آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پنجاب کے دریاؤں میں سیلاب کی پیشگوئی، پی ڈی ایم اے کا الرٹ

پاکستان کے صوبے پنجاب کے تین دریاؤں میں سیلاب کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر مخصوص علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا کہا گیا ہے۔ تحریک انصاف رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت سیلاب زدگان کے لیے جمع کردہ فنڈز کے استعمال کے لیے ایک مشترکہ منصوبہ بندی کی خواہش مند تھی۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان میں بارش کی صورتحال

    پاکستان میں جون کے وسط سے شروع ہونے والا بارش کا سلسلہ ستمبر کے اوائل تک جاری ہے اور رواں برس یہ دورانیہ معمول سے زیادہ رہا ہے۔ ان بارشوں نے ملک کے بڑے حصےمیں سیلابی صورتحال پیدا کر دی ہے اور لاکھوں افراد اس وقت بے گھر ہو گئے ہیں۔

    ملک میں حالیہ بارشوں کے سلسلے پر ایک نظر۔

  2. ضلع پشین کے متعدد علاقوں سے اب بھی زمینی راستے منقطع

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے سرحدی ضلع پشین میں سیلاب کے باعث متعدد سڑکیں اور پل ٹوٹنے سے اب تک زمینی رابطہ منقطع ہے اور آمد و رفت میں شدید پریشانی کا سامنا ہے۔

    بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق ضلع میں درجن سے زائد رابطہ پل ٹوٹ جانے کے باعث نہ صرف مقامی آبادیوں کو امداد پہنچانے میں مشکلات کا سامنا ہے بلکہ تجارتی مقاصد کی ٹریفک بھی مسائل کا شکار ہے۔

    رابطہ سڑکیں اور پل ٹوٹ جانے کے باعث ضلع کی مقامی آبادی کو بھی مرکزی شاہراوں تک رسائی میں مشکل ہے۔

  3. پیر پگاڑا کی خانقاہ میں سیلاب متاثرین کی خدمت

  4. سندھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے جدید پمپوں کے استعمال کی تربیت

    پاکستان کے صوبہ سندھ کے سیلاب متاثرہ علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے فرانسیسی ماہرین پاکستان کی فوج کے امدادی دستوں کو جدید پمپوں کا استعمال کرنے کی تربیت دے رہے ہیں۔

    یہ جدید پمپ پاکستان میں موجود فرانس کے سفارتخانے کی جانب سے سیلاب متاثرہ علاقوں سے پانی کی نکاسی کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ یہ طاقتور واٹر پمپ ایک منٹ میں تین ہزار لیٹر پانی نکال سکتے ہیں۔

  5. سینکڑوں سیلاب متاثرین کو ریسکیو کرنے والی افسر عائشہ زہری کون ہیں؟

  6. اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین کی سندھ کے عوام کے لیے امداد کی یقین دہانی

    اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین نے پی ڈی ایم اے سندھ کو ریلیف کا سامان فراہم کرنے کے حوالے سے معاہدہ کیا اور امدادی سامان کی بہت جلد فراہمی کا یقین دلایا ۔

    اس سامان میں 310000 کمبل، 76000 بالٹیاں، 56500 جیری کینز، 18800 فیملی ٹینٹ، 67500 پلاسٹک ترپال، 112000 سلیپنگ میٹس، 150000 مچھردانیاں، 140000 سولر لیمپ، 24700 کچن سیٹ، 32000 سینیٹری نیپکنس، 4500 صابن، 3500 ڈگنٹی کٹس شامل ہیں۔ یہ سامان پی ڈی ایم اے کو اگلے چند دنوں میں مہیا کیے جائیں گے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے آج اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین مس لیلا نگمانوفا نے اپنے وفد کے ہمراہ وزیراعلیٰ ہائوس میں ملاقات کی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اقوام متحدہ کے وفد کو بارش کی تباہ کاریوں کے حوالے سے بتایا کہ اس سال بارشوں نے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں اور صوبہ ایک جھیل کا منظر پیش کررہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم پوری کوشش کررہے ہیں کہ اپنے عوام کو تمام تر ضروری سہولیات سے آراستہ کریں اور اس کے لیے ہماری حکومت دن رات کام کررہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بارشوں کے باعث 15 لاکھ مکانات منہدم ہوچکے ہیں۔ اتنی بڑی تباہی سے لاکھوں کی تعداد میں لوگ بے سروساماں ہوگئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ مجھے اپنے عوام کو ہرطرح سے ریلیف دینا ہے۔ ہم پوری کوشش کررہے ہیں کہ جلد سے جلد نکاسی کا عمل پورا ہو تا کہ بحالی کے اقدامات میں تیزی لائی جائے۔

    منچھر جھیل کو کٹ لگائے گئے ہیں لیکن پھر بھی پانی کم نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ دریا میں بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔انہوں نے کہا کہ سیلابی صورتحال سے 523 افراد انتقال کرچکے ہیں جبکہ 8332 زخمی ہوئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات میں گلوبل ترجمان برائے ایشیا اینڈ پیسفک بابر بلوچ، یو این ایچ سی آر پاکستان کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے بھی شرکت کی جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کی معاونت وزیر برائے ایکسائیز مکیش چاولہ، مشیر برائے ری-ہیبلیٹیشن رسول بخش چانڈیو، چیف سیکریٹری سہیل راجپوت، اسپیشل سیکریٹری رحیم سومرو، ڈی جی پی ٹی ایم اے سلمان شاہ نے کی۔

  7. سیلاب ڈائری سندھ: عمر کوٹ کے عوام اب کس حال میں ہیں؟, ریاض سہیل، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، عمرکوٹ

    عمرکوٹ سے صبح دس بجے کے قریب ہم سامارو کے لیے روانہ ہوئے۔ سنہ 2020 میں بھی یہاں شدید بارشوں کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔ اس سے قبل کہ ہم اپنی منزل پر پہنچتے ہمیں تین دھرنوں اور سڑک بلاک ہونے کا سامنا کرنا پڑا۔ عمرکوٹ سامارو روڈ پر چیمہ فارم پر لوگوں نے ٹائروں کو آگ لگاکر سڑک بلاک کردی۔

    اس علاقے میں دو روز قبل ایک زخمی نوجوان رانجھا دھونکائی کی ہلاکت ہوئی تھی جس پر بارشوں کے دوران چھت گر گئی تھی۔ فقیر محمد سلیم سنجرانی نے بتایا کہ کوئی ایم این اے یا ایم پی اے تو دور کی بات ان کے پاس تو ایک پٹواری تک نہیں آیا کہ آپ کا کیا نقصان ہوا ہے، ان کے گھر ڈوبے ہوئے ہیں جبکہ نہ راشن دستیاب ہے اور نہ خیمہ، وہ سیلابی پانی سے گذر کر اپنے گھروں کو جاتے ہیں اس پانی کی وجہ سے ان کے پاؤں زخمی ہوچکے ہیں۔ جانب علی کے مطابق سب لوگ سڑکوں پر ہیں یہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو ہوکر سڑکوں پر پہنچے ہیں۔

    انھیں ریسکیو کرنے ولا یا امداد کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ لوگ مجبور ہوکر یہ احتجاج کر رہے ہیں۔ ایک گھنٹے تک یہ احتجاج جاری رہا مقامی ایس ایچ او نے انھیں سمجھایا کہ احتجاج ریکارڈ ہوگیا، اب لوگوں کو جانے دیں لیکن مظاہرین نہ مانے جس کے بعد ایس ایچ او نے انھیں دھمکایا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔

    پولیس نے معلوم نہیں مظاہرین کی کس سے بات کرائی اور وہ سڑک کھولنے پر تیار ہوگئے، جیسے ہم سامارو شہر سے دو کلومیٹر باہر پہنچے تو خواتین جن کے پاس ہاتھوں میں ڈنڈے تھے انھوں نے جھاڑیاں لے کر سڑک بند کردی، یہ ہندو سامی کمیونٹی کی نڈر خواتین تھیں جو کسی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے غیرمعمولی زبان استعمال کر رہی تھیں۔

    انھوں نے بتایا کہ کیا وہ سیلاب متاثرین نہیں؟ سڑک پر لاوارث پڑے ہیں انھیں پینے کا پانی تک نہیں دیا جارہا ہے ابھی ان کے یہاں سے پانی کا ٹینکر گذرا جس نے کہا کہ ہمیں آگے پانی دینا ہے اس طرح جو کھانا بانٹ رہے ہیں انھیں نظر انداز کیا جاتا ہے۔

    یہ سڑک بھی بند رہی دوبارہ ایس ایچ او کا انتظار کیے جانے لگا وہ آیا ہے بات کی یقین دہانی کرائی اور سڑک کھل گئی۔ اگر صرف اسی سڑک کی ہی بات کی جائے تو ہزاروں کی تعداد میں لوگ موجود تھے جن میں بچے، خواتین اور بزرگ شامل تھے ان کے ساتھ ان کا مال مویشی بھی تھا پینے کا پانی انھیں کسی قریبی ہینڈ پمپ سے لانا پڑتا تھا جبکہ ابھی واش کی سہولت نہیں تھی کچھ لوگوں نے خواتین کے لیے چادروں سے ایک واش روم بنادیا تھا۔ سامارو سے تھوڑا باہر سامارو روڈ کا علاقہ آتا ہے، یہاں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا کیمپ لگا ہوا تھا، جہاں خواتین کا مجمع موجود تھا، ان خواتین نے بھی سڑک بلاک کرکے اپنا احتجاج رکارڈ کرایا کہ امداد دینے کے عمل میں تاخیر کی جا رہی ہے۔

    وفاقی حکومت نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے متاثر خاندان کی خاتون کو پچیس، پچیس ہزار رپے دینے کا اعلان کیا تھا، خواتین کی تعداد زیادہ تھی اور انٹرنیٹ سروس میں تعطل کی وجہ سے بھی ادارے کے سسٹم میں تاخیر آرہی تھی۔ رات کو ایک ڈیڑھ بجے عمرکوٹ شہر میں بینکوں کے باہر کئی درجن خواتین موجود تھیں جو اے ٹی ایم سے پیسے نکالنا چاہتی تھیں کہیں کیش ختم ہوجاتا تو کہیں سسٹم ڈاؤن تھا۔ سنہ 2020 میں بھی ہسپتال سمیت سامارو شہر زیر آب رہا اس بار شہر سے کافی قدر پانی کی نکاسی ہوگئی تھی تاہم گھروں کے آس پاس پانی موجودتھا، ایم ایس ڈاکٹر شیوا رام ملہی نے بتایا کہ ان کے پاس عام دنوں میں چار سے پانچ سو او پی ڈی ہوتی تھی اس کی تعداد آٹھ سے نو سو ہوگئی ہے زیادہ تر مریض جلدی امراض، ڈائریا اور ملیریا کے ہوتے ہیں۔ وہ روزانہ 200 ملیریا ٹیسٹ کر رہے ہیں جن میں بیس فیصد پازیٹو آرہے ہیں جو صورتحال ہے اس سے آنے والے دنوں میں ان کی تعداد بڑھتی جائے گی۔

    ان کے مطابق 'لوگوں کے پاؤں میں زخم اور فنگس ہے کیونکہ وہ سیلابی پانی جو اس وقت آلودہ ہوچکا ہے سے گذر کر اپنے گھروں کو جاتے ہیں، جس سے ان کے پاؤں میں فنگس ہو رہی ہے'۔ متاثرین کیمپ کے آس پاس موجود ہیں چند روز قبل پانچ برس کے پونم کولھی قریبی پانی میں گر کر ڈوب گئی اور اس کی لاش ملی۔ والد پانچو کولھی کا کہنا ہے کہ وہ گاؤں سامان نکالنے گئے بچی ان کے پیچھے آئی انہیں معلوم نھیں ہوا جب تلاش کیا تو پانی میں سے اس کی لاش ملی۔

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کا دعویٰ ہے کہ عمرکوٹ ضلع میں دو افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔ عمرکوٹ ضلع پاکستان کا واحد ضلع ہے جہاں ساٹھ فیصد ہندو آبادی ہے۔ مسلم یہاں اقلیت میں ہیں۔ تاہم یہاں کے تمام منتخب نمائندے مسلمان ہیں۔ اداروں میں بھی ان کی اکثریت ہے جبکہ تاجر برادری کی اکثریت ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہے، جو متاثرین کی مدد کر رہی ہے۔

    شہر کے باہر شیو مندر میں روزانہ لنگر کا اہتمام کیا جارہا ہے جبکہ شہر کے نوجوان بھی مدد کر رہے ہیں، ایک نوجوان موھت نھالانی منگل کی صبح کو بھی ایک شہزور جتنا راشن کا سامان تقسیم کرنے عمرکوٹ کے قریبی علاقوں میں گئے اس سے قبل وہ گذشتہ پندرہ روز سے یہ ہی کام کر رہے ہیں انھیں اپنی فیملی کا بھی مالی تعاون حاصل ہے۔ عمرکوٹ میں بارشیں ختم ہونے کے بعد بھی سیلابی پانی کے ریلے کا سامنا کر رہا ہے۔

    اس میں دریائے سندھ کے دنائیں کنارے پر آباد اضلاع نوشہرو فیروز، بے نظیرآباد ( نوابشاہ)، سانگھڑ، میرپورخاص کے ساتھ اس کا اپنا پانی بھی شامل ہے، جس سے اس کی تحصیلیں پتھورو اور سامارو زیادہ متاثر ہیں۔ بچابند کے علاقے میں پانی سمندر کی طرف ٹھاٹیں مارتا نظر آتا ہے۔ میرپورخاص اور عمرکوٹ شاہراہ کو بچانے کے لیے اس پر مٹی کی پشتے لگائے گئے ہیں یہ ہی سڑک چھور چھاؤنی بھی جاتی ہے۔ عمرکوٹ سے گذرنے والا یہ پانی نوکوٹ کے قریب ایل بی او ڈی میں شامل ہوجاتا ہے جہاں سے یہ شکور جھیل سے ہوتا ہوا، سمندر میں گرتا ہے۔

    اس ضلع کا دوسرا حصہ جو صحرا کو لگتا ہے غلام نبی شاھ، ڈھورو نارو اور عمرکوٹ شہر کے کچھ حصے کا پانی صحرا میں چھوڑا جارہا ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق عمرکوٹ میں ڈیڑھ لاکھ کے قریب گھروں کو مکمل یا جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے، جس کے نتیجے میں ساڑھے پانچ لاکھ کے قریب آبادی بے گھر ہوئی ہے تاہم سڑکوں پر موجود لوگ اس سے کہیں زیادہ نظر آرہے ہیں۔ عمرکوٹ میں حکومت کی جانب سے تین کیمپ لگائے گئے ہیں جن میں ایک ٹینٹ سٹی ہے جبکہ باقی کیٹل کالونی میں موجود ہیں، جہاں میڈیکل کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے۔ انڈس ہائی وے سے دس روز قبل شروع ہونے والا سیلاب متاثرہ علاقوں کا یہ سفرقومی شاہراہ، مہران ہائی وے، عمرکوٹ میرپور خاص روڈ سے اپنے اختتام کے قریب تھا، لوگوں ابھی ریلیف کے مرحلے میں ہیں، جس میں مشکلات پیش آرہی ہیں پانی آنے والے اگلے کئی ماہ تک ان علاقوں کے آس پاس میں موجود رہے گا لہٰذا ان کی زندگی کا کٹھن سفر ابھی طویل ہے۔

  8. سوات کے نوجوان واجد علی نے ’زندگی اور موت کے درمیان کا پُل‘ صرف 48 گھنٹوں میں کیسے بنایا؟

  9. سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ٹیلی کام سائٹس کی بیشتر تعداد بحال: پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے کہا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ ٹیلی کام سائٹس کی بیشتر تعداد بحال ہو گئی ہے۔

    سیلاب زدہ علاقوں میں رابطوں کی بحالی کے لیے پی ٹی اے اور ٹیلی کام آپریٹروں کی بھرپور کاوشوں کے نتیجے میں غیر فعال سائٹس کی تعداد 320 تک کم رہ گئی ہے جو کہ ملک بھر میں کل سائٹس کا 0.6 فیصد ہے۔ ف

    فی الوقت سندھ میں 241 سیل سائٹس اور بلوچستان میں 79 سائٹس غیر فعال اور سیلابی پانی کی وجہ سے ناقابل رسائی ہیں لیکن آس پاس کی دیگر آپریشنل سائٹس کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ مواصلاتی تعطل نہ ہو۔

    باقی ماندہ سائٹس کی بحالی کے حوالے سے پی ٹی اے عوام کو اپ ڈیٹ کرتا رہے گا۔

  10. سیلاب سے متاثرین کے لیے طبی امداد، خیبر پختونخوا کے میڈیکل کیمپوں میں ہزاروں مریضوں کا مفت علاج

    خیبرپختونخوا کی ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن وائی ڈی اے سوشل ویلفیئر نے اپر چترال میں سیلاب متاثرین کے لیے چار کیمپ قائم کیے، جہاں ہزاروں مریضوں کا چیک اپ کیا گیا۔

    چترال اپر میں ایک میڈیکل کیمپ میں 677 مریضوں کا علاج کیا گیا۔ ہرپ نامی علاقے میں قائم دوسرے کیمپ میں 490 مریضوں کی دیکھ بھال کی گئی۔

    کیمپ نمبر تین سوش کے مقام پر قائم کیا گیا ہے جہاں 516 مریض آئے اور بارگھولی کے مقام پر قائم چوتھے کیمپ کا رخ 539 مریضوں نے کیا۔

    سوات میں بارتھانہ مٹہ کے مقام پر قائم میڈیکل کیمپ میں آنے والے متاثرین کی تعداد 495 بنتی ہے جبکہ مٹہ میں ہی ایک دوسرے کیمپ میں 519 مریضوں کا علاج کیا گیا۔

    چارسدہ کے میڈیکل کیمپ میں 387 مریض آئے جبکہ پبی میں این جی او کے تعاون سے 788 مریضوں کی چیک اپ کیا گیا۔

    ڈاکٹرز کی اس تنظیم کے چیئرمین ڈاکٹر شمس وزیر نے کہا ہے کہ پورے صوبہ خیبرپختونخوا میں چیک کیے گئے مریضوں کی کل تعداد 4527 بنتی ہے۔

  11. امداد اور ریلیف سے متعلق سندھ ہائی کورٹ میں سماعت، صوبائی حکومت سے تحریری جواب طلب, ریاض سہیل، بی بی سی اردو

    سندھ ہائیکورٹ میں صوبہ سندھ کے سیلاب متاثرین کی امداد اور ریلیف کے کاموں سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ تمام امدادی کام ججز کی نگرانی میں ہو رہے ہیں، درخواست غیر موثر ہوچکی ہے۔

    درخواست گزار شاہد سومرو نے عدالت کو بتایا کہ سیلاب کے وجہ سے لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں، ان لوگوں کے لیے ٹینٹ سٹی قائم کیے جائیں۔

    سرکاری وکیل نے بتایا کہ حیدرآباد میں ٹینٹ سٹی بنا دیا گیا ہے وہاں پر متاثرین کو رکھا گیا ہے، جس پر شاہد سومرو نے کہا کہ حیدرآباد میں ایک ٹینٹ سٹی قائم کیا گیا ہے جبکہ سیلاب متاثرین کی تعداد لاکھوں میں ہے۔

    دوران سماعت چیف جسٹس نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ شاہد سومرو صاحب کراچی میں بھی متاثرین کے لیے کیمپ بنائے گیے ہیں۔ درخواست گزار نے جواب دیا کہ 'کراچی کی کیمپ میں نے خود وزٹ کی ہے وہا متاثرین کو مشکلات کا سامنا ہے'۔

    چیف جسس نے کہا کہ اگر ٹینٹ سٹی کا حکم نامہ جاری کریں تو آپ مطمئن ہوں گے۔ درخواست گزار نے کہا کہ 'نہیں میری استدعا صرف ٹینٹ سٹی کی نہیں میری دوسری درخواست پر بھی آرڈر کریں، ان متاثرین کے لیے کراچی سمیت سندھ کے دیگر شہروں میں بھی ٹینٹ سٹی قائم کیے جائیں'۔

    شاہد سومرو نے کہا کہ حکومتی فنڈ جاری ہونے کے بعد ابھی تک متاثرین کو نہیں مل سکے ہیں، درخواست ہر اضلاع میں ایک سیل قائم کیا جائے اور ڈسٹرک سطع پر جج کی نگرانی فنڈ تقسیم اور متاثرین کی بحالی کی جائے۔

    درخواست گزار نے مزید کہا کہ متعدد شہری مر گئے، لوگوں کے گھر تباہ ہوگئے، بارش کے باعث فصل تباہ ہوگئی۔ عدالت نے درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے دس دن میں تحریری جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

  12. بلوچستان: امداد نہ ملنے پر متاثرین سیلاب کا احتجاج، نیشنل ہائی وے بند کر دیا, جعفر خان کاکڑ،صحافی

    بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے شمال کی جانب 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ضلع قلعہ سیف اللہ کے تحصیل مسلم باغ یونین کونسل نسئ کلی بنددات کے رہائشیوں کا امداد نہ ملنے پر نیشنل ہائی وے بند کر دیا۔

    مشتعل مظاہرین نے کیڈٹ کالج نیسئ کے مقام پر نیشنل ہائی وے ہر قسم ٹریفک کے لیے بند کر دییا جس سے بلوچستان کا پنجاب اور خیبر پختون خوا سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

    مظاہرین اس وقت انتظامیہ پی ڈی ایم اور حکومت کے خلاف ٹائر جلا کر نعرہ بازی کر رے ہیں۔ حالیہ طوفانی بارشوں سے مسلم باغ میں واقع شنہ خوڑہ ڈیم ٹوٹنے سے کلی بنددات کے رہائشی متاثر ہوئے۔

    کلی بندادت 150 گھروں پر مشتمل ایک دہی علاقہ ہیں، حالیہ بارشوں سے شنہ خوڑہ ڈیم ٹوٹنے سے 80 گھر مکمل تباہ ہو گئے جبکہ 70 گھروں کو جزوی طور پر نقصان پہنچا۔

    علاقہ مکین ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ ’گذشتہ دس دنوں سے شنہ خوڑہ ڈیم کے متاثرین کھلے آسمان تلے بیٹھے ہے، نہ پی ڈی ایم آے مدد کے لیے آئی اور نہ انتظامیہ نے اب تک متاثرین کے لیے راش اور دیگر ضرورت کے اشیا فراہم کی ہیں۔ ‘

  13. ’ہیلی کاپٹر آتا ہے تو ہم راشن کے لیے بھاگتے ہیں‘

  14. بریکنگ, منچھر جھیل سے پانی کے اخراج کے لیے دوسرا شگاف ڈال دیا گیا

    سندھ حکام کی جانب سے منچھر جھیل میں آرڈی پچاس کے قریب دوسرا شگاف ڈالا گیا ہے۔

    صوبائی وزیر جام خان شورو نے بتایا کہ اس سے قبل کبھی تاریخ میں مچھر میں اتنا زیادہ پانی کبھی نہیں آیا۔

    سنہ 2010 کے سیلاب میں جھیل کی سطح 210 فٹ بلند ہونے پر اس میں شگاف پڑ گیا تھا۔

    اس وقت بھی 223 فٹ تک پانی بھر چکا ہے اور کوشش کی جارہی ہے کہ دریائے سندھ میں اس کے پانی کا اخراج کیا جائے۔

    اس وقت جھیل سے چار مختلف مقامات سے پانی دریائے سندھ میں خارج کیا جا رہا ہے جن میں دو شگاف ہیں اور دو نہریں ہیں۔

    جھیل میں پانی کی مقدار زیادہ ہونے کی وجہ سے مشکلات پیس آ رہی ہیں۔

  15. پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ

    پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔

    پاکستانی فوج کے شعبہِ تعلقات عامہ کے مطابق آرمی چیف ضلع جعفر آباد کے علاقے اوستہ محمد پہنچے ہیں۔

    آرمی چیف اوستہ محمد میں متاثرین سیلاب اور امدادی سرگرمیوں میں مصروف فوجی اہلکاروں سے سے ملاقات کریں گے۔

  16. حکام منچھر جھیل کے پانی کو روکنے کی کوششوں میں اب تک ناکام

    پاکستانی حکام ملک میں سب سے بڑی جھیل کے کنارے پھٹنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں جب اس کی نکاسی کی آخری کوشش ناکام ہو گئی ہے۔

    جنوب مشرقی صوبہ سندھ میں منچھر جھیل میں پانی کی سطح کئی دنوں کی ریکارڈ مون سون بارشوں کے بعد خطرناک حد تک بلند ہو گئی تھی۔

    اس نے قریباً ایک لاکھ لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے لیکن پیر کو صوبے کے وزیر آبپاشی نے روئٹرز کو بتایا کہ جھیل کے پانی کی سطح نیچے نہیں آئی۔

    صوبہ سندھ ملک کی غذائی سپلائی کا نصف حصہ پیدا کرتا ہے، سیلاب سے ہونے والی تباہی سے یہ خدشہ بڑھ گیا ہے ملک میں خوراک کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے تقریباً تین کروڑ تیس لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں اور کم از کم 1,314 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 458 بچے بھی شامل ہیں۔

    اندازوں کے مطابق سیلاب سے کم از کم دس ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

    اتوار کو حکام نےدو دیہی قصبوں میں سیلاب آنے کے بعد اس جھیل مںی شگاف ڈالا تاکہ اس کے کنارے نے پھٹیں اور زیادہ گنجان آباد علاقوں کو ڈوبنے سے بچایا جا سکے۔

    لیکن اس اقدام سے ایک اندازے کے مطابق 400 دیہاتوں کو متاثر ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیا اور 135,000 افراد بے گھر ہو جائیں گے۔ حکام نے دیہاتیوں سے کہا ہے کہ وہ علاقے سے نکل جائیں۔

    تاہم پیر کو حکام نے بتایا کہ جھیل میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہے۔

    صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ پانی کی سطح میں کمی نہیں آئی ہے، تاہم انھوں نے یہ بتانے سے انکار کیا کہ آیا اس کے بعد جھیل سے پانی کی نکاسی کی مزید کوئی کوششیں کی جائیں گی۔

    پاکستان کے شمالی علاقوں میں ریکارڈ طوفانی بارشوں اور پگھلنے والے گلیشیئرز نے تباہ کن سیلاب پیدا کیے ہی اور ملک کا تقریباً ایک تہائی علاقہ زیرِ آب آ گیا ہے۔

  17. ’رات کو بہانے سے وہ ہمارے خیمے کے پاس آتا اور اِدھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیتا‘

  18. عاصمہ شیرازی کا کالم: ہم اتنے گناہ گار تو نہیں!

  19. ’دل سے امیر‘ گاؤں جس کے رہائشی نے سیلاب زدہ گھر سے ملنے والا سونا، نقدی واپس کر دی

  20. گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 11 اموات، پاکستان میں اموات کی کل تعداد 1325 ہو گئی

    پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے والے ادارے این ڈی ایم اے کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں سیلاب سے 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں سے آٹھ بچے بھی ہیں۔

    حالیہ بارشوں اور سیلاب سے پاکستان میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 1325 ہو گئی ہے۔ مرنے والوں میں کل 466 بچے بھی ہیں۔

    سب سے زیادہ بچوں کی اموات پاکستان کے صوبہ سندھ میں ہوئی ہیں، جہاں کل 227 بچے سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں۔ بلوچستان میں 76، خیبر پختونخوا میں 109، گلگت بلتستان میں چھ جبکہ پنجاب میں 48 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس سیلاب میں اب تک 12703 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔