آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا الرٹ

پاکستان کے صوبے پنجاب کے تین دریاؤں میں سیلاب کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر مخصوص علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا کہا گیا ہے۔ تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت سیلاب زدگان کے لیے جمع کردہ فنڈز کے استعمال کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ بندی کی خواہش مند تھی۔

لائیو کوریج

  1. سیلاب کے بعد قومی شاہراہ پر ٹریفک جام معمول بن گیا, ریاض سہیل، بی بی سی اردو

    نیشنل ہائی وے پر اس وقت ہزاروں گاڑیاں رکی ہوئی ہیں ، اسلام آباد اور لاہور کے علاوہ خیبر پختونخوا سے آنے والی بسیں بھی ان میں شامل ہیں۔

    اسلام آباد سے آنے والے ایک مسافر نے بتایا کہ رات دو بجے انھوں نے سکھر عبور کیا اور ابھی اتک وہ مورو نہیں پہنچ ہائے۔

    عام حالات میں یہ سفر صرف دو گھنٹے میں طے ہوتا ہے

  2. پاکستان میں سیلاب: امداد متاثرین تک پہنچے تو کیسے پہنچے؟

    پاکستان میں آنے والے سیلاب سے ملک کا ایک تہائی حصہ تباہی اور بربادی کی تصویر بن گیا ہے۔ سیلاب سے ملک کے طول و عرض میں پھیلے کروڑوں افراد امداد کے منتظر ہیں جن میں لاکھوں لوگ ایسے ہیں جن تک اب بھی کوئی امداد نہیں پہنچ سکی۔

    اتنی بڑی آفت پر ملک اور ملک سے باہر لوگ دل کھول کر مدد کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن جس پیمانے پر کام ہونے کی ضرورت ہے وہ نہیں ہو رہا ہے اور آج کے پاکستان کا المیہ یہ بھی ہے کہ جو لوگ مدد کرنے کے لیے تیار ہیں وہ بروقت اور سرعت سے امداد پہنچانے سے قاصر ہیں۔

    عطیات اکھٹا کر کے ضرورت مندوں تک کیسے پہنچائیں جائیں اس کا کوئی موثر نظام موجود نہیں ہے۔

  3. حکومت نے امدادی سامان کی درآمد کو ٹیکس اور ڈیوٹی سے چھوٹ دے دی, تنویر ملک، صحافی

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے سیلاب زدگان کے لیے سامان کی درآمد اور فراہمی پر ٹیکس اور ڈیوٹیز سے استثنٰی دی گئی ہے۔

    ایف بی آر کے اعلامیے کے مطابق ملک بھر میں حالیہ سیلاب سے ہونے والی شدید تباہی کے باعث متاثرہ لوگوں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے وزیر اعظم پاکستان نے فوری امدادی اقدامات کا حکم دیا ہے تاکہ سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کو امدادی سامان کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    حکام کے مطابق امدادی سامان کی خریداری میں تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز کے خاتمے سے متاثرہ افراد کو درپیش مشکلات کو کم میں مدد ملے گی اور ٹیکس و ڈیوٹی چھوٹ کے سبب وسائل کا زیادہ سے زیادہ استعمال متاثرین کی بحالی کے لیے ہو سکے گا۔

    وفاقی حکومت کی ہدایت پر ایف بی آر نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے درکار سامان کی درآمد پر تمام ڈیوٹیز اور ٹیکسز سے استثنیٰ دے دیا ہے۔

    ایسی درآمدات پر این ڈی ایم اے یا پی ڈی ایم اے کی طرف سے تصدیق کے بعد ڈیوٹی اور ٹیکس سے مکمل چھوٹ ہوگی۔

    غیر ملکی حکومتوں یا بین الاقوامی تنظیموں اور ڈونرز کی طرف سے عطیہ کے طور پر بھیجے جانے والے سامان پر کسٹم ڈیوٹی اور ٹیکس سے مکمل استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔

  4. ’مجھے کھانا نہیں خیمہ لے دو، میری بیٹیاں بے پردہ بیٹھی ہیں‘

  5. پاکستان میں سیلاب متاثرین کی فوری امداد کے لیے برطانیہ میں ڈیک اپیل کا آغاز

    برطانیہ کی 15 فلاحی تنظیموں نے پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے اور امدادی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لیے ڈیک اپیل شروع کی ہے جس کے ذریعے ہنگامی بنیادوں پر امداد جمع کی جاسکے گی۔

    ڈیک اپیل میں کہا گیا ہے کہ ملک کا ایک تہائی حصہ زیرِ آب ہے اور 30 سال کی اوسط کے مقابلے پانچ گنا بارشوں سے ہر سات میں سے ایک شخص سیلاب سے متاثر ہوا ہے اور 20 لاکھ ایکڑ زمین پر پھیلی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    سکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے ڈیک کے سربراہ صالح سید کا کہنا ہے کہ ’پانی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ہماری ترجیج جانیں بچانا اور انھیں محفوظ کرنا ہے۔‘

    ’سیلابی ریلوں سے حیرت انگیز تباہی ہوئی ہے۔ فصلیں اور مویشی بہہ گئے ہیں جس کا مطلب ہے بھوک بڑھے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ برطانوی شہری پہلے ہی مہنگائی کے اثرات جھیل رہے ہیں مگر کم سے کم امداد بھی جانیں بچا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سب سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس مشکل گھڑی میں جہاں تک ممکن ہو امداد دیں۔‘

    جب بڑے پیمانے پر آفات کم وسائل والے ممالک کو متاثر کرتی ہیں تو ڈیک اپیل کے ذریعے برطانوی امدادی تنظیمیں ہنگامی طور پر امداد جمع کرتے ہیں۔

    ڈیک میں 15 تنظیمیں شامل ہیں جن میں ایکشن اگینسٹ ہنگر، ایکشن ایڈ یو کے، ایج انٹرنیشنل، برٹش ریڈ کراس، سی اے ایف او ڈی، کیئر انٹرنیشنل یو کے، کرسچن ایڈ، کنسرن ورلڈ وائیڈ یو کے، انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی یو کے، اسلامک ریلیف ورلڈ وائیڈ، آکسفام جی بی، پلان انٹرنیشنل یو کے، سیو دی چلڈرن یو کے، ٹیئر فنڈ اور ورلڈ ویژن یو کے شامل ہیں۔

  6. پاکستان میں سیلاب متاثرین کو ملنے والی بین الاقوامی امداد کی فہرست

    دفتر خارجہ نے پاکستان میں سیلاب متاثرین کے لیے بین الاقوامی امداد اور عطیات پر ایک تھریڈ ٹوئٹر پر شیئر کیا ہے۔

    • اس کے مطابق:
    • چین کی ریڈ کراس سوسائٹی نے پاکستان کے لیے تین لاکھ ڈالر ایمرجنسی کیش کا اعلان کیا ہے
    • آئرلینڈ نے متاثرین کے لیے پانچ لاکھ یورو کی گرانٹ کا اعلان کیا ہے
    • کینیڈا نے 50 لاکھ ڈالر کی فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔ کینیڈین حکومت نے کہا ہے کہ وہ ہر شہری کی جانب سے ایک ڈالر کے عطیے کے بدلے ایک ڈالر دیں گے
    • امریکی حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے تین کروڑ ڈالر کا اعلان کیا ہے
    • یورپی یونین نے بلوچستان کے لیے ساڑھے تین لاکھ یورو، سندھ میں غذائی قلت کے خاتمے کے لیے 10 لاکھ یورو اور بے گھر افراد کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے 18 لاکھ یورو کی گرانٹ کا اعلان کیا ہے
    • برطانیہ نے 15 لاکھ پاؤنڈز کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے
    • آذربائیجان کی حکومت نے 20 لاکھ ڈالر کی فلڈ ریلیف امداد کا اعلان کیا ہے
    • ورلڈ فوڈ پروگرام کے ذریعے 20 لاکھ ڈالر کی امداد دی جا رہی ہے
    • جنوبی کوریا نے تین لاکھ کی امداد کا اعلان کیا ہے
    • ورلڈ بینک نے 370 ملین ڈالر اور اس کے تکنیکی معاونت کا وعدہ کیا ہے
    • ایشین ڈیویلپمنٹ بینک نے ڈزاسٹر ریلیف فنڈ گرانٹ کے تحت 30 سے 40 لاکھ ڈالر دینے کا وعدہ کیا ہے جبکہ بحالی کے اقدامات کے لیے ایک کروڑ ڈالر دیے جائیں گے
  7. متحدہ عرب امارات سے پانچ کروڑ ڈالر کے امدادی سامان کی آمد شروع: شہباز شریف

    وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ’برادر ملک متحدہ عرب امارات سے سیلاب متاثرین کے لیے 50 ملین (پانچ کروڑ) ڈالر کے امدادی سامان کی آمد شروع ہوگئی ہے۔‘

    ’گزشتہ رات صدر محمد زاہد سے ٹیلیفون پر بات ہوئی جس میں انھوں نے یقین دلایا کہ وہ سیلاب متاثرین کی امداد جاری رکھیں گے۔‘

    جمعرات کو اپنے ٹویٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ ’صدر یواے ای کی دعوت پر میرا 3 ستمبر کو متحدہ عرب امارات کا دورہ طے تھا لیکن ہم نے تمام تر توجہ متاثرین کی ریلیف اور بحالی پر مرکوز کرنے کے لئے اس دورہ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

    شہباز شریف نے کہا کہ ’مشکل کی اس گھڑی میں اپنے ساتھ کھڑے ہونے والے بھائیوں اور بہنوں کے ہمیشہ مقروض رہیں گے۔‘

  8. ہم دوسروں کے کاربن اخراج کی قیمت چکا رہے ہیں: شیری رحمان

    وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان کہتی ہیں کہ پاکستان دوسرے ممالک کے کاربن اخراج کی بھاری قیمت ادا کر رہا ہے۔

    ٹوئٹر پر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں توانائی مکمل طور پر ماحول دوست ذرائع پر منتقل کر دی جائے تو اس کے باوجود یہاں گرمائش میں کمی نہیں آئے گی۔ ’گرین ہاؤس گیسز کو روکنے تک طوفان نہیں رُکے گا۔‘

  9. پنجاب کے دریاؤں اور براجز میں پانی کے اِن اور آْؤٹ فلو کی حالیہ رپورٹ

    پنجاب کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ زیادہ ہے۔

  10. ستمبر کے دوران ملک میں موسم کیسا ہوگا؟

    محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں ستمبر کے دوران موسم کی مجموعی صورتحال کی پیشگوئی کی ہے۔

    اس کا کہنا ہے کہ ’ستمبر کے دوران معمول یا اس سے زیادہ بارش کا امکان ہے۔ شمال مشرقی پنجاب اور سندھ میں معمول سے زیادہ بارش کا امکان ہے۔

    ’کشمیر کے اکثر علاقوں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں معمول یا اس سے کچھ زیادہ بارش کا امکان ہے۔ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے شمالی علاقوں میں مہینے کے دوران تقریباً معمول کے مطابق بارش کا امکان ہے۔‘

    کیا اثرات رونما ہوسکتے ہیں؟

    محکمہ موسمیات کے مطابق کچھ مقامات پر موسلادھار بارشوں سے پنجاب، کشمیر اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔ پنجاب، سندھ اور خیبرپختونحوا کے شہروں میں اربن فلنڈنگ کا خدشہ ہے۔ لیکن اس کے امکانات کم ہیں۔

    پورے مہینے کے دوران آبپاشی اور توانائی کے شعبے کے لیے کافی پانی موجود رہے گا۔

    ستمبر کے دوران بارشوں سے فصلوں کی پیداور پر مثبت اثر ہوگا۔

    موسم کی حالیہ صورتحال

    جمعرات کے روز: ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ تاہم بالائی خیبرپختو نخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور ملحقہ علاقوں میں چند مقامات پر ہلکی بارش کا امکان ہے۔

    جمعے کے روز: ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ تاہم بالائی خیبرپختو نخوا، گلگت بلتستان، کشمیر اور ملحقہ علاقوں میں چند مقامات پر ہلکی بارش ہو سکتی ہے۔

  11. پنجاب میں ’33 ہزار سے زیادہ گھرانوں میں خیمے تقسیم‘

    پنجاب میں پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ اداروں نے سیلاب میں پھنسے 61507 افراد کو ریسکیو کیا ہے اور سیلاب زدہ علاقوں میں 60 ریلیف کیمپس قائم ہیں۔

    ایک بیان میں اس کا کہنا ہے کہ پی ڈی ایم اے سیلاب متاثرین تک تین وقت کے کھانے کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ’پی ڈی ایم اے سیلاب متاثرین کو بیماریوں سے بچانے کے لیے صاف پانی کے ہاتھ سے چلنے والے فلٹریشن پلانٹس بھی لگائے گئے ہیں۔

    ’33478 گھرانوں کو خیمہ جات تقسیم کیے جا چکے۔ 68637 گھرانوں میں راشن پنچایا گیا ہے۔ 14915 گھرانوں کو پلاسٹک میٹ بھی دیے گئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے سیلاب متاثرین کو برتن، چارپائیاں، مچھر دانیاں سمیت دیگر ضروری سامان بروقت دیا جا رہا ہے۔‘

    اس کے مطابق سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ’سیلاب متاثرین کی بحالی کا عمل جلد شروع کریں گے۔‘

  12. سیلاب زدگان تک امداد پہنچنے میں کیا رکاوٹیں حائل ہیں؟

  13. ’سیلاب کے دوران ہیلی کاپٹر پر راشن پھینکنے کے لیے خشک زمین ڈھونڈنا مشکل ہوتا ہے‘

    پاکستانی بحریہ کے مطابق سندھ کا 70 فیصد حصہ سیلاب میں ڈوبا ہوا ہے اور بہت سے لوگ اب بھی سیلابی پانی میں گھرے ہوئے ہیں لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو اپنے علاقے کو چھوڑنا ہی نہیں چاہتے۔

    بحریہ کے حکام نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کے ذریعے مدد فراہم کرنا ایک چیلنج ہے۔ ’پانی میں گھرے افراد کو کہیں سے کشتیوں کے ذریعے تو کہیں سے ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر ریلیف کیمپوں میں لے جایا جا رہا ہے۔ لیکن جہاں ہیلی کاپٹر لینڈ نہیں کر سکتا وہاں پانی میں گھرے ایک، ایک شخص کو ایک ایک کر کے ہیلی کاپٹر میں بٹھایا جا رہا ہے۔‘

    بی بی سی سے گفتگو میں پاکستانی بحریہ کی جانب سے سندھ میں جاری ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والے ایک اہلکار نے بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ علاقے میں پینے کا صاف پانی نہیں۔ ’اس وقت سب سے بڑی ترجیح پھنسے ہوئے لوگوں کو نکال کو ریلیف کیمپوں میں لانا اور جن علاقوں کا زمینی راستہ منقطع ہو گیا وہاں لوگوں تک راشن پہنچانا ہے۔‘

    ’بلوچستان میں بھی بڑے علاقے میں تباہی ہوئی ہے لیکن اس کے مقابلے میں سندھ میں آبادی بہت ہے۔ یہاں ایک سیلابی ریلا ختم ہوتا ہے تو دوسرا آ جاتا ہے۔‘

    نیوی کے افسر نے بتایا کہ لوگوں کو پانی سے نکالنے اور اوپر سے سامان کی سپلائی میں خاص تربیت ہوتی ہے جو کہ دیگر فوجی اور سول اداروں میں نہیں ہے۔ ’تباہی اس لیول کی ہے کہ پائلٹس کو پتا تو نہیں کہ کیا کریں۔۔۔ جس نے ریسکیو کا فلڈ میں کام نہیں کیا ان کو کیا پتا کہ کیسے راشن کو زمین میں پھینکنا ہے۔ صرف یہ نہیں کہ وہ پھٹ رہا ہے بلکہ وہ گیلا بھی ہو جاتا ہے۔‘

    وہ کہتے ہیں کہ ہیلی کاپٹر مکمل طور پر لوڈڈ ہوتا ہے اور نیچے آکر سامان کی سپلائی کے لیے کافی ایندھن ضائع کرنا پڑتا ہے۔ ’جب ہیلی کاپٹر کسی علاقے میں جاتا ہے تو وہاں موجود لوگ بھی اپنی قمیضیں اُتار کر یا ہاتھ میں موجود کپڑے کو لہرا کر ہیلی کاپٹر کے عملے کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان تک راشن پہنچایا جا سکے۔‘

    بحریہ کے افسر کے مطابق ’لوگ چھتوں پر ہیں، ٹیلوں میں ہیں۔ پانی میں گھرے ہوئے ہیں جہاں جہاں نظر آتا ہے کہ انسان کھڑا ہوا ہے جہاں جہاں لوگ کھڑے دکھائی دیتے ہیں، ہم ان تک پہنچتے ہیں، اوپر سے سامان پھینکتے جاتے ہیں۔‘

    ’اس میں سکیورٹی کے بھی ایشو ہو سکتے ہیں اور ایک مخصوص اونچائی سے ہیلی کاپٹر نیچے نہیں آ سکتا۔ یوں کہیے کہ آٹھ سے دس فٹ سے زیادہ نیچے نہیں آ سکتے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’عام طور پر سڑکوں کا کوئی پیچ (حصہ) ہوتا ہے جو پانی سے باہر ہوتا ہے۔ اس پر ہم سامان کو ڈراپ کرتے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ سیلاب کے دنوں میں سب سے بڑا مسئلہ سامان کو زمین پر منتقل کرنا ہوتا ہے اور اس کے لیے کوشش ہوتی ہے کہ خشک زمین ملے لیکن سیلاب کی وجہ سے مشکل ہوتی ہے۔

  14. سیلاب ڈائری: ’میری بیٹیوں کا جہیز بھی بہہ گیا‘

  15. آپ سیلاب زدگان کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟

  16. ’ہمیں پہاڑوں کے اوپر سے چڑھ کر آنا پڑا‘

    سیلاب کی وجہ سے تباہی کے باعث کالام اور بحرین کے درمیان کئی مقامات پر سڑک کا وجود ہی ختم ہو گیا ہے۔ ایسی صورت میں لوگ کالام سے بحرین پیدل چل کر آ رہے ہیں۔

    جانیے محمد ہادی اور محمد علی کیسے 36 کلومیٹر کا راستہ پیدل طے کر کے بحرین پہنچے۔ ویڈیو: عزیز اللہ خان، بلال احمد

  17. خیبر پختونخوا میں 156 سکولز اور تعلیمی ادارے بھی سیلاب سے تباہ

    صوبہ خیبر پختونخوا میں ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے کے دفتر سے جاری ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ دو ماہ اور پندرہ دن کے دوران بارشوں اور سیلابوں کے نیتجے میں خیبر پختونخوا اور ضم شدہ اضلاع میں 156 سکولز اور تعلیمی اداروں کو بھی نقصان ہنچا ہے۔

    بارشوں اور سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں ڈیرہ اسماعیل خان، سوات، کرک، لکی مروت، ٹانک اور کوہستان کے علاقے شامل ہیں جہاں نہ صرف جانی نقصانات زیادہ ہوئے ہیں بلکہ مکانات اور فصلوں کو بھی شدید نقصانات پہنچے ہیں۔

    ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے شریف حسین نے اس موقع پر بتایا کہ حالیہ سیلابوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے پی ڈی ایم اے نے مجموعی طور پر مختلف اضلاع کے انتظامیہ کو جولائی سے اب تک 85 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کردیے ہیں جبکہ ہر ضلع خصوصاً زیادہ متاثرہ علاقوں کے لیے ٹینٹ، گدے، غیرغذائی اشیا اور دیگر فوری ضرورت کا سامان ہنگامی بنیادوں پر مہیا کر دیا گیا ہے جو کہ متاثرین سیلاب میں متعلقہ ضلعی انتظامیہ کی وساطت سے تقسیم کیا جا چکا ہے۔

    یکم جولائی سے اب تک متاثرہ اضلاع میں 8650 خیمے بھیجے گئے ہیں۔ 6850 ترپال شیٹ، 2800 کمبل اور 2500 پلاسٹک میٹس بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں 8550 میٹریس،2550 کچن سیٹ اور 2000 ہائجین کٹس بھی بھیجی گئیں ہیں۔

    نکاسی آب کے لیے41 ڈی واٹرنگ پمپس بھی متاثرہ علاقوں کو بھیجے جاچکے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔

    ڈائریکٹر جنرل کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ہنگامی صورتحال ختم ہوتی ہے تو نقصانات کے معاوضے کا عمل شروع کیا جا ئے گا۔

    صوبے بھر میں سیلاب متاثرین کے لیے 159 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ ضلع نوشہرہ میں77 کیمپس قائم ہیں۔ ان میں مقیم افراد کو خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات مہیا کی جارہی ہیں۔

    ڈی آئی خان ڈویژن میں 11 کیمپس قائم ییں جس میں 25000 افراد کو بنیادی ضروریات مہیا کی جارہی ہیں، جبکہ چارسدہ میں ضلعی انتظامیہ نے 17 ریلیف کیمپس قائم کردیے اور دیر اپر میں سات، مالاکنڈ اور مانسہرہ میں دو دو کیمپس قائم ہیں۔

    ڈی جی پی ڈی ایم اے شریف حسین کے مطابق سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں امدادی کارروائیاں جاری ہے اور صوبائی حکومت متاثرہ افراد کو امداد کی فراہمی کے لیے تمام سہولیات بروئے کار لا رہی ہیں۔

    صوبائی حکومت نے مختلف شعبوں پر مشتمل فلڈ کنٹرول روم قائم ہے۔ فلڈ کنٹرول روم سیلاب سے متعلق بروقت معلومات فراہم کر رہا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے واٹس ایپ کا اجرا کیا ہے سیلاب زدگان سے متعلق معلومات حصولی کے لیے واٹس ایپ نمبر03164261700 کا اجرا اور ٹول فری نمبر1700 کا مکمل فعال ہے۔

    ان نمبروں پر سیلاب زدگان اپنے علاقوں کی سیلابی صورتحال اور کوئی بھی شکایت اور معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔

  18. کھمبے سیلاب میں بہنے سے بجلی کی سپلائی میں رکاوٹ، بحالی کی کوششیں جاری, تنویر ملک ، صحافی

    وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے بلوچستان کے دو جنوبی اضلاع جعفرآباد اور نصیر آباد کے علاوہ بجلی کا نظام اپنی جگہ پر موجود ہے لیکن ٹرانسمیشن کے کھمبے سیلاب میں بہنے کے باعث بجلی پہنچانے میں رکاوٹ ہے۔

    کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(کیسکو) اور این ٹی ڈی سی، نیشنل ہائی وے کے تعاون سے ترسیلی لائینوں کو بحال کرنے کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔

    انھوں نے کہا ’وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر سات دن سے سندھ میں سیلاب زدگان کے درمیان ہوں۔ اس وقت ہیسکو کے زیر انتظام 13اضلاع میں تمام گِرڈاور فیڈرز چالو کر دیے گئے ہیں۔‘

    انھوں نے بتایا کہ شہروں میں نکاسیِ آب کی موٹریں 24 گھنٹے چل رہی ہیں۔ سیپکو کے علاقے میں وسیع علاقہ زیرِ آب آنے کے باوجود 143 فیڈرز بحال کردیے گئے ہیں۔

    اگلے چند دنوں میں دادو، خضدار 220 کے وی لائن اور سبی مچھ لائن کی بحالی سے بلوچستان کے بڑے علاقے کی بجلی بحال ہوجائے گی۔

    خیبر پختونخوا میں کوہستان سے لے کر چارسدہ اور چارسدہ سے سوات اور سوات سے ٹانک تک بجلی کی بحالی کے لیے پیسکو کی ٹیمیں تندہی سے کوشاں ہیں۔

  19. پاکستان میں سیلاب: امداد متاثرین تک پہنچے تو کیسے پہنچے؟

  20. سیلاب ڈائری: سوات میں تباہی کی داستان اور لاڑکانہ میں مدد کے منتظر متاثرین

    پاکستان میں غیرمعمولی طویل مون سون کے دوران شدید بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی ہے۔ حکام کے مطابق اس سیلاب سے سوا تین کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔

    بی بی سی اردو کے نمائندے ملک کے مختلف علاقوں میں جا کر سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور امدادی کارروائیوں کے بارے میں رپورٹ کر رہے ہیں جنھیں ایک ڈائری کی شکل میں پیش کیا جا رہا ہے۔اس سلسلے کی دوسری قسط میں جانیے کہ عزیز اللہ خان نے سوات میں اور ریاض سہیل نے سندھ کے ضلع لاڑکانہ میں کیا دیکھا۔