عمران خان کا چیف جسٹس سے ’جوڈیشل کمپلیکس میں قتل کی سازش‘ پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ

سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس کو لکھے خط میں ’قتل کی سازش، بربریت اور ریاستی دہشتگردی‘ کے واقعات کی جامع تحقیقات کی استدعا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہر عدالتی پیشی پر میں اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہوں۔‘

لائیو کوریج

  1. عمران خان کی نو مقدمات میں حفاظتی ضمانتیں منظور: ہائی کورٹ میں دن بھر کیا ہوا؟

    ،ویڈیو کیپشنعمران خان کی نو مقدمات میں حفاظتی ضمانتیں منظور: ہائی کورٹ میں دن بھر کیا ہوا؟

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کی لاہور ہائی کورٹ میں حفاظتی ضمانتیں 28 مارچ تک منظور ہوگئی ہیں۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے رش کے باعث کیس کی سماعت تاخیر سے شروع ہوئی۔ سماعت کے دوران کیا ہوا؟ بتا رہی ہیں بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ۔

  2. زمان پارک آپریشن کے خلاف درخواست پر سماعت: مجھے لگتا ہے کہ مجھے جیل میں ڈال کر مارنا چاہتے ہیں، عمران خان

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئر مین عمران خان لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے جس کے دوران زمان پارک میں آپریشن کے خلاف درخواست کی سماعت بھی ہوئی۔

    جج طارق سلیم شیخ کے سنگل بنچ میں سماعت ہورہی ہے۔

    جج نے عمران خان سے کہا ’آپ کے لیے بھی آئندہ کے لیے سبق ہے۔‘

    اس پر عمران خان نے کہا ’عدالت میں پیش ہونے کے لیے پوری فورس کون بھیجتا ہے۔‘

    ’چار دفعہ پہلے میرے گھر پر ریڈ پڑ چکی ہے۔ ہمارا بھروسہ بھی کم ہے، آدھی رات میں اٹھانے آجاتے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھے جیل میں ڈال کر مارنا چاہتے ہیں۔ ان کا ارادہ مجھے اسلام آباد کے بجائے بلوچستان لے جانے کا ہے۔‘

    جج نے عمران خان سے کہا ’تفتیشی افسر سے تعاون کریں۔‘

  3. بریکنگ, لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کی حفاظتی ضمانتیں 28 مارچ تک منظور

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان لاہور ہائی کورٹ میں حفاظتی ضمانتیں منظور ہو گئیں۔

    عمران خان کے وکیل ایڈووکیٹ اشتیاق حمد نے عدالت سے درخوات کی تھی کہ ’پندرہ دن کا اگر وقت دے دیا جائے تو ہم تمام مقدمات میں پیشی ممکن بناسکیں گے۔‘

    جسٹس طارق سلیم نے کہا کہ ’خان صاحب آپ کی جانب سے کیس کو غلط ہینڈل کیا گیا ہے‘۔

    تاہم اس کے بعد عدالت نے عمران خان کی ضمانت 28 مارچ تک منظور کردی گئی ہے۔

  4. بریکنگ, میری الیکشن کیمپین متاثر ہورہی ہے، اس سے پہلے کسی سیاسی رہنما پر ایسا حملہ نہیں ہوا: عمران خان کا عدالت میں موقف

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئر مین عمران خان لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہو گئے ہیں۔

    عمران خان کی جانب سے پہلے ہونے والی سماعت دو رکنی بنچ سماعت کر رہا ہے۔ اس بنچ کی سربراہی جسٹس طارق سلیم شیخ کررہے ہیں اور ساتھ میں دوسرے ممبر فاروق حیدر ہیں۔

    فواد چوہدری دلائل پیش کررہے ہیں۔ عدالت کو بتارہے ہیں کہ ’اب تک متعدد ایف آئی آر درج ہوچکی ہیں۔ اور ہر پیشی ہر پہنچنا ممکن نہیں ہے کیونکہ عمران خان کی جان کو خطرہ ہے۔ ‘

    [عمران خان نے عدالت کو بتایا ’میری الیکشن کیمپین متاثر ہورہی ہے۔ اس سے پہلے کسی سیاسی رہنما پر ایسا حملہ نہیں ہوا ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا ’آپ نے (یعنی عدالت)نےہمیں بچا لیا ہے۔‘

    انھوں نے عدالت کو بتایا ’وزارتِ داخلہ کہہ رہی ہے کہ میری جان کو خطرہ ہے۔ اور پھر مجھے کہا گیا کہ مجھے ایف ایٹ کچہری جانا ہے۔ تو میں نے گزارش کی کہ مجھے سکیورٹی دیں۔ میں نے ساری زندگی قانون نہیں توڑا اور میں قانون کی بالادستی پر یقین رکھتا ہوں۔‘

    انھوں نے کہا ’ایک کیس میں ضمانت ہوتی ہے، دوسرا کیس بنا دیتے ہیں۔‘

    ان کا کہنا تھا ’سینچری پوری ہونے والی ہے، یہ پہلی نان کرکٹ سینچری ہوگی میرے خلاف‘۔

    عمران خان
  5. بریکنگ, عمران خان لاہور ہائی کورٹ میں پہنچ گئے

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئر مین عمران خان لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہو گئے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں ان کے خلاف قائم نو مقدمات کے سلسلے میں حفاظتی ضمانتوں پر سماعت ہونی ہے۔

    سماعت ابھی شروع نہیں ہو سکی ہے۔

    عمران خان کی گاڑی کو ہائی کورٹ کے احاطے میں گاڑی لانے کی اجازت دی گئی ہے۔

    عمران خان کی گاڑی کافی دیر تک احاطہ عدالت میں کھڑی رہی کیونکہ کارکنوں کے رش کی وجہ سے وہ گاڑی سے باہر نہیں آ پا رہے تھے۔

  6. شیخ مجیب الرحمان کے پاکستان کی جیل میں گزرے دن اور انار خان

  7. محمد اقبال: وہ شخص جس کی زمان پارک میں موجودگی پر مخالف عمران خان پر تنقید کر رہے ہیں

  8. حکومت عمران خان سے ایسے ڈیل کرے جیسے دہشت گردوں سے ڈیل کرتے ہیں: مریم نواز

    مریم نواز

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    مسلم لیگ ن کی رہنما کا لاہور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عمران کو وہ چاہتی ہیں کہ عمران حان کو گرفتار کرنے کے بعد عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کروایا جائے۔

    انھوں نے کہا چونکہ ’عمران خان کی اصل بیساکھیاں چلی گئیں تو یہ کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے سہولت کاروں کی باقیات اب بھی موجود ہیں جن پر ہم نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

    مسلم لیگ ن کی رہنما کا کہنا تھا کہ ’جس طرح ریاست دہشت گردوں سے ڈیل کرتی ہے۔ اس طرح عمران خان سے ڈیل کرنا چاہیے۔ اسے سیاسی جماعت کی حیثیثت سے ختم کرنے کی ضرورت ہے۔‘

    ’انھیں پکڑنا پانچ منٹ سے زیادہ کا کام نہیں ریاست کی کمزوری صرف نہتے عوام ہیں۔‘

    تاہم عمران خان کی جانب سے گرفتاری روکنے کے لیے کی جانے والی مزاحمت پر ان کا کہنا تھا ’زمان پارک میں جو ہو رہا ہے وہ ایسا ہے جو کچھ میں چوروں ڈاکوووں کو پکڑنے جاتے ہیں تو پولیس پر حملہ کیا جاتا ہے۔ ‘

    مریم نواز بے الزام عائد کیا کہ عمران خان نے کالعدم تنظمیوں کے کارکنوں اور دہشت گردوں کی مدد سے پولیس پر حملے کیے۔

    انھوں نے کہا ’کالعدم تنظموں کے لوگوں کو زمان پارک میں رکھا گیا تاکہ اگر ریاست پر حملے کی ضرورت پڑے تو تربیت یافتہ دہشت گردوں کا استعمال کیا جائے۔‘

    مریم نواز کا کہنا تھا کہ ’میں کہتی ہوں اسے گرفتار نہ کیا جائے۔ اسے عدالت میں پیش کیا جائے اور مقدمات چلائیں جائیں۔ ‘

    انھوں نے عدالت کی جانب سے عمران خان کو گرفتار نہ کرنے حکم پر کہا ’مجھے بتائیں کہ یہ سہولت کتنے پاکستانیوں کو میسر ہے‘۔

  9. عدالت میں پیشی کے موقع پر عمران خان کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے: شبلی فراز

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد تحریکِ انصاف کے رہنما شبلی فراز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کی ضلعی عدالت میں پیشی کے موقع پر عمران خان کو فول پروف سکیورٹی فراہم کی جائے اور انھیں بحفاظت عدالت میں پیش کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے۔ شبلی فراز کا یہ بھی کہنا تھا کہ لاہور میں زمان پارک میں آپریشن کے دوران پی ٹی آئی کے ہزاروں کارکنان زخمی ہوئے اور انھیں زخمی کرنے کی ذمہ دار حکومت ہے۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھی اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اور اسلام آباد پولیس کو عمران خان کو سکیورٹی مہیا کرنے کے لیے اقدامات کرنے کا حکم دیا ہوا ہے۔

  10. بریکنگ, اسلام آباد ہائی کورٹ کا عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم، اگر پیش نہ ہوئے پھر ’توہین عدالت کی کارروائی ہو گی‘

    عمران خان

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں عمران خان کی وارنٹ منسوخی یا معطلی کی درخواست پرسماعت کے بعد عدالت نے پولیس کو عمران خان کو گرفتار کرنے سے روک دیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی۔

    عمران خان کی جانب سے وکیل خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ درخواست پر لگا بائیومیٹرک اعتراض دور کر دیا گیا ہے۔

    انھوں نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان خود رضاکارانہ طور پر عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں، انڈرٹیکنگ نہ صرف موجود ہے بلکہ ہم نے ایک اور درخواست بھی دی ہے،۔‘ خواجہ حارث نے عدالت کو بتایا کہ ’ہم نے ایڈمنسٹریشن کو سکیورٹی فراہم کرنے کا بھی کہا ہے، انڈرٹیکنگ کے ساتھ ایسے اقدامات بھی کیے جس سے پتہ چلے کہ عمران خان پیش ہونا چاہتے ہیں۔‘

    اس پر چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ’قانون کے سامنے سب برابر ہیں۔‘

    چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’اب آپ عدالت میں پیش ہونا چاہتے ہیں اور یقین دہانی کرا رہے ہیں؟ یہ جان لیں کہ یہ انڈرٹیکنگ عدالت کے سامنے بیان کے مترادف ہے، اگر اس کی خلاف ورزی کی گئی تو اس کے نتائج ہوں گے۔‘

    چیف جسٹس نے متنبہ کیا کہ ’اگر خلاف ورزی کی گئی تو پھر توہین عدالت کی کارروائی ہو گی۔‘

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی گرفتاری سے روک دیا ہے اور کہا ہے کہ ’عمران خان کو کل عدالت پیش ہونے کا موقع دیا جائے۔عمران خان کل عدالتی اوقات کے دوران ٹرائل کورٹ میں پیش ہو جائیں۔ ‘

    عدالت نے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن اور اسلام آباد پولیس کو ہدایات کیں کہ وہ عمران خان کو پیشی کے موقع پر سکیورٹی مہیا کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

  11. عمران خان لاہور ہائیکورٹ کے لیے روانہ

    تحریکِ انصاف کے سربراہ لاہور ہائیکورٹ میں پیشی کے لیے زمان پارک سے روانہ ہوئے ہیں۔

    عمران خان کو نو مقدمات میں اپنی حفاظتی ضمانتوں کے معاملے میں لاہور ہائیکورٹ نے طلب کیا ہے۔

    عدالت نے ایس ایس پی آپریشنز کو عمران خان کوعدالت تک پہنچانے کی ہدایت کی ہے۔

    وقت کی کمی کے پیش نظر تحریکِ انصاف کے وکلا کی جانب سے درخواست کے بعد عمران خان کو ساڑھے پانچ بجے عدالت پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

  12. بریکنگ, لاہور ہائی کورٹ کا عمران خان کو ساڑھے چار بجے پیش ہونے کا حکم

    لاہور ہائی کورٹ میں آج ہونے والی پہلی سماعت زمان پارک آپریشن کے بارے میں ہے اور یہ سنگل بنچ سنے گی جس میں جسٹس طارق سلیم شیخ شامل ہیں۔

    دوسری سماعت حفاظتی ضمانت پر ہے جو دو رکنی بنچ پر مشتمل ہے جس کے سربراہ طارق سلیم شیخ اور دوسرے ممبر جسٹس فاروق حیدر ہیں۔

    جج پی ٹی آئی اور پنجاب حکومت کے درمیان طے پانے والا معاہدہ پڑھ کر سنا رہے ہیں۔

    یہ معاہدہ پڑھ کر سنایا گیا، جس پر پی ٹی آئی کے وکلا نے بھی بحث کی۔

    لاہور ہائی کورٹ نے عمران خان کو ساڑھے چار بجے پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

  13. ’انتخابات کے لیے امن و امان کو خطرات درپیش ،فنڈز کی کمی کا سامنا ہے‘ خیبرپختونخوا حکام کی الیکشن کمیشن کو بریفنگ

    bbc

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چیف الیکشن کمشنرب سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں انتخابات سے متعلق اجلاس میں چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ، آئی جی خیبر پختونخوا اور الیکشن کمیشن کے سینئر افسران نے شرکت کی۔

    چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ ’صوبائی حکومت کو 19ارب کے مالی خسارے کا سامنا ہے جب کہ اسے صوبائی اسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کے لئے تقریباً 1.6ارب مزید درکار ہوں گے ۔ جس کو پورا کرنا صوبائی حکومت کے لئے مشکل ہے۔‘

    انھوں نے مزید بتایا کہ ’صوبہ کی امن وامان کی صورتحال مخدوش ہے اور پولیس کو الیکشن کے انعقاد کے لئے 56 ہزار نفری کی کمی کا سامنا ہے لہذا امن وامان کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی کہ آئندہ انتخابات پُر امن ہوں گے۔`

    حکام نے مزید بتایا کہ’انتخابات کے دوران پاک فوج اور ایف سی کی تعیناتی انتہائی ضروری ہے کیونکہ اکیلے پولیس انتخابات کے دوران امن وامان کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔‘

    چیف سیکرٹری نےبتایا کہ جنرل الیکشن 2013اور 2018کے دوران بھی پاک فوج نے خدمات سرانجام دی تھیں جس کی وجہ سے وہ انتخابات پُرامن ہوئے ۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2018 کے الیکشن کے وقت امن وامان کی صورتحال موجودہ حالات سے بہت بہتر تھی۔‘

    آئی جی پولیس خیبرپختونخوا نے الیکشن کمیشن کو بریف کیا کہ ’خیبرپختونخوا کی صورتحال بہت خراب ہے اور الیکشن صرف ایک دن کی سرگرمی نہیں ہے بلکہ الیکشن کے دوران پولیس کو انتخابی ریلیوں ، جلسوں اور سیاسی رہنماوں اور ان کی نقل وحمل کے دوران بھی سکیورٹی فراہم کرنا ہوتی ہے۔‘

    حکام کے مطابق اب اگر صوبائی اسمبلی کا الیکشن ہوتا ہے اور بعد میں قومی اسمبلی کا کروایا جاتا ہے تونہ صرف اخراجات دُگنے ہوں گے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ لاء انفورسنگ ایجنسنز کے لئے بھی خطرات بڑھ جائیں گے اور ووٹرز اورانتخابی عملہ کو بھی اس خطرناک صورتحال کا دسامنا ہو گا۔‘

    الیکشن کمیشن نے مذکورہ بریفنگ کے بعد کہا کہ الیکشن کمیشن کو صوبائی حکومت کی مشکلات کا ادراک ہے لیکن الیکشن کا پُرامن اور بروقت انعقاد بھی الیکشن کمیشن کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے ۔ کمیشن جلد اس سلسلے میں مناسب فیصلہ کرے گا۔

  14. بریکنگ, زمان پارک میں پولیس کی کارروائی سے متعلق معاہدہ طے پا گیا

    زمان پارک میں پولیس کی کارروائی سے متعلق پنجاب حکومت اور پاکستان تحریکِ انصاف کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    معاہدے کے مطابق تحریک انصاف ورانٹس کی تکمیل، سرچ ورانٹس کے لیے پولیس کے ساتھ تعاون کرے گی اور اس کے علاوہ جماعت کی جانب سے زمان پارک کے اردگرد ہنگامہ آرائی کے سلسلے میں 14 اور 15 مارچ کو درج ہونے والے مقدمات کی تفتیش میں بھی تعاون کیا جائے گا۔

    طے پانے والے معاہدے کے تحت فریقین نے فوکل پرسنز مقرر کیے ہیں۔ پولیس کی جانب سے ایس ایس پی عمران کشور فوکل پرسن ہوں گے جبکہ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ ذمہ داری شبلی فراز اور علی خان کو سونپی گئی ہے۔

    زمان پارک میں عمران خان کی گرفتاری کے لیے کیا جانے والا پولیس آپریشن روکنے کی درخواست پر سماعت کے دوران لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کو پنجاب حکومت کے ساتھ مل بیٹھ کر معاملہ حل کرنے کی ہدایت کی تھی اس سلسلے میں تحریکِ انصاف کے وفد نے جمعرات کو پنجاب کے حکام سے ملاقات بھی کی تھی۔

    یہ معاہدہ اب لاہور ہائیکورٹ میں جمع کروایا جائے گا جہاں اس معاملے کی سماعت وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہو چکی ہے۔

  15. بریکنگ, حفاظتی ضمانت کے لیے عمران خان کی درخواستوں کی سماعت کے لیے دو رکنی بینچ مقرر

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے نو مقدمات میں حفاظتی ضمانت دیے جانے کی درخواست کی سماعت لاہور ہائیکورٹ کا دو رکنی بینچ کرے گا۔

    جسٹس طارق سلیم شیخ اور جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل بنچ کچھ دیر میں اس معاملے کی سماعت کرے گا۔

    تحریکِ انصاف کے مطابق عمران خان حفاظتی ضمانت کی درخواستوں کے سلسلے میں خود لاہور ہائیکورٹ میں پیش ہوں گے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان کی نو مقدمات میں حفاظتی ضمانت کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی تھی جس کی سماعت کچھ دیر میں ہوگی اور اس پر عمران خان کی آج عدالت پیشی متوقع ہے۔

    تحریک انصاف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سابق وزیر اعظم آج حفاظتی ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ پیش ہوں گے جبکہ کل اسلام آباد پیشی کے حوالے سے بھی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

    خیال رہے کہ عمران خان کے خلاف ان نو میں سے پانچ مقدمات اسلام آباد میں جبکہ چار لاہور میں درج ہیں۔

    دوسری طرف اسلام آباد ہائیکورٹ میں توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی وارنٹ معطلی کی درخواست آج ہی سماعت کے لیے مقرر کر لی گئی ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی جانب سے سابق وزیر اعظم کے خلاف درج مقدمات کی تفصیل فراہمی کی درخواست پر سماعت کچھ دیر میں ہوگی۔

  16. حفاظتی ضمانت کے لیے عمران خان کی آج لاہور ہائیکورٹ پیشی ممکن

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    نامہ نگار ترہب اصغر کے مطابق تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اپنی حفاظتی ضمانت کے لیے دو بجے کے بعد لاہور ہائیکورٹ میں خود پیش ہوسکتے ہیں۔

    عمران خان کی روانگی سے قبل کارکنان کو زمان پارک پہنچنے کی کال دی گئی ہے اور یہ ممکن ہے کہ کارکن عمران خان کی عدالت روانگی کے وقت ان کے ہمراہ ہوں۔

  17. پنجاب اور خیبر پختونخوا کے انتخابات کے لیے ن لیگ کا پارلیمانی بورڈ تشکیل

    پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد محمد نواز شریف اس پارلیمانی بورڈز کی سربراہی کریں گے جبکہ وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف بھی پارلیمانی بورڈز میں شامل ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. ’میں نے زمان پارک اتنا گندا اور بدبودار پہلے کبھی نہیں دیکھا‘

  19. لاہور ہائیکورٹ نے زمان پارک آپریشن روکنے کے حکم میں تین بجے تک توسیع کر دی

    لاہور ہائیکورٹ

    ،تصویر کا ذریعہLHC

    لاہور ہائیکورٹ نے زمان پارک آپریشن روکنے کے حکم میں آج تین بجے تک توسیع کی ہے۔

    آج جسٹس طارق سلیم کی عدالت میں زمان پارک کے باہر پولیس آپریشن روکنے سمیت دیگر درخواستوں پر سماعت ہوئی ہے۔

    اس موقع پر رہنما پی ٹی آئی فواد چوہدری نے بتایا کہ ان کی جماعت پیر کو لاہور میں جلسہ کرے گی۔ ’ہم نے کل آئی جی پنجاب سے ملاقات کی اور تین ایشوز پر بات کی۔ پولیس عمران خان کو سکیورٹی دینے کے لیے تیار ہے۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ سکیورٹی دینا ہمارا فرض ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم عدالت کی اتوار کے روز جلسے منسوخ کرنے کے حکم کا احترام کرتے ہیں۔ ہم عمران خان کی حفاظتی ضمانت دائر کر رہے ہیں۔ آئی جی پنجاب سے درخواست ہے کہ ہمارے کارکنان کو گرفتار نہ کرے۔‘

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے کہ ’میں پولیس کو کارروائی سے نہیں روکوں گا۔ اگر آپ کی طرف سے زیادتی ہوئی ہے اس میں مداخلت نہیں کروں گا۔ کیمرے لگے ہیں، پولیس تفتیش کر لیں جس کا قصور ہے اس کو قانون کے مطابق دیکھیں۔‘

    عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’آپ کی ساری باتوں میں ایک لیگل ایشو ہے۔ معاملہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور ٹرائل کورٹ میں ہے۔ اس سٹیج پر ہم کیسے حفاظتی ضمانت سن سکتے ہیں۔‘

    عمران خان کے وکیل نے کہا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ عمران خان حفاظتی ضمانت کے لیے آپ کے پاس آئیں‘ جس پر جسٹس طارق سلیم شیخ نے کہا کہ ’ہو سکتا ہے وہ کیس میرے پاس نہ بھی آئے۔‘

    آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ’ہم نے کسی علاقے کو نو گو ایریا نہیں بنانا‘ جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’یہ مسائل اس لیے ہو رہے ہیں، ہم قوائد پر نہیں ہیں۔ صرف رولز کو فالو کریں۔ جلسے سے پہلے آپ درخواست دیں گے۔‘

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ریمارکس دیے کہ ’کینٹیرز لگانا مناسب نہیں، یہ ہمیں ایکسپورٹ کے لیے استعمال کرنے چاہیے۔ آپ جو بھی چاہتے ہیں اس کے طریقہ کار سے کریں اور باقاعدہ درخواست دیں۔‘

    وکیل خواجہ طارق رحیم نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان ’کچھ دیر بعد آپ کے سامنے پیش ہو رہے ہیں۔‘

    ’عدالت جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کی اجازت دے‘

    سماعت کے دوران ایک موقع پر آئی جی پنجاب نے عدالت سے استدعا کی کہ ’کیا ہمیں جائے وقوعہ پر جا کر شواہد اکٹھے کرنے کی اجازت ہے۔ کیا ایس ایس پی یا ڈی آئی جی آپریشنز کو جائے وقوعہ پر جانے کی اجازت ہے۔ عدالت یہ حکم جاری کر دے تاکہ ہم جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرسکیں۔‘

    آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ’سرچ وارنٹ آنے کے بعد ہمیں قانونی کارروائی کی اجازت ہونی چاہیے۔ اگر سرچ وارنٹ آتا ہے تو ہم ان کی (پی ٹی آئی کی) کمیٹی سے بات کریں گے اور انھیں عملدرآمد کی ہدایت کی جائے۔‘

    عدالت نے بتایا کہ ’قانون میں آپ کے تمام تحفظات کا حل موجود ہے۔ جو مہذب دنیا میں ہوتا ہے، معاملہ عدالت کے سامنے لایا جائے۔‘

    آئی جی پنجاب نے کہا کہ ’اگر ہمیں سرچ وارنٹ کی تعمیل کرانی ہے تو اس پر بھی عدالت حکم جاری کرے۔‘ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ’پولیس کو قانونی معاملات پورے کرنے کے لیے زمان پارک تک رسائی نہیں ہے۔‘

    آئی جی پنجاب نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ ’میرٹ پر تفتیش ہوگی، کسی بے گناہ کو ملوث نہیں کریں گے۔ میں گارنٹی دیتا ہوں، انتقامی کارروائی نہیں ہوگی۔‘

    آج تین بجے تک سماعت ملتوی کرتے ہوئے عدالت نے زمان پارک آپریشن روکنے کے حکم میں تین بجے تک توسیع کی ہے۔ جبکہ عدالت نے زور دیا کہ ’فریقین آپس میں بیٹھ کر حل نکالیں۔‘

  20. مذاکرات کے لیے تاریخ اور مقام دیں، فواد چوہدری کا حکومت سے مطالبہ

    تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان مذاکرات کی حمایت کر چکے ہیں لہذا بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تاریخ اور مقام طے کیے جائیں۔

    انھوں نے ٹوئٹر پر پیغام میں کہا کہ ’(وزیر قانون) اعظم نذیر تارڑ روز بیان دے رہے ہیں کہ مل کر بیٹھیں اور مسائل کا حل کریں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی بات چیت کا کہا ہے۔

    ’اس عمل کو بیان سے آگے بھی بڑھائیں اور جماعتوں کو ملنے کی تاریخ اور مقام دیں۔ عمران خان پہلے ہی مذاکرات کی حمایت کر چکے ہیں۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام