آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا الرٹ

پاکستان کے صوبے پنجاب کے تین دریاؤں میں سیلاب کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر مخصوص علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا کہا گیا ہے۔ تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت سیلاب زدگان کے لیے جمع کردہ فنڈز کے استعمال کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ بندی کی خواہش مند تھی۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتریس دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوتریس سیلاب متاثرین سے اظہار یکجہتی کرنے کے لیے دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

    اسلام آباد ایئرپورٹ پر وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر ، وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب اور وزارت خارجہ کے حکام نے ان کا استقبال کیا۔

    پاکستان کے دورے کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو سیلاب سے زیادہ متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے اور متاثر افراد سے بات چیت کریں گے۔ اس موقع پر وہ امداد پہنچانے والے کارکنوں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    پاکستان آمد کے موقع پر انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے اپنی آمد کا اعلان کیا اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہونے والی تباہی سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے بین الاقوامی برادری سے دل کھول کر مدد کرنے کی درخواست بھی کی۔

  2. نسیم شاہ کے چھکوں والا بیٹ نیلام ہو گا، آدھی رقم سیلاب سے متاثرہ افراد کے لیے

    افغانستان کے خلاف ایشیا کپ کے میچ میں پاکستان کو یادگار جیت سے ہمکنار کرنے والے نوجوان نسیم شاہ نہ صرف خود شہ سرخیوں میں ہیں بلکہ جس بیٹ سے انہوں نے فضل حق فاروقی کے آخری اوور میں دو لگاتار چھکے لگائے اس کے چرچے بھی جاری ہیں۔

    نسیم شاہ نے جس بیٹ سے یہ دو چھکے لگائے تھے وہ دراصل ان کے ساتھی فاسٹ بولر محمد حسنین کا بیٹ تھا۔ نسیم شاہ نے حسنین سے کہا کہ میرا بیٹ اچھا نہیں ہے لہذا تم مجھے اپنا بیٹ دے دو جس پر حسنین نے اس شرط پر نسیم کو یہ بیٹ دیا کہ جب میں اسٹرائیک پر آؤں گا تو یہ بیٹ مجھے دے دینا لیکن نسیم شاہ نے اس کا موقع ہی نہیں دیا اور دو چھکے مارکر میچ ہی ختم کردیا۔

    میچ کے بعد ایک وڈیو سامنے آئی ہے جس میں محمد حسنین یہ بیٹ نسیم شاہ کو تحفے میں دے رہے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اب یہ نسیم شاہ کی مرضی ہے کہ وہ اس کا کیا کرتے ہیں۔

    نسیم شاہ نے محمد حسنین سے یہ بیٹ شکریے کے ساتھ وصول کیا اور کہا کہ وہ یہ بیٹ نیلامی میں رکھیں گے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا نصف حصہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی امداد میں دیں گے۔

  3. سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے درکار فنڈز کا کہیں سے بھی بندوبست کریں گے: وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنج

    وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا۔

    اجلاس سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ’سیلاب سے ہونے والی تباہی اللہ تعالئ کی طرف سے امتحان ہے۔ ہمیں صبر و تحمل کے ساتھ اس قدرتی آفت کا سامنا کرنا ہے، اپنے لوگوں کی امداد و بحالی کے لیۓ کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ متاثرین کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے اور بحالی کے لیے درکار فنڈز کا کہیں سے بھی بندو بست کریں گے۔ ‘

    وزیراعلی کا کہنا تھا کہ سیلاب کے بعد کے اثرات سے مؤثر طور پر نمٹنے کی ابھی سے منصوبہ بندی کریں گے۔

    انھوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف عمل اداروں، افسروں اور اہلکاروں کی کارکردگی کی تعریف کی۔

    وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ’امدادی سامان کی خرید ترسیل اور تقسیم میں بے قاعدگی اور بدعنوانی کی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی ہے۔

    بلوچستان کابینہ نے متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں پر اطمینان کا اظہار کیا اور متاثرین کی مکمل بحالی کو ہر صورت یقینی بنانے کا عزم ظاہر کیا۔

  4. بریکنگ, گذشتہ 24 گھنٹوں میں 36 اموات، ملک بھر میں سیلاب سے کل ہلاکتیں 1391 ہوگئیں

    قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے 8 ستمبر کے اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ 14 جولائی سے اب تک پاکستان میں سیلاب سے 1391 اموات کی تصدیق ہوئی ہے جن میں 496 بچے شامل ہیں۔ جبکہ 12722 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

    این ڈی ایم اے کے مطابق سب سے زیادہ 577 ہلاکتیں سندھ میں ہوئی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں 293، بلوچستان میں 263 اور پنجاب میں 191 ہلاکتیں سیلاب کی وجہ سے ہوئی ہیں۔

  5. اقتصادی رابطہ کمیٹی کی ریلیف آپریشن کے لیے تین ارب روپے کی منظوری

    اقتصادی رابطہ کمیٹی نے این ڈی ایم اے کے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے لیے تین ارب روپے کی منظوری دی ہے۔

    کمیٹی نے سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کو ضروری خوردنی اشیا کی فراہمی کے لیے یوٹیلیٹی سٹورز کار پوریشن کے لیے پچاس کروڑ چالیس لاکھ روپے کی منظوری بھی دی ہے۔

  6. چوبیس گھنٹوں کے دوران سندھ میں 35 ہلاکتیں

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں سیلاب سے پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد گذشتہ 24 گھنٹوں میں 35 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 15 بچے بھی شامل ہیں۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے والے صوبائی ادارے سندھ ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری تازہ ترین رپورٹ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں جامشورو میں 21 اور شہید بینظیر آباد میں پانچ افراد سمیت صوبے میں 35 اموات ہوئیں۔

    رپورٹ کے مطابق ان میں سے دو بچے پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوئے، ایک بچہ سانپ کے کاٹنے سے اور ایک خاتون مکان گرنے سے ہلاک ہوئیں۔ ایک مرد اور دو بچے کرنٹ لگنے سے ہلاک ہوئے۔

    رپورٹ کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں تقریبا ایک ہزار مکانات مکمل طور پر جب کہ 25 ہزار مکانات جذوی طور پر متاثر ہوئے۔ اسی دورانیے میں دو لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے۔

  7. خیبر پختونخوا: سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ڈینگی اور ملیریا پھیلنے کا اندیشہ

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ڈینگی اور ملیریا پھیلنے کا اندیشہ ہے جبکہ اس کے علاوہ پیٹ کی بیماریوں کے ساتھ خواتین میں پیشاب کی نالی کے انفیکشن کے مریض زیادہ آ رہے ہیں۔

    صوبے میں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے مختلف علاقوں میں اپنی ٹیمیں بھیجی ہیں جبکہ محکمہ صحت اور دیگر اداروں کی جانب سے بھی فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔

    مقامی لوگوں نے بتایا ہے کہ ان علاقوں میں مچھر زیادہ پائے جاتے ہیں اور کھلے آسمان تلے رہنے والے بیشتر متاثرین کے لیے چھت نہیں۔

    ان علاقوں میں جلدی بیماریوں کے ساتھ دیگر بیماریاں کے پھیلنے کے خدشات پائے جاتے ہیں۔

    ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے رہنما شمس وزیر نے بتایا ہے کہ ڈیرہ اسماعیل خان میں ان کے کیمپ میں جو مریض آ رہے ہیں ان میں پیٹ کی بیماریاں اور جلدی بیماریوں کے مریض زیادہ ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ خواتین میں یو ٹی آئی یا پیشاب کی نالی کے انفیکشن زیادہ ہیں اور ان کو علاج کے لیے طبی امداد فراہم کی جا رہی ہیں۔

    شمس وزیر نے بتایا کہ ان کے کیمپوں میں نوشہرہ اور چارسدہ میں ملیریا اور ڈینگی کے مرض بھی سامنے آ رہے ہیں اور اسی طرح ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک کے علاقوں سے سانپ کاٹنے سے متاثرہ افراد بھی آئے ہیں لیکن ان کی تعداد اتنی زیادہ نہیں۔

    متاثرین کا کہنا ہے ان کی زندگی مشکل میں آ گئی ہے، مکان یا تو مکمل تباہ ہیں یا چار دیواری اور کمرے گر گئے ہیں اور اسی طرح خوراک اور ادویات کی کمی ہے۔

    علاقے میں مچھروں اور بیماریوں سے بچاؤ کے لیے مچھر دانیاں نہیں تاکہ خود کو اور بچوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھ سکیں۔

  8. جامشورو میں الرٹ، علاقہ مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت

    سندھ میں سیلابی پانی کی نکاسی کے لیے منچھر جھیل میں تیسرا شگاف ڈالنے کی وجہ سے انڈس لنک کینال پر پانی کا دباؤ بڑھ رہا ہے اور سندھ حکومت کے مطابق ایل ایس ون میں کٹ لگایا جا سکتا ہے۔

    صحافی محمد زبیر کے مطابق جامشورو میں حکام نے الرٹ جاری کیا ہے اور علاقہ مکینوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

    حکام کے مطابق سیم نالہ اور انڈس لنک کینال میں پانی کے دباو کی وجہ سے شگاف پڑ سکتا ہے۔

    ادھر وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے آج پریس کانفرنس میں بتایا کہ وزیر اعلی سندھ کی ٹاسک فورس میٹنگ میں طے کیا گیا کہ ایل ایس ون پر کٹ لگا کر منچھر جھیل سے پانی نکالا جائے گا۔

    انھوں نے بتایا کہ گڈو بیراج میں پانی کی سطح 185ہزار، سکھر 2 لاکھ 73 ہزار، کوٹری 5 لاکھ 83 ہزار کیوسک ہے اور کشمور جیکب آباد کی حالت بہتر ہو رہی ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ آربی او ڈی اور ایل بی او ڈی سے بھی پانی نکالا جا رہا ہے جبکہ روہڑی کینال بھی فل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صورت حال میں بہتری کی امید ہے۔

  9. اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل 9-10 ستمبر کو پاکستان کا دورہ کریں گے

    پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس 9-10 ستمبر کو پاکستان کا دورہ کریں گے جس کا مقصد حکومت اور عوام سے ایک ایسے وقت میں اظہار یکجہتی کرنا ہے جب ملک سیلاب سے نمٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

    دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس پاکستان کی قیادت اور حکام سے ملاقات کریں گے جن میں ماحولیاتی تبدیلی کے باعث آنے والی تباہی سے نمٹنے پر تبادلہ خِیال کیا جائے گا۔

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ بھی کریں گے اور متاثرین سمیت امدادی سرگرمیوں میں ملوث ٹیموں سے بھی ملاقات کریں گے۔

    دفتر خارجہ کے مطابق اس دورے سے سیلاب سے ہونے والے نقصان کے بارے میں عالمی سطح پر آگہی پھیلانے میں مدد ملے گی۔

  10. شکار پور: ’دیہات میں رہیں تو کوئی مدد کے لیے نہیں آئے گا‘, سحر بلوچ، شکار پور

    سندھ کے شکار پور ضلع میں لکھی گاوں کے قریب مرکزی شاہراہ پر نزدیکی دیہات سے سیلاب متاثرین کی خیمہ بستی آباد ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں خواتین، کم عمر بچے اور ضعیف لوگ موجود ہیں۔

    پانی کی سطح میں کمی کے باوجود ابھی تک خشک مقامات کی کمی ایک بڑی وجہ ہے کہ سندھ میں متاثرین کی بڑی تعداد ہائی وے کے آس پاس ہی موجود ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ مرکزی شاہراہ کے قریب خیمے لگانے کا ایک اور مقصد امداد کا حصول بھی ہے کیوں کہ یہاں سے گزرنے والے لوگ ان کو دیکھ سکتے ہیں۔

    ’اگر ہم دیہات میں رہیں تو کوئی مدد کے لیے نہیں آئے گا۔‘

    ہم نے یہاں پر چند خواتین سے بات کی اور پوچھا کہ کیا ان کو یہاں حادثات کا خطرہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اور کوئی چارہ نہیں۔

    ان کے مطابق ان کو ڈر ضرور لگتا ہے۔ روزینہ نامی ایک لڑکی نے بتایا کہ ’رات میں یہاں کوئی نہیں سوتا۔ ہم جاگتے رہتے ہیں۔ نیند بھی نہیں آتی اور خوف بھی رہتا ہے کہ کوئی بھی کسی بھی وقت ٹینٹ میں آ سکتا ہے۔‘

    یہاں پر ایک بزرگ نے کہا کہ ان کی دو جوان بیٹیاں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ رات کو پہرہ دیتے ہیں۔

    ان افراد کا کہنا ہے کہ ان کی جو بھی امداد کرنی ہے، اسی مقام پر کی جائے اور ان کو کسی اور مقام پر جانے کے لیے مجبور نہیں کیا جائے۔

    انھوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ امدادی سامان کسی سرمایہ دار کو نہ دیا جائے کیوں کہ پھر سامان وہ خود رکھ کر الٹے سیدھے مطالبے کرتے ہیں۔

  11. پنجاب میں سیلاب کا امکان نہیں، پی ڈی ایم اے

    آفات سے نمٹنے کے حکومتی ادارے پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق صوبے میں تاحال سیلاب کے امکانات نہیں ہیں جہاں دریاؤں میں پانی کا بہاؤ خطرے کی حد سے کافی نیچے ہے۔

    واضح رہے کہ پنجاب میں بارشوں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 191 ہو چکی ہے جبکہ تین ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں۔

    ریسکیو کا کام مکمل ہونے کے بعد سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کا کام جاری ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق 75 ہزار سے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں 184 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 45 آپریشنل ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ادارے کی طرف سے 139043 گھرانوں میں راشن پہنچایا گیا، 65576 صاف پانی کے کین، 22110 آٹے کے تھیلے جبکہ 39966 گھرانوں میں خیمہ جات تقسیم کیے گئے۔

    پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق اب تک 150859 سیلاب متاثرین کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور سیلاب میں پھنسے 15 ہزار سے زائد جانوروں کو نکالا گیا۔

    دوسری جانب سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پنجاب کی صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں ڈیرہ غازی خان میں سروے کیا جا رہا ہے جسے 15 دن میں مکمل کیا جائے گا۔

    ڈیرہ غازی خان کی تین تحصیلوں کوٹ چھٹہ، تونسہ اور تحصیل ڈیرہ غازی خان میں جاری سروے کے دوران 254 موضع جات میں 34 ٹیمیں کام کر رہی ہیں۔

  12. سوات سیلاب: عمودی چٹانیں، کمر پر 20 کلو خوراک کا تھیلا اور خطرناک سفر

  13. بے بسی کے وہ دن جب ہمارا گاؤں باقی پاکستان سے کٹ گیا

  14. سیلاب میں پھنسی حاملہ خواتین کو فوری طبی مدد کی ضرورت

  15. اردن کی امدادی پرواز کراچی پہنچ گئی، امدادی پروازوں کی تعداد 50 ہو گئی

    کراچی میں پہلی امدادی پرواز کے اترتے ہی اردن آفت زدہ سیلاب سے نمٹنے میں پاکستان کی مدد کے لیے دنیا کی انسانی ہمدردی کی کوششوں میں شامل ہو گیا ہے۔

    کراچی کے بینا لاقوامی ہوائی اڈے پر اس طیارے کا استقبال اردنی سفیر، اردن کے ملٹری اتاشی، اردن کے قونصل جنرل، ڈی جی ایم او ایف اے این ڈی ایم اے کے نمائندے اور 5 کور کے پاک فوج کے افسران نے کیا۔

  16. ’زمین کا خشک ٹکڑا ہوتا تو شاید بہنوئی کی جان بچ جاتی‘

  17. بیرون ملک سے امدادی سامان لے کر اب تک 49 پروازیں پاکستان پہنچی ہیں: حکومتی ترجمان

    پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے اب تک بیرون ملک سے 49 پروازیں امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات سے 28 اگست کو ایک پرواز پاکستان پہنچی تھی اور پھر 7 ستمبر تک کل 19 پروازیں سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان لے کر پاکستان پہنچیں۔

    ترکی سے 28 اگست سے لے کر 3 ستمبر تک 11 پروازیں ریلیف کا سامان لے کر پاکستان پہنچیں۔ چین سے ابھی تک پاکستان کو چار پروازیں پہنچی ہیں۔

    قطر سے تین پروازیں پاکستان پہنچ چکی ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کی طرف سے سیلاب متاثرین کے لیے پانچ پروازیں پاکستان پہنچی ہیں۔ یونیسف کی طرف سے دو پروازیں بھی پاکستان بھیجی گئی ہیں۔

    فرانس، ازبکستان اور ترکمانستان سے بھی امدادی سامان لے کر پروازیں پاکستان پہنچی ہیں۔

  18. دیر:سیلاب سے متاثرہ مدکلاشٹ روڈ سی اینڈ ڈبلیو نے ٹریفک کے لیے بحال

    سیلاب سے متاثرہ مدکلاشٹ روڈ سی اینڈ ڈبلیو نے ٹریفک کے لیے بحال کر دی گئی ہے۔

    چترال لوئر کی ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ مدکلاشٹ کے ٹرانسپورٹرز اور مسافروں کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ اوور لوڈڈ گاڑیوں والے عارضی پلوں کا استعمال نہ کریں۔

    عوام کی حفاظت کے لیے اوور لوڈ گاڑیوں کو عارضی پلوں سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    بی بی سی کے نامہ نگار عزیزاللہ خان کے مطابق حکومت خیبر پختونخوا ریجنل انفارمیشن آفس ملاکنڈ نے کہا ہے کہ لوئر چترال میں پٹیگل ششیکوہ کے علاقے میں مدکلاشٹ روڈ پر بحالی کا کام جاری ہے۔

    ڈی سی لوئر چترال وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر لوئر چترال انوارلحق کے نگرانی میں حالیہ سیلاب سے متاثرہ سٹرکوں، رابطہ پلوں اور دیگر انفرا سٹکچر کی بحالی کے کاموں پر پوری تندہی کے ساتھ تعمیرانی کام جاری ہیں اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر کی خصوصی ہدایت پر محکمہ سی اینڈ ڈبلیو نے سیلاب سے بری طرح متاثر ہونے والی مدکلاشٹ روڈ کی بحالی کے لیے دن رات کام کر رہا ہے۔

    ایس ڈی او سی اینڈ ڈبلیو دروش اپنی ٹیم کے ہمراہ موقع پر موجود ہیں اور کام کی نگرانی کر رہے ہیں۔ مدکلشٹ روڈ کو آئندہ 24 گھنٹوں میں ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔ ڈی سی انور الحق نے میڈیا کے نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں سڑکوں کی بحالی اولین ترجیح ہے اور سیلاب متاثرین کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

  19. بریکنگ, آمری کے مقام پر انڈس ہائی وے زیر آب، سہون سے دادو جانے والا راستہ بند

    پاکستان کے صوبہ سندھ میں مرکزی شاہراہ انڈس ہائی وے سہون کے قریب آمری کے مقام پر زیر آب آ گئی ہے جس سے پل ٹوٹ گیا ہے اور صوبے کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    گذشتہ شب سیلابی ریلے سے پل ٹوٹنے کی وجہ سے سیہون دادو روڈ پر ٹریفک مکمل طور پر بند ہوگئی، اس سے پہلے انڈس ہائی وے پر پانی آنے سے ایک ٹریک پر ٹریفک چل رہی تھی لیکن اب انڈس ہائی وے کے دونوں ٹریک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔

  20. منچھر جھیل میں پانی کی سطح میں کمی ہونی لگی

    پاکستان کے صوبہ سندھ کی سب سے بڑی منچھر جھیل میں پانی کی سطح میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔

    سندھ کے وزیر آبپاشی جام خان شورو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ منچھر جھیل میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہو گئی ہے اور اس کی وجہ اس ہر لگائے جانے والے شگاف ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اس پر کٹ (شگاف) نہ لگاتے تو بڑی تعداد میں آبادی اور شہر زیر آب آ جاتے اور اس سے مزید افراد کی زندگیوں کو خطرہ ہوتا۔

    پاکستان میں حالیہ سیلاب سے تین کروڑ 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ کم از کم 1343 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔