سابق صدر آصف زرداری کے خلاف الزامات عائد کرنے کے مقدمے میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید گرفتار

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ رات گرفتار ہونے والے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو آج جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی غرض سے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ شیخ رشید کی گرفتاری کے بعد اُن کے وکیل نے اسلام آباد پولیس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. پنجاب پولیس نے میانوالی کے مکڑوال پولیس سٹیشن پر دہشت گردوں کا حملہ ناکام بنا دیا

    punjab police

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب پولیس نے میانوالی کے مکڑوال پولیس سٹیشن پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں کے حملے کو ناکام بنا دیا ہے۔

    منگل کی شب ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں نے میانوالی کے مکڑوال پولیس سٹیشن پر بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا تاہم پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملے کو ناکام بنا دیا۔

    یاد رہے کہ یہ واقعہ پشاور کے پولیس لائن مسجد دھماکے کے ایک روز بعد پیش آیا ہے، یہ حملہ اس لحاظ سے غیرمعمولی تھا کہ دہشت گردوں نے دوبارہ سر اٹھانے کے بعد پہلی بار پنجاب کے کسی پولیس سٹیشن کو نشانہ بنایا۔

    اس سے قبل اب تک خیبرپختونخوا اور افغانستان سے متصل علاقوں میں پولیس سٹیشنوں اور چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

    پنجاب کے آئی جی پولیس ڈاکٹر عثمان انور نے تصدیق کی کہ ٹی ٹی پی سے تعلق رکھنے والے مسلح حملہ آوروں نے پولیس سٹیشن پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

    پنجاب پولیس کے ترجمان کے جاری کردہ بیان کے مطابق حملہ آور دہشت گرد پولیس جوانوں کی جوابی فائرنگ سے پسپا ہو کر بھاگنے پر مجبور ہوئے۔

    آئی جی پنجاب نے بہادری و فرض شناسی پر ایس ایچ او اور محرر کو شاباش دیتے ہوئے حوصلہ افزائی کی۔ آئی جی پنجاب نے دہشت گرد عناصر کا تعاقب جاری رکھتے ہوئے انھیں کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم دہرایا۔ آئی پنجاب نے کہا ہے کہ اس آپریشن میں سی ٹی ڈی اور ایلیٹ فورس اور سپیشل برانچ آپریشن میں میانوالی پولیس کو بھرپور معاونت فراہم کریں گے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  2. وزیر اعظم اور عسکری قیادت بھی ایوان میں آئیں گے اور رہنمائی حاصل کریں گے: رانا ثنا

    rana

    ،تصویر کا ذریعہPTV Parliament

    وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ نے پارلیمان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آج میرے بھی وہی جذبات ہیں جو ہر پاکستانی کے ہیں، ہر پاکستانی محبِ وطن اسی طرح سے سوچ رہا ہے اس میں لاہور یا پشاور کی تفریق نہیں ہو نی چاہیے۔

    وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’درجنوں ایسے واقعات لاہور میں ہو چکے ہیں جن میں ایک ایک واقعے میں شہادتوں کا نمبر 100 سے زیادہ رہے ہیں۔

    ’ان میں سے اکثر کا تعلق پنجاب سے نہیں تھا لیکن میں یہ نہیں کہنا چاہوں گا کہ ان کا تعلق کہاں سے تھا، وہ پاکستان دشمن تھے۔‘

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ہم نے ہر قیمت پر دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ’پشاور واقعے پر ہر پاکستانی افسردہ ہے، ہمیں مجاہدین تیار کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔

    ’لوگوں کو مجاہدین ہم نے بنایا اور وہ خود دہشت گرد بن گئے، روزانہ فوج اور ایف سی کے لوگ قربانیاں دے رہے ہیں، قوم فوج اور قانون نافذ کرنے والوں کےساتھ ہے۔‘

    رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ ’یہاں وزیراعظم، آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی آئیں گے، پہلے کی طرح پارلیمنٹیرینز کو بریفنگ دی جائے گی۔

    ’وزیر اعظم اور عسکری قیادت بھی ایوان کی رہنمائی حاصل کریں گے، اب کم و بیش وہی صورتحال ہے جو دس بارہ سال پہلے تھی، ہماری پالیسی آج بھی اے پی ایس سانحےکے بعد والی ہے۔‘

  3. پشاور دھماکہ: ’ہمارے ضلع میں آپریشن کی وجہ سے سگنل نہیں ہیں، انھیں نہیں پتا مجھے کیا ہوا ہے‘

    ،ویڈیو کیپشن’ہمارے ضلع میں آپریشن کی وجہ سے سگنل نہیں ہیں، انھیں نہیں پتا مجھے کیا ہوا ہے‘

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی پولیس لائن دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد اب 100 ہو چکی ہے صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے نمازِ جنازہ ادا کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

    ہماری نامہ نگار سحر بلوچ اور نعمان مسرور نے پشاور میں سوگواران اور زخمیوں سے بات کی ہے۔ مزید دیکھیے اس ویڈیو میں۔

  4. سارے پختون پاکستان سے محبت کرتے ہیں لیکن گلہ رہتا ہے کہ آپ کی پالیسیوں کی وجہ سے ہم مرتے ہیں: نور عالم خان

    noor alam

    ،تصویر کا ذریعہPTV Parliament

    پشاور سے رکنِ پارلیمان اور قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نور عالم نے پارلیمان سے خطاب کے دوران ہونے والے شور پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’جب کوئی پنجاب یا لاہور میں مرے گا تب آپ سنجیدہ ہوں گے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’100 لوگ ہلاک ہوئے ہیں، اس کا مطلب ہوتا ہے، تقریباً 700 افراد متاثر ہوئے ہیں۔‘

    نور عالم خان نے کہا کہ ’آپ ہمیں کہتے ہیں کہ 25، 30 سال سے یہ سب ہو رہا ہے، کون کر رہا ہے؟ کیا میں دہشتگرد ہوں؟

    ’کون کر رہا ہے اور وہ ذمہ داری کون عائد کرے گا؟ یہاں پر تقریر کرنے سے کیا فائدہ، یہاں جو بھی بولتا ہے وہ پھر نہیں رہتا ہے۔

    نور عالم خان کا کہنا تھا کہ ’سارے پختون پاکستان سے محبت کرتے ہیں لیکن گلہ رہتا ہے کہ آپ کی پالیسیوں کی وجہ سے ہم مرتے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’آج یہاں آپ کو چاہیے تھا کہ ایک پالیسی بیان لاتے، آرمی چیف آتے اور ہمیں بتائیں کہ کس وجہ سے ایسا ہو رہا ہے اور کون ذمہ دار تھا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ بتا دیں اگلے تیس سال آپ نے ہمارے ساتھ کیا کرنا ہے، کیا پھر ہمارے لوگ ایسے ہی شہید ہوں گے۔ اس ملک کے مالکان سے سوال ہے کہ اب آپ ہمارے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں۔‘

  5. بریکنگ, پاکستان کا سپر پاورز کے ساتھ کھڑے ہونے کا شوق بہت پرانا ہے لیکن آج اس جنگ میں پاکستان اکیلا ہے: خواجہ آصف

    khawaja asif

    ،تصویر کا ذریعہPTV Parliament

    پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اگر آپ کو یاد ہو تو دو، تین سال پہلے اسی ہال میں ہمیں دو تین مرتبہ بریفنگ دی گئی تھی اور یہ بات واضح طور پر کی گئی تھی کہ ان لوگوں سے بات ہو سکتی ہے اور یہ امن کے راستے پر آ سکتے ہیں۔

    انھوں نے پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بارے میں مختلف آرا سامنے آئیں اور اس پر کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آ سکا۔

    ’اسی دوران ہزاروں کی تعداد میں میں افغانستان سے آنے والے افراد کو پاکستان میں پسایا گیا۔ جس کے بعد سوات اور پھر وانا میں میں لوگوں نے احتجاج کیا ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’اس دہشتگردی کے بیج ہم نے خود بوئے۔ ہم بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم سب سے بڑی اسلامی مملکت ہیں لیکن نمازیوں پر مسجد میں عبادت کے وقت حملے انڈیا اور اسرائیل میں بھی نہیں ہوتے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دو تین سال پہلے ہونے والی بریفنگز کے نتیجے میں ہونے والے فیصلے اس ہاؤس نے منظور نہیں کیے تھے، ان پر بحث نہیں ہوئی تھی۔‘

    ہمیں صرف ایک بریفنگ میں بتایا گیا تھا کہ ’ایسے ہو رہا ہے، کون دے گا اس خون کا حساب جو پشاور میں بہایا گیا، کون ان کے لواحقین کو بتائے گا کہ کل کون ان کی جان لے گیا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’آج بھی جس طرح مذمت کی جانی چاہیے اس واقعے کی اس طرح کی آواز نہیں آ رہی، اس میں بھی سیاسی مصلحت سے کام لیا جا رہا ہے۔‘

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کا سپر پاورز کے ساتھ کھڑے ہونے کا شوق بہت پرانا ہے لیکن کیا یہ طاقتیں آج آپ کے ساتھ کھڑی ہیں، کوئی نہیں کھڑا۔ اس جنگ میں پاکستان میں اکیلا ہے۔‘

  6. بریکنگ, ہلاکتوں کی تعداد 100 ہو گئی، سات زخمی تاحال آئی سی یو میں ہیں: ترجمان

    police

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر محمد عاصم کے مطابق پشاور پولیس لائن بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 100 ہو گئی ہے جبکہ اس وقت بھی ہسپتال میں 53 زخمی افراد زیرِ علاج ہیں۔

    ترجمان محمد عاصم کے مطابق زخمیوں میں سے سات اس وقت آئی سی یو میں داخل ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ ابھی تک 100 ڈیڈ باڈیز ایل آر ایچ لائی جا چکی ہیں اور داخل زخمیوں میں سے زیادہ تر کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

  7. پشاور دھماکہ: ’لوگ اپنے پیاروں کی تلاش میں بیٹھے رہے‘

    پشاور کی پولیس لائنز میں واقع مسجد میں پیر کی دوپہر دھماکے کے بعد شروع ہونے والا سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا۔

    اس دھماکے میں 92 افراد ہلاک ہوئے۔ بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان نے منگل کی صبح جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ اس ویڈیو میں دیکھیے کہ انھوں نے وہاں کیا دیکھا۔

  8. بریکنگ, ’تلاشی کا میکینزم گیٹ کی حد تک ہی موجود تھا‘

    آئی جی خیبر پختونخوا کے مطابق ’یہ پولیس لائن پانچ چھ سو لوگوں اور ایک ایس پی کے لیے بنی تھی، آج یہاں چھ ڈی آئی جیز کے دفاتر ہیں جبکہ چھ مختلف یونٹس یہاں موجود ہیں۔‘

    ان کے مطابق ’کیونکہ اس پولیس لائن کی کوئی سینٹرل کمانڈ یہاں نہیں تھی، اس لیے تلاشی کا میکینزم گیٹ کی حد تک موجود تھا۔‘

    معظم جاہ کے مطابق ’پولیس لائنز میں کینٹینیں بھی ہیں اور تعمیراتی کام بھی چل رہا تھا اس دوران تھوڑا تھوڑا کر کے یہاں بارودی مواد لایا گیا۔‘

    آئی جی کے مطابق حملہ آور پیر کو ہی جیکٹ پہن کر نہیں داخل ہوا بلکہ سامان تھوڑا تھوڑا کر کے یہاں لاتا رہا۔

    ’خودکش حملہ اس دوران سائلین کے روپ میں یا مہمانوں کے روپ میں داخل ہوا۔‘ سکیورٹی کی ناکامی کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں

  9. بریکنگ, ہلاک ہونے والوں کی تعداد 95 ہو گئی ہے: آئی جی خیبرپختونخوا

    آئی جی حیبرپختونخوا معظم جاہ انصاری کا کہنا ہے کہ پشاور دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر اب 95 ہو گئی ہے۔

    آئی جی خیبرپختونخوا کے مطابق ’حملے میں 221 افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘

    ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایک روز کی نہیں بلکہ ایک ماہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ پتہ چلے کہ اتنا مواد یہاں کیسے پہنچا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’حملہ آور کے ڈی این اے کے سیمپلز بھجوا دیے ہیں۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے تمام اقدام بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔‘

  10. بریکنگ, ہمارا اندازہ ہے کہ بارودی مواد 10 سے 12 کلو تک ہو سکتا ہے: آئی جی خیبرپختونخوا معظم جاہ

    پشاور دھماکے سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے آئی جی خیبر پختونخوا معظم جاہ انصاری کا کہنا ہے کہ ’ ہمارا اندازہ ہے کہ بارودی مواد 10 سے 12 کلو تک ہو سکتا ہے۔دھماکے کے ساک کی وجہ سے پوری چھت نیچے آئی۔ ملبے تلے دبنےکے باعث ذ یادہ جانی نقصان ہوا۔‘

    آئی جی خیبرپختون خوا نے کہا کہ اس بات کی مکمل تحقیق کی جائے گی کہ خودکش حملہ آور کے سہولت کار کون تھے، وہ کس طرح یہاں پہنچا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’پہلے ٹی ٹی پی نے دعوی کیا اور کہا وہ ذمہ دار ہیں، پھر ان کی تردید آ گئی ۔ہمارا اندازہ ہے کہ جماعت الاحرار شاید اس میں ملوث ہو سکتی ہے کیونکہ وہ ٹی ٹی پی سے کچھ عرصہ منسلک رہے تاہم ابھی تحقیقات جاری ہیں۔‘

  11. پاکستان اور آئی ایم ایف کے وفد کی ملاقات کا اعلامیہ جاری’ حکومت موجودہ پروگرام کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے‘

    imf

    ،تصویر کا ذریعہMinistry of finance

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے وفد کی ملاقات کا اعلامیہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق وزیرخزانہ نے آئی ایم ایف کو معاشی پالیسیوں اورمختلف شعبوں میں اصلاحات بارےآگاہ کیا۔

    اعلامیہ کے مطابق آئی ایم ایف وفد سے ملاقات میں معاشی اور مالی پالیسیوں کا جائزہ لیا گیا اور نویں جائزے کو مکمل کرنے کے لئے اصلاحات پر بات چیت کی گئی جبکہ مالی خسارہ پورا کرنے کے لیے کرنسی کی شرح تبادلہ اورتوانائی کےشعبےمیں اصلاحات بارےآگاہ کیا گیا۔

    آئی ایم ایف

    ،تصویر کا ذریعہministry of finance

    اعلامیہ کے مطابق وزیر خزانہ اسحق ڈار نے بات چیت جاری رکھنے پر آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ’بطور وزیر خزانہ ماضی میں آئی ایم ایف پروگرام کو کامیابی سے مکمل کیا ہے اور حکومت موجودہ پروگرام کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔‘

    اعلامیہ کے تحت مزاکرات میں مالی خسارہ پورا کرنے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بھی بات چیت ہوئی۔

    توانائی کےشعبے میں گردشی قرض ختم کرنےکیلیےاصلاحات اوراعلی سطح کمیٹی کےقیام پر بات چیت کی گئی۔

  12. دہشت گردی بڑھتی جا رہی ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو سیاست کرنے سے فرصت نہیں: سینیٹر رضا ربانی

    پشاور میں گزشتہ روز ہونے والے دھماکے پر آج پاکستان کے ایوان بالا کے اجلاس میں بحث کے دوران پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ ’پشاور میں جہاں دھماکہ ہوا وہاں ایک بڑا کمپلیکس تھا جہاں رہائش گاہیں ، بیرکس اور دفاتر تھے، حیرت کی بات ہے کہ دہشت گرد نے حملے کے لئے مسجد اور نماز کے وقت کا انتخاب کیا۔‘

    رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ’مجھے اپنی جماعت سمیت تمام سیاسی جماعتوں سے بڑا گلا ہے جس کی مذمت کرتا ہوں۔ دہشت گردی بڑھتی جا رہی ہے، سیکورٹی فورسز اور سویلین کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو سیاست کرنے سے فرصت نہیں اور یہاں یہ ہی بات ہو رہی ہے کہ کون سی اسمبلی رہے گی کون سی نہیں۔ الیکشن 90 دن میں ہوں گے یا نہیں۔‘

    سینیٹر رضا ربانی نے ٹی ٹی پی کی پاکستان میں بحالی کے فیصلے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ فرروی کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں دہشت گردی کی پالیسی پر بحث کی جائے۔‘

  13. بریکنگ, پشاور پولیس لائنز کی مسجد میں دھماکے میں ہلاکتیں 90 سے زیادہ، ریسکیو آپریشن مکمل

    پشاور دھماکے کے زخمی

    لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے حکام کے مطابق پشاور کی پولیس لائنز کی مسجد میں ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 92 ہو گئی ہے۔

    حکام کے مطابق ہسپتال لائے گئے تمام افراد کی شناخت کا مرحلہ بھی مکمل ہو گیا ہے جبکہ اس وقت ہسپتال میں 57 زخمی زیر علاج ہیں۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں مجموعی طور پر 157 زخمی لائے گئے تھے جن میں بیشتر کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے۔

    ریسکیو 1122 پشاور کے مطابق دہشت گردی کا نشانہ بننے والی مسجد کی عمارت کے ملبے تلے اب کوئی بھی فرد دبا ہوا نہیں ہے۔

    ریسکیو کے ادارے کے حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد شروع کیے جانے والے آپریشن میں مجموعی طور پر ملبے سے 24 لاشیں نکالی گئیں جبکہ نو افراد کو زندہ بچا لیا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت ملبے کو مکمل طور پر ہٹانے کا کام حتمی مراحل میں ہے۔

  14. پاکستان اورعالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان مذاکرات آج سے شروع

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان نویں جائزہ مشن پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کے لیے آج سے مزاکراتی عمل شروع ہو گیا ہے۔

    ائی ایم ایف کی جانب سے وفد کی سربراہی آئی ایم ایف مشن چیف ناتھن پورٹر کررہے ہیں۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 2 فروری تک تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے جس کے بعد 3 فروری سے 9 فروری تک پالیسی مذاکرات ہوں گے۔

    اس بات چیت میں نئے ٹیکسز لگائے جانے اور نان ٹیکسز اقدامات کو حتمی شکل دی جائے گی ۔

    تکنیکی مذاکرات میں پاکستان اصلاحات کے بارے وفد کو بریف کرے گا اور آئی ایم ایف مطالبات پر عمل درآمد کا جائزہ لے گا۔

  15. چوہدری شجاعت مسلم لیگ ق کے صدر برقرار: الیکشن کمیشن

    چوہدری شجاعت

    ،تصویر کا ذریعہSocial Media

    الیکشن کمیشن نے چوہدری شجاعت کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کے معاملے کا فیصلہ سنادیا۔

    الیکشن کمیشن نے چوہدری شجاعت حسین کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ورکنگ کمیٹی کی کارروائی کو کالعدم قراردیا ہے۔

    اپنے فیصلے میں الیکشن کمیشن نےکہا ہے کہ چوہدری شجاعت ق لیگ کے صدر برقرار رہیں گے۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل سنٹرل ورکنگ کمیٹی نے چوہدری شجاعت حسین کو پارٹی صدارت سے ہٹا دیا گیا تھا اور ان کی جگہ پارٹی نے ان کے بھائی چوہدری وجاہت حسین کو ق لیگ کا صدر مقرر کیا تھا۔

  16. پشاور پولیس لائنز کے اطراف سکیورٹی انتہائی سخت: ’بہت سے لوگ اب بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں بیٹھے ہیں‘

    سکیورٹی

    پشاور میں پیر کے روز ہونے والے بم دھماکے کے بعد سے اب تک پولیس لائن مسجد میں متاثرین کی تلاش کا کام تا حال جاری ہے۔

    نامہ نگار بی بی سی عزیز اللہ خان پشاور دھماکے کی جائے وقوعہ کی صورت حال سے رپورٹنگ کرنے جب وہاں پہنچے تو امدادی کاروائیاں جاری رہنے اور سیکیورٹی سخت ہونے کے باعث انھیں بھی وہاں اندر جانے سے روکا گیا جس کے بعد انھوں نے اطراف کا آنکھوں دیکھا حال بتاتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگ اب بھی اپنے پیاروں کے ملنے کی آس میں وہاں موجود ہیں۔

    ’اس وقت میں یہاں پولیس لائن کے مین گیٹ پر موجود ہوں۔ گاڑیوں او غیر متعلقہ افراد کو یہاں نہیں آنے دیا جا رہا۔ یہاں بڑی تعداد میں ایمبولینسز اور پولیس کی گاڑیاں یہاں آ جا رہی ہیں۔ سکیورٹی اہلکار اور آس پاس موجود دفاتر کے لوگوں کو ہی اس علاقے تک انے کی اجازت ہے۔‘

    سکیورٹی

    ’کچھ ایسے لوگ ابھی تک یہاں بیٹھے ہیں جن کے پیاروں کا پتہ نہیں چل رہا۔ سوات سے آئے ایک ایسے ہی شخص اپنے عزیز کی تلاش میں یہاں ہیں جو بتا رہے ہیں کہ ان کے ایک رشتہ دار پولیس میں ہیں جو یہاں ڈیوٹی کر رہے تھے۔ انھوں نے یہاں نماز پڑھی اور اب اس واقعہ کے بعد سے ان کا کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ وہ کہاں ہیں۔ ‘

    عزیز اللہ خان نے پولیس لائن کے محل وقوع سے بھی تفصیلی آگاہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پولیس لائنز کا یہ علاقہ ریڈ زون میں ہے ج اس کے بالکل سامنے سیکریٹریٹ ہے جبکہ پشاور کی سینٹرل جیل بھی ایک جانب ہے اس کے عقب میں جیوڈیشل کمپلیکس ہے جبکہ شمال کی جانب ڈی سی آفس سمیت دیگر اہم عمارتیں ہیں۔ خیبر روڈ سے جو راستہ پولیس لائن کی طرف راستہ اتا ہے وہاں مین روڈ سامنے کور کمانڈر ہاوس ہے جبکہ اس سے جڑا دوسرا راستے پر گورنر ہاوس اور سی ایم سیکریٹریٹ ہے۔‘

    سکیورٹی

    عزیز اللہ خان نے یہ بھی بتایا ہے کہ واقعہ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو اپنا کام یہاں کر رہی ہے۔

    ’یہاں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ حملہ آور کس راستے سے داخل ہوا۔ ایک جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جہاں کواٹرز ہیں شاید وہ وہاں سے آیا ہو تاہم اب تک اس کی تصدیق نہیں ہو سکی اور ہر پہلو سے دیکھا جا رہا ہے کہ حملہ اور کس راستے سے اندر داخل ہوا۔‘

  17. انتہا پسندی اور دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں: سعودی عرب

    پاکستان کے قریبی دوست ملک سعودی عرب نے بھی پشاور میں پولیس لائن دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر قسم کے تشدد، انتہاپسندی اور دہشت گرد کارروائیوں کے خلاف سعودی عرب پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

    پاکستان میں سعودی سفارتخانے نے ٹوئٹر پر جاری بیان میں کہا ہے کہ’ سعودی عرب پاکستان میں پشاور کی ایک مسجد میں دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت کرتا ہے۔‘

    سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے، پُر امن لوگوں کو دھمکانے اور بے گناہوں کا خون بہانے جیسی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے اس بات کی تاکید کی ہے کہ’ ہر قسم کے تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی خواہ اس کے مقاصد و محرکات کچھ بھی ہوں، ان کے خلاف سعودی عرب برادر ملک پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

    سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں متاثرین کے اہلِ خانہ اور پاکستان کی حکومت اور عوام کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمنائیں بھی دی ہیں۔

  18. بریکنگ, ’پشاور دھماکے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی‘

    لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کے ترجمان محمد عاصم نے تصدیق کی ہے کہ ’ مسجد دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر اب 88 ہو گئی ہے۔‘

    ترجمان محمد عاصم کے مطابق ’اس وقت ہسپتال میں داخل زخمیوں کی تعداد 57 ہے جن کا علاج کیا جا رہا ہے۔‘

  19. ’جیسے ہی تکبیر کے وقت اللہ اکبر کہا تو اسی وقت زوردار دھماکہ ہوا‘

    ’میں اس وقت لیڈی ریڈنگ ہسپتال آئی ہوں جہاں ذیادہ تر دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد داخل ہیں۔ ان میں بڑی تعداد پولیس اہلکاروں کی ہے جن کے سر اور ٹانگوں پر گہرے زخم ہیں ایک زخمی نے مجھے بتایا ہے کہ جیسے ہی تکبیر کے وقت ہم نے اللہ اکبر کہا تو اسی وقت زور دار دھماکہ ہوگیا‘۔‘

    بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ پشاورکے بڑے سرکاری ہسپتال میں صبح سویرے سے ہی موجود ہیں جہاں گزشتہ روز مسجد میں دھماکے کے بعد متاثرین کو فوری طور پر ل منتقل کیا گیا اور اس وقت بھی وہاں 60 سے زائد زخمی زیر علاج ہیں۔

    سحر بلوچ زخمیوں سے بات چیت کے لیے ہسپتال پہنچیں جہاں آج بھی ایمرجنسی نافذ ہے۔

    rescue

    ،تصویر کا ذریعہrescue1122

    ’ان زخمیوں میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو اگلی صفوں میں موجود تھے تو کسی کے سر پر لگا تو کسی کی ٹانگ میں چوٹ آئی۔ ذیادہ تر زخمیوں کو چھرے لگے ہیں۔میں نے ابھی کچھ زخمیوں سے بھی بات کی ہے اور وہ بتا رہے ہیں کہ سمجھ ہی نہیں آ رہی کہ ایسی جگہ جہاں اس قدر سیکیورٹی ہے وہاں یہ سب کیسے ہوا۔‘

    سحر نے مزید بتایا کہ’ زخمیوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اندر جانے سے پہلے کئی جگہ پوچھا جاتا ہے اس کے بغیر تو داخلہ ممکن ہی نہیں۔ سیکیورٹی کے لیے اتنے چیک پوائنٹس ہیں پھر یہ کیسے اندر آیا.‘

    سحر بلوچ کے مطابق یہاں موجود ذیادہ تر زحمی وہ پولیس اہلکار ہیں جنہیں یہاں ڈیوٹی کرتے ذیادہ عرصہ نہیں گزرا۔

  20. چینی سفارت خانے کی پشاور میں مسجد پر حملے کی شدید مذمت

    چین کے سفارتخانے نے پشاور میں گزشتہ روز پولیس لائن کی مسجد پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

    چین کے سفارت خانے نے اپنے آفیشل ٹوئٹراکاؤنٹ پر جاری پیغام میں کہا ہے کہ ’چینی سفارت خانہ پشاور میں مسجد پر کیے جانے والے دہشت گرد حملے پراپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    چین کے سفارت خانے نے حملے کے نتیجے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے دلی رنج کا اظہار کیا ہے۔

    پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’سفارت خانہ اس سانحے میں زخمیوں اور ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ ان کے غم میں برابر کا شریک ہے اوران سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔‘