عمران خان کا عدلیہ سے رات گئے عدالتیں کھولنے کا شکوہ، امریکہ کی شہباز شریف کو مبارکباد

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عوامی جلسوں کے سلسلے کا آغاز کیا ہے اور گذشتہ رات پشاور جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عدلیہ سے شکوہ کیا کہ ’میں نے کیا جرم کیا تھا کہ رات کے 12 بجے آپ نے عدالتیں لگائیں۔‘ ادھر امریکہ کی جانب سے شہباز شریف کو وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارکباد دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. عمران خان کا ویڈیو پیغام: کوئی فوج آزادی اور جمہوریت کی حفاظت نہیں کر سکتی

    سابق وزیراعظم عمران خان نے پشاور میں 13 اپریل کو ہونے والے تحریک انصاف کے جلسے سے متعلق سوشل میڈیا پر اپنا ایک ویڈیو پیغام جاری کیا ہے، جس میں انھوں نے اپنی حکومت کے خاتمے کو ایک بڑی سازش قرار دیتے ہوئے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا ہے۔

    اپنے ویڈیو پیغام میں عمران خان نے پشاور کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کل میں آپ کے پاس آ رہا ہوں، پہلی دفعہ جلسہ کر رہا ہوں جب سے ایک امپورٹیڈ حکومت ایک بڑی سازش کے تحت قوم پر مسلط کی گئی ہے۔`

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ ’میں سب بڑا پیغام کل پشاور سے دوں گا کہ اپنی آزادی اور جمہوریت کی حفاظت قوم کر سکتی ہے کوئی فوج یا کوئی باہر سے قوت مدد نہیں کر سکتی۔

    انھوں نے کہا کہ ’ہم سے نے مل کر تحریک چلانی ہے کہ پاکستان میں جلد الیکشن کرایا جائے۔‘

  2. کشمیر سمیت تمام تنازعات کا حل ناگزیر ہے، شہباز کا مودی کو جواب

    پاکستان کے نو منتخب وزیر اعظم شہباز شریف نے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کا حل ناگزیر ہے۔

    وزیر اعطم شہباز شریف نے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے انھیں وزیر اعظم بننے پر مبارکباد کے لیے کی گئی ٹویٹ کے جواب میں شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا ’وزیر اعظم نریندر مودی آپ کا مبارکباد کے لیے شکریہ۔ پاکستان انڈیا کے ساتھ پرامن اور تعاون پر مبنی تعلقات کا خواہاں ہے۔ جموں و کشمیر سمیت باقی تنازعات کا پرامن حل ناگزیر ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں سب جانتے ہیں۔ آئیے امن قائم کریں اور اپنی عوام کی سماجی و معاشی ترقی پر توجہ مرکوز کریں۔ ‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق مشیروں کے نام سٹاپ لسٹ میں ڈالنے کا آرڈر معطل کر دیا

    ISB HC

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے دو مشیروں شہزاد اکبر اور شہباز گل کے نام پرویشنل نیشنل آڈینٹیفکیشن (پی این آئی ایل) لسٹ میں شامل کرنے کا آرڈر معطل کر دیا ہے۔

    عدالت نے اس ضمن میں سیکرٹری داخلہ اور ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

    عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ مذکورہ افراد مجاز افسران مقرر کریں جو عدالت میں وضاحت کریں کہ کس کے کہنے پر شہزاد اکبر اور شہباز گل کے نام واچ لسٹ شامل کیے گئے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے منگل کے روز ان درخواستوں کی سماعت کی تو درخواست گزاروں کے وکیل کا کہنا تھا کہ معاملہ یہ ہے کہ عجیب حالات میںان کے موکل سمیت پانچ افراد کے نام پی این آئی ایل میں شامل کیے گئے۔

    انھوں نے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ان کے موکلین کے نام سٹاپ لسٹ میںشامل کیے گئے اس وقت کوئی حکومت نہیں تھی۔

    انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈی جی ایف آئی اے سے پوچھا جائے کہ ان کے موکلین کا نام سٹاپ لسٹ میں ڈالنے کی درخواست کس شخصیت یا ادارے کی طرف سے آئی تھی۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت بلیک لسٹ کے بارے میں پہلے سے ہی کہہ چکی ہے کہ یہ غیر قانونی ہے۔

    Shahzad Akbar

    ،تصویر کا ذریعہPID

    بینچ کے سربراہ نے شہزاد اکبر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ احتساب کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر ہونے کے ساتھ ساتھ ایف آئی اے کے معاملات کو بھی دیکھتے تھے تو آپ نے اسے ختم کیوں نہیں کروایا جس پر شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ وہ ایف آئی اے کے انچارج نہیں بلکہ صرف وزیر اعظم کے مشیر تھے۔

    عمران خان کے سابق مشیروں کے وکلا کا کہنا تھا کہ ان کے علاوہ دیگرتین افراد کے نام اس لسٹ میں شامل کیے گئے ہیں وہ سرکاری ملازم ہیں جو ویسے بھی این او سی کے بغیر باہر نہیں جا سکتے۔

    انھوں نے کہا کہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کے نام سٹاپ لسٹ میں شامل کیے جاتے ہیں۔

    عدالت نے شہزاد اکبر اور شہباز گل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ کل تک تو کہیں نہیں جا رہے؟ تاکہ متعقلہ حکام کو طلب کر کے ان سے اس بارے میں وضاحت لی جائے۔ انھیں بلا کر پوچھ لیتے ہیں۔‘

    عدالت نے اس درخواست کی سماعت 13 اپریل تک ملتوی کر دی۔

  4. قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ پی ٹی آئی کے لیے فائدہ مند یا نقصان دہ؟

  5. حکومت کی تبدیلی کے ساتھ سٹاک مارکیٹ اور روپے کی قدر میں اضافہ کیوں ہوا؟, تنویر ملک، صحافی

    stock market

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں گزشتہ سنیچر کے رات تحریک انصاف حکومت کے خاتمے اور نئے ہفتے کے پہلے روز مسلم لیگ نواز کی حکومت کے قیام کے ساتھ ملکی سٹاک مارکیٹ میں بے تحاشہ تیزی کا رجحان دیکھا گیا تو اس کے ساتھ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔

    سوموار کے روز سٹاک مارکیٹ نے ایک دن میں 1700 پوائنٹس اضافے کا ریکارڈ قائم کیا تو دوسری جانب روپے کی قدر بھی 183 تک گر گئی۔

    پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ سٹاک مارکیٹ اور کرنسی مارکیٹ میں ہونے والی مثبت پیش رفت پر چیف ایگزیکٹو عارف حبیب لمیٹڈ شاہد علی حبیب نے کہا کہ سٹاک مارکیٹ اور کرنسی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے دباؤ رہتا ہے اور سرمایہ کار نروس کا شکار رہتے ہیں۔

    انھوں نے کہا جیسے ہی سیاسی غیر یقینی صورتحال کا خاتمہ ہوا تو سرمایہ کاروں نے اس پر اپنا مثبت رد عمل دیا۔

    انھوں نے کہا سیاسی طور پر استحکام آنا شروع ہوا تو سرمایہ کاروں کے نزدیک ملک کے خارجہ تعلقات جیسے کہ آئی ایم ایف، امریکہ اور یورپی یونین سے بھی مذاکرات و تعلقات میں بھی بہتری آنے کی امید ہے اس لیے مارکیٹ میں مثبت رجحان پیدا ہوا۔

  6. وزیراعظم شہباز شریف نے معاشی ماہرین کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا

    money

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی کی معاشی صورتحال اور اس کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کے لیے معاشی ماہرین کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    وزیر اعظم دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ہنگامی اجلاس میں نامور معاشی ماہرین شرکت کر رہے ہیں جہاں معاشی ماہرین کی آراء کی روشنی میں معاشی اور مالیاتی اقدامات کے بارے میں اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف ملک کی موجودہ معاشی صورتحال، خساروں اور قومی بیلنس شیٹ کے حقائق سے آگاہی حاصل کریں گے۔

  7. بریکنگ, وزیراعظم شہباز شریف کا سرکاری اداروں میں ہفتہ وار دو چھٹیاں ختم کرنے کا اعلان

    Shahbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے میں دو سرکاری تعطیلات ختم کرنے اور صرف ایک چھٹی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    وزیر اعظم دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے احکامات کے بعد اب سرکاری دفاتر میں ہفتے میں صرف ایک تعطیل ہو گی۔

    اس کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں کیے گئے اپنے اعلانات پر عملدرآمد کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

    وزیراعظم دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف نے رمضان المبارک کے دوران سستے بازاروں میں معیاری اور کم دام پر اشیاء کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم دیا جب کہ ساتھ ہی رمضان بازاروں کی سخت مانیٹرنگ یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے۔

    وزیراعظم نے تنخواہوں اور پینشن سے متعلق بھی اپنے گزشتہ روز کے احکامات پر فوری عملدرآمد کا حکم جاری کیا ہے۔

  8. شہباز گل اور شہزاد اکبر نے سٹاپ لسٹ میں نام ڈالنے کو عدالت میں چیلنج کر دیا

    Shahzad Akbar

    ،تصویر کا ذریعہPID

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہزاد اکبر اور شہبازگل نے اپنے نام سٹاپ لسٹ میں شامل کرنے کا اقدام کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے۔

    سابق وزیر اعظم عمران خان کے سابق مشیر شہزاد اکبر اور سابق معاون خصوصی شہباز گل ایف آئی اے کی جانب سے نام واچ لسٹ میں شامل کرنے کے اقدام کو عدالتمیں چیلنج کرنے کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ پہنچے جہاں دونوں رہنماؤں نے درخواستیںدائر کیں۔

    پی ٹی آئی کے دونوں رہنماؤں نے عدالت میں الگ الگ درخواستیں دائر کی ہیں جن پر سماعت کے لیے آج ہی بینچ تشکیل دینے کی استدعا کی گئی ہے۔

    پی ٹی آئی رہنماؤں نے اپنی درخواستوں میں مؤقف اپنایا ہے کہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں لہٰذا ان کی بیرون ملک روانگی پر پابندی کو ختم کیا جائے۔

    عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں شہزاد اکبر نے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کا آغاز ہو گیا ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ ’عدم اعتماد کی کارروائی مکمل بھی نہیں ہوئی تھی اسی رات ان کا نام سٹاپ لسٹ میں کس نے ڈالا؟ نام اس وقت سٹاپ لسٹ پر ڈالا گیا جب نہ کابینہ تھی، نہ حکومت ،نہ وزیراعظم۔‘

    انھوں نے کہا کہ ہم کہیں نہیں جا رہے، اپنے لیڈر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں جب کہ میں تو اوورسیز پاکستانی بھی نہیں، حصول تعلیم کے 6-7 سال کے علاوہ ساری زندگی یہیں رہا۔

    ان کا کہنا تھا کہ سابق پرنسپل سیکرٹری کا نام بھی سٹاپ لسٹ میں آنا مضحکہ خیز ہے۔

  9. اسلام آباد ہائیکورٹ کی نو اپریل کو رات گئے عدالت کھولنے پر وضاحت, شہزاد ملک، نامہ نگار بی بی سی

    ISB HC

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے نو اپریل کو رات گئے عدالت کھولنے اور درخواستیں دائر ہونے کے معاملے اور سوشل میڈیا پر اس حوالےسے ہونے والی بحث پر وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی عدالت کے طور پرہائی کورٹ میں فوری نوعیت کی درخواست عدالتی اوقات کار کے بعد بھی دائر کی جا سکتی ہے۔

    عدالت عالیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ فوری نوعیت کی درخواست کے متعلق طریقہ کار 11نومبر 2019 اور 10 فروری2021 کے سرکلر میں بیان کیا گیا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک پریس ریلیز میں کہا ہے کہ 9 اپریل کی رات عدالتی اوقات کار کے بعد پٹیشنز دائر ہونے پر سوالات اٹھائے گئے۔

    اس وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ آئینی عدالت کے طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے یقینی بنایا ہے کہ فوری نوعیت کے کیسز عدالتی اوقات کار کے بعد بھی کسی وقت دائر کیے جا سکتے ہیں اور چیف جسٹس مطمئن ہوں تو فوری نوعیت کی درخواست کو کسی بھی وقت سماعت کے لیے مقرر کیا جا سکتا ہے۔

    اس وضاحتی بیان میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ 11نومبر 2019 اور 10 فروری 2021 کے سرکلر میں طریقہ کار بیان کیا گیا ہے۔

    اس بیان کے مطابق نو اپریل کو سپریم کورٹ بار کے صدر نے آرٹیکل 187 کے تحت درخواست دائر کرنے کا پوچھاتو انھیں انہی نوٹی فکیشنز کا حوالہ دیا گیا۔

    اس دوران کچھ مزید پٹیشنز بھی دائر ہوئیں جو چیف جسٹس کی رہائش گاہ بھجوائی گئیں تاہم وہ مطمئن تھے کہ ان درخواستوں پر کارروائی یاجوڈیشل آرڈر کی ضرورت نہیں۔

  10. سیاست کا نوری نت کپتان: عاصمہ شیرازی کا کالم

  11. ’دھمکی آمیز‘ مراسلہ: عمران خان کے بیانیے سے پاکستان کے امریکہ اور دیگر ممالک سے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں؟

  12. وزیراعظم شہباز شریف کو پی ایم ہاؤس میں گارڈ آف آنر پیش

    Shahbaz Sharif

    ،تصویر کا ذریعہ@RadioPakistan

    نومنتخب وزیراعظم شہبازشریف کو وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر گارڈ آف آنر دیا گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف گزشتہ روز وزارت اعظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد منگل کی صبح وزیرعظم ہاؤس پہنچے جہاں انھیں گارڈ آف آنر پیش کرنے کی تقریب ہوئی۔

    مسلح افواج کے چاق وچوبند دستے نے وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کا گارڈ آف آنر کے معائنے کے بعد وزیراعظم ہاؤس کے عملے سے تعارف کرایا گیا، شہباز شریف نے عملے سے مصافحہ بھی کیا۔

    واضح رہےکہ شہباز شریف گزشتہ روز قومی اسمبلی سے 174ووٹ لے کر پاکستان کے 23 ویں وزیراعظممنتخب ہوئے ہیں۔

  13. شہباز شریف کی تقریب حلف برداری، آرمی چیف کی غیر موجودگی اور صدر علوی سے لوگوں کو شکوہ

  14. بریکنگ, ’پاکستان میں کسی سیاسی جماعت کو دوسری پر ترجیح نہیں دیتے، جمہوری اصولوں کی پاسداری کی تائید کرتے ہیں‘

    Jen Psaki

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے پاکستان میں اقتدار کی تبدیلی سے متعلق واشنگٹن کے تاثرات سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم پاکستان میں پرامن انداز میں آئینی اور جمہوری اصولوں کی پاسداری کی تائید کرتے ہیں اور ہم کسی ایک سیاسی جماعت کو دوسری سیاسی جماعت پر ترجیح نہیں دیتے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’ہم قانون کی پاسداری اور برابری کی بنیادوں پر انصاف کی فراہمی کی حمایت کرتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ اپنی طویل المدتی تعاون کی قدر کرتے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک خوشحال اور جمہوری پاکستان امریکی مفاد میں ہے اور یہ حقیقت نہیں بدلے گی چاہے اقتدار میں جو بھی رہے۔‘

    مستقبل میں جو بائیڈن کے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے رابطے کے حوالے سے سوال کے جواب میں جین ساکی نے کہا کہ ’اس بارے میں ابھی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا۔‘

  15. بریکنگ, انڈین وزیرِ اعظم کی شہباز شریف کو وزیراعظم منتخب ہونے پر مبارکباد

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے پاکستان کے نو منتخب وزیرِ اعظم شہباز شریف کو ایک ٹویٹ میں مبارکباد دی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’انڈیا خطے کو امن، استحکام اور خطے کو دہشتگردی سے پاک دیکھنے کا خواہاں ہے تاکہ ہم اپنے ترقیاتی چیلنجز پر توجہ مرکوز کر سکیں اور اپنی عوام کی خوشحالی اور بہتری کو یقینی بنا سکیں۔‘

  16. ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ آج تمام ادارے آئین کی پاسداری کو رہنما اصول سمجھتے ہیں: شہباز شریف

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے نو منتخب وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ایک ٹویٹ میں پاکستان کی عوام کو اقتدار کی پرامن منتقلی پر مبارکباد پیش کی ہے۔

    انھوں نے ایک ٹوئٹر تھریڈ میں کہا ہے کہ ’یہ ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ آج ہمارے تمام ادارے آئین کی پاسداری کو رہنما اصول سمجھتے ہیں۔

    ’اگر سٹاک مارکیٹ اور روپے کی قدر میں بہتری کو ایک اشارہ سمجھا جائے تو ہمارا منزل کی جانب سفر ابھی سے شروع ہو چکا ہے۔‘

    انھوں نے لکھا کہ ’ہم دوسرے ممالک کے ساتھ باہمی احترام، امن اور برابری کی بنیاد پر اپنے روابط میں بہتری لانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔ ہماری توجہ مہنگائی کا مقابلہ کرتے ہوئے منجمد معیشت کو دوبارہ چلانا ہے۔‘

  17. شاہد آفریدی کی شہباز شریف کو مبارکباد

    پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے شہباز شریف کو پاکستان کا وزیرِ اعظم منتخب ہونے پر مبارباد پیش کی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  18. توقیر شاہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کے پرنسپل سیکریٹری مقرر

    سید توقیر شاہ کو وزیرِ اعظم شہباز شریف کا پرنسپل سیکریٹری مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس میں گریڈ 21 کے افسر ہیں۔

    شہباز
  19. شہباز شریف نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھا لیا

    شہباز شریف نے وزیراعظم کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ ان سے حلف چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے لیا۔

  20. نو منتخب وزیر اعظم شہباز شریف کی حلف برداری

    شہباز شریف

    ،تصویر کا ذریعہPTV

    نو منتخب وزیراعظم شہباز شریف کی تقریب حلف برداری ایوان صدر میں ہو رہی ہے۔ اس تقریب میں مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز، کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر سمیت متعدد ن لیگی رہنما بھی شریک ہیں۔ بلاول بھٹو، یوسف رضا گیلانی سممیت دیگر سیاسی رہنما بھی اس تقریب میں شریک ہیں۔