عمرکوٹ سے صبح دس بجے کے قریب ہم سامارو کے لیے روانہ ہوئے۔ سنہ 2020 میں بھی یہاں شدید بارشوں کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ اس سے قبل کہ ہم اپنی منزل پر پہنچتے ہمیں تین دھرنوں اور سڑک بلاک ہونے کا سامنا کرنا پڑا۔ عمرکوٹ سامارو روڈ پر چیمہ فارم پر لوگوں نے ٹائروں کو آگ لگاکر سڑک بلاک کردی۔
اس علاقے میں دو روز قبل ایک زخمی نوجوان رانجھا دھونکائی کی ہلاکت ہوئی تھی جس پر بارشوں کے دوران چھت گر گئی تھی۔ فقیر محمد سلیم سنجرانی نے بتایا کہ کوئی ایم این اے یا ایم پی اے تو دور کی بات ان کے پاس تو ایک پٹواری تک نہیں آیا کہ آپ کا کیا نقصان ہوا ہے، ان کے گھر ڈوبے ہوئے ہیں جبکہ نہ راشن دستیاب ہے اور نہ خیمہ، وہ سیلابی پانی سے گذر کر اپنے گھروں کو جاتے ہیں اس پانی کی وجہ سے ان کے پاؤں زخمی ہوچکے ہیں۔ جانب علی کے مطابق سب لوگ سڑکوں پر ہیں یہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو ہوکر سڑکوں پر پہنچے ہیں۔
انھیں ریسکیو کرنے ولا یا امداد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ لوگ مجبور ہوکر یہ احتجاج کر رہے ہیں۔ ایک گھنٹے تک یہ احتجاج جاری رہا مقامی ایس ایچ او نے انھیں سمجھایا کہ احتجاج ریکارڈ ہوگیا، اب لوگوں کو جانے دیں لیکن مظاہرین نہ مانے جس کے بعد ایس ایچ او نے انھیں دھمکایا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
پولیس نے معلوم نہیں مظاہرین کی کس سے بات کرائی اور وہ سڑک کھولنے پر تیار ہوگئے، جیسے ہم سامارو شہر سے دو کلومیٹر باہر پہنچے تو خواتین جن کے پاس ہاتھوں میں ڈنڈے تھے انھوں نے جھاڑیاں لے کر سڑک بند کردی، یہ ہندو سامی کمیونٹی کی نڈر خواتین تھیں جو کسی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے غیرمعمولی زبان استعمال کر رہی تھیں۔
انھوں نے بتایا کہ کیا وہ سیلاب متاثرین نہیں؟ سڑک پر لاوارث پڑے ہیں انھیں پینے کا پانی تک نہیں دیا جارہا ہے ابھی ان کے یہاں سے پانی کا ٹینکر گذرا جس نے کہا کہ ہمیں آگے پانی دینا ہے اس طرح جو کھانا بانٹ رہے ہیں انھیں نظر انداز کیا جاتا ہے۔
یہ سڑک بھی بند رہی دوبارہ ایس ایچ او کا انتظار کیے جانے لگا وہ آیا ہے بات کی یقین دہانی کرائی اور سڑک کھل گئی۔ اگر صرف اسی سڑک کی ہی بات کی جائے تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے جن میں بچے، خواتین اور بزرگ شامل تھے ان کے ساتھ ان کا مال مویشی بھی تھا پینے کا پانی انھیں کسی قریبی ہینڈ پمپ سے لانا پڑتا تھا جبکہ ابھی واش کی سہولت نہیں تھی کچھ لوگوں نے خواتین کے لیے چادروں سے ایک واش روم بنادیا تھا۔ سامارو سے تھوڑا باہر سامارو روڈ کا علاقہ آتا ہے، یہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا کیمپ لگا ہوا تھا، جہاں خواتین کا مجمع موجود تھا، ان خواتین نے بھی سڑک بلاک کرکے اپنا احتجاج رکارڈ کرایا کہ امداد دینے کے عمل میں تاخیر کی جا رہی ہے۔
وفاقی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے متاثر خاندان کی خاتون کو پچیس، پچیس ہزار رپے دینے کا اعلان کیا تھا، خواتین کی تعداد زیادہ تھی اور انٹرنیٹ سروس میں تعطل کی وجہ سے بھی ادارے کے سسٹم میں تاخیر آرہی تھی۔ رات کو ایک ڈیڑھ بجے عمرکوٹ شہر میں بینکوں کے باہر کئی درجن خواتین موجود تھیں جو اے ٹی ایم سے پیسے نکالنا چاہتی تھیں کہیں کیش ختم ہوجاتا تو کہیں سسٹم ڈاؤن تھا۔ سنہ 2020 میں بھی ہسپتال سمیت سامارو شہر زیر آب رہا اس بار شہر سے کافی قدر پانی کی نکاسی ہوگئی تھی تاہم گھروں کے آس پاس پانی موجودتھا، ایم ایس ڈاکٹر شیوا رام ملہی نے بتایا کہ ان کے پاس عام دنوں میں چار سے پانچ سو او پی ڈی ہوتی تھی اس کی تعداد آٹھ سے نو سو ہوگئی ہے زیادہ تر مریض جلدی امراض، ڈائریا اور ملیریا کے ہوتے ہیں۔ وہ روزانہ 200 ملیریا ٹیسٹ کر رہے ہیں جن میں بیس فیصد پازیٹو آرہے ہیں جو صورتحال ہے اس سے آنے والے دنوں میں ان کی تعداد بڑھتی جائے گی۔
ان کے مطابق 'لوگوں کے پاؤں میں زخم اور فنگس ہے کیونکہ وہ سیلابی پانی جو اس وقت آلودہ ہوچکا ہے سے گذر کر اپنے گھروں کو جاتے ہیں، جس سے ان کے پاؤں میں فنگس ہو رہی ہے'۔ متاثرین کیمپ کے آس پاس موجود ہیں چند روز قبل پانچ برس کے پونم کولھی قریبی پانی میں گر کر ڈوب گئی اور اس کی لاش ملی۔ والد پانچو کولھی کا کہنا ہے کہ وہ گاؤں سامان نکالنے گئے بچی ان کے پیچھے آئی انہیں معلوم نھیں ہوا جب تلاش کیا تو پانی میں سے اس کی لاش ملی۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کا دعویٰ ہے کہ عمرکوٹ ضلع میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ عمرکوٹ ضلع پاکستان کا واحد ضلع ہے جہاں ساٹھ فیصد ہندو آبادی ہے۔ مسلم یہاں اقلیت میں ہیں۔ تاہم یہاں کے تمام منتخب نمائندے مسلمان ہیں۔ اداروں میں بھی ان کی اکثریت ہے جبکہ تاجر برادری کی اکثریت ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے، جو متاثرین کی مدد کر رہی ہے۔
شہر کے باہر شیو مندر میں روزانہ لنگر کا اہتمام کیا جارہا ہے جبکہ شہر کے نوجوان بھی مدد کر رہے ہیں، ایک نوجوان موھت نھالانی منگل کی صبح کو بھی ایک شہزور جتنا راشن کا سامان تقسیم کرنے عمرکوٹ کے قریبی علاقوں میں گئے اس سے قبل وہ گذشتہ پندرہ روز سے یہ ہی کام کر رہے ہیں انھیں اپنی فیملی کا بھی مالی تعاون حاصل ہے۔ عمرکوٹ میں بارشیں ختم ہونے کے بعد بھی سیلابی پانی کے ریلے کا سامنا کر رہا ہے۔
اس میں دریائے سندھ کے دنائیں کنارے پر آباد اضلاع نوشہرو فیروز، بے نظیرآباد ( نوابشاہ)، سانگھڑ، میرپورخاص کے ساتھ اس کا اپنا پانی بھی شامل ہے، جس سے اس کی تحصیلیں پتھورو اور سامارو زیادہ متاثر ہیں۔ بچابند کے علاقے میں پانی سمندر کی طرف ٹھاٹیں مارتا نظر آتا ہے۔ میرپورخاص اور عمرکوٹ شاہراہ کو بچانے کے لیے اس پر مٹی کی پشتے لگائے گئے ہیں یہ ہی سڑک چھور چھاؤنی بھی جاتی ہے۔ عمرکوٹ سے گذرنے والا یہ پانی نوکوٹ کے قریب ایل بی او ڈی میں شامل ہوجاتا ہے جہاں سے یہ شکور جھیل سے ہوتا ہوا، سمندر میں گرتا ہے۔
اس ضلع کا دوسرا حصہ جو صحرا کو لگتا ہے غلام نبی شاھ، ڈھورو نارو اور عمرکوٹ شہر کے کچھ حصے کا پانی صحرا میں چھوڑا جارہا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق عمرکوٹ میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب گھروں کو مکمل یا جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب آبادی بے گھر ہوئی ہے تاہم سڑکوں پر موجود لوگ اس سے کہیں زیادہ نظر آرہے ہیں۔ عمرکوٹ میں حکومت کی جانب سے تین کیمپ لگائے گئے ہیں جن میں ایک ٹینٹ سٹی ہے جبکہ باقی کیٹل کالونی میں موجود ہیں، جہاں میڈیکل کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے۔ انڈس ہائی وے سے دس روز قبل شروع ہونے والا سیلاب متاثرہ علاقوں کا یہ سفرقومی شاہراہ، مہران ہائی وے، عمرکوٹ میرپور خاص روڈ سے اپنے اختتام کے قریب تھا، لوگوں ابھی ریلیف کے مرحلے میں ہیں، جس میں مشکلات پیش آرہی ہیں پانی آنے والے اگلے کئی ماہ تک ان علاقوں کے آس پاس میں موجود رہے گا لہٰذا ان کی زندگی کا کٹھن سفر ابھی طویل ہے۔