عمران خان کا چیف جسٹس سے ’جوڈیشل کمپلیکس میں قتل کی سازش‘ پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ

سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس کو لکھے خط میں ’قتل کی سازش، بربریت اور ریاستی دہشتگردی‘ کے واقعات کی جامع تحقیقات کی استدعا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہر عدالتی پیشی پر میں اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہوں۔‘

لائیو کوریج

  1. عمران خان کی پیشی، کنٹینرز، جھڑپیں، گاڑی سے لپٹے کارکنان اور قصہ گمشدہ فائل کا

  2. بریکنگ, عمران خان ملک میں انارکی اور فساد چاہتے ہیں، عوام ووٹ سے انھیں مائنس کرے: رانا ثنا اللہ

    Rana Sanaullah

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان ملک میں فساد اور انارکی پھیلانا چاہتے ہیں۔ یہ سیاستدان نہیں بلکہ فتنہ ہے اور عوام ووٹ کی طاقت سے انھیں مائنس کرے۔

    اسلام آباد میں سنیچر کی شام میڈیا کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ عمران خان آج توشہ خانہ کیس میں پیشی کے موقع پر تین سے چار سو افراد کے جتھے کے ساتھ پہنچے اور ان کے ساتھ کم از کم 100 افراد مسلح تھے۔

    آج جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہونے والے تصادم پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’عدالت کے باہر موجود پولیس نے عمران خان اور ان کے ساتھ گاڑی میں موجود افراد کو عدالت جانے کی اجازت دی لیکن عمران خان نے کہا میرے ساتھ آئے تمام لوگ عدالت جائیں گے۔‘

    وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ عدالت نے صرف چند افراد کو عدالت میں آنے کی اجازت دی تھی۔

    انھوں نے عدلیہ سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ماضی میں بھی عدلیہ کی جانب سے ریلیف ملتا رہا ہے اور آج بھی خصوصی ریلیف ملا ہے۔

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عدالت کو یہ حکم دینا چاہیے تھا کہ گاڑی سے اتر کر پیش ہو، ایسا ہونا ضروری تھا تاکہ اس قسم کے واقعات کو مزید نہ پنپنے دیا جائے، انتہائی افسوس ہے کہ انہیں گاڑی میں ہی حاضری لگوانے کی سہولت دی گئی

    انھوں نے کہا کہ ’عمران خان ایک بزدل شخص ہے اگر عدلیہ ان کو ایکسٹرا ریلیف نہ دے تو یہ دنوں میں ٹھیک ہو جائیں گے۔‘

    وزیر داخلہ نے کہا کہ عدالتوں کا احترام ہے لیکن عدلیہ کے اس رویے نے عمران خان کے رویے کو تقویت دی ہے۔

    زمان پارک میں پولیس چھاپے پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ان کی رہائشگاہ کا سرچ وارنٹ ہونے کے باوجود صرف بیرونی حصے پر کارروائی کی اور جہاں ان کی اہلیہ موجود تھیں وپاں پولیس چھاپہ نہیں مارا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم کی تعمیل کروانے کے لیے جانے والوں کے سڑ پھاڑے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ زمان پارک سے گرفتار 65 افراد میں سے اکثریت کا تعلق پنجاب سے نہیں ہے، زمان پارک سے جو اسلحہ برآمد ہوا ہے وہ سارا ناجائز اسلحہ ہے۔

  3. عمران خان کی پیشی: دن بھر جوڈیشل کمپلیکس کے باہر کیا ہوا؟

  4. بریکنگ, توشہ خانہ کیس: عمران خان پر فرد جرم کی کارروائی مؤخر، سماعت 30 مارچ تک ملتوی, شہزاد ملک بی بی سی اردو

    اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان پر فرد جرم کی کارروائی مؤخر کرتے ہوئے مقدمے کی سماعت 30 مارچ تک ملتوی کر دی ہے۔

    عدالت نے عمران خان کے گرفتاری کے وارنٹ بھی منسوخ کر دیے ہیں اور کہا ہے کہ 30 مارچ کو عمران خان کو حاضر ہونا ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ ’30 مارچ کو عمران خان کی حاضری بھی ہوگی، وہ الگ بات ہے کہ اس وقت صورتحال کیا ہوگی۔‘

    اس پر عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ وہ اس روز حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کریں گے۔

    سیشن جج ظفر اقبال کے مطابق 30 مارچ کو کیس کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ آج سماعت کے دوران عمران خان کی حاضری کی دستاویز کے گم ہونے کا معاملہ بھی سامنے آیا جب عدالت کے استفسار پر یہ بات پتہ چلی کہ پولیس اور عمران خان کے وکلا دونوں میں سے کسی کے پاس بھی وہ فائل موجود نہیں ہے۔

    خواجہ حارث نے بی بی سی کو بتایا کہ جب فائل پر دستخط کروائے گئے تو اس وقت وہاں پر ان سمیت بیرسٹر گوہر اور شبلی فراز بھی موجود تھے۔ ان کے مطابق ایس پی ڈاکٹر سلیم نے ان سے یہ فائل لے لی تھی۔

    ایس پی کے مطابق چونکہ میری عمران خان کو عدالت لے جانے کی ڈیوٹی لگی ہوئی اور آگے شیلنگ بھی ہو رہی ہے، آپ یہ فائل مجھے دے دیں، میں لے کر جاتا ہوں۔

    ان کے مطابق اگر ہم نے دستخط نہیں کرنے تھے تو پھر ہمیں ادھر آنے کی کیا ضرورت تھی۔

  5. الیکشن کمیشن کے ماضی میں بھی مقدمات بنتے رہے، ایسے انہونے واقعات پہلے دیکھنے نہیں ملے: وزیرقانون

    وفاقی ` وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی شکایت اور ریفرنس کی بنیاد پر ماضی میں بھی متعدد مقدمات قائم ہوئے ہیں اور مختلف عدالتوں نے ان پر سماعت کی۔ ان کے مطابق متعدد رہنما بری ہوئے، کچھ کو سزائیں ہوئیں مگر اس طرح کے حالات پہلے کسی نے نہیں دیکھے۔

    ان کے مطابق یہ انہونے واقعات ہو رہے ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ کے مطابق ایک شخص اپنے لیے یہ سب کر رہا ہے۔

  6. مشتعل مظاہرین نے نو پولیس اہلکار زخمی کیے، 25 سے زائد موٹر سائیکل اور گاڑیاں جلائیں: اسلام آباد پولیس

    اسلام آباد پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کی طرف سے جوڈیشل کمپلیکس کے باہر شدید ہنگامہ آرائی کی گئی ہے۔

    بیان کے مطابق مظاہرین کی پتھراؤ سے نو پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں، جنھیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق مشتعل مظاہرین نے 25 سے زائد موٹر سائیکل اور گاڑیاں جلا دیں، پولیس کی ہم ڈسپوزل سکواڈ کی گاڑی کو بھی توڑپھوڑ دیا گیا۔

    بیان کے مطابق مشتعل مظاہرین نے پولیس چوکی، درختوں کو بھی آگ لگا دی اور پولیس پر پٹرول بموں سے حملہ کیا گیا۔

    پولیس کے مطابق ’مظاہرین کی طرف سے پولیس پر ٹئیر گیس شیلز چلائے گئے۔‘

    پولیس کے مطابق مزید تفصیلات بعد میں شئیر کی جائیں گی۔

  7. پولیس زمان پارک جانے نہیں دے رہی: پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کا کہنا ہے کہ لاہور پولیس نے زمان پارک جانے والے تمام راستوں کو بند کر رکھا ہے اور پولیس ہمیں آگے نہیں جا رہی۔

    انھوں نے ٹوئٹر پر اپنی ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ہم پیدل زمان پارک جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  8. توشہ خانہ ریفرنس: عدالتی کارروائی میں وقفہ، جوڈیشل کمپلیکس کے باہر کشیدگی برقرار

    عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس میں اس وقت وقفہ کر دیا گیا ہے۔ عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کو بتایا ہے کہ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر اس وقت محاصرے جیسی صورتحال ہے، جہاں اب نہ کوئی وکیل نکل سکتا ہے اور نہ جج۔

    ان کے مطابق عمران خان کی حاضری لگوانے کے لیے عدالت نے ایس ایس پی کو بھیجا تھا۔

  9. زمان پارک کے اندر پولیس نے آئی جی کی سربراہی میں ادھم مچایا: پرویز الٰہی

    تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الٰہی نے لاہور میں عمران خان کی زمان پارک رہائش گاہ جا کر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کون سی تجاوزات تھیں جو یہ ہٹانے آئے تھے۔

    ان کے مطابق یہاں عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ یہاں موجود تھیں، پولیس نے سرچ وارنٹ دکھانے سے انکار کر دیا ہے۔

    انھیں ذرا خواتین اور پردے کا لحاظ نہیں آیا۔ یہ کیا سمجھتے ہیں کہ یہ اسی طرح ہوتا رہے گا۔ ان کے مطابق ’ان پر توہین عدالت لگ سکتی ہے۔‘

    پرویز الٰہی کے مطابق ’سمجھتے ہے کوئی چیز پڑی ہے تو سرچ وارنٹ دکھاتے۔‘ ان کے مطابق عمران خان اور عورتوں کے کپڑے بکھرے ہوئے ہیں۔

    ان کے مطابق ہر گزرتے دن کے ساتھ عمران خان کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔ پرویز الٰہی نے کہا کہ ’یہ سب کچھ مریم نواز کے کہنے پر ہو رہا ہے۔‘

  10. مریم نواز کا عمران خان کی گاڑی میں حاضری پر طنز

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  11. بریکنگ, مجھے تنہا کر کے گرفتار کرنے کا ڈرامہ ہو رہا ہے: عمران خان, عثمان زاہد، پروڈوسر بی بی سی نیوز

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ ’انھوں (حکومت) نے فیصلہ کیا ہے ہوا پکڑنے کا، اور یہ سارا ڈرامہ ہو رہا ہے آئسولیٹ کر کے گرفتار کرنے کا۔‘

    بی بی سی کی طرف سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں کیوں واپس جاؤں، یہ مفرور قرار دے کر (گرفتاری کے) وارنٹ نکال دیں گے، میں جاؤں گا عدالت، واپس کیوں جاؤں۔‘

  12. بریکنگ, عدالتی حاضری کے بعد عمران خان جوڈیشل کمپلیکس کے باہر سے ہی واپس روانہ, سحر بلوچ بی بی سی اردو

    عمران خان حاضری لگوانے کے بعد واپس چلے گئے ہیں۔ عمران خان کو گرفتاری سے بچانے کے لیے تحریک انصاف کے سینکڑوں کارکنان عمران خان کی گاڑی کے قریب ہی آ گئے۔

    روانگی کے باوجود تحریک انصاف کے کارکنان اور پولیس میں جھڑپیں جاری ہیں۔ پولیس شیلنگ کر رہی ہے جبکہ کارکنان پتھراؤ کر رہے ہیں۔

  13. جوڈیشل کمپلیکس میں پتھراؤ اور شیلنگ کے بعد عدالت کا عمران خان کی حاضری گاڑی میں ہی لگوانے کا حکم

    جوڈیشل کمپلیکس میں پتھراؤ اور شیلنگ کے بعد عدالت نے عمران خان کی حاضری گاڑی میں ہی لگوانے کا حکم دے دیا ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا کہ جج صاحب نے یہ حکم دیا ہے کہ عملہ باہر حاضری لگوائے اور پھر کارروائی عدالت میں ہو گی۔

    اسد عمر کے مطابق اب حاضری کے بعد عمران خان واپس چلے جائیں گے۔

    ان کے مطابق شبلی فراز حاضری لگوانے کے عمل میں معاونت کے لیے باہر آ رہے تھے کہ انھیں پکڑ کر پولیس کی گاڑی میں بٹھا دیا اور پھر بعد میں انھیں چھوڑ دیا گیا ہے۔

  14. پولیس نے جگہ جگہ ناکے اور کنٹینرز لگائے ہیں: عمران خان کا آڈیو پیغام

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اپنے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ انھیں موٹر وے کے ٹول پلازہ سے جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پہنچنے تک پونے پانچ گھنٹے لگ چکے ہیں۔

    عمران خان کے مطابق پولیس نے جگہ جگہ ناکے اور کنٹینرز لگا رکھے ہیں۔ ان کے مطابق وہ 15 منٹ سے (جوڈیشل کمپلیکس کے) دروازے پر کھڑے ہیں۔

  15. عمران خان کی عدالت پیشی میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں: تحریک انصاف کے رہنما رؤف حسن

    تحریک انصاف کے رہنما رؤف حسن نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کی طرف سے تشدد نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ ریاست کا تشدد عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنماؤں پر کیا جا رہا ہے۔

    ان کے مطابق عمران خان پیشی کے لیے اسلام آباد آئے ہیں اور اب بہانے بنا کر اس عمل میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔

    رؤف حسن کے مطابق سیاسی کارکنان جوڈیشل کمپلیس کے باہر عمران خان کی حمایت کے لیے وہاں موجود ہیں اور یہ سیاسی جماعتوں کی قیادت کے ساتھ کارکنان ایسا عقیدت دکھاتے ہیں۔ ان کے مطابق تحریک انصاف کے بڑے بڑے جلسے اور ایونٹس ہوئے کبھی کوئی پرتشدد واقع پیش نہیں آیا ہے۔

    رؤف حسن کے مطابق عمران خان اور تحریک انصاف کے کارکنان پر حکومت الزامات عائد کر رہی ہے، جس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

  16. عدالت لگ چکی ہے، وکیل موجود ہیں مگر عمران خان گاڑی سے نکل کر اندر نہیں آ رہے: حکومتی ترجمان

    وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت لگ چکی، وکیل موجود ہیں مگر عمران خان گاڑی کو اندر لے کر نہیں آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر عمران خان گاڑی سے نکل کر بھی اندر داخل ہو جائیں تو حکومت، پولیس اور لا انورسمنٹ کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

    عطا تارڑ کے مطابق اس وقت جج جوڈیشل کمپلیکس میں عمران خان کی پیشی کا انتظار کر رہے ہیں جبکہ باہر عمران خان کارکنان کو کشیدگی کی ہدایات دے رہیں تا کہ عدالتی کارروائی میں تاخیر یقینی بنایا جا سکے۔

  17. عمران خان کی اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس آمد پر بدترین شیلنگ کی گئی: ڈاکٹر شیریں مزاری کا الزام

    تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پولیس کی بھاری نفری اور نامعلوم افراد جوڈیشل کمپلیکس میں یہ کارروائیاں کر رہے ہیں۔

    ان کے مطابق زمان پارک میں آئی جی کی جانب سے کی جانے والا آپریشن شرمناک ہے۔ شیریں مزاری کے مطابق عمران خان کی رہائش گاہ کا گیٹ توڑا گیا اورپولیس ہتھیار اٹھائے اندر داخل ہوئی۔

  18. آج عمران خان کی عدالت میں پیش ہونے کی کوئی نیت نہیں ہے: وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی

    وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی عطا تارڑ نے کہا ہے کہ آج عمران خان کی عدالت میں پیش ہونے کی کوئی نیت نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور پولیس کی جانب سے کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

    انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ گاڑی کے اندر بیٹھ کر عمران خان کارکنان کو پولیس پر حملے کی ہدایات دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان یہ سب فرد جرم سے بچنے کے لیے کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ حربے عدالتی کارروائی میں تاخیر کے لیے کیا جا رہا ہے۔

  19. عمران خان کی گاڑی جوڈیشل کمپلیکس سے 100 میٹر سے بھی کم فاصلے پر ہے: آئی جی اسلام آباد

    Imran Khan

    ،تصویر کا ذریعہIslamabad Police

    اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس اکبر ناصر خان نے کہا ہے کہ بلا اشتعال پولیس پر پتھراؤ اور شیلنگ کی گئی ہے جس سے پولیس کے کچھ نوجوان زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے لیے یہ نئی چیز ہے کہ پولیس پر شیلنگ ہو رہی ہے۔

    ان کے مطابق ان کارکنان کے پتھراؤ کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کا سارجا سفر خوشگوار گزرا ہے، وہ رستے میں ٹھہر ٹھہر کر آتے رہے اور اپنے کارکنان کو بھی ساتھ لے کر آتے رہے۔

    ان کے مطابق پولیس تحمل کا مظاہرہ کرتی رہی اور جیسے ہی یہ قافلہ عدالت سے پانچ منٹ کی دوری پر آیا تو پھر پولیس پر پتھراؤ شروع گیا۔

    اکبر ناصر کے مطابق پولیس کی شبلی فراز سے مکمل کوآرڈینیشن تھی۔

    ان کے مطابق اس کے باوجود کارکنان نے درختوں سے ڈنڈے توڑ کر پولیس پر حملے کیے گئے اور ہماری ایک چوکی بھی نذر آتش کر دی گئی ہے۔

    اکبر ناصر نے کہا کہ پولیس کے پاس نہ کسی قسم کا کوئی ہتھیار ہے اور نہ کوئی ایسا ارادہ ہے۔ ان کے مطابق سیاسی قیادت کارکنان کو ایک طرف ہونے کی ہدایت دے سکتی ہے تا کہ عدالتی عمل مکمل ہو سکے۔

  20. عمران خان جوڈیشل کمپلیکس کے باہر موجود، پولیس اور کارکنان میں تصادم, سحر بلوچ بی بی سی اردو اسلام آباد

    Judicial Complex

    ،تصویر کا ذریعہISLAMABAD

    عمران خان کا قافلہ جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پہنچ گیا ہے اور پولیس نے کارکنان کو احاطہ عدالت سے دور رکھنے کے لیے شیلنگ شروع کر دی ہے۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پولیس چوکی کو مظاہرین نے آگ لگا دی ہے۔

    بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ کے مطابق تحریک انصاف کارکنان کی جانب سے بھی پولیس کی شیلنگ کے جواب میں پتھراؤ کیا جا رہا ہے۔