عمران خان کا چیف جسٹس سے ’جوڈیشل کمپلیکس میں قتل کی سازش‘ پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ
سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس کو لکھے خط میں ’قتل کی سازش، بربریت اور ریاستی دہشتگردی‘ کے واقعات کی جامع تحقیقات کی استدعا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہر عدالتی پیشی پر میں اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہوں۔‘
لائیو کوریج
اشتعال انگیزی میں ملوث 60 افراد کو گرفتار کر کے مجاز عدالت میں پیش کر دیا: اسلام آباد پولیس
اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے کہا ہے کہ سنیچر کو عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس پیشی کے موقعے پر تحریک انصاف کے مظاہرین کے پولیس پر حملے کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی اسلام آباد میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق پولیس نے اشتعال انگیزی میں ملوث 60 افراد کو گرفتار کرکے مجاز عدالت میں پیش کردیا ہے اور مزید گرفتاریوں کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔
اس قسم کی سوچ اور تشدد پہلے کسی دور میں نہیں دیکھا: شاہ محمود قریشی
پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بہت سے کارکنان گرفتار ہوئے، ہمارے رہنما زخمی ہوئے، ایک ایم این اے امجد خان نیازی پر تشدد ہوا۔ شبلی فراز اور دیگر پارلیمنٹیرینز کے ساتھ نارروا سلوک روا رکھا گیا۔
شاہ محمود قریشی کے مطابق انھوں نے بڑے بڑے ادوار دیکھے ہیں مگر اس کی قسم کی سوچ اور اس قسم کا تشدد پہلے نہیں دیکھا ہے۔
انھوں نے کہا کہ جو پولیس نے کل زمان پارک میں کیا ہے اب تحریک انصاف ان پولیس افسران اور اہلکاروں کے خلاف قانونی رستہ اختیار کرنے کا سوچ رہی ہے۔
شاہ محمود کے مطابق مریم نواز نے تحریک انصاف پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ وہ چاہتے کیا ہیں۔ ان کے مطابق تحریک انصاف معاملات کو سیدھا کرنا چاہتی ہے جبکہ یہ کسی اور طرف حالات کو لے کر جا رہے ہیں۔
پولیس اہلکار پر تشدد، ایلیٹ فورس کی گاڑی تباہ کرنے کے الزام میں لاہور میں دو مقدمات
،تصویر کا ذریعہEPA
پولیس نے زمان پارک آپریشن میں رکاوٹ ڈالنے پر تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنان کے خلاف دو مقدمات درج کیے ہیں۔
پولیس کے مطابق ایک مقدمہ تشدد کا شکار کانسٹیبل شفیق کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ ’پی ٹی آئی کے چالیس کارکنوں نے ڈیوٹی سے واپس جاتے انھیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
جبکہ دوسرا مقدمہ ایلیٹ فورس کی گاڑی تباہ کر کے نہر برد کرنے پر درج کیا گیا جو کہ ایلیٹ فورس اہلکار کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
پولیس کے مطابق دونوں مقدمات میں دہشت گردی، اقدام قتل، ڈکیتی سمیت سنگین دفعات لگائی گئیں ہیں۔
’عمران خان کے گھر سے پولیس والوں کے سر توڑنے کے تمام ہتھیار نکلے‘
مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ ’عمران خان کے گھر سے کل کلاشنکوف، پیٹرول بم، اسلحہ، بنٹے، غلیلیں، دہشت گرد اور اسلحہ نکلا۔ یہ کسی سیاسی جماعت کے قائد یا لیڈر کا گھر ہے یا کسی دہشت گرد کے مورچے کی تصویریں ہیں۔‘
اتوار کے روز لاہور میں اپنی پریس کانفرنس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے گھر سے پولیس والوں کے سر توڑنے کے تمام ہتھیار نکلے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے حکم پر عمران خان کے گھر کے لیے یہ سرچ وارنٹ نکلا ہے اور یہ تمام چیزیں زمان پارک کے اندر سے برآمد ہوئی ہیں۔
انھوں نے عمران حان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان آپ کو چار دیواری کے تقدس کا پتہ بھی ہے؟ پہلے ہم ان کو سیاسی دہشت گرد کہتے تھے مگر یہ تو دہشت گرد ہیں۔‘
مریم اورنگزیب کا دعوی تھا کہ عمران خان عدالتوں میں پیش ہونا ہی نہیں چاہتے تھے کہ ان پر فرد جرم نہ لگ جائے، اسی لیے کل ہنگامہ کیا گیا۔
یہ سیاسی کارکن نہیں، تربیت یافتہ دہشتگرد ہیں: مریم نواز
مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر مریم نواز نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے بعض لوگ ’سیاسی کارکن نہیں بلکہ کالعدم تنظیموں کے تربیت یافتہ دہشتگرد ہیں جنھیں ہمیشہ عمران خان کی حمایت حاصل رہی ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’ریاست کو حرکت میں آنا ہے ورنہ بہت دیر ہوجائے گی۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, جوڈیشل کمپلیکس میں ہنگامہ آرائی: عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے 17 رہنماؤں پر مقدمہ درج
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت پارٹی کے 17
رہنماؤں پر جوڈیشل کمپلیکس پر ہنگامہ آرائی کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان
پہنچانے پر دہشتگری کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔
عمران
خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں پر مقدمہ ایس ایچ او تھانہ رمنا کی مدعیت میں درج کیا
گیا۔
عمران
خان سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف درج مقدمے کے متن میں کہا گیا ہے کہ عمران خان
سنیچر کی سہ پہر 3:30 پر ہجوم کے ہمراہ جوڈیشل کمپلیکس پہنچے۔ ان کے ہمراہ آنے والے
ہجوم نے پولیس پر پتھراؤ کیا۔
مقدمے
میں دہشتگردی، کارِ سرکار میں مداخلت، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے سمیت دیگر
دفعات شامل ہیں۔
مقدمے
میں عمران خان کے علاوہ پی ٹی آئی کے رہنما علی نواز اعوان، عامر محمود کیانی، اسد
قیصر، فرخ حبیب کو نامزد کیا گیا ہے۔ جبکہ
اسد عمر، عمر ایوب، جمشید مغل، علی امین گنڈا پور، احسان خان نیازی، محمد عاصم اور
شبلی فراز کے نام بھی مقدمہ میں شامل ہیں۔
مقدمے
کے متن میں کہا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان نے جوڈیشل کمپلیکس کا گیٹ توڑ کر اندر
داخل ہونے کی کوشش کی۔ کارکنان نے جوڈیشل کمپلیکس کو چاروں اطراف سے گھیر لیا اور
پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا۔
مقدمے
میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان نے جلاؤ گھیراؤ کیا، پولیس اہلکاروں سے اینٹی
رائیٹ کٹس چھینی گئیں۔جی الیون پر واقعہ پولیس چیک پوسٹ کو آگ لگائی گئی، اور تھانہ
گولڑہ کے ایس ایچ او کی سرکاری گاڑی کو توڑا گیا اور سرکاری گاڑی سے 9 ایم ایم پستول،
سرکاری وائرلس اور 20000 روپے چوری کر لیے گئے۔
مقدمے
میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کارکنان نے جوڈیشل کمپلیکس کی دیوار پر آہنی باڑ
کو توڑا۔پی ٹی آئی کارکنان نے پارکنگ ایریا میں کھڑی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو
توڑا اور جلایا۔
اس
کے علاوہ مقدمے میں پی ٹی آئی کارکنوں کی جانب سے پیٹرول بم سے بھی پولیس اہلکاروں
پر حملہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مقدمے
میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے 38 پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا اور ان سے پتھر
اور پولیس پر حملے میں استعمال مواد برآمد کر لیا گیا ہے۔
تحریک انصاف نے منگل کو مینار پاکستان میں جلسے کے لیے درخواست دے دی
تحریک انصاف کی جانب سے مینار پاکستان پر جلسے کے لیے سکیورٹی کلیئرنس کی درخواست پی ٹی آئی کے وکلاء ونگ کی طرف سے جمع کروائی گئی ہے۔
،تصویر کا ذریعہPTI
واضح رہے کہ لاہور کی ضلعی انتظامیہ پہلے بھی جلسے کی اجازت دینے سے معذرت کر چکی ہے۔
اس سے قبل عمران خان کی جانب سے 19 مارچ کو مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان کیا گیا تھا۔
دوسری جانب زمان پارک میں عمران خان کے گھر کے سامنے آج کارکنان موجود ہیں جو اپنی مدد اپ کے تحت وہاں کی صفائی کا کام بھی کررہے ہیں۔
کینال روڈ پر بھی تحریک انصاف کے کارکن گرین بیلٹ پر موجود ہیں جنھوں نے ہاتھوں میں تحریک انصاف کے جھنڈے اٹھا رکھے ہیں۔
بریکنگ, عمران خان آج 3 بجے قوم سے خطاب کریں گے: تحریک انصاف
،تصویر کا ذریعہAFP
تحریک انصاف کےمطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان آج قوم سے اہم خطاب کریں گے۔ پی ٹی آئی کے مطابق عمران خان کا خطاب اتوار کی سہہ پہر تین بجے براہ راست دکھایا جائے گا۔
واضح رہے کہ عمران خان نے ہفتہ کی رات اسلام آباد سے واپسی پر خطاب کرنا تھا تاہم عمران خان نے اپنا خطاب آج سہہ پہر تک کے لیے موخر کردیا تھا۔
اگر عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو اس سے سیاسی فائدہ کس کو ہوگا؟
’پولیس کی کل 12 گاڑیوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا، 2 گاڑیاں اور 2 موٹر سائیکلیں مکمل جل گئیں:اسلام آباد پولیس
اسلام آباد پولیس نے ہفتے کے روز جیوڈیشل کمپلیکس میں عمران خان کی پیشی کے دوران تحریک انصاف کے کارکنان کے ساتھ تصادم میں زخمیوں اور گاڑیوں کو پہنچائے جانے والے نقصان کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق ’ہفتہ کے روز تحریک انصاف کے کارکنان کے پولیس پر پتھراو،ٹیئر گیس گنوں سے شیل فائر کرنے کے ساتھ پیٹرول بموں سے بھی حملے کیے گئے۔
پولیس کے بیان کے مطابق ’پرتشدد حملوں کے نتیجے میں افسران سمیت کل 53 پولیس اہلکارزخمی ہوئے۔‘
،تصویر کا ذریعہISB police
پولیس کے مطابق ’ذیادہ تر پولیس اہلکاروں کی ناک، کمر بازووں ٹانگوں اور پیروں پر چوٹ آئی جبکہ چند ایک کو شدید چوٹ کے باعث فریکچرز بھی ہوئے۔‘
رپورٹس کے مطابق بہت سے پولیس اہلکاروں کو گیس کی وجہ سے سانس میں دقت کے باعث بھی ہسپتال لایا گیا۔
’ہنگامہ ارائی کے دوران اسلام آباد پولیس کی کل 12 گاڑیوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا جس میں دو گاڑیاں اور دو موٹر سائیکلیں ایسی ہیں جنھیں مکمل جلا دیا گیا۔‘
پولیس کے مطابق پنجاب پولیس کی تین گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔
غیر قانونی آپریشن میں ملوث تمام پولیس افسران کے خلاف پرچے درج کروا رہے ہیں: فواد چوہدری رہنما تحریک انصاف
تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ کہا ہے کہ ’جس طرح لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو ہوا میں اڑا کرعمران خان کی رہائش گاہ میں پولیس داخل ہوئی اس سے چادر اور چار دیواری کے ہر اصول کو پامال کیا گیا۔‘
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’اس دوران چوری کی گئی، جوس کے ڈبے تک اٹھا کر لے گئے،معصوم لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔‘
انھوں نے اعلان کیا ’آج قانونی ماہرین کی ٹیم بلائی ہے۔ تمام پولیس آفیسرز جنھوں نے غیر قانونی آپریشن کیا اور تشدد میں ملوث ہوئے ان پر پرچے درج کرا رہے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
فواد چوہدری نے مزید کہا ’ تمام واقعات پاکستان میں جاری آئینی بحران کا شاخسانہ ہیں، عدالتی احکامات کو ہوا میں اڑانا ناقابل معافی ہے ہائیکورٹ اپنے فیصلوں کا پہرہ دیں۔‘
پی ٹی آئی کارکنان کے پتھراؤ سے 52 اہلکار زخمی، چار گاڑیاں جل گئیں: اسلام آباد پولیس
اسلام آباد پولیس کے مطابق پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس پیشی پر ’مشتعل کارکنوں کی اسلام آباد کیپیٹل پولیس اور دیگر معاون فورسز کے اہلکاروں پر پتھراؤ سے 52 اہلکار زخمی ہوئے۔‘
’اسلام آباد پولیس کی 12 اور پنجاب پولیس و ایف سی کی تین گاڑیوں کو نقصان پہنچا جن میں سے اسلام آباد پولیس کی چار گاڑیاں مکمل طور پر جل گئیں۔‘
آئی جی اسلام آباد نے اس مد میں ہونے والے نقصان کا جلد از جلد تخمینہ لگانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
رانا ثنا اللہ کا زمان پارک آپریشن کا دفاع: ’گھر کے اندر بھی ناجائز اسلحے، ممنوعہ چیزوں کا شبہ ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے لاہور میں تجاوزات ہٹانے اور پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاریوں کے لیے کیے گئے زمان پارک آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پولیس اور دیگر لا انفورسنگ ایجنسیز نے زمان پارک سے نو گو ایریا ختم کرا لیا ہے۔‘
گذشتہ شب اپنی پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ ’سرچ آپریشن کے دوران عمران خان کے گھر کے باہر کے حصے سے ناجائز اسلحہ برآمد ہوا ہے۔
’غلیلیں، پیٹرول بم بنانے کا سامان برآمد ہوا ہے اور یہ ساری چیزیں لا انفورسنگ ایجنسیز کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’زمان پارک سے جو کچھ ملا ہے اس کے بعد مزید کچھ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔ کسی تنظیم کو دہشتگردی کی بنیاد یا ان حرکتوں کی بنیاد پر جو اس کی سامنے آئی ہیں کالعدم قرار دلوانے کے لیے پراسس ہے وہ ایک عدلیہ کا پراسس ہے۔
’ہماری لیگل ٹیم اور حکومت کو دیکھنا ہوگا اس پراسس میں کامیابی کے کیا امکانات ہیں۔ کیا وہ ریفرنس بھجوانے کے لیے کافی ہیں۔‘
رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ ’سرچ وارنٹ پر عمران خان کے گھر کے بیرونی حصے کی تلاشی لی گئی۔‘
’پولیس سرچ وارنٹ ہونے کے باوجود رہائشی پورشن جہاں ان کی اہلیہ محترمہ موجود تھیں اس ایریا میں داخل نہیں ہوئی۔ جو گھر کے اندر کے لیے سرچ وارنٹ موجود ہے اس پر بھی تعمیل کی جائے گی اور اس ایریا کو بھی سرچ کرائیں کیونکہ ہمیں شبہ ہے کہ وہاں پر بھی ناجائز اسلحہ اور ممنوعہ استعمال کی چیزوں کا کافی ذخیرہ موجود ہے۔‘
ان کا الزام تھا کہ عمران خان کے گرد ’جو لوگ جمع ہیں ان کو خود نہیں پتہ کون کہاں سے آیا ہے اور یہ خود بھی دہشتگردوں کو گھر پر رکھتے ہیں۔‘
’عمران خان کو آج بھی غیر معمولی ریلیف مل رہا ہے‘
انھوں نے طنز کیا کہ ’یہ لا انفورسنگ ایجنسیز پر پتھر برسا رہا ہے لیکن اسے تھوک کے حساب سے ضمانت قبل از گرفتاری کا ریلیف دیا جا رہا ہے۔‘
’میں جن جنات پر یقین نہیں رکھتا لیکن عمران خان کو غیر معمولی ریلیف ملتا رہا ہے اور آج بھی ملا ہے، یقین دلاتا ہوں اس کو غیر معمولی ریلیف ملنا بند ہوجائے یہ ہفتے میں نہیں دنوں میں سیدھا ہو جائے گا۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’یہ بزدل انسان ہے، تحریک چلاتا ہے جیل بھرو کی لیکن خود جیل سے اتنا خوفزدہ ہے جس دن گرفتار ہوا مجھے لگتا ہے اسی وقت اسے اٹیک ہو جائے گا۔‘
ایک رجحان ساز ریڈیولوجسٹ کی کہانی: وسعت اللہ خان کا کالم
پیمرا کے ذریعے ہماری آواز دبانے کی کوشش کی مذمت کرتا ہوں: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے پیمرا کے ذریعے ہماری آواز دبانے کی کوشش کی مذمت کرتا ہوں۔
ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت
کی جانب سے پیمرا کے ذریعے ٹی وی چینلز پر ہم پر غیر قانونی پابندی اور ہماری آواز
کو دبانے کی کوشش کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔ یہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔
اب
میڈیا کو مزید دباؤ میں لانے کے لیے پیمرا نے ایک اور نوٹس جاری کیا ہے جس میں ٹی
وی چینلز پر پہلے کے نوٹس کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ فاشزم کی بدترین
صورت ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
20 سے زائد پولیس اہلکار زخمی، انسپکر جنرل پولیس کی پمز میں زخمیوں کی عیادت
اسلام آباد پولیس کے مطابق آج تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان کی توشہ خانہ کیس میں جوڈیشل کمپلیکس پیشی کے موقع پر پی ٹی آئی مظاہرین کی طرف سے پولیس پر شدید پتھراﺅ، پٹرول بموں سے حملہ اور ٹئیر گیس گنوں سے شیل فائر کرنے کی وجہ سے ایس ایس پی آپریشنز، ایس پی صدر سمیت 20 سے زائد پولیس اور ایف سی اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔
زخمیوں میں ایس ایس پی آپریشنز ملک جمیل احمد ، ایس پی صدر نوشیروان علی، ایس پی رورل حسن جہانگیر، ایس پی پلان اینڈ پٹرول ڈاکٹر سمیع ملک بھی شامل ہیں۔
پولیس کے مؤقف کے مطابق مظاہرین کی طرف سے پولیس پر چاروں اطراف سے شدید حملہ کیا گیا جس میں شرپسند مظاہرین نے 25 سے زائد موٹر سائیکلوں اور چار پولیس گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی اور توڑ پھوڑ کی۔
مشتعل مظاہرین نے پولیس چوکی اور درختوں کو بھی آگ لگا دی اور لگاتار پولیس پر چاروں اطراف سے حملہ کرتے رہے۔ اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے عمران خان کی پیشی کے سلسلہ میں عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کرتے ہوئے جوڈیشل کمپلیکس میں فول پروف سکیورٹی انتظامات کیے تھے اور اسلام آباد پولیس، پنجاب اور ایف سی کے 4000 سے زائد افسران اور اہلکاروں کو ڈیوٹی پر تعینات کیا گیا۔
آئی جی اسلام آباد ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے جوڈیشنل کمپلیکس کا دورہ کیا اور تمام افسران و جوانوں کو الرٹ ہو کر ڈیوٹی دینے کی ہدایت کی تاکہ کسی بھی قسم کی ناگہانی صورتحال سے بچا جا سکے۔
آج میری زمان پارک رہائش گاہ پر پولیس کے دھاوے سے توہین عدالت ہوئی
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ’آج میری زمان پارک رہائش گاہ پر پولیس کے دھاوے سے توہین عدالت ہوئی ہے۔‘
ان کے مطابق ہم اس بات پر متفق ہوئے تھے ایک ایس پی ہمارے ایک آدمی کے ساتھ زمان پارک میں سرچ وارنٹ پر عملدرآمد کرائیں گے۔ کیونکہ ہمیں یہ پتہ تھا کہ وہ اپنی مرضی کی چیزیں اس میں ظاہر کریں گے، جو کہ انھوں نے کیا۔
عمران خان نے کہا کہ کس قانون کے تحت انھوں نے گیٹ توڑا اور درخت اکھاڑے؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
امید ہے کہ آج کی عدالتی پیشی کے بعد میں اپنی سنچری مکمل کر لوں گا: عمران خان
عمران خان نے آج اپنے ان کارکنان کا شکریہ ادا کیا ہے جو عدالتی پیشی کے موقع پر جوڈیشل کمپلیکس پہنچے۔ انھوں نے ایک بار پھر اپنا یہ خدشتہ دہرایا کہ حکومت انھیں گرفتار کر کے جیل بھیجنا چاہتی ہے۔
اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں عمران خان نے کہا کہ اس وقت تک ان کے خلاف 96 مقدمات قائم کیے جا چکے ہیں اور انھوں نے کہا کہ آج کی اپنی عدالتی پیشی کے بعد وہ اپنے ان مقدمات کی سنچری مکمل کر لیں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
حکومت پیمرا کے ذریعے ہماری آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے، سخت مذمت کرتا ہوں: عمران خان
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ حکومت نے ٹی وی چینلز پر غیرقانونی پابندی عائد کر کے پیمرا کے ذریعے ان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے، جس کی وہ سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
عمران خان کے مطابق حکومت کے یہ احکامات عدالت کے احکامات کی کھلی ورزی ہے۔ انھوں نے اس پابندی کو فاشزم سے تعبیر کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
زمان پارک کی بجلی بحال کردی گئی
تحریک انصاف کے کارکنان نے اپنی مدد آپ کے تخت زمان پارک کی بجلی کی بحالی کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ اس وقت کارکنان بڑی تعداد زمان پارک کے باہر پہنچ گئی ہے اور مزید کارکنان راستے بند ہونے کے باوجود زمان پارک پہنچ رہے ہیں۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اسلام آباد میں ایک عدالت کی پیشی کے بعد واپس لاہور روانہ ہو چکے ہیں۔