حکومت پنجاب کی ہدایت پر قدرتی آفات سے نمنٹے والے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے نے پہلے مرحلے میں ضلع ڈیرہ غازی خان کی تین تحصیلوں میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کا سروے شروع کر دیا ہے۔
تفصیلاتکے مطابق 15 روز میں سروے کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
۔ڈائریکٹر جنرل پراونشینل ڈائزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب فیصل فرید نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر پہلے مرحلے میں ضلع ڈیرہ غازی خان کی تین تحصیلوں کوٹ چھٹہ، تونسہ اور تحصیل ڈی جی خان کے سیلاب سے متاثر ہونے والے علاقوں میں سروے شروع کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ڈی جی خان کی تینوں تحصیلوں کے 254 موضع جات میں 34 ٹیمیں نے سروے کے عمل میں حصہ لے رہی ہیں اور 15 یوم میں تینوں تحصیلوں میں سروے کے عمل کو مکمل کیا جائے گا۔
انھوں نے بتایا کہ نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے اربن یونٹ کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔
ڈیجٹل گردواری، موضع ڈیش بورڈ کے ذریعے بھی نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے۔ انھوں نے کہا کہ صاف اور شفاف سروے کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کیا جائے گا۔
ڈیرہ غازی خان میں ضلع، تحصیل اور پٹورار سرکل کی سطح پر سروے کیمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں۔
ضلعی سطح پر اے ڈی سی آر متعلقہ کیمٹیوں کے فوکل پرسن ہوں گے اور
ضلعی سطح پر تباہ حال مکانات/فصلوں کے سروے کیمٹی کے سربراہ بھی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ متعلقہ اسسٹنٹ کمشنرز، ایس ڈی او بلڈنگ، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت، ایکسئین بلڈنگ، ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ سروے کمیٹی کے ممبران ہیں۔
تحصیل سطح پر فصلوں کے نقصانات کے سروے میں کیمٹی متعلقہ اسسٹ کمشنر، اے ڈی زراعت، اے ڈی لوکل گورنمنٹ، تحصیلدار اور ریونیو افسر پر مشتمل ہے۔
تحصیل سطح کے مکانات سروے کیمٹی میں اسسٹنٹ کمشنرز، ایس ڈی او بلڈنگ،
اے ڈی لوکل گورنمنٹ، تحصیلدار اور ریونیو عملہ پر مشتمل ہے۔
متعلقہ پٹواری، فیلڈ اسسٹنٹ اور سیکریٹری لوکل گورنمنٹ بھی متعلقہ کیمٹیوں کو معاونت فراہم کریں گے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اداروں کی جانب سے اب تک 75,552 سیلاب میں پھنسے افراد کو ریسکیو کیا ہے۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 184 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے، اس وقت بھی مختلف مقامات پر 45 ریلیف کیمپس آپریشنل ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کو تین وقت کے کھانے، علاج معالجے سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے اور اب تک پی ڈی ایم اے کی جانب سے 38,883 گھرانوں میں خیمہ جات تقسیم کیے جا چکے ہیں۔