہ ایک پولیس افسر اور ایک لیڈی پولیس اہلکار ساتھ لے جا سکتے ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ میرے گھر کا دروازہ کس قانون کے تحت توڑا ہے۔ کیا انھیں نہیں معلوم کہ یہاں ایک خاتون رہ رہی ہے جس کے میاں گھر پر موجود نہیں ہیں۔

    انھوں نے پنجاب پولیس کے سربراہ پر بھی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ سرچ کس نام پر ہوا، یہ جو لوٹ مار ہوئی میرے گھر پر اس کا کیا قانونی جواز تھا۔

    ان کے مطابق ہم اس سرچ آپریشن کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں توہین عدالت کا مقدمہ دائر کریں گے۔

    ZULE SHAH

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    عمران خان نے اپنے کارکن کی ہلاکت اور زمان پارک پر پولیس کی کارروائی کے خلاف قانونی رستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ ظل شاہ ایک سپیشل کارکن تھا جو معصوم تھا اور اسے قتل کیا گیا۔

    ان کے مطابق وہ پولیس کے خلاف مقدمہ درج کرائیں گے۔

    عمران خان کے مطابق پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب اور تمام ملوث پولیس اہلکاروں پر ظل شاہ کے قتل کا مقدمہ درج کرائیں گے۔

    عمران خان نے عدلیہ سے کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ نامعلوم افراد تمام زور ڈال رہے ہیں مگر یہ جو ناانصافی ہو رہی ہے اس پر ایکشن لیں۔

  20. تحریک انصاف کے مزید سات کارکنان کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کر لیا، گرفتار کارکنان کی مجموعی تعداد 67 ہو گئی

    ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق تحریک انصاف کے مظاہرین کی طرف سے پولیس پر حملے میں ملوث مزید سات افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ تھانہ شالیمار پولیس نے اشتعال انگیزی میں ملوث جن سات مزید ملزمان کو گرفتار کیا ہے ان میں راجہ ندیم، جہانگیر کیانی، شرافت سلطان کیانی، محمد رضوان، سہیل احمد، حسنین اختر، مظہر مسعود اور محمد زرین بھی شامل ہیں۔

    ان نئی سات گرفتاریوں کے ساتھ ہی تحریک انصاف کے اس وقت گرفتار کارکنان کی تعداد 67 تک پہنچ چکی ہے۔