سابق صدر آصف زرداری کے خلاف الزامات عائد کرنے کے مقدمے میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید گرفتار

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات گرفتار ہونے والے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو آج جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی غرض سے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ شیخ رشید کی گرفتاری کے بعد اُن کے وکیل نے اسلام آباد پولیس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. 28 جولائی 2017 کو نواز شریف کو اقامہ کی بنیاد پر نکالا گیا جو پاکستان کی تاریخ کا سانحہ تھا: مریم نواز کا خطاب

    Maryam Nawaz

    ،تصویر کا ذریعہScreengrab

    مریم نواز شریف نے وطن واپس آ کر اپنے پہلے عوامی خطاب میں کہا کہ جولائی 2017 میں ترقی کرتے ہوئے پاکستان میں نواز شریف کو ایک اقامے پر نکال دیا گیا۔ ان کے مطابق 28 جولائی 2017 پاکستان کا بہت بڑا سانحہ تھا، وہ دن ہے اور آج کا دن ہے پاکستان سنبھل نہیں رہا ہے۔

    مریم نواز نے کہا کہ ’مجھے آج تک نہیں سمجھ آ رہی کہ نواز شریف کو نااہلیت کی سزا ملی یا اہلیت کی سزا ملی ہے، نواز شریف کی قیادت میں یہ ملک ایک بار پھر آگے جائے گا، میرا یہ آپ سے وعدہ ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نواز شریف 3 دفعہ حکومت میں آئے لیکن انھوں نے حکومت سے نکال دیا، دو دفعہ ملک سے نکال دیا لیکن آج بھی نواز شریف اس ملک کا سب سے بڑا لیڈر ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ ’نواز شریف بار بار پہلے سے بڑھ کر طاقت سے واپس آیا اور آنے والے دنوں میں وہ پھر واپس آئے گا۔‘

    انھوں نے لاہور کے عوام سے سوال پوچھا کہ نواز شریف کے خلاف سازش کرنے والے سارے کردار اپنے اپنے انجام کو پہنچے یا نہیں پہنچے؟ انھوں نے کہا کہ ’نواز شریف، مریم نواز اور شہباز شریف نے آپ سے حساب نہیں لیا تم اللہ تعالیٰ کے حساب کتاب کا نشانہ بنے ہو۔‘

    مریم نواز نے کارکنان سے اپنے خطاب میں کہا کہ ’مجھے احساس ہے، نواز شریف کو احساس ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے، بجلی، گیس اور روٹی مہنگی ہے لیکن قوم سے وعدہ ہے کہ نواز شریف ہی تھا جس نے قوم کو مشکل سے نکالا اور تین دفعہ ملک کو ترقی پر ڈالا تو امید رکھنا ترقی کرتا پاکستان بہت جلد واپس آئے گا۔‘

    مریم نواز نے کہا کہ ’جو نئی ذمہ داریاں مجھے ملی ہیں، ایک دن بھی آرام سے نہیں بیٹھوں گی۔‘ انھوں نے کہا کہ آپ سے وعدہ ہے کہ جب تک آپ کو تکلیف نہیں نکالیں گے، آرام سے نہیں بیٹھیں گے۔

    ان کے مطابق آٹھ مہینے کا حساب بعد میں پہلے گذشتہ چار برس کا حساب ہو گا۔ چار سال کی نااہلی اور غفلت نے معیشیت کو اس حال تک پہنچایا، جسے اب اسحاق ڈار کو بہتری کے لیے سپورٹ کرنا ہو گا۔

  2. نواز شریف جلد وطن واپس آئیں گے، پارٹی پہاڑ کی طرح ہے جو اس سے گرے گا وہ پتھر کی طرح ہو گا: مریم نواز

    مسلم لیگ ن کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر مریم نواز کا لاہور ائیر پورٹ میڈیا سے مختصر گفتگو کی۔ نواز شریف کی وطن واپسی سے متعلق سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا نواز شریف وطن واپسی کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق وہ ’اس وقت نواز شریف کی واپسی کی حتمی تاریخ نہیں دے سکتی لیکن وہ بہت جلد پاکستان میں ہوں گے، نواز شریف کی وطن واپسی کی حتمی تاریخ تب دی جا سکے گی جب واپسی کا ٹکٹ بُک ہو گا۔‘

    مریم نواز کا کہنا تھا تین برس بعد اپنے والد سے ملی تھی، کبھی اتنا عرصہ ان سے دورنہیں رہی۔ ان کے مطابق وہ پانچ اکتوبرکوپاکستان سے روانہ ہوئیں تھیں، اپنے والد کے ساتھ وقت گزارا، ان چار ماہ میں اپنے والد سے سیکھنے کا موقع ملا۔ ان کے مطابق ’نواز شریف کے حوصلے بلند ہیں۔‘

    ابھی میری تمام تر توجہ مسلم لیگ ن پر ہے، مسلم لیگ ن کے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط کرنا چاہتی ہوں۔

    ان کا کہنا تھا نوجوانوں کو ن لیگ میں لانا چاہتی ہوں، پارٹی پہاڑ کی طرح ہے جو اس سے گرے گا وہ پتھر کی طرح ہو گا۔ مریم نواز کا کہنا تھا کسی کی سزا پر خوش نہیں ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے سیاسی طور پر مخالفین کے ساتھ جو کیا اس کی سزا انہیں قانون فطرت سے ملے گی۔

    شاہد خاقان اور مفتاح اسماعیل سے متعلق سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا مفتاح اسماعیل سے متعلق گفتگو نہیں کرنا چاہتی جبکہ شاہد خاقان کی پارٹی اور نواز شریف سے وابستگی پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔

    ان کے مطابق ’شاہد خاقان عباسی نے کہا میں ن لیگ کے ساتھ کھڑا ہوں، پارٹی چھوڑوں گا تو گھر جاؤں گا۔‘

  3. فواد چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ سے متعلق پولیس کی درخواست منظور

    سیشن عدالت نے پولیس کی جانب سے فواد چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ سے متعلق درخواست منظور کر لی ہے۔

    عدالت نے فواد چوہدری کو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے جہاں جسمانی ریمانڈ کے دورانیے سے متعلق فیصلہ ہو گا۔

    آج سماعت کے دوران فواد چوہدری روسٹرم پر آ گئے اور کہا کہ وہ اپنے بیان سے انکار نہیں کر رہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’آزادی اظہار رائے پر انکار ہونا تو ملک میں جمہوریت کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔

    ’آزادی اظہار رائے پر تالا لگانا پاکستان کو برمہ بنانے کے مترادف ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر عوام طاقتور لوگوں کو تنقید کرنے سے پیچھے ہٹ جائیں تو یہ جمہوریت نہیں رہتی۔

    ’میں کیسے اپنے بیان سے پیچھے ہٹ سکتا ہوں، عزت اپنے رویوں سے کروائی جاتی ہے۔‘

  4. مریم نواز کی پرواز کچھ ہی دیر میں لاہور پہنچے گی، کارکنان استقبال کے لیے منتظر

    maryam

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    مسلم لیگ ن کے مطابق جماعت کی چیف آرگنائزر مریم نواز کی پرواز مزید 40 منٹ تاخیر کا شکار ہو گئی ہے۔

    مریم نواز شریف پی آئی اے کی پرواز 264 کے ذریعے ابوظہبی سے لاہور آ رہی ہیں جو اب 3 بجے کر 40 منٹ پر لاہور پہنچے گی۔

    اس سے قبل ابو ظہبی سے پرواز مقررہ وقت پر روانہ نہ ہو سکی تھی اور وزیر اطلاعات اور مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے اس حوالے سے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ مریم نواز کو وطن واپس لانے والے طیارے کی روانگی میں تاخیر کی وجہ اس میں سوار مسلم لیگ ن کے ایک کارکن کی طبعیت کی اچانک خرابی تھی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    مریم نواز کی واپسی کے موقع پر استقبال کے لیے مسلم لیگ ن کے کارکن صبح سے ہی قافلوں کی شکل میں لاہور کی سڑکوں پر موجود ہیں۔

    لاہور ایئرپورٹ سے مریم نواز کو ریلی کی صورت میں جاتی امرا لایا جائے گا۔

    PMLN

    ،تصویر کا ذریعہPMLN

    واضح رہے کہ مریم نواز گذشتہ کچھ ماہ سے لندن میں قیام پذیر تھیں۔

    مریم نواز گذشتہ سال اکتوبر میں اپنا پاسپورٹ واپس ملنے کے ایک روز بعد پاکستان سے لندن روانہ ہوئی تھیں۔

  5. ’فوادچوہدری نے ایسا کیا کہہ دیا جس سےسیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہوگیا‘

    فواد چوہدری کے خلاف مقدمہ کی سماعت میں ان کے وکیل بابر اعوان نے عدالت کے رو برو کہا ہے کہ ’فواد چوہدری کی تقریر سے کیا ملک ٹوٹ جائے گا؟‘

    بابر ایوان نے دلائل میں مزید کہا کہ فواد چوہدری نے ایسا کیا کہہ دیا جس سےسیکیورٹی کوخطرہ لاحق ہوگیا؟ ہر بات مذاق بنائی جا رہی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ’پارلیمنٹ میں ایک خاتون رکن کو ٹریکٹر ٹرالی کہا گیا اس پر کوئی پرچہ نہیں ہوا، ایک انسان نے دنیا کے سامنے اسلام کی بات کی، اس کو یہ یہودی کہتےہیں۔‘

    بابراعوان نے فواد چوہدری کے خلاف کیس ختم کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ’ بھاگنے والے آنے اور جانے کے لیے سرکاری جہاز استعمال کرتےہیں‘

    ان کے مطابق ’ فواد تو اپنا بیان مان رہے ہیں، فواد چوہدری تحریک انصاف کے ترجمان ہیں،۔ انھوں نے وہ بولا جو تحریک انصاف بول رہی ہے۔‘

  6. فواد چوہدری سیشن عدالت میں پیش،وکیل بابر اعوان کے دلائل جاری

    فواد

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    الیکشن کمیشن کے ارکان کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کو اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کر دیا گیا۔

    فواد چوہدری کو کمرہ عدالت میں ہتھکڑیاں لگا کر پیش کیا گیا جس پر سیشن جج طاہر محمود نے حکم دیا کہ فواد چوہدری کی ہتھکڑیاں کھول دی جائیں۔

    دوران سماعت فواد چوہدری کے وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کا کام صرف شفاف انتخابات کروانا ہے۔ بابر ایوان کے مطابق ’عدالت میں الیکشن کمیشن کا کوئی ایسا فرد موجود نہیں جس کو دھمکی دی گئی ہو۔‘

    بابر اعوان نے دلائل میں مزید کہا کہ ’الیکشن کمیشن اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات نہیں کروا سکا، الیکشن کمیشن بھاگا ہوا ہے، وہ عدالت کے سامنے پیش کیوں نہیں ہوتے؟‘

  7. فواد چوہدری کو دن 12:30 بجے سیشن جج کے سامنے پیش ہونے کا حکم

    الیکشن کمیشن کے ارکان کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں اسلام آباد کے سیشن جج نے پولیس اور مقدمے کے پراسیکوٹر کی طرف سے دائر درخواست پر سماعت کے دوران فواد چوہدری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ جسمانی ریمانڈ سے متعلق درخواست کی سماعت میں ملزم کا عدالت میں خود پیش ہونا ضروری ہے۔

    جج کی طرف سے عدالتی عملے کو حکم دیا گیا کہ وہ فیکس کے زریعے جیل حکام کو عدالتی حکم کے بارے میں آگاہ کریں ۔

    عدالت نے ملزم فواد چوہدری کو دن ساڑھے بارہ بجے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے

  8. فواد چوہدری کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کا فیصلہ سیشن جج کی عدالت میں چیلنج, شہزاد ملک بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

    fawad

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری کے خلاف الیکشن کمیشن کے ارکان کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں ضمانت کی درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی کی عدالت میں سماعت ہوئی۔

    فواد چوہدری کے وکیل بابر اعوان نے کہا کہ ہم دلائل دینے کے لیے تیار ہیں جس پر جج نے ریمارکس دیے کہ ’جب میرے سامنے فائل اور ریکارڈ ہی نہیں تو سماعت کیا کروں؟‘

    ضمانت کی درخواست کی سماعت میں وقفے کے بعد سماعت کچھ دیر بعد شروع ہو گی۔

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ وقاص راجہ کی طرف سے فواد چوہدری کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کے فیصلے کو سیشن جج کی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔

    اس مقدمے کے تفتیشی افسر نے مزید تفتیش کے لیے متعلقہ عدالت سے فواد چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی تاہم عدالت نے یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔

  9. آئی ایم ایف نے سری لنکا اور مصر کو کہا ہے کہ فوج کے اخراجات کم کرو، خدانخواستہ پاکستان بھی اب اس طرف بڑھ رہا ہے: عمران خان

    سابق وزیراعظم عمران نے کہا کہ آئی ایم ایف نے سری لنکا اور مصر کو کہا ہے کہ فوج کے اخراجات کم کرو، خدانخواستہ پاکستان بھی اب اس طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق دیوالیہ ہونے پر آئی ایم ایف نے سری لنکا کو کہا کہ اپنی 50 فیصد فوج کم کردو۔ اسی طرح مصر کو فوجی اخراجات کم کرنے کے بارے میں کہا گیا۔

    ان کے مطابق غلطی سدھارنے کا ایک ہی طریقہ تھا کہ صاف اور شفاف الیکشن کراتے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی پوری کوشش ہے کہ الیکشن نہ کروائے جائیں۔

    عمران خان نے کہا کہ خوف پھیلایا جا رہا ہے۔

    عمران خان کے مطابق ان کے دور میں زرمبادلہ کے ذخائر ’سولہ اعشاریہ چار ارب تھے۔ ان کے مطابق مہنگائی 12 فیصد تھی جبکہ آج یہ مہنگائی 35 فیصد ہے۔

  10. سابق وزیراعظم عمران خان کی بنی گالا رہائش گاہ سے سکیورٹی واپس لے لی گئی, شہزاد ملک، بی بی سی اردو

    IK

    ،تصویر کا ذریعہPTIOFFICIAL

    سابق وزیر اعظم عمران خان سے اسلام آباد پولیس کی سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔ عمران خان کی سکیورٹی پر اسلام آباد پولیس کے ایک ڈی ایس پی سمیت 170 اہلکار تھے۔

    سکیورٹی اہلکار بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ پر شفٹوں میں ڈیوٹی کرتے تھے، عمران خان سے ایف سی اور کے پی پولیس کے اہلکار بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔

    ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے کہا ہے کہ

    اسلام آباد میں سابق وزیراعظم کی نجی رہائش گاہ پر وہ گذشتہ کئی ماہ سے مقیم نہ ہیں۔ ترجمان کے مطابق ’ان کی غیر موجودگی میں اسلام آباد پولیس یا دیگر صوبوں کی پولیس نہیں لگائی جا سکتی۔‘

  11. بریکنگ, قومی اسمبلی کے 33 حلقوں پر ضمنی الیکشن 16 مارچ کو: الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کر دیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں قومی اسمبلی کے 33 حلقوں میں 16 مارچ کو ضمنی الیکشن کروانے کا اعلان کیا ہے۔

    یاد رہے کہ یہ حلقے گذشتہ ہفتے اس وقت خالی قرار دیے گئے تھے جب سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے پاکستان تحریک انصاف کے 35 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان 35 اراکین میں دو خواتین اراکین مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئی تھیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  12. ’محسن نقوی کے ہوتے ہوئے پنجاب میں صاف و شفاف الیکشن ممکن نہیں‘: شیخ رشید کی سپریم کورٹ میں درخواست

    شیخ رشید

    سابق وفاقی وزیر شیخ رشید نے بھی نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کی تقرری سپریم کورٹ میں چیلنج کی ہے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ نے محسن نقوی کی تقرری کو غیر آئینی قرار دینے کی استدعا کی ہے۔

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں شیخ رشید کا موقف ہے کہ ’محسن نقوی اپوزیشن مخالف اور حکومتی مددگار کے طور پر سامنے آئے۔ محسن نقوی پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے آپریشن کے اہم کردار ہیں۔

    ’محسن نقوی کی موجودگی میں پنجاب میں صاف اور شفاف انتخابات نہیں ہوسکتے۔‘

    درخواست میں وفاقی سیکرٹری قانون، نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی اور سیکرٹری قانون پنجاب اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔

  13. فواد چوہدری کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا

    فواد چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پراسیکیوٹر کی طرف سے فواد چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اسلام آباد کی مقامی عدالت نے انھیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے۔

  14. تحریک انصاف نے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی تقرری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا

    سپریم کورٹ

    تحریک انصاف نے بطور سیاسی جماعت اور اسد عمر نے بطور سیکرٹری ایک درخواست میں نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی تقرری کو چیلنج کیا ہے۔

    سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ محسن نقوی کو بطور نگران وزیر اعلی کام سے روکا جائے۔ درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ ’ایک ایسے شخص کو تعینات کیا گیا ہے جس کے پاس سیاسی، آئینی اور بیوروکریٹک تجربہ نہیں۔‘

    پی ٹی آئی کی درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ ’الیکشن کمیشن اور اس کے ارکان نے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کی تقرری میں آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔۔۔ انھیں صاف و شفاف الیکشن کے انعقاد کی راہ میں متعصب اور نااہل قرار دیا جائے۔‘

    اس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ درخواست پر فیصلے تک نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی کو کام سے روکا جائے۔

    جبکہ تحریک انصاف نے اسی درخواست میں راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا نوٹی فیکیشن بھی چیلنج کیا ہے۔

    اس درخواست میں استدعا کی گئی کہ الیکشن کمیشن کے دو ممبر بابر حسن بھروانہ اور اکرام اللہ خان کی تعیناتی غیر آئینی قرار دی جائے۔

  15. فواد چوہدری کی ہتھکڑی کھولنے کی استدعا منظور، جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ

  16. ’کیا فوجداری کارروائی کرنے والا الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کروائے گا؟‘

    ملزم کے وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اپنے منشی پر فخر ہے کیونکہ میرے منشی کو سپریم کورٹ میں داخلے کی اجازت ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ معلوم نہیں منشی سے پراسیکیوشن کو اتنی چِڑ کیوں ہے۔‘ بابراعوان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کوئی وفاقی حکومت نہیں اور نہ ہی قومی اسمبلی ہے۔‘

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری ’تحریک انصاف کے سینیئر رہنما ہیں۔ فوجداری کارروائی کرنے والا سیکرٹری الیکشن کمیشن کیا شفاف انتخابات کروائے گا؟‘

    انھوں نے کہا کہ ’پاکستان میں بڑی جیل بنا کرسب کو قیدیوں میں شمار کرلیں۔‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ کمیشن ایک پارٹی کی ترجمانی کر رہا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن پر قوم کے کھربوں روپے لگتے ہیں، پبلک سروینٹس نہ صوبائی حکومت ہیں اور نہ وفاقی حکومت کا حصہ۔

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ’عدالت دیکھے کہ پبلک سروینٹس کو کیا بنا دیا ہے۔‘

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ’پراسیکیوشن کہتی ہے فواد چوہدری بولتا ہے، پاکستان میں کون نہیں بولتا؟‘

    انھوں نے اسحاق ڈار کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ڈالر نیچے لانے کا بیان دیا گیا تھا، اس کو کیوں نہیں پکڑتے؟‘

    انھوں نے کہا کہ ماضی میں ججز کے لیے جس نے جو بولا وہ سب آج حکومت میں شامل ہیں۔

    وکیل بابر اعوان نے سوال کیا کہ ’عدالت نے تفتیش کے لیے دو دن دیے، کیا تفتیش ہوئی؟ پراسیکیوشن کو ایک نام چاہیے اور وہ ہے عمران خان کا۔‘

    بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ’الیکشن کمیشن میرے خلاف مقدمہ میں مدعی ہیں۔ ان سے انتخابات میں انصاف کیسے مانگوں؟‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’فواد چوہدری دہشتگرد نہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’پراسیکیوشن بغاوت کا کوئی ایک پرچہ عدالت کے سامنے لے آئے۔‘

  17. ’فواد چوہدری کا بیان کسی ایک بندے کا بیان نہیں، ایک گروپ کا بیان ہے‘

    الیکشن کمیشن نے وکیل نے فواد چوہدری کی گرفتاری پر کہا کہ وہ سینیئر سیاستدان ہیں لیکن قانون سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ ’فواد چوہدری کے گھر کی تلاشی لینا ضروری ہے کیونکہ فواد چودھری کے گھر سے لیپ ٹاپ اور موبائل ان کی موجودگی میں حاصل کرنا ضروری ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’فواد چوہدری کے بیان میں دیگر افراد بھی شامل ہیں۔‘

    اس بیان کے بعد کمرہ عدالت میں موجود بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ’میں بھی فواد چوہدری کے بیان میں شامل ہوں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ایٹمی ریاست کو موم کی گڑیا بںا دیا گیا ہے۔ ’ججوں کے گھروں تک جانے کا بیان دیا گیا، ہم نے پرچہ نہیں کروایا۔‘

    الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’فواد چوہدری کا بیان کسی ایک بندے کا بیان نہیں، ایک گروپ کا بیان ہے۔‘

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ہی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کے اعلیٰ عہدیداران کے خلاف مہم چل رہی ہے۔ ’ڈسچارج کی استدعا گذشتہ پیشی پر ڈیوٹی میجسٹریٹ نے مسترد کردی تھی، اُنھوں نے کہا کہ عدالت کے سامنے تمام شہری برابر ہیں۔‘

    ملزم کے وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ’اس کیس کا مدعی ایک سرکاری ملازم ہے جبکہ ٹیکس عوام دیتی ہے اور موج سرکاری افسران لگاتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’پبلک سروینٹ کا مطلب عوام کا نوکر ہے۔‘

  18. فواد چوہدری نے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی: وکیل الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ ’فواد چوہدری کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے اور انھوں نے اپنی تقریر کا اقرار بھی کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ تقریر پر تو کوئی اعتراض اٹھا نہیں سکتا کیونکہ ملزم نے بیان مانا ہے۔ ’فواد چوہدری نے نفرت پھیلانے کی کوشش کی۔‘

    الیکشن کمیشن کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم نے ’حکومت کے خلاف الزامات لگائے۔ الیکشن کمیشن کو حکومت کا منشی کہا۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’فواد چوہدری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے ملازمین کے گھروں تک جائیں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا کردار اگلے چند ماہ بہت اہم ہے اور الیکشن کمیشن کا کام کرپشن ختم کرنا ہے ’لیکن فواد چوہدری دباؤ۔ الیکشن کمیشن کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے۔‘

  19. مزید جسمانی ریمانڈ کے لیے پولیس نے فواد چوہدری کو کمرہ عدالت پہنچا دیا

    فواد چوہدری

    ،تصویر کا ذریعہPTI

    ،تصویر کا کیپشنفواد چوہدری (بائیں جانب)

    پولیس نے تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کے مزید جسمانی ریمانڈ کے لیے انھیں کمرہ عدالت پہنچا دیا ہے۔

    فواد کو عدالتی وقت شروع ہونے سے پہلے راجہ وقاص کی عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔ ابھی تک جج عدالت میں نہیں پہنچے تاہم ان کے وکلا بابر اعوان اور علی بخاری کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

    فواد چوہدری کو الیکشن کمیشن کے حکام کو دھمکیاں دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ بدھ کو منظور ہوا تھا۔

    استغاثہ نے عدالت سے ملزم کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ہے اور کہا ہے کہ نجی ٹی وی پر دیے گئے انٹرویو میں ’فواد کی آواز میچ ہوگئی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ فواد ’آئینی ادارے کے خلاف نفرت پیدا کر رہے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ فواد چوہدری ’بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کر رہے اور ان کے بیان سے الیکشن کمیشن کے ورکرز کی جان کے لیے خطرہ پیدا کیا جا رہا ہے۔‘

    استغاثہ کا مزید کہنا ہے کہ ملزم کا رات بارہ بجے دو روزہ ریمانڈ ملا تب تک ایک دن ختم ہو گیا تھا اور پولیس کو عملی طور پر تفتیش کے لیے ایک دن کا ریمانڈ ملا، اب مزید ریمانڈ دیا جائے۔

  20. نویں قسط پر بات چیت: آئی ایم ایف وفد 31 جنوری سے 9 فروری تک پاکستان کا دورہ کرے گا

    آئی ایم ایف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کا وفد حکام کی گزارش پر 31 جنوری سے 9 فروری اسلام آباد کا دورہ کرے گا۔

    ترجمان آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ وفد پاکستان میں مالی استحکام، توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں اور غیر ملکی کرنسی سے متعلق پالیسیوں پر بات چیت کرے گا۔