28 جولائی 2017 کو نواز شریف کو اقامہ کی بنیاد پر نکالا گیا جو پاکستان کی تاریخ کا سانحہ تھا: مریم نواز کا خطاب

،تصویر کا ذریعہScreengrab
مریم نواز شریف نے وطن واپس آ کر اپنے پہلے عوامی خطاب میں کہا کہ جولائی 2017 میں ترقی کرتے ہوئے پاکستان میں نواز شریف کو ایک اقامے پر نکال دیا گیا۔ ان کے مطابق 28 جولائی 2017 پاکستان کا بہت بڑا سانحہ تھا، وہ دن ہے اور آج کا دن ہے پاکستان سنبھل نہیں رہا ہے۔
مریم نواز نے کہا کہ ’مجھے آج تک نہیں سمجھ آ رہی کہ نواز شریف کو نااہلیت کی سزا ملی یا اہلیت کی سزا ملی ہے، نواز شریف کی قیادت میں یہ ملک ایک بار پھر آگے جائے گا، میرا یہ آپ سے وعدہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف 3 دفعہ حکومت میں آئے لیکن انھوں نے حکومت سے نکال دیا، دو دفعہ ملک سے نکال دیا لیکن آج بھی نواز شریف اس ملک کا سب سے بڑا لیڈر ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ ’نواز شریف بار بار پہلے سے بڑھ کر طاقت سے واپس آیا اور آنے والے دنوں میں وہ پھر واپس آئے گا۔‘
انھوں نے لاہور کے عوام سے سوال پوچھا کہ نواز شریف کے خلاف سازش کرنے والے سارے کردار اپنے اپنے انجام کو پہنچے یا نہیں پہنچے؟ انھوں نے کہا کہ ’نواز شریف، مریم نواز اور شہباز شریف نے آپ سے حساب نہیں لیا تم اللہ تعالیٰ کے حساب کتاب کا نشانہ بنے ہو۔‘
مریم نواز نے کارکنان سے اپنے خطاب میں کہا کہ ’مجھے احساس ہے، نواز شریف کو احساس ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے، بجلی، گیس اور روٹی مہنگی ہے لیکن قوم سے وعدہ ہے کہ نواز شریف ہی تھا جس نے قوم کو مشکل سے نکالا اور تین دفعہ ملک کو ترقی پر ڈالا تو امید رکھنا ترقی کرتا پاکستان بہت جلد واپس آئے گا۔‘
مریم نواز نے کہا کہ ’جو نئی ذمہ داریاں مجھے ملی ہیں، ایک دن بھی آرام سے نہیں بیٹھوں گی۔‘ انھوں نے کہا کہ آپ سے وعدہ ہے کہ جب تک آپ کو تکلیف نہیں نکالیں گے، آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔
ان کے مطابق آٹھ مہینے کا حساب بعد میں پہلے گذشتہ چار برس کا حساب ہو گا۔ چار سال کی نااہلی اور غفلت نے معیشیت کو اس حال تک پہنچایا، جسے اب اسحاق ڈار کو بہتری کے لیے سپورٹ کرنا ہو گا۔









