جلد بازی میں پنجاب اسمبلی کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دے سکتے: چیف جسٹس
قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر کی جانب سے عمران خان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد مسترد کیے جانے کی رولنگ پر سپریم کورٹ میں ازخود نوٹس کی سماعت دوران چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’کوشش کی ہے کہ روزمرہ کا کام متاثر نہ ہو ،کوشش کرتے ہیں کل 9:30 بجے سماعت شروع کریں۔ کیس نمٹانے کے لے کل صبح سے سماعت شروع کریں گے۔‘
اس موقعے پر پنجاب اسمبلی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی اور وزیر اعلی کے انتخاب کے حوالے سے درپیش حالات کا ذکر کرتے ہوئے سیکرٹری پنجاب اسمبلی کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا ’چودہ کروڑ کا صوبہ ہے اور تماشہ بنا ہوا ہے، اسمبلی میں کافی توڑ پھوڑ ہوئی تھی اس لیے اجلاس 16 اپریل تک ملتوی ہوا، آج صبح سے ڈپٹی سپیکر غائب ہیں ان سے رابطہ نہیں ہو رہا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’آج شام ہونے والا اجلاس کا نوٹیفکیشن جعلی ہے۔‘
اس موقع پر چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ ’ہم کل آپ کی درخواست پر سماعت کریں گے، یہ صوبائی معاملہ ہے۔‘ دیکھیں گے کہ ہم نے درخواست سننی ہے یا ہائی کورٹ کو بھجوانی ہے۔‘
چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا ’قومی اسمبلی کے ارکان کا کنڈکٹ بہت بہتر ہے۔‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’سسٹم تعاون نہ کر رہا ہو تو آئینی عہدیدار اختیار استعمال کر سکتے ہیں۔ ڈپٹی سپیکر چاہیں تو اجلاس باغ جناح میں بھی بلا سکتے ہیں۔‘
اس پر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا’حکومت کے پاس اکثریت نہیں ہے اس لیے الیکشن نہیں ہونے دیا جا رہا۔‘
اس موقع پر جسٹس جمال مندوخیل نے استفسار کیا ’کیا ڈپٹی سپیکر کے حکم میں مداخلت کر سکتے ہیں؟‘
سیکرٹری پنجاب اسمبلی کے وکیل کا کہنا تھا ’ڈپٹی سپیکر کا نوٹیفکیشن جعلی ہے۔‘
جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ ’لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیوں نہیں کیا گیا؟‘
اس موقعے پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’جلد بازی میں پنجاب اسمبلی کے حوالے سے کوئی حکم نہیں دے سکتے۔‘
انھوں نے کہا ’پنجاب میں آئیڈیل حالات ہیں کہ عوام سے رجوع کیا جائے۔‘